چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں


فیض میلہ سج چُکا ہے بلکہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ فیض احمد فیض صاحب پر بات کرنا یا کچھ لکھنا جیسے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ فیض صاحب کی شاعری محبت، مزاحمت اور اُمیدوں کے ملے جُلے نرم جذبات کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ہے۔ فیض صاحب نے اپنے شعری اسلوب میں بہت دل کشی سے وہ سادہ باتیں کیں جن میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ قاری کے دل میں اُتر کر لبوں پر گیتوں کی شکل میں مچلنے لگتی ہیں۔ ان کی شاعری میں وہ خاص ردھم ہے، وہ مخصوص روانی ہے، وہ دل فریب الفاظ ہیں جو پاکستان کی آزادی کے بعد بھی سماج میں موجود مسائل اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ فیض صاحب کی شاعری میں ایسے سوالات ہیں کہ جو آزادی پر مزید سوالات اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ وہی آزادی ہے؟ کیا یہ وہی صبح ہے؟ جس کا ہمیں انتظار تھا۔ جس کے بارے میں فیض صاحب نے کہا تھا:

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

درحقیقت فیض صاحب کے یہ اشعار پاکستان کے آزاد ہونے کے بعد بھی ”ہنوز دلی دُور است“ والے مقولے کے مطابق ابھی تک ہمارے یہاں حقیقی آزادی اور طبقاتی مساوات کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ فیض صاحب کی شاعری میں محبت، انقلاب اور سماجی نا انصافیوں کے مختلف درجات ملتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ہمیں جابجا پاکستان کے لیے جدوجہد نظر آتی ہے جہاں انہوں نے ملک میں ہونے والے ظلم اور جَبر کے خلاف لکھا اور انصاف، مساوات اور امن کے حق میں بہت پُر زور آواز اُٹھائی۔ فیض صاحب نے برطانوی راج کے دوران ہندوستانی قوم پرست تحریکوں میں بھی حصہ لیا اور پھر پاکستان کی آزادی کے لیے بھی اپنی ذاتی خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد فیض صاحب نے یہاں کے سیاسی اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھی۔ دراصل وہ جغرافیائی تبدیلی سے زیادہ عوام کی حقیقی آزادی کے حق میں زیادہ بات کرتے تھے۔ فیض صاحب کی شاعری میں ہمیں منصفانہ معاشرے کے خواب نظر آتے ہیں۔ فیض صاحب کی نظم ”ہم دیکھیں گے“ نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار بھی مزاحمت، طاقت اور اُمید کی سب سے بڑی علامت بن چکی۔ یہ نظم بلا شبہ آمریت کے خلاف عوام کی جدوجہد کو مزید تقویت دینے کے لیے لکھی گئی تھی۔ یہ ایک بہتر اور نئے پاکستان کے روشن مستقبل کے خواب کی شاندار عکاسی کرتی ہے :

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوحِ ازل میں لکھا ہے

جذبات کو بھڑکا دینے والی یہ نظم ضیا الحق کے آمرانہ دور میں ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں مزاحمتی طاقتور آواز ہے۔ اگر ہم روایتی اردو شاعری کا جائزہ لیں تو روایتی انداز میں عاشق محبوب کی جدائی کے دُکھ کا رونا روتا ہے۔ مگر فیض صاحب اپنے سیاسی نقطۂ نظر کے ساتھ اپنی وطن میں پھیلی سماجی نا انصافی اور ظلم کے خلاف اپنی جد و جہد کو جوڑتے ہیں۔ ان کے ایک شعر کا مصرعہ ہے :

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس میں ایک طرف تو محبت کی باریکی، دُکھ اور نزاکت نظر آتی ہے تو دوسری طرف آزادی کی نئی اُمید کی جوت جلتی ہے۔ فیض صاحب کی مشہور زمانہ نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ میں محبت اور انقلاب ایک ہی تجربے کے دو رُخ ہیں۔ اس نظم میں وہ کہتے ہیں کہ زمانے میں محبت کے سوا اور بھی دُکھ ہیں کیونکہ دنیا میں اتنا دکھ ہے کہ دل ٹکڑے ہوا جاتا ہے۔ اس نظم میں وہ محبت میں قید نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا کے دکھوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ فیض صاحب کو اپنی زندگی میں کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی سہنا پڑیں۔ اس کے باوجود ان کی شاعری میں قید تنہائی اور اذیت کے بیان میں بھی رومانوی رنگ نظر آتا ہے۔ فیض صاحب کی شاعری میں انقلاب اور محبت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس انقلاب کو وہ پوری دنیا کے لیے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے فیض صاحب کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ کیونکہ یہ ایک نظریے اور تحریک کے ساتھ ساتھ سماجی آزادی کا وہ خواب ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ فیض صاحب کی کتاب ”دستِ صبا“ اردو ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیض صاحب نے اپنی سیاسی تحریروں کے ذریعے عوام کو نو آبادیاتی نظام کی غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد اپنے عہد جوانی سے ہی شروع کر دی تھی۔ فیض صاحب برطانوی فوج میں افسر بھی رہے اور جنگ کے بعد کرنل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ زنداں کی پتھریلی خاموش دیواروں کے اندر سے بھی ان کے دل سے مادرِ وطن کی محبت کے بے تاب نغمے پُھوٹتے رہے۔ 1952 میں جب فیض صاحب کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تو یہ کتاب اسی جبر، ظلم اور اسیری کی عکاسی ہے۔ فیض صاحب بچپن ہی سے ڈکنس اور ہارڈی کے انگریزی ناول پڑھا کرتے تھے۔ جس سے ان کی انگریزی بھی بہت بہتر ہو گئی۔ فیض صاحب کا پیدائشی شہر سیالکوٹ اور رہائشی شہر لاہور ہے۔ ان کو لائل پور سے بھی اپنی بڑی بہن کی وجہ سے خاص نسبت تھی۔

