آج کے لات و عزّیٰ


سعد خانہ کعبہ کے طواف میں مگن تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنوں کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ دنیا کی ہر فکر اور سوچ سے آزاد ہو چکا تھا۔ صرف اللہ کی ذات، اس کا عشق، اور کعبے کی قربت، یہی اس کے دل و دماغ پر طاری تھا۔ وہ روحانیت کے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں انسان خود کو مٹانے اور اپنی ہستی کو فنا کرنے کی خواہش کرتا ہے۔

کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے، وہ باری تعالیٰ کے نام کی تسبیح کر رہا تھا۔ ہر قدم اس کے دل کی کیفیت کو مزید گہرا کر رہا تھا۔ دوسرا چکّر مکمل کرتے ہی، وہ پانی پینے کے لیے ایک حمام کی طرف بڑھا اور پانی کے پہلے گھونٹ سے اپنا حلق تر کیا۔ جیسے ہی اس نے سر اٹھایا، اس کی نظر ایک عالیشان عمارت پر جا ٹھہری۔

یہ عمارت اتنی بلند اور چمکتی ہوئی تھی کہ سعد کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہ اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ اس کا دل خوف اور بے بسی کے احساس سے بھر گیا۔ اس نے جلدی سے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی اور ایک لمحے کے لیے جیسے اسے اپنے وجود کا ہوش نہ رہا۔ چاروں طرف نظر آنے والی دیو قامت عمارتیں اور ان کے درمیان چھوٹا سا خانہ کعبہ اسے دلگیر کر گیا۔

”یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟“ اس کے دل میں سوالات ابھرنے لگے۔ وہ بے چینی سے ایک طرف چل پڑا۔ اس کا دل اب خانہ کعبہ کی عظمت کے بجائے ان عمارتوں کے سائے میں دبنے لگا۔ وہ وہاں زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔ اپنے قدموں پر قابو پاتے ہوئے، وہ حرم سے باہر نکل آیا۔

چند گھنٹے بعد ، اٹھائیس سالہ سعد پولیس اسٹیشن کے ایک سرد کمرے میں بیٹھا تھا۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے وہ سب کچھ کھو چکا ہو۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور ذہن میں ایک طوفان برپا تھا۔

ایک پچاس سالہ افسر نے کمرے میں داخل ہو کر اس کی طرف دیکھا: ”تم حرم سے کیوں بھاگے؟ کیا تمہیں اندازہ ہے کہ یہ کتنی بڑی بات ہے؟“

سعد نے چہرہ اٹھایا، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ وہ بمشکل بولا: ”لات و عزّیٰ۔ لات و عزّیٰ۔“
پولیس افسر نے حیرت سے پوچھا: ”کیا؟ لات و عزّیٰ؟ ان کے بت تو پندرہ سو سال پہلے توڑ دیے گئے تھے!“

مگر سعد کی آنکھوں میں خوف بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ جیسے کسی اور دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ افسر نے اشارہ کیا، اور اسے عدالت میں پیش کرنے کے احکام جاری کیے گئے۔

عدالت کے کمرے میں سناٹا تھا۔ ایک بوڑھا جج اونچی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی۔ سرکاری وکیل نے مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہا:

”یہ شخص حرم میں طواف کرتے ہوئے اچانک بھاگ نکلا، اہرام میں ملبوس، اور عزیزیہ میں مشکوک حالت میں پکڑا گیا۔ اس نے خانہ کعبہ کے مقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔ ہم عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس پر سخت سے سخت سزا دی جائے۔“

جج نے سعد کی طرف دیکھا: ”کیا تم ان الزامات کو قبول کرتے ہو؟“

سعد نے دھیرے سے سر اٹھایا اور کہا: ”عزت مآب، میں مانتا ہوں کہ میں طواف مکمل کیے بغیر مسجد سے باہر نکل گیا۔ لیکن میری نیت خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرنا ہرگز نہیں تھی۔ بلکہ میرا مقصد اس مقدس مقام کی عظمت کو بچانا تھا۔“

