بے لگام وقت


پچھلے 6 سے 8 سال کب گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی میں نے سرکاری نوکری شروع کی تھی، اور اب ساتواں سال شروع ہو چکا ہے۔ وقت جیسے پروں پر اُڑ گیا، یا شاید ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اس کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

بچپن میں وقت سکون سے گزرتا تھا کیونکہ ہم ہر چھوٹی چیز کا لطف اٹھاتے تھے، ہر لمحے کو محسوس کرتے تھے۔ پہلے تو عید کا انتظار کیا جاتا تھا، اور وہ انتظار حقیقت میں انتظار محسوس ہوتا تھا۔ دن گنے جاتے تھے، نئے کپڑوں کی تیاری، مٹھائیاں، گھر کی صفائی، سب کچھ ایک خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ ہوتا تھا۔ مگر اب پچھلی عید کی یادیں تازہ ہی ہوتی ہیں کہ اگلی عید سر پر آ جاتی ہے۔ یہ صرف عید تک محدود نہیں، ہر چھوٹی بڑی خوشی ایسے گزر جاتی ہے جیسے کسی نے فاسٹ فارورڈ بٹن دبا دیا ہو۔

کیا واقعی وقت تیزی سے گزر رہا ہے یا ہماری مصروفیات بڑھ گئی ہیں؟ پہلے زندگی آسان اور سکون والی لگتی تھی، لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہوتا تھا۔ اب ہر کوئی اپنی دنیا میں مصروف ہے۔ موبائل، سوشل میڈیا، روزمرہ کی بھاگ دوڑ اور ذمہ داریاں۔ ہر دن ایک نیا کام، نئی پریشانیاں اور نئے اہداف لے کر آتا ہے۔ جتنی زیادہ مصروفیات بڑھتی ہیں، اتنا ہی وقت کے گزرنے کا احساس کم ہوتا جاتا ہے۔

شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف جی رہے ہیں، لیکن ہر لمحے کو محسوس نہیں کر رہے۔ جو چیز محض گزر جائے اور اس کا احساس بھی نہ ہو، وہ ہمیشہ جلدی لگتی ہے۔ وقت کی تیزی کا احساس اس لیے بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ ہم اپنی زندگی کے صرف اگلے قدم پر توجہ دے رہے ہیں، نہ کہ اس لمحے کے لطف پر جو ہمارے سامنے ہے۔

ہر کسی کو جلدی ہے۔ بچوں کو بڑا ہونے کی، جوانوں کو امیر ہونے کی، مسافروں کو گھر پہنچنے کی، بیماروں کو صحت یاب ہونے کی۔ کوئی جلدی خریداری نمٹانا چاہتا ہے، تو کوئی ٹکٹ لینے کی فکر میں ہے۔ جب ہر شخص زندگی کی دوڑ میں بھاگ رہا ہے، تو پھر وقت بھی ہماری طرح جلدی میں ہی ہو گا نا! پھر الزام وقت کو کیوں دیں؟ شاید اصل بات یہ ہے کہ ہم وقت سے ہیں، اور وقت ہم سے۔ دونوں ہی جلدی میں ہیں، تو پھر الزام کس پر آئے؟

Facebook Comments HS