دا ٹھگ ڈاٹ کام – ڈیجیٹل کورسز
سوشل میڈیا کئی طرح کے مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، اور ان میں سے ایک ہے آن لائن کورسز، ایسے کورسز جن کا فائدہ تقریباً صفر ہے۔ جیسے ذہنی صحت بہتر کرنے اور دین سکھانے کے ڈیجیٹل اور آن لائن کورسز۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے پاس لوگوں کو بے وقوف بنانے کے کئی کارگر ہتھکنڈے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ یہ ہے کہ چند دن موٹی ویشن دے کر اور ہمدردی دکھا کر لوگوں کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ہمارے پاس ان کے مسائل کا حل ہے۔ یا یہ کہ ہمارے کورس سے انہیں اللہ اور اس کے فیصلوں کی حکمتیں سمجھ آنے لگیں گی، لہٰذا وہ انہیں فالو کریں۔ ان کا طریقہ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ پہلے ریڈرز، ویورز اور فالورز اکٹھے کرتے ہیں، پھر کورس لانچ کرتے ہیں اور لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ یہ لوگ اتنے چرب زبان ہوتے ہیں کہ باتوں میں انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ جس طرح ایک عطائی خود کو ہر مرض کا ماہر معالج بتاتا ہے، ویسے ہی یہ لوگ ہر مسئلے کا حل سکھانے کے لیے کورس لانچ کر دیتے ہیں۔ ان کے پاس ہر چیز کا کورس دستیاب ہے :
صبح جلدی اٹھنا کورس
رات کو جلدی سونا کورس
روتے بچے کو چپ کرانا کورس
تہجد کورس
وظائف کورس
امتحان کی تیاری کورس
بریک اپ کورس
شادی کورس
طلاق کورس
میڈیٹیشن کورس
ویل بینگ کورس
یہ انفلوئنسرز لوگوں کے مسائل کو ٹول بنا کر ان سے پیسے بٹورتے ہیں۔ جس طرح گائے کا زخم کوے کے لیے برکت ہوتا ہے، اسی طرح لوگوں کی پریشانیاں ان کے لالچ کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی کا شکار ہے، اور یہی پریشانیاں انہیں ان جعلسازوں کے چُنگل میں لے آتی ہیں۔
ان کورسز کا خاص نشانہ گھریلو عورتیں اور ٹین ایجرز ہوتے ہیں، کیونکہ یہی دو طبقے سب سے زیادہ ذہنی دباؤ، پریشانی اور اینگزائٹی کا شکار ہوتے ہیں۔ ٹین ایجرز کا دماغ پختہ نہیں ہوتا، انہیں باتوں میں الجھانا اور رجھانا آسان ہوتا ہے۔ دوسری طرف گھریلو خواتین کو کسی سامع کی تلاش ہوتی ہے، کوئی ایسا شخص جس سے بات کر کے یہ دل اور ذہن ہلکا کر سکیں۔ یہی جذباتی کمزوری ان جعلسازوں کے فائدے کا سبب بنتی ہے۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آن لائن کورسز کروا کر پیسے کمانا ناجائز ہے، مگر یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ ان میں زیادہ تر کورسز دھوکہ اور فراڈ ہیں۔ یہ لانگ ٹرم میں کسی کام کے نہیں۔ آن لائن کورسز سے پیسے بنانا بہت آسان ہے۔ تھوڑا سا بزنس مائنڈ اور چالاکی چاہیے۔ کنٹینٹ پہلے سے تیار کر لو، ریکارڈ کر لو اور پھر بار بار فروخت کرو۔ بعض اوقات تو کورس بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ انٹرنیٹ پر موجود کورس بلڈرز اور اے آئی ٹولز سے سارا کام ہو جاتا ہے۔ ایک دو ویب سائٹس کی سبسکرپشن لے کر کورس بنا لو، سبسکرپشن ختم کرو، اور پھر کماتے رہو، اور صارفین کو دو ایک سبسکرپشن پر ”لائف ٹائم ایکسیس“ کا جھانسا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے مسائل کے لیے پرانی ریکارڈنگ کارآمد نہیں ہوتی۔ ہر نئے مسئلے کے لیے نئی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ جس طرح ایک ہی دوا بار بار کھانے سے جسم اس کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتا ہے، اسی طرح پرانی ریکارڈنگز اور نصاب بھی غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ دھوکے کو زیادہ پرکشش بنانے کے لیے ”لائیو سیشن“ کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے، جس میں انسٹرکٹر کا کوئی لاجسٹک خرچہ نہیں آتا، مگر صارف کی جیب ہلکی ہو جاتی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستانی ٹین ایجرز اور گھریلو عورتوں کی نیٹ ورتھ کیا ہے۔ ایسے میں ان سے ایک کورس کے تین سے پانچ ہزار بٹورنا سراسر زیادتی ہے، خاص کر جب وہی معلومات ایک اچھی کتاب سے بہت کم قیمت یا یوٹیوب ویڈیوز سے بلا قیمت حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر آپ نے آن لائن کورسز کرنے ہی ہیں تو ایسے کورسز کریں جو ڈیجیٹل مہارتوں سے متعلق ہوں، جیسے : کینوا، ایم ایس آفس، گرافکس اور ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ وغیرہ لیکن ”گلٹ مینجمنٹ سے گریٹی ٹیوڈ تک“ جیسے کورسز سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ نہ صرف اوور پرائسڈ ہیں بلکہ زیادہ فائدہ مند بھی نہیں۔
ہماری نسل کے ذہنی مسائل کرونک ہیں، اور یہ پینتیس منٹ کے پندرہ بیس سیشنز میں ختم ہونے والے نہیں۔ اگر کسی کو واقعی تھیراپی کی ضرورت ہے، تو اسے کسی مستند پروفیشنل کے پاس جانا چاہیے، نہ کہ ان جعلی موٹیویٹرز کے چُنگل میں پھنسنا چاہیے جنہوں نے سیلف ہیلپ کی چند کتابیں پڑھ کر اپنا بزنس ماڈل بنا لیا ہے۔
ذہنی مسائل سالوں میں جڑ پکڑتے ہیں، یہ ”آن لائن کورسز“ سے حل نہیں ہوتے۔ اگر آپ کو گہری اینگزائٹی یا ڈپریشن ہے، تو جلد ہی آپ کو خود احساس ہو جائے گا کہ کوئی آن لائن کورس آپ کو ہیل نہیں کر سکتا۔
یاد رکھیں، جن لوگوں کو اپنے لالچ اور حرص پر قابو پانے کے لیے خود تھیراپی کی ضرورت ہے، وہ آپ کی ذہنی صحت کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ اگر آپ واقعی ایسا سوچتے ہیں تو افسوس ہے۔ لہٰذا سمجھ داری کے فیصلے کریں، اور ٹھگوں کے جال میں نہ پھنسیں۔