”کیسے؟ وضاحت کرو:“ جج نے سخت لہجے میں کہا۔

سعد نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور بولا: ”جنابِ عالی، جب میں خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوا تو میرا دل شکر گزاری اور عاجزی کے جذبات سے لبریز تھا۔ میں نے چاروں طرف نہیں دیکھا، سیدھا کعبہ کی طرف بڑھا اور طواف شروع کر دیا۔ لیکن دوسرے چکر کے بعد ، جب میں پانی پینے کے لیے رکا تو مجھے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ کعبہ کے ارد گرد دیو قامت عمارتیں کھڑی تھیں۔ ان عمارتوں نے خانہ کعبہ کو اپنے سائے میں چھپا لیا تھا۔ کیا ہم واقعی لات و عزّیٰ سے آزاد ہو چکے ہیں، یا وہ کسی نئی شکل میں ہمارے درمیان واپس آ چکے ہیں؟“

عدالت میں خاموشی چھا گئی۔

”یہ کیا کہہ رہے ہو؟ یہ عمارتیں عبادت گزاروں کے لیے سہولت فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔“ سرکاری وکیل نے زوردار انداز میں کہا۔

سعد نے جج کی طرف دیکھا: ”جنابِ عالی، یہ عمارتیں محض سہولت کے لیے نہیں ہیں۔ اسلام کی روحانیت اور توحید کے پیغام کو ان دیو قامت عمارتوں نے مادیت کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ یہ لگژری ہوٹل، یہ شاپنگ مالز۔ یہ مسلمانوں کے دلوں میں عاجزی اور مساوات کے جذبات کو کچل رہے ہیں۔“

جج نے گہری نظروں سے سعد کو دیکھا: ”تمہارا مطلب کیا ہے؟“

سعد نے جواب دیا: ”ہمارے نبی کریمﷺ نے لات و عزّیٰ کو مٹا کر ایک نئی بنیاد رکھی تھی، جہاں سب انسان برابر ہوں، لیکن آج ہم نے خود نئے بت کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ عمارتیں روحانی تجربے کو ایک کاروبار بنا رہی ہیں۔ حج اب عاجزی کا عمل نہیں رہا بلکہ دکھاوے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ یہاں لوگ بیس پچیس قسم کے کھانوں کا بُفے کرتے ہوئے، اتنی بلندیوں پر بیٹھ کر کعبہ کو نیچے دیکھتے ہیں۔ ہمارے رسول اور مولا علی نے کبھی اپنی زندگی میں ایک وقت میں ایک سے زیادہ کھانے نہیں کھائے۔“

سرکاری وکیل غصے سے اٹھا: ”یہ شخص گمراہ ہے۔ اس کی باتیں صرف فتنہ پھیلائیں گی۔ عدالت سے گزارش ہے کہ اس پر سخت سے سخت سزا دی جائے۔“

سعد نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا: ”میں نے جو دیکھا، وہ سچ ہے۔ میں اپنی بات پر قائم ہوں، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔“

جج نے چند لمحے سوچا، پھر فیصلہ سنایا: ”ملزم کو حج مکمل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن حج کے بعد اسے فوراً اس کے ملک واپس بھیج دیا جائے۔“

دوپہر کی تپتی دھوپ میں، سعد نے خانہ کعبہ کے گرد اپنا آخری طواف مکمل کیا۔ اس کے قدم تھکے ہوئے تھے، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سکون تھا۔ طواف کے بعد ، اس نے اہرام کے گرد بندھی ہوئی پیٹی میں سے سات کنکریاں نکالیں اور کعبہ کے سامنے موجود ایک عالیشان ہوٹل کی طرف پھینک دیں۔

پولیس فوراً اس کے پاس آئی۔ ایک افسر نے غصے سے پوچھا: ”یہ کیا کر رہے ہو؟ کنکریاں منیٰ میں جمرات پر پھینکی جاتی ہیں!“

سعد نے مسکراتے ہوئے کہا: ”یہی تو جمرات ہیں، یہی آج کے بت ہیں۔“

Facebook Comments HS

5 thoughts on “آج کے لات و عزّیٰ

  • 23/02/2025 at 5:04 صبح
    Permalink

    ایک افسانے کی حد تک اچھی کوشش۔
    کچھ تصصیح ضروری ہیں مجھے علم نہیں کہ غلطی آپ کی ہے یا اس سافٹ ویئر کی جس کے ذریعے مدیر ڈرافٹ کی قطع و برید کرتے ہیں۔

