میں ایک کتاب کا مصنف ہوں (2)


پچھلے چھے مہینے میں ایسا کوئی پاکستان کا پبلشر نہیں جس کے منہ سے ہم نے اپنی کتاب کے بارے میں کچھ اچھا نہ سنا ہو، مگر عملی طور پر اس نے اپنے الفاظ کے بالکل برعکس نہ کیا ہو۔ آج سے چھے مہینے پہلے ہم اپنی کتاب کے مسودے کو لے پہلے پبلشر کے دربار میں حاضری دی۔ جناب نے کتاب کو چاروں طرف سے ایسے گھما گھما کر دیکھا، جیسے ڈاکٹر مریضوں کے ایکسرے دیکھتے ہیں۔ اور درمیان میں سے ایک آدھا صفحہ سونگھتے ہوئے ذائقہ بھی اچھے سے چکھا کہ کیا یہ واقعی کتاب ہے یا کچھ اور کھچڑی؟

کتاب اپنے پاس رکھنے کے چند دن بعد ہمیں اپنے پاس بلا کر کہا کہ ”ہم نے آپ کا لکھا پڑھا ہے، اور آپ کیا کمال لکھتے ہیں“ ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ کون سے سیارے کی مخلوق ہے؟ کیوں کہ آج تک سیارہ زمین کے باشندوں میں سے جس کسی نے بھی اس طرح کی گستاخی کی، تو اس پر اس کا دماغ ایسے گھومتا ہے جیسے کرکٹ اسٹیڈیم میں گیند، کانوں سے ایسے دھوئیں نکلتے ہیں جیسے پرانی گاڑیوں کے سلنسروں سے دھواں، اور ساتھ ساتھ چہرہ ایسا لال پیلا ہو کر رہ جاتا ہے جیسے کہ سبزی منڈیوں میں رکھی رنگ برنگی سبزیوں کی اقسام۔ اس پر ہم نے خدا تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ کا شکریہ ادا کیا کہ چلو کوئی تو اس فانی دنیا میں ایسا ہے، جو عقاب جیسی آنکھ رکھتا ہے اور ہم جیسے نگینے کو بڑے قریب سے پہچان لیا جو کہ لوگ دور سے بھی اس سعادت سے قاصر رہتے ہیں۔

ہم نے کہا، ”تو پھر بتائیں، ہماری کتاب کب شائع ہو رہی ہے؟“ جناب نے کہا، ”جب آپ چاہیں!“ ہم نے فوراً کہا، ”نیکی اور پوچھ پوچھ۔ آج ہی کر دیں۔ جناب نے کہا،“ چلیے، میں آپ کو اپنا اکاؤنٹ نمبر بھیج رہا ہوں۔ ہم نے کہا، ہمیں آپ پر مکمل اعتبار ہے، اور دوسرا جلدی کیا ہے؟ جس پر جناب نے کہا کہ پیسے دے گئے تو کام شروع کروں گا۔ جس پر ہم نے کہا کہ پیسے تو آپ کو ہمیں دینے ہو گئے۔ اس پر جناب پنجابی فلموں کی تیسری لائن میں کھڑے آخری ولن کی طرح ہنستے ہوئے بولا، ”نہیں، نہیں آپ کو ہمیں پیسے دینے ہوں گے۔ ہم نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا کہ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ جس پر جناب نے کہا کہ آپ اپنے دوستوں وغیرہ سے ادھار لے لیجیے۔ جس پر ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے قرض مرد کا زیور ہے جو کہ ہم خود بھی بڑے شوق سے پہنتے ہیں۔ مگر دوستوں سے تو بالکل امید نہیں، لیکن ہاں یہ جو ’وغیرہ‘ ہیں، ان کا ذرا پتہ بتائیں کہ یہ کہاں ملیں گے تاکہ ہم بھی تھوڑی بہت کوشش کر کے دیکھ لیں۔