لاہور میں ہر سال فیض میلہ سالانہ ادبی اور ثقافتی طور پر سجایا جاتا ہے۔ فیض میلے کا بنیادی مقصد ان کی انقلابی شاعری، امن اور محبت کے پیغام کو فروغ دینا ہے۔ فیض میلے میں سرحد پار سے بھی فیض صاحب کے مداح شامل ہوتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے نوجوانوں کو ادب، شاعری اور فنونِ لطیفہ کی مختلف جہتوں سے جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ فیض میلے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ”تم اپنی کرنی کر گزرو جو ہو گا دیکھا جائے گا“ ”چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں“ ۔ محنت کشوں اور دہقانوں سے انہیں خاص الفت تھی۔ فیض صاحب کی شاعری میں قوم کا دل دھڑکتا ہے۔ فیض صاحب کی شاعری ڈرائنگ روموں تک محدود نہیں رہی بلکہ سکولوں اور کالجوں کے اسٹیج سے نکل کر سڑکوں تک بلکہ دوسرے ملکوں تک پھیل چکی ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں

  • 23/02/2025 at 5:07 صبح
    Permalink

    فیض 1952 میں گرفتار نہیں ہوئے تھے ان پر لیاقت علی خان کی حکومت کے خلاف تختہ الٹنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ تو 1952 کیسے ممکن ہے۔ یہ واقعہ مارچ 1951 کا ہے۔

  • 23/02/2025 at 7:13 صبح
    Permalink

    شہرہ آفاق نظم "ہم دیکھیں گے” کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔

    غالباً جونیجو حکومت آنے سے پہلے 1985 میں مذہبی جماعتوں کے دباؤ پر ٹی وی، سرکاری محکمات اور سرکاری تقریبات میں میں خواتین کی ساڑھی پہننے پر پابندی لگادی گئی تھی۔

    فیض صاحب کا انتقال 1984 میں ہوچکا تھا جب کہ یہ نظم انہوں نے ضیا کے مارشل لاء کے دو سال بعد شاید بھٹو کی پھانسی کے بعد 1979 میں لکھی تھی۔

    اس نظم میں جان اس وقت پڑگئی جب ساڑھی پر لگنے والی متنازعہ پابندی کے بعد مرحومہ اقبال بانو نے ایک اہم تقریب جس میں پچاس ہزار سے زائد لوگ موجود تھے۔ اسٹیج پر نیلی ساڑھی پہن کر شرکت کی اور یہ شہرہ آفاق نظم گائی۔ (بلیک اینڈ وائٹ کوریج اور روشنی کے اثر سے متعدد لوگ اس ساڑھی کو آج تک کالی ساڑھی بھی لکھتے ہیں)۔

    یہ 1989 کی بات ہے میں ان دنوں مہدی حسن کے علاوہ ہندوستانی غزل گائیکوں جگجیت، پنکج داس اور انوپ جلوٹا کا دیوانہ تھا۔ ایک بار پشاور کے ایک فٹ پاتھ سے خریدی ایک کیسٹ میں مجھے ٹائٹل کے برعکس اقبال بانو کی غزلیں سننے کو ملیں بالخصوص فیض کی۔ اس میں "ہم دیکھیں گے” سے زیادہ جس نظم نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا وہ ۔۔۔”آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں” تھی۔

    کیسٹ لگ بھگ جب سن سن کر گھس گئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں اقبال بانو کا عاشق ہوچکا ہوں۔ اور کچھ عرصے بعد مجھے فیض کو مزید پڑھنے کی طلب ہوئی۔

    میں آج تک ببانگ دہل کہتا ہوں کہ میں نے فیض کو اقبال بانو کی غزلیں سن سن کرپڑھا۔

Comments are closed.