مجھے میرا پی ٹی وی لوٹا دیں


آج میں اپنے ملک کے ایک ایسے ادارے کے زوال پر رو رہا ہوں جو کبھی منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری خوبصورت روایات کا امین بھی تھا۔ مگر ناہنجاروں نے اسے بھی نہیں بخشا اور اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔ ہمارے بچپن کی حسین یادیں اسی ادارے سے جڑی تھیں۔ میں بات کر رہا ہوں پاکستان کے ایک معتبر ادارہ پاکستان ٹیلی وژن کی۔

پی ٹی وی صرف ایک چینل نہیں تھا۔ یہ ایک درسگاہ تھی جہاں تہذیب، شائستگی اور اعلیٰ اقدار کی تربیت دی جاتی تھی۔ یہاں ڈرامہ صرف تفریح نہیں بلکہ زندگی کے معنی سکھانے کا ذریعہ تھا۔ موسیقی صرف سُروں کا امتزاج نہیں بلکہ روح کی تسکین کا سامان تھا۔ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیبی ورثے کی علامت تھی۔

یہاں نور جہاں، مہدی حسن اور نیرہ نور کی آوازیں گونجتی تھیں۔ یہاں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے الفاظ ذہنوں میں چراغ جلاتے تھے۔ یہاں انور مقصود اور معین اختر کی مزاح نگاری قہقہوں میں دانش کے موتی بکھیرتی تھی۔ پی ٹی وی وہ آئینہ تھا جس میں ہماری تہذیب کی اصل شکل دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ چراغ تھا جس کی روشنی میں نسلیں پروان چڑھیں۔ وہ درسگاہ تھا جہاں اقدار کی آبیاری ہوتی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب پی ٹی وی کے ڈائریکٹرز صرف ہدایت کار نہیں بلکہ تہذیبی معمار ہوا کرتے تھے۔ کاظم پاشا کی فنکارانہ مہارت ہو، علی رضوی اور نصرت ٹھاکر کا تخلیقی وژن، یاور حیات کی شاہکار پیشکشیں، ایوب خاور کی بصیرت، طارق معراج کی حساس کہانیوں کا انتخاب، حیدر امام رضوی کی فن پر گہری گرفت، شعیب منصور کی جدت پسندی، عزیز اعجاز کا فن یا سید شاکر عزیر کی بے مثال تخلیقات