اب حضرت غالب تو ہم ہیں نہیں، جن کو ادھار بھی مل جاتا تھا اور الٹا احسان مند بھی لوگ انہیں کے رہتے تھے کہ غالب ہمارے پاس آئے تھے اور باقاعدہ حکومت کی طرح امداد دینے کے بعد نا صرف محلہ بھر میں فخر سے اشتہارات لگاتے بلکہ اگر کچھ کسر رہتی تو مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات بھی کراتے۔ جس پر جناب نے کہا کہ میں تو آپ کا نام مستقبل میں اردو ادب کے عظیم مصنفین میں دیکھ رہا ہوں اور آپ ہیں کہ پیسے لگانے سے ڈر رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہاں وہ ہمیں بھی نظر آ رہا ہے لیکن تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ تھانوں میں یا پھر ادھار خانوں کے رجسٹروں پر۔

ایک اور پبلشر صاحب نے کہا کہ، ”آپ کو مستنصر حسین تارڑ کی طرح بننا پڑے گا“ ہم نے کہا، ”بھائی، یہ تو بہت مشکل کام ہے، کیوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان میں عمر کا اس قدر فرق ہے کہ ہم چاہا کر بھی ان کی طرح نظر نہیں آسکتے تو جناب نے کہا،“ آپ نے میری بات کا غلط مطلب سمجھا ہے، میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کو ان کی طرح پہلے مشہور ہونا پڑے گا۔ ہم نے کہا، ”بھائی، کتاب چھپے گی تو مشہور ہوں گے نا؟“ کہنے لگا، ”نہیں، پہلے مشہور ہوں، پھر بغیر پیسے کتاب چھپے گی“ گویا ہم سے معجزہ کرانے کی کوشش تھی کہ پہلے شادی کرو، پھر لڑکی تلاش کرو۔

اس کے بعد ہم اور جام صاحب ایک اور پبلشر کے پاس گئے، بڑی منت سماجت کے بعد پبلشر نے کہا، چلیے ”پچاس ہزار دیں، کتاب شائع کر دوں گا“ اب اس سے بڑھ کر اور آپ کو کیا چاہیے۔ ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ کیا جواب دیں، جام صاحب جو ہمارے قریب بیٹھے تھے، بڑی ہی مودبانہ انداز سے کہا، ”اب تو ہم آپ سے اجازت ہی چاہئیں گے۔“

ایک اور پبلشر کے پاس گئے، اس نے کہا کہ ”کتاب کا مسودہ دیکھے بغیر کہہ رہا ہوں کہ ذہنی طور پر تیار ہو جائیں، کم از کم ایک لاکھ روپیہ لگے گا“ ہم نے کہا، حضرت، اگر ہمارے پاس ایک لاکھ ہوتا تو ہم کتاب لکھنے جیسی غلطی کرنے کے لئے فارغ ہی کہاں ہوتے؟ ہم تو اب تک ’ہزار پچاس‘ والے کاروبار میں نہ لگ چکے ہوتے ”

ایک پبلشر سے کہا کہ ہم بات چیت کو گھمائے پھرائے بغیر سیدھی بات کریں گے کہ حضورِ والا ہمارے پاس پیسے نہیں لیکن کتاب آپ سے شائع کرانی ہے، تو حضورِ والا نے بھی بغیر گھمائے پھرائے فوراً جواب دیا کہ ہمارے پاس بھی گنجائش نہیں ہے۔

آخر میں تنگ آ کر ہم نے کتاب کو ایک ایک مضمون کر کے رسالے، میگزینز، اور ویب سائٹوں پر شائع کروانے کا فیصلہ کیا۔ جس پر گرمی کی ایک شام ایک صاحب نے کراچی سے ہمیں فون کیا اور کہا کہ آپ نے کچھ ہمیں بھیجا تھا، وہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ جنابِ والا چند مہینے بعد دیکھ رہے تھے، اب جس طرح گرمی کی شدت تھی صبح کا نکلا سورج چاچا کی مہربانی سے شام کو گھر والوں کو بھی نہیں سمجھ آتا اور بیگم صاحبہ کو جب تک چند اندر کی رازدارانہ نشانیاں نہ دے، تب تک کے لئے اندر کا دروازہ نہیں کھلتا، جیسے گھر کا دروازہ نہ ہوا سرکاری ملازمتوں کا اشتہار۔ اور یہ پگلا مضمون کی بات کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ آپ نے جو ای میل کے ذریعے کچھ بھیجا تھا ”کتنے پینڈو تھے ہم“ یہ کیا ایک ہی جملہ تھا؟ ہم نے کہا کہ ہم نے تو اپنی طرف سے اچھا بھلا صحت مند کوئی دس ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون ہی بھیجا تھا لیکن ہو سکتا ہے کہ اتنا لمبا سفر کرنے اور دوسرا اتنا وقت انتظار کرنے کی وجہ سے یہ کچھ سکڑ کر رہ گیا ہو۔

