آسماں در آسماں : ایک تہذیبی دستاویز
آسماں در آسماں، ان بچھڑے ہوئے فنکاروں کی کہانی ہے، جن کے اندر ہجرت کا ناسٹلجیا ایک دھڑکتے ہوئے دکھ کی طرح ہمیشہ زندہ رہا۔ وہ کہیں بھی چلے گئے، کسی بھی نئی سرزمین کے باسی بن گئے، مگر ان کا ماضی، ان کے دریاؤں، پہاڑوں، میدانوں، گلیوں، گھروں اور صحنوں کی یادیں ان کی تخلیقات میں سانس لیتی رہیں۔
آسماں در آسماں پڑھتے ہوئے قاری صرف ایک کتاب کا مطالعہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ہجرت کی ان سنسان گلیوں میں چلنے لگتا ہے جہاں فنکاروں کے بچھڑنے کی آہیں سنائی دیتی ہیں، جہاں نغمہ نگاروں کے بول ادھورے رہ جاتے ہیں، جہاں گلوکاروں کی آوازیں کسی کھوئے ہوئے دیس میں گم ہو جاتی ہیں، اور جہاں مصوروں کے رنگ ایک ان دیکھے ماضی کی یاد میں مدھم پڑ جاتے ہیں۔
شاہد صدیقی کی یہ کتاب ہجرت کے کرب میں لپٹی ہوئی ایک ایسی تخلیقی سرگزشت ہے، جو صرف ذاتی کہانیوں کا بیان نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی بازگشت ہے۔ یہ محض تاریخ نہیں، نہ ہی یہ کسی مخصوص فنکار کی سوانح ہے، بلکہ ایک فکری تجربہ ہے، جو قاری کو ان گلیوں میں لے جاتا ہے جہاں بچھڑنے والے فنکاروں کے نقوش ثبت ہیں، جہاں یادوں کے چراغ جلتے ہیں، اور جہاں ہجرت کے زخموں سے تخلیق کی روشنی پھوٹتی ہے۔
یہ ان فنکاروں کے تخلیقی سفر کی کہانی ہے جو قیامِ پاکستان سے قبل ان علاقوں میں پیدا ہوئے جو بعد میں پاکستان کا حصہ بنے، لیکن تقسیم کے بعد انہیں سرحد پار جانا پڑا۔ وہ شہرت، عزت اور فن کی معراج پر پہنچے، مگر ان کے دلوں میں ہمیشہ بچھڑے ہوئے شہروں، گلیوں اور بچپن کی یادوں کی کسک موجود رہی۔ یہ کتاب نہ صرف ان فنکاروں کی سوانحی جھلک پیش کرتی ہے بلکہ ان کے تخلیقی وجود پر ہجرت کے اثرات کا بھی جائزہ لیتی ہے۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی کا طرزِ تحریر رواں، دلکش اور تحقیق و تخلیق کا امتزاج لیے ہوئے ہے۔ وہ قاری کو ایک ایسے سفر پر لے جاتے ہیں جہاں تاریخ، فن، ادب اور جذبات ایک ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک نئی دنیا کی تخلیق کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کی تخلیق کی سب سے بڑی قوت ہم احساسی (Empathy) ہے، جو انھیں محض ایک مورخ یا محقق کے درجے سے بلند کر کے ایک ایسے فنکار کے روپ میں پیش کرتی ہے جو محسوس کرتا ہے، درد کو سمیٹتا ہے، اور پھر اسے صفحہ قرطاس پر دھڑکتے دل کی صورت میں متشکل کر دیتا ہے۔ وہ فنکاروں کی داستانیں سنانے والے روایتی مصنف نہیں، بلکہ ان کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، ان کے دل سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ ان فنکاروں کے آنسوؤں کے ساتھ روتے ہیں، ان کے اپنی جڑوں سے کٹنے کے درد کو محسوس کرتے ہیں، اور قاری کے اندر ایک ایسی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جو ادب اور تاریخ کے امتزاج سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ یہ ہم احساسی کی معراج ہے کہ ان کے اپنے ناسٹلجیا کا دھارا فنکار کے ناسٹیلجیا کے دھارے میں مل کر ایک منہ زور دریا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ فنکاروں کی روح میں یوں حلول کر جاتے ہیں جیسے ان کی دھواں بھری آنکھوں کے اشک اپنے دامن میں سمیٹے انھیں اپنے کاندھے سے لگائے ان کے دکھ بانٹ رہے ہوں اور اس کوشش میں خود اپنے ماضی کی گلیوں کے نشان کھوجنے لگتے ہیں۔ شاہد صدیقی کا قلم ناسٹیلجیا کے دکھ کو دلوں کی دھڑکن میں بدل دیتا ہے۔ وہ ہمیں اس کیفیت میں لے جاتے ہیں جہاں ہم خود کو ان آنسوؤں میں پگھلتا محسوس کرتے ہیں۔
فنکاروں کی ہجرت نہ صرف ایک جسمانی حقیقت ہے بلکہ ایک نفسیاتی اور جذباتی آزمائش بھی، جو ان کی تخلیقات میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتی ہے۔ یہ سوال کہ فنکار اپنی جڑوں سے کٹ کر بھی اپنی شناخت کیسے برقرار رکھتا ہے، کتاب میں بار بار مختلف زاویوں سے ابھرتا ہے۔ فنکاروں کے تجربات میں ہجرت صرف ایک خارجی حقیقت نہیں بلکہ ایک داخلی کرب بھی ہے، جو ان کی تخلیقی کائنات کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔ یہ دکھ کسی کہانی کے کردار میں، کسی نظم کے استعارے میں، کسی مصور کی لکیر میں یا کسی ساز کے نغمے میں ڈھلتا ہے۔ یہی وہ ناسٹلجیا ہے جو ہر مہاجر فنکار کے فن میں سانس لیتا ہے، اس کے تخلیقی عمل کو مزید گہرا کرتا ہے اور اسے اپنی مٹی سے جوڑے رکھتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف تاریخ کے اوراق میں گمشدہ فنکاروں کو بازیاب کرتی ہے بلکہ قاری کو اس دکھ میں شریک کر لیتی ہے۔ اپنی زمین، اپنی فضا، اپنے موسموں اور اپنے لوگوں سے بچھڑنے کا ایسا دکھ جسے کوئی وقت، کوئی سرزمین، اور کوئی نئی شناخت مٹا نہیں سکتی۔ جیسے راجندر سنگھ بیدی نے لاجونتی میں کہا تھا: ”بچھڑنے کا دکھ اور ملنے کی خوشی ایک ساتھ سانس لیتے ہیں، مگر بچھڑنے کا زخم کبھی بھر نہیں پاتا۔“ شاہد صدیقی کا قلم اس دکھ کو صرف بیان نہیں کرتا، بلکہ اسے دلوں کی دھڑکن میں بدل دیتا ہے۔
شاہد صدیقی کی آسماں در آسماں ایک ایسا ہفت آسمان ہے جہاں فنونِ لطیفہ کے ساتوں آسمانوں کی وسعتیں جب دھرتی ماں کے قدم چومتی ہیں تو کائنات کی تکمیل کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ ان کا ہر نثر پارہ ایک دائرے کی مانند ہے، جو اپنے نقطۂ آغاز سے سفر کرتا ہوا بالآخر وہیں آ ٹھہرتا ہے جہاں اس کا محیط مکمل ہو جائے۔ اس دائرے کے محیط میں یادوں کے وہ زاویے ہیں جو تاریخ اور تہذیب کے شعور سے گہری جڑت رکھتے ہیں۔ شاہد صدیقی نے ایک عہد کے فنکاروں کی تہذیب کو ان آسمانوں کے افق سے پرے جھانک کر دھرتی کی مٹی میں اس طرح جذب کر دیا ہے کہ اس کی نم آلود خوشبو احساس کے دریچوں میں سانس لینے لگتی ہے۔