    اس تحریر میں دو جگہ اہرام لکھا ہے جب کہ صحیح لفظ احرام ہے۔
    لفظ اہرام ۔۔۔ مخصوص شکل کے مخروطی مقابر یعنی pyramids کو کہا جاتا ہے جو اہرام مصر ہی نہیں میکسیکو چین اور کئی دوسرے مقامات پر آج بھی موجود ہیں۔
    آج کے بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی چھت سے اونچی کوئی عمارت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ محض عقیدت میں ڈوبی ایک غلط فہمی ہے۔

    نبی اکرم ص سے منسوب وہ واقعہ جب نبوت نازل ہونے سے چند سال پہلے انہوں نے کعبہ کی دوبارہ تعمیرکے وقت حجر اسود کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت تک کعبہ کی عمارت محض آٹھ دس فٹ تک اونچی ہوتی تھی اور اس کے دو دروازے ہوتے تھے۔ یہ اسی تعمیر کے وقت ہوا کہ اس کی اونچائی کو بڑھاکر چالیس پچاس فٹ تک کردی گئی اور اسے پہلی بار ایک چھت بھی مل گئی۔

    یاد رہے اسلام کے ہزار سال بعد تک صفا اور مروہ ہی نہیں کعبہ کے گرد دوسرے متعدد پہاڑ موجود تھے اور ان کے اوپر بنی ہر عمارت کعبے سے بلند ہوتی تھی پہاڑ کی اونچائی کی وجہ۔ سن 2000 کے آس پاس قریب موجود کئی پہاڑوں کے اوپر قلعے تک موجود تھے جو کعبے سے بلند تھے اور یہ ترک دور کی نشانیاں تھیں۔
    موجودہ کمرشل دور میں اگر کعبے کے اطراف بلند عمارات قائم ہوگئی ہیں تو اس میں کیا مشکل ہے ؟ صفا مروہ کے بازار ہر دور میں کعبے سے بلند تھے۔

    یادرہے کہ "لات” کسی جھوٹے خدا کا نام نہیں بلکہ طائف میں موجود ایک بت کا نام ہے۔ قدیم زمانے میں مکہ جانے والے حاجی جب طائف سے گزرتے تھے تو وہاں ایک شخص اپنے گھر کے باہر ایک جگہ ستو اور گڑ ملاکر حجاج کی خدمت کرتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد اہل طائف نے اس جگہ کو اس کی یاد میں عبادت کی جگہ بنالیا اور یوں "لات” کا بت وجود میں آیا۔ اصل لات کا بت طائف سے ہی منسوب ہے۔ یہ الگ دلچسپ بات ہے کہ قدیم عرب میں خدا سے منسوب تین بیٹیاں تھیں جن کے بت بنائے گئے تھے۔ ان میں لات ہی نہیں منات اور عزی بھی شامل ہیں۔
    منات وہی بت تھا جس کو بعد میں مشرکین نے حفاطت سے عرب سے باہر اسمگل کردیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ جدہ کی تجارتی بندرگاہ سے یہ بت ہندوستان پہنچ گیا اور اسی بت کو تباہ کرنے کے لئے محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 سے زائد حملے کئے "سوم نات” کی یہی داستان بتائی جاتی ہے۔

    • 23/02/2025 at 9:09 صبح
      Permalink

      Thanks for pointing out the spelling mistakes.
      You are correct that there were dwellings and fort on the hills around Ka’aba. But in this afsaanah, the emphasis is on the atmosphere of materialism created by the luxury hotels and the shopping malls. Moreover they are in very close proximity to the kaaba dwarfing the holiest place of Muslims.
      According to Secular History of Islam by Tariq Ali , the idol of Manat got destroyed by the direction of prophet Muhammad. History always have many versions for the same event.
      Thank you for your insight into this afsaanah.

    • 23/02/2025 at 11:19 صبح
      Permalink

      منات کی عمومی کہانی وہی ہے جو ہندوستان اور برطانیہ میں موجود کتابوں میں بتائی جاتی ہے لیکن خود عرب اور ترکیہ میں موجود تاریخ میں یہ بات بھی موجود ہے کہ یہ تمام 360 سے زائد بت ایک ہی ہلے میں نہیں گرائے گئے تھے بلکہ مختلف ٹیمیں اس کام کے لئے بھیجی گئی تھیں جن کے دو کام ضروری تھے ایک مختلف مندر یا عبادت گاہوں میں موجود بتوں کی تباہی اور مختلف قبریں جو عبادت گاہوں میں بدل گئی تھیں ان کو زمین بوس کرنا۔
      انہی ٹیموں میں متعدد ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اوپری اوپر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اپنے خداؤں کو تباہ کرنے سے بھی ڈرتے تھے اور ان لوگوں نے مندروں سے بت شفٹ کرکے اپنے گھر یا حفاظتی مقامات پر منتقل کردیئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو ان تمام کام کے سربراہ تھے انہیں سب اچھا رپورٹ کردیا۔
      آہستہ آہستہ جب یہ معاملہ ٹھنڈا ہوگیا اور مدینہ کی فوج واپس چلی گئی تو یہ بت پہلے جدہ اور وہاں سے ہندو تاجروں کے ذریعے ہندوستانی کاٹھیاواڑ اور گجرات کے علاقے میں پہنچ گیا۔ یہاں ان دنوں سوما (چاند) سے منسوب ایک دیوتا کی زیارت گاہ تھی جہاں یہ بت رکھ دیا گیا۔ سومناتھ نام کی عبادت گاہ یا مندر وجود ہی 800 عیسوی کے بعد ہوا۔
      طارق علی ۔۔۔ جن کو آپ نے احتیاطاً سیکولر ہسٹری کا مصنف لکھا ہے یہ صاحب درحقیقت اردو میں مرتد کہلاتے ہیں۔ سر سکندر حیات جو آزادی 1947 سے پہلے پنجاب کے وزیراعظم تھے ان کے نواسے ہیں۔ ان کی والدہ پاکستان بننے کے کچھ ہی عرصے بعد کمیونسٹ ہوگئی تھیں اور ان کو پاکستان میں بچانے کے لئے والدین نے برطانیہ اعلی تعلیم کے لئے منتقل کردیا۔ طارق علی نے ایک پریشان زندگی گزاری اور لگ بھگ شروع سے ہی برطانوی شہری رہے۔

      طارق علی کی اسلام کی تاریخ پر کوئی بھی ریسرچ مستند نہیں مانی جاسکتی۔ یہ کسی بھی طور پر سلمان رشدی سے کم نہیں۔ عربی اور ترکی تحاریر کو جانے بغیر اسلام کی تاریخ کو جاننا کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
      اگر ہم آج بھی محمود غزنوی جو افغانستان کے شہر غزنی سے ہندوستان حملہ کرنے چلا اس کے راستے پر غور کریں تو حیرت ہوتی ہے۔ کہاں افغانستان کا دل اور کہاں کاٹھیاواڑ اور گجرات جو جنوبی ہندوستان کا آخری کونا تھا ؟

      کسی بھی غیرمسلم (بشمول طارق علی) اور متعصب خواجہ آصف جیسے لوگوں کے لئے محمود غزنوی کو ڈاکو یا لٹیرا قرار دینا بہت آسان ہے لیکن سوم تاتھ کی تباہی کے بعد یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہاں سوم ناتھ اور کہاں غزنی جب کہ ان کے بیچ میں متعدد ایسے مندر اور جگہیں موجود تھیں جہاں سومناتھ سے زیادہ خزانہ موجود تھا۔

      یہ بھی حقیقت ہے کہ سن 1026 میں جب محمود نے سومناتھ کو تباہ کیا۔ محمود اس کے بعد چار سال تک زندہ رہا یعنی 1030 تک۔ لیکن اس نے دوبارہ ہندوستان یا قریبی علاقوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ اس کی توجہ غزنی کو علم اور تحقیق کا مرکز بنانے میں گزرگئی۔
      محمود غزنوی کے حملوں پر سب سے بڑا نام خود البیرونی ہی تھا جولگ بھگ تیرہ سال تک محمود کے

      ساتھ دربار سے منسلک رہا اس کے انتقال تک۔ گویا 1016 سے 1030۔
      البیرونی محمود کی کئی فتوحات میں اس کے ساتھ شامل رہا۔ ہرجاء کے اس کو محمود کی یہ فتوحات پسند نہیں تھیں لیکن اس نے بھی یہی لکھا ہے کہ محمود کا بنیادی مقصد بت شکنی ہی تھا۔
      بہت سارے مسلمان اس بات سے لاعلم ہیں کہ محمود کے حملے کے بعد سومناتھ دوبارہ تعمیر کرلیا گیا تھا اور 75 سال بعد علاء الدین خلجی (جس سے ہندوستان کے ہندو اپنی تاریخ میں شدید نفرت کرتے ہیں) سومناتھ پر حملہ کرکے اس کو دوبارہ تباہ کردیا تھا اور اہم بتوں کو اپنے ساتھ لے کر دہلی چلا گیا تھا جہاں ان کو تباہ کردیا تھا۔

      ظاہر ہے "منات” مکہ سے گجرات پہنچا یا نہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن خود محمود غزنوی کی سوانح میں یہ موجود ہے کہ اسے خواب میں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ "ان مقامات” کو تباہ کیا جائے۔ وگرنہ یہ عقل سے بعید راستہ ہے کہ کہاں غزنی اور کہاں بحر ہند (یا بحر عرب) پر موجود سومناتھ۔
      جہاں تک آپ کا کعبہسے متصل کمرشل ازم کا سوال ہے۔ درحقیقت وہاں پہلا پتھر اس وقت پڑا جب حدود حرم میں شاہی محل کو صفا سے منسلک ایک پہاڑ کو گراکر تعمیر کیا گیا۔ یہ عمارت بیس پچیس سال تک کعبہ سے کئی سو فٹ اونچی تھی۔ سعودیہ اور دنیا بھر میں موجود مسلمانوں نے اس پر برا منایا۔ اب جب یہ معاملہ ٹھنڈا ہوگیا تو یہ تمام قیمتی زمین جو شاید دنیا بھر میں قیمتی ترین تھی اس پر ہوٹل ترمیر کردیئے گئے جو ظاہر ہے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والوں کی ملکیت تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ہوٹلوں سے کئی ہزار زائرین کو کعبے سے نزدیک رہائش مل گئی جو کم سے کم وقت میں نماز کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ ویسے دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ مقامی فتوے کہ مطابق ان ہوٹلوں میں مخصوص جگہ پر نماز پڑھنے والوں کو حدود حرم میں نماز پڑھنے جیسا ثواب ہی ملتا ہے۔

      آخری بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا۔
      ہر امت کی آزمائش (نعمت جیسے) ایک فتنے سے کی جاتی ہے۔ اور میری امت کا فتنہ (یا ازمائش) مال (یعنی دولت) ہے۔

      منات اور دوسرے بتوں کو بچانے کی داستان ان کوششوں سے بھی ملتی جلتی ہے جن میں فتح مکہ کے بعد مختلف ادوار میں جب کعبہ تباہ کیا گیا یا سیلاب سے یہاں تباہی آئی تو تین مختلف طرح کے پتھر عرصہ دراز تک لاپتہ رہے (جو لوگوں نے اپنے گھروں میں چھپا رکھے ہوئے تھے) ان میں حجر اسود اور "مقام ابراہیم” کے پتھر کے علاوہ ایک اور مخصوص پتھر بھی شامل تھا جو اب کعبے کی دیوار میں نصب ہے (اور رکن یمانی کے نام سے جانا جاتا ہے)۔ شاید یہ بات بھی متعدد لوگ نہیں جانتے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رض کے دور تک مقام ابراہیم کا پتھر ایک ڈوری کے ساتھ کعبہ کی دیوار سے لٹکا رہتا تھا۔

    • 23/02/2025 at 7:55 شام
      Permalink

      I reckon you have a good knowledge of history. But at the same time you are being very judgemental. One should not discard a person’s work or opinion because he is not a Muslim. To me tariq ali is better than most of us (muslims ) because he refused to sell himself, always spoke and wrote against injustice. He recently wrote a book about the crimes of the British hero Churchill.

    • 24/02/2025 at 2:18 شام
      Permalink

      Sir, your point is valid but i also indicated that neither we can discard his work nor affirm in this regard.
      Can i write your biography better than you // Certainly not
      Writing anything about subcontinent and British history, i would certainly give weightage to Tariq Ali instead of anyone writing on subject and living in Arabia
      Same is this case, books written thousand years earlier by Arab / Persian / Turkish historians on Arabia weigh more than anyone living in subcontinent / Britain
      But still it depend on case to case

Comments are closed.