ہم نے ایک اور جگہ مضمون ایک رسالے کو پیسوں کے عوض بھیجا۔ انہوں نے کہا، ”اگر چل گیا تو آپ کو پیسے ملیں گے، نہیں چلا تو قسمت کا لکھا سمجھیے گا“ اس کے آج تک ہمیں پیسے نہیں ملے، پتہ نہیں ہماری قسمت خراب تھی یا جناب کی نیت۔

ایسے ہی ایک پبلشر کو مسودہ بھیجا تو انہوں نے بھی وہی کہہ کر ایک اور ”لالی پاپ“ تھمانے کی کوشش کی جو کہ شکر ہے کہ ہماری یاداشت اچھی ہونے کی وجہ سے جیسے ہی بات کی، تو پرانے زخم فوراً تازہ ہو گئے۔

ہم نے کہا، ”جناب، ایسا کریں، کتاب کا مسودہ دوبارہ ہمیں واپس بھیج دیں۔ کیوں کہ ہم نے تو ساری کی ساری محنت کتاب لکھنے پر کی ہے، مگر اس پر ’پائیاں‘ لگانے کا دھیان ہی نہیں دیا۔“ اب ذرا سوچیں، بغیر ’پائیوں‘ کے یہ کتاب کیسے چلے گی؟

ایک پبلشر نے کہا کہ اس میں تو غلطیاں ہی غلطیاں ہیں، اس کی تو ابھی پروف ریڈنگ بھی ہونی باقی ہے۔ ہم حیران تھے کہ یہ کون سی دوسروں سے مختلف بیماری نکال لی ہے؟ جیسے پہلے ہی کم مصیبت تھی جو اب ”پروف ریڈنگ“ کا عذاب نکل آیا۔ ہم نے جناب سے پوچھا کہ کیا، ”پروف ریڈنگ کے بھی پیسے لگیں گے؟“
موصوف نے فرمایا، ”ہاں بالکل!“ ہم نے کہا، ”چلیں پھر یوں کرتے ہیں، پہلے کتاب چھاپ دیں، بعد میں جب اس سے پیسے آ جائیں تو اس سے پروف ریڈنگ بھی کرا لیں گے۔ جہاں تک بات رہی غلطیوں کی۔ تو ہم نے کب دعویٰ کیا کہ ہماری کتاب غلطیوں سے پاک ہے؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا لکھنا ہی سب سے بڑی غلطی ہے۔ جس پر موصوف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، کتاب شائع ہونے سے پہلے ہی پروف ریڈنگ ضروری ہوتی ہے۔ اب ہماری حالت اس شخص جیسی ہو چکی تھی جو کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں پہلی بار غلطی سے کم پیسوں کے ساتھ کھانے پر چلا جائے اور ویٹر اس کی حالت دیکھ کر پہلے ہی ٹِپ مانگ لے۔ اس کے بعد جو کچھ موصوف نے بولا، وہ ہمارے دماغ کے لئے بالکل ہی غیر فہم تھا۔ اب بھلا کوڈنگ میں بات کون سمجھ سکتا ہے؟

یہ پہلی بار تھا کہ ہمارے کانوں نے کوئی اچھا کام کیا اور ویسے سن بھی لیتے تو وہی پاکستانی سیریلز کی طرح ایک ہی طرح کی کہانی جو پچپن سے ہی دیکھتے آرہے ہیں، اور یہ بھی کچھ دوسرے پبلشرز حضرات سے مختلف نہیں بولنے والا تھا۔
گھر آ کر گوگل بابا کی چوکھٹ پر جا پہنچے اور عرض کی: ”ہمیں ایک انجانے امتحان میں ڈال دیا گیا ہے، بتاؤ یہ پروف ریڈنگ کیا بلا ہے؟ پہلے تو ڈکشنری کھولی، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پہلے لفظ ڈھونڈو، پھر خود ہی پڑھو، اور آخر میں خود ہی سمجھو۔ اگر اتنا ہی دماغ ہوتا تو آج کاغذ کالے کرنے کے بجائے کوئی دوسرا ڈھنگ کا کام نہ کر رہے ہوتے۔ آخرکار، گوگل نے ہماری التجا پر جو جواب دیا اس کو ہم پیٹ کی زبان میں بیان کریں گئے، کیوں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لوگوں کی سمجھ بوجھ کا جی پی ایس پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے، اور دماغ تک پہنچنے کے لیے کوئی دوسرا شارٹ کٹ دستیاب ہی نہیں۔ اسی لیے تو ایک پلیٹ بریانی کے عوض پانچ سال کی وفاداری کا معاہدہ فوراً سائن ہو جاتا ہے، اور اگر قورمہ بھی ساتھ ہو تو اگلی نسلوں تک کی حمایت پکی سمجھیے۔

جیسے چاولوں کو پکانے سے پہلے اس میں سے کنکر نکالے جاتے ہے تاکہ پکنے کے بعد کوئی بھی دانہ کھانے والے کے پیٹ میں جاکر نزلہ یا زکام کا باعث نہ بنے۔ بالکل اسی طرح، کتاب شائع ہونے سے پہلے تحریر کی پروف ریڈنگ کی جاتی ہیں تاکہ قاری کی طبیعت پر کوئی برا اثر نہ پڑے اور کہیں کیڑے رہ جانے سے اس کا ہاضمہ خراب نہ ہو جائے۔ یعنی، جب مصنفین کی تحریر قاری کے ہاتھوں سے گزرتی ہے، تو یہ بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے چاولوں کا اچھی طرح دھو کر پکایا جانا۔ سب کچھ صاف ستھرا، خوشبودار اور ہضم ہونے کے قابل۔ اصل میں، پروف ریڈنگ وہی کام ہوتا ہے جو ایک زمانے میں شادی سے پہلے سسرال والے لڑکی کے اور لڑکی والے لڑکے کے کردار کے بارے میں کرتے ہوتے تھے، یعنی ”ہر لفظ کو باریک بینی سے پرکھا جاتا ہے، تاکہ بعد میں کوئی غلطی نہ نکل آئے۔ پروف ریڈنگ کے بغیر تحریر شائع کرنا ایسا ہی ہے جیسے دودھ میں مکھی دیکھ کر بھی خود پینا، اور پروف ریڈنگ کروا کر شائع کرنا ایسا ہے جیسے مکھی نکال کر دوسرے کو پلانا۔ یہ سُن کر دل کو تسلی ہوئی، لیکن پھر ساتھ ہی ذہن میں ایک سوال اٹھا:“ اگر تحریریں چاولوں کی طرح صاف کی جاتی ہیں، تو پھر کچھ کتابیں کھچڑی کیوں لگتی ہیں؟

ہم نے پروف ریڈنگ کے لئے اپنے تعلقات کی فہرست پر ایک طائرانہ نظر ڈالی، جو اتنی وسیع تھی کہ اگر اسے پانچ سو صفحات کی کاپی میں سمیٹنے کی کوشش کی جاتی، تو شاید پانچ چھے لائنوں میں آ جاتی۔ وہ بھی اگر فونٹ سائز ہزار پر سیٹ ہو۔ ان چھے میں سے دو بندے ایسے ہیں جنہیں ہم ہمیشہ سے اپنی خدمت کا موقع دیتے ہوئے ان پر احسانات کی بارش کرتے آرہے ہیں۔ ان میں سر فہرست ہیں لائبہ ارشد، جن کی ایڈیٹنگ کے طفیل ہمارے لکھے ہوئے کا آج تک صرف دس فیصد ہی شائع ہو پایا ہے۔ باقی نوے فیصد تحریریں ایسی گمنامی کے اندھیرے میں گم ہو چکی ہیں جیسے سیاستدانوں کے وعدے۔ جو شروع میں ہر جلسے پر گونجتے ہیں، پھر حکومتی فائلوں میں دب کر سسکتے ہیں، اور آخر میں تکمیل ہونے سے کچھ وقت ہی پہلے خود اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے کر کسی نامعلوم مقام پر مستقل چھٹیاں گزارنے کے لئے چلے جاتے ہیں۔

ہماری تحریروں کے ساتھ ہمیشہ سے وہی ہوتا آ رہا ہے جو ایک عام بندے کے ساتھ تب ہوتا ہے جب وہ خوش باش اپنی صحت کا بھرم لے کر جی رہا ہو، پھر اچانک میڈیکل ٹیسٹ کرائے اور رپورٹ میں ایسی ایسی بیماریاں نکل آتی ہے کہ جن کا اس کی سات نسلوں نے نام تک بھی نہیں سنا ہوتا۔ بالکل ایسے ہی ہماری تحریریں بھی بے ضرر اور معصوم سی ہوتی ہیں، لیکن جیسے ہی آپ کی میز پر پہنچتی ہیں، ان میں وہ خامیاں برآمد ہو جاتی ہیں جو شاید خود تحریر نے بھی کبھی اپنے اندر محسوس نہ کی ہوں۔ آپ کی تنقیدی مہارت کسی حجام کے برش کی طرح نہیں، بلکہ قصائی کے چھری کی مانند ہے، جو اصلاح کم اور قربانی زیادہ لیتی ہے۔ آپ ان لوگوں میں سے ہے جو تنقید کو اصلاح کی نیت سے ہرگز نہیں بلکہ آپ کا مقصد صرف ہمارے صبر کا امتحان لینا ہوتا ہے۔ یعنی آپ کی باتیں سن کر بندہ خود کو بہتر کرنے کی بجائے اپنا دماغی علاج کروانے نکل پڑے یا پھر کوئی گوشہ عافیت تلاش کرے جہاں آپ کی اصلاحی توپوں کی زد میں نہ آ سکے۔

مثال کے طور پر، ہم نے دو سال پہلے محنت سے ایک کتاب کا مکمل بازار سے سامان اکٹھا کیا، پھر اسے خون پسینے سے سینچا، اور بڑے چاؤ سے پکانے کے بعد آپ کو دکھایا کہ لیجیے، کچھ فرمائیں! آپ نے محبت کے ایسے نشتر چلائے کہ نہ صرف ہم نے اس کتاب کو لکھنا ترک کر دیا بلکہ اس دن کے بعد اس موضوع کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے بچے کڑوی دوا کو۔ اب حالت یہ ہے کہ اگر کبھی غلطی سے پھر سے اسے دوبارہ لکھنے کا خیال بھی آ جائے تو دل خود کو طعنے دینے لگتا ہے : ”ارے میاں! اتنی فرصت کہاں کہ دوبارہ وہی ذلت سہو؟“

ہماری دانست میں وہ کتاب ایسی تھی کہ اگر فرشتے زمین پر آ کر پڑھتے تو واپسی پر وحی لکھنے کے کئی نئے اصول و ضوابط لے جاتے۔ یہ کتاب نہیں، ایک ایسا الہامی شاہکار تھا جو کروڑوں نہیں، اربوں لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آتا۔ مگر آپ نے وہ تبصرہ فرمایا کہ روشنی تو بعد کی بات، جس بجلی گھر سے وہ روشنی آنی تھی، اس کا ہی کنکشن کاٹ دیا۔

ہم نے سوچا تھا کہ لوگ اسے پڑھ کر عقل کے چراغ جلائیں گے، لیکن آپ نے ہم پر ایسی بجلی گری کہ اب چراغ تو کیا، لوڈ شیڈنگ کا سدا بہار منظر بن چکا ہے۔ آپ کے تبصرے کے بعد نہ صرف ہم نے قلم توڑ دیا، بلکہ وہ سیاہی بھی نالی میں بہا دی جس سے کبھی شاہکار نکلنے کی امید تھی۔ کچھ عرصے تک حال یہ رہا کہ لکھنے کا نام سن کر ہمارے ہاتھ ایسے کانپنے لگتے تھے جیسے گرمیوں میں بغیر کمبل کے رات گزار رہے ہوں۔

اگر کسی کو اپنے لکھنے پر بہت زیادہ گھمنڈ ہو تو آپ سے صرف ایک بار تبصرہ کروا لے، یقین مانیے، وہ دن اور آپ کی تنقید کا دن، آپ کی ”ادبی زندگی“ کا آخری دن ہو گا۔ اگر غالب بھی اپنے اشعار آپ کو سنا بیٹھتا تو غالباً شاعری چھوڑ کر پان کی دکان کھول لیتا اور آج اردو ادب میں دیوان غالب کی جگہ بازاروں میں ”غالب پان مسالہ“ دستیاب ہوتا۔

جب ہم آپ کے ہاتھوں میں قینچی دیکھتے ہے، تو ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری تحریر کی نہیں، بلکہ ہماری تقدیر کا آپریشن ہونے لگا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں آپ کی محبت سے وہی خوف آتا ہے جو اسکول کے محنتی طالب علم کو رزلٹ کارڈ دیکھ کر آتا ہے، یا پھر جس طرح نئی نویلی دلہن کو اپنی ساس کی پہلی تقریر سن کر آتا ہے۔

دل تو ہر بار یہی کرتا تھا کہ سلامتی کا تعویذ لکھوا کر اپنی تحریروں کے ساتھ بھیجو، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی پیروں کے نخرے کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ پہلے تو ملاقات کے لیے تین تین ہفتوں تک مریدوں کی قطار میں لگو، پھر جب باری آئے تو پہلے نذرانہ، جیسے نئی نویلی دلہن کی منہ دکھائی، پھر چائے پانی، اس کے بعد ”جنات سے مشورہ“ اور آخر میں ایک مہنگا تعویذ، جس کی قیمت ایسی کہ بندہ سوچنے لگتا ہے کہ تعویذ لینے آیا تھا یا پھر پارٹی کا ٹکٹ۔ اوپر سے اگر ذرا بھی بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے غلطی سے کہہ دو کہ ”پیر صاحب، تعویذ ذرا سستا دے دیں“ تو آگے سے فوراً فرماتے ہیں، ”بیٹا، عقیدت کا کوئی ریٹ نہیں ہوتا، ہاں، یہ والا خاص تعویذ صرف خاص مریدوں کو دیتے ہیں، تمہیں اس سے ضرور فائدہ ہو گا۔

یہی سوچ کر ہم تعویذ کا خیال ترک کر دیتے اور ساتھ فیصلہ کیا کہ اپنی تحریروں پر بس خود ہی ”بسم اللہ“ لکھ کر بھیجنے کے ساتھ ساتھ ایک ہلکا سا خط بھی رکھ دیتے : ”محترمہ صاحبہ ہاتھ ہلکا رکھیے گا، یہ تحریر میری اپنی اولاد کی طرح ہے۔ لیکن آپ کا رویہ پھر بھی ویسا ہی ہوتا جیسے آج کل حکومت کا اپوزیشن کے ساتھ۔

پچھلے تین سالوں سے آپ وہ واحد ہستی ہیں جو ہماری تحریروں کا وہی حشر کرتی آ رہی ہیں جو بکرے کی ران کے ساتھ دوستی کرنے پر چھری کا ہوتا ہے۔ ہم دس ہزار الفاظ کا شاہکار بھیجتے اور جب وہ ”آپ کی اصلاح“ کے بعد واپس آتی تو بس دس جملوں کا یتیم و مسکین مجموعہ باقی رہتا۔ بلکہ بعض اوقات تو وہ بھی ایسے ناپید ہوتا جیسے پاکستان میں میرٹ۔ پہلے پہل تو ہم اکثر یہ سوچتے رہتے تھے کہ شاید ہماری تحریر کہیں راستے میں ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گئی ہوگی، یا پھر ہم نے غلط فائل بھیج دی ہے۔ جب تصدیق کے لیے آپ کو پیغام بھیجتے تو جواب آتا: ”غور سے دیکھیں۔“ اور جب ہم خوردبین لگا کر دیکھتے، تو واقعی الفاظ کچھ جانے پہچانے لگتے۔ ان چند جملوں کی حالت بھی ویسی ہی ہوتی جیسے میدانِ جنگ میں دو تین سپاہی جو دشمن کی گولہ باری سے کسی معجزے سے بچ گئے ہوں۔

اس خوف سے کہ کہیں ہم کتاب بھیجیں اور وہ قینچی کی زد میں آ کر کتابچہ بن کر واپس نہ آ جائے، ہم نے اس بار کسی اور کو اس سعادت کا موقع دینے کی اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی۔ مگر قسمت ہمیں ہر بار آپ کی ”اصلاحی“ قینچی کے نیچے گھسیٹ لاتی ہے۔ ہمارے ساتھ قسمت نے بھی وہی کیا ہوا ہے جو پاکستانی عوام کے ساتھ ہر الیکشن میں ہوتا ہے۔ یعنی پہلے سب کو آزمانے کے بعد آخر میں مجبور ہو کر وہی پرانی پارٹی کو دوبارہ ووٹ دینے پڑ جاتا ہے۔

یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے تقریباً تمام پروفیسر حضرات سے ملے، لیکن قسمت ایسی کہ کسی کے نصیب میں ہماری تحریر کاٹنے کی نیکی لکھی ہی نہیں تھی۔ آخر میں، جب کوئی آپ جیسا ”رحم دل“ نہ ملا، تو مرتا کیا نہ کرتا اور کہیں سے جب کچھ نہ بن پایا تو آخر میں پہنچ گئے آپ کے دروازے پر۔ آپ اس شعر پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ: ”دردِ دل دینے کے لئے پیدا کیا گیا انسان کو ورنہ اس کے لیے کچھ کم نہ تھے سیاستدان۔“

آپ نے ہمارے ”ادبی درد“ کو سینے سے لگایا، اور بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری ایک اور مصیبت اپنے گلے میں ڈال لی۔ یہ ہماری پہلی کامیابی ہو سکتی تھی، لیکن آپ کے ماضی کے ”قلمی قتلِ عام“ کو دیکھتے ہوئے خوشی منانا قبل از وقت ہو گا۔
ویسے تو ہم کسی سے متاثر ہونے کی روایت نہیں رکھتے، مگر آپ کی ”کاٹ چھانٹ“ کی مہارت پر دل سے قائل ہیں۔ آپ دنیا کی واحد ہستی ہیں جن سے ہم متاثر ہیں، اور آپ کے اثرات پچھلے تین سالوں سے ہم پر ایسے بڑھے ہے جیسے آئی ایم ایف کا پاکستان پر قرضہ۔ یعنی کم ہونے کے بجائے وقت کے ساتھ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اور وہ بھی بغیر مفاد احسان پہ احسان کیے جا رہی ہے، بالکل ایسے جیسے آئی ایم ایف پاکستان کو پچھلی قسط ادا کیے بغیر نئی قسط جاری کر دیتی ہے۔

نہیں تو ہمارے اوپر کسی کا اثر ہو، یہ تو ناممکنات میں سے ہے۔ ہم اس بات کا آج اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کی خدمات ہمارے لکھاری ہونے میں وہی ہیں جو پاکستانی سیاستدانوں کے حکومت میں آنے میں عوام کے ووٹ کی ہوتی ہیں۔

Facebook Comments HS