آسمان کا استعارہ اس کتاب میں محض جغرافیائی وسعت کا مظہر نہیں بلکہ ایک علامتی جہت رکھتا ہے، جو فنکار کے وجودی تجربے، ہجرت کے دکھ اور اس کی تخلیقی جستجو کے مابین تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ جہاں فنکاروں کی ہجرت نہ صرف ایک جسمانی حقیقت ہے بلکہ ایک نفسیاتی اور جذباتی آزمائش بھی، جو ان کی تخلیقات میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتی ہے۔ یہ سوال کہ فنکار اپنی جڑوں سے کٹ کر بھی اپنی شناخت کیسے برقرار رکھتا ہے، کتاب میں بار بار مختلف زاویوں سے ابھرتا ہے۔ فنکاروں کے تجربات میں ہجرت صرف ایک خارجی حقیقت نہیں بلکہ ایک داخلی کرب بھی ہے، جو ان کی تخلیقی کائنات کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔ یہ دکھ کسی کہانی کے کردار میں، کسی نظم کے استعارے میں، کسی مصور کی لکیر میں یا کسی ساز کے نغمے میں ڈھلتا ہے۔ یہی وہ ناسٹلجیا ہے جو ہر مہاجر فنکار کے فن میں سانس لیتا ہے، اس کے تخلیقی عمل کو مزید گہرا کرتا ہے اور اسے اپنی مٹی سے جوڑے رکھتا ہے۔ آسمان در آسمان میں فن اور ہجرت کے اس گہرے تعلق کو انتہائی حساسیت اور بصیرت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
فنکار چاہے کہیں بھی ہو، اس کی تخلیق میں اس کا ماضی، اس کی زمین اور اس کے لوگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت زدہ فنکار اپنی تحریر، موسیقی یا مصوری میں اپنی کھوئی ہوئی دنیا کو پھر سے آباد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ کتاب ایک تہذیبی اور تخلیقی دستاویز بھی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ فنون لطیفہ کا دائرہ زمین اور زمانے کی حدود سے ماورا ہوتا ہے۔ شاہد صدیقی کی تحریر قاری کو ایک فکری اور جذباتی سفر پر لے جاتی ہے، جہاں ہجرت اور فن کی باہمی کشمکش ایک نئے معنوی آسمان کی تشکیل کرتی ہے۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اس کتاب کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے، جن میں فلم، نثر، شاعری، نغمہ نگاری، موسیقی، گائیکی اور مصوری سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔ مذاہب کے تصورات میں سات آسمان گہری معنویت کے حامل ہیں۔ یہ سات حصے گویا فنون لطیفہ کے آسمان کی سات پرتیں ہیں۔ جن کے بغیر فن کے آسمان کا دائرہ مکمل نہیں ہوتا۔
کتاب میں فلم، نثر، شاعری، نغمہ نگاری، موسیقی، گائیکی اور مصوری جیسے مختلف فنون کے ان نابغہ روزگار شخصیات کا ذکر ہے، جن کی زندگی ہجرت کے تجربے سے جڑی رہی اور جن کی تخلیقات میں یہ کرب کسی نہ کسی صورت نمایاں ہوا۔
فلم اور اداکاری کے باب میں، شاہد صدیقی نے پرتھوی راج کپور، بلراج ساہنی، شیام، پران، دلیپ کمار، دیو آنند، راج کپور، راج کمار، کامنی کوشل، پریم چوپڑا، منوج کمار، ونود کھنہ اور کبیر بیدی جیسے فنکاروں کی کہانیاں بیان کی ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے ہندوستانی فلمی صنعت میں اپنی شناخت قائم کی اور جن کی اداکاری میں کہیں نہ کہیں ہجرت کا تجربہ، اپنی جڑوں سے کٹنے کا دکھ اور ایک نئے دیس میں اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد جھلکتی ہے۔
