وحید مراد: شہرت کی بلندیوں سے حسد کی گہرائیوں تک
انسانی فطرت میں ایک دلچسپ مگر تباہ کن عنصر پایا جاتا ہے، جسے ہم حسد کہتے ہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو کسی کی خوشحالی، کامیابی، یا خوبصورتی کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے نفرت میں بدل جاتا ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں حسد کے نتیجے میں نفرت کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر پاکستانی معاشرے میں یہ رویہ نہایت شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ یہاں جو شخص بھی غیر معمولی کامیابی حاصل کرتا ہے، وہ دوسروں کے دلوں میں حسد کو جنم دیتا ہے، اور نتیجتاً لوگوں کی نفرت کا شکار ہوتا ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کے عظیم فلمی اداکار وحید مراد کے ساتھ بھی پیش آیا۔ وحید مراد کو پاکستانی فلم انڈسٹری کا چاکلیٹی ہیرو کہا جاتا ہے۔ ان کی غیر معمولی وجاہت، شاندار اداکاری، اور لازوال مقبولیت نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ لیکن یہ کامیابی ان کے لیے ایک آزمائش بھی بن گئی۔ ان کے ہم عصر افراد اور بعد میں آنے والی نسلوں نے ان کی شخصیت اور کام کو محض سراہے بغیر، ان سے حسد اور نفرت کا رویہ بھی اپنایا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حسد اکثر ہیرو کو ولن بنا کر پیش کرتا ہے اور یہی وحید مراد کے ساتھ بھی ہوا۔
حسد بنیادی طور پر ایک کمزوری ہے جو انسان کی اپنی ناکامیوں اور عدم تحفظات سے جنم لیتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی میں کچھ حاصل نہیں کر پاتا، یا کسی دوسرے کو زیادہ کامیاب دیکھتا ہے تو وہ اندر ہی اندر جلن محسوس کرتا ہے۔ یہ جلن پہلے بے چینی میں بدلتی ہے اور پھر نفرت کا روپ دھار لیتی ہے۔ اگر ہم پاکستانی معاشرت کو دیکھیں تو یہاں مقابلے کی فضا اکثر مثبت کم اور منفی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں کسی کی کامیابی کو رشک کے بجائے حسد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وحید مراد کی مقبولیت نے کئی لوگوں کو ان کا مداح بنایا لیکن ساتھ ہی کئی دلوں میں حسد کے شعلے بھی بھڑکائے۔ کچھ لوگ کھل کر ان کی مخالفت پر اتر آئے، کچھ نے ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا، اور کچھ نے ان کی زندگی میں مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ یہی حسد کا المیہ ہے کہ یہ خاموشی سے پروان چڑھتا ہے اور انسان کو نفرت کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔
وحید مراد کا فلمی کیریئر بے حد کامیاب رہا، لیکن جوں جوں وہ کامیاب ہوتے گئے، ان کے خلاف سازشوں اور منفی باتوں کا سلسلہ بھی بڑھتا گیا۔ ان کے ہم عصر کئی اداکار، فلم پروڈیوسرز اور دیگر افراد نے ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا۔ بعض لوگوں نے انہیں ناکام بنانے کی کوشش کی، ان کے راستے میں روڑے اٹکائے، اور انہیں فلموں سے باہر کرنے کی چالیں چلیں۔ یہ حسد صرف ان کے دور تک محدود نہیں رہا بلکہ آج بھی بعض لوگ ان کے خلاف غیر ضروری تنقید کرتے ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں غیر ضروری بحث چھیڑی جاتی ہے اور ان کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو دنیا سے چلا گیا، اس کے خلاف آج بھی منفی خیالات کیوں پائے جاتے ہیں؟ اس کا جواب پھر وہی ہے، حسد۔
یہ مسئلہ صرف فلم انڈسٹری تک محدود نہیں بلکہ ہمارے ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ دفاتر، تعلیمی ادارے، کاروباری دنیا، اور حتیٰ کہ گھریلو زندگی میں بھی حسد ایک زہر کی طرح سرایت کر چکا ہے۔ کسی نوجوان کو اچھی نوکری مل جائے، کوئی اچھا گھر بنا لے، یا کسی کی شخصیت مقبول ہو جائے، تو اس کے خلاف افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، اسے گرانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اسے نفسیاتی دباؤ میں لایا جاتا ہے۔ یہ روش پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
کچھ دن پہلے میں نے ایک سیریز ”ایز کرو فلائیز“ دیکھی، جس میں بھی حسد ہی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ایک عام سی لڑکی ایک کامیاب اینکر پرسن کو گرانے کے لیے گھٹیا حربے استعمال کرتی ہے۔ اس سیریز کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ ہمارے پاکستانی ہیرو وحید مراد کے ساتھ بھی یہی غلط حرکتیں کی گئیں اور معاشرے میں ان کی کردار کشی کی گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ ان کی موت کے بعد بھی جاری ہے۔
حسد اور نفرت سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے، ورنہ ہمارا معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں مثبت سوچ اپنانی ہوگی، دوسروں کی کامیابی پر حسد کرنے کے بجائے ان سے سیکھنے کا جذبہ پیدا کرنا ہو گا۔ خود اعتمادی پیدا کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ جو لوگ خود پر یقین رکھتے ہیں، وہ حسد کا شکار نہیں ہوتے۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا اور انہیں بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تعلیمی نظام میں ایسے موضوعات شامل کیے جائیں جو طلبہ کو مثبت رویے سکھائیں اور حسد سے بچنے کی ترغیب دیں۔ دوسروں کی کامیابی کو سراہنے کی عادت ڈالنی ہوگی کیونکہ جب ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوں گے، تو ہمارے دل میں حسد کے بجائے محبت پیدا ہوگی۔
حاسدین کو چاہیے کہ اپنے قد کو بڑا کریں، اپنے کام پر توجہ دیں، اور اپنی کوششوں کو 100 فیصد بڑھائیں بجائے اس کے کہ کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالیں۔ یہ ایسا عمل ہے جو ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے اور آپ کو ہر چھوٹے بڑے دفتر، سکول، کالج، یونیورسٹی میں جہاں بھی کچھ لوگ کام کرنا چاہتے ہیں، وہاں پر ان کی ٹانگیں کھینچنے والے زیادہ اور کام کرنے والے کم ملیں گے۔
جب تک ہم اس زہر سے نجات نہیں پائیں گے، ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ حسد ایک فطری عمل ہے لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مثبت مقابلے کی فضا کو سپورٹ کیا جاتا ہے اور حسد کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس روش کو اپنائیں، کامیابی حاصل کرنے پر توجہ دیں، اور مثبت سوچ کے ساتھ معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ جب ہم دوسروں کی ترقی کو اپنی ناکامی نہ سمجھیں بلکہ ایک ترغیب کے طور پر لیں، تب ہی ہم حقیقی معنوں میں ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بن سکیں گے۔