نثر کی دنیا میں، دیوان مفتون، کنور مہندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور، کرشن چندر، بھیشم ساہنی، راجندر سنگھ بیدی، خوشونت سنگھ، بلونت سنگھ، دیوندر اسر اور سریندر پرکاش جیسے نام شامل ہیں، جن کی تحریریں اپنے عہد کا آئینہ بھی ہیں اور ہجرت کے کرب کا استعارہ بھی۔ ان کے افسانے اور ناول اس درد کو نہ صرف محفوظ کرتے ہیں بلکہ اسے ایک وسیع انسانی تجربے کی صورت میں پیش بھی کرتے ہیں۔
شاعری میں تلوک چند محروم، موہن سنگھ، راجہ مہدی علی خان، جگن ناتھ آزاد، امرتا پریتم اور شیو کمار بٹالوی جیسے شعرا کی تخلیقات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جن کے اشعار میں بچھڑنے، بے وطنی اور شناخت کے سوالات کا رنگ گہرا ہے۔ ان شعرا نے اپنی شاعری کے ذریعے ہجرت زدہ انسان کی نفسیات کو ایک کائناتی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
نغمہ نگاری کے باب میں ساحر لدھیانوی، شیلندر، آنند بخشی اور گلزار جیسے تخلیق کار شامل ہیں، جن کے نغموں میں ہجرت کے دکھ اور ایک نئی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد گونجتی ہے۔ ان کے گیتوں میں مٹی کی مہک، کھوئے ہوئے خوابوں کی بازگشت اور ایک ایسے کل کی امید ہے، جو ماضی کے زخموں کو مرہم دے سکے۔
سات سروں کے بہتے دریا میں استاد بڑے غلام علی خان، روشن، مدن موہن اور او پی نیر جیسے موسیقاروں کے فن کو سراہا گیا ہے، جن کی دھنوں میں ایک بچھڑے ہوئے دیس کی یادیں، ایک کھوئے ہوئے وقت کی بازگشت اور ایک لازوال کیفیت موجود ہے۔
آواز کے جادو میں شمشاد بیگم، سی ایچ آتما، محمد رفیع، سریندر کور اور ثریا جیسی آوازوں کا ذکر ہے، جن کی گائیکی میں کہیں نہ کہیں ماضی کا سوز، حال کی کشمکش اور مستقبل کی امید جھلکتی ہے۔
رنگوں اور دائروں کے طلسم میں گنگا رام اور ستیش گجرال جیسے مصوروں اور معماروں کی تخلیقات کو بیان کیا گیا ہے، جن کے فن پارے اور تعمیرات ہجرت کے تجربے کو تصویروں اور عمارتوں میں قید کر دیتے ہیں، جہاں رنگ ایک بیانیہ بن جاتے ہیں اور شکلیں ایک کہانی کہتی ہیں۔
یہ کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ فن محض ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ اجتماعی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ ہجرت زدہ فنکاروں نے اپنے تجربے کو مختلف رنگوں، آوازوں، لفظوں اور کرداروں میں ڈھال کر نہ صرف اپنی شناخت کو محفوظ کیا بلکہ اپنے بچھڑے ہوئے دیس اور اس کی تہذیب کو بھی امر کر دیا۔
یہ کتاب نہ صرف ان بچھڑے ہوئے فنکاروں کی تخلیقی زندگی کا مطالعہ ہے، بلکہ ہجرت، شناخت، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کے درمیان موجود اس تعلق کو سمجھنے کی ایک کوشش بھی ہے، جس نے برصغیر کی تقسیم کے بعد کئی نسلوں کے فنکاروں کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
آسماں در آسماں نہ صرف ایک تہذیبی دستاویز ہے، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنے فن کے ان پہلوؤں کو دیکھ سکتے ہیں، جو وقت کے ساتھ کہیں کھو گئے ہیں مگر یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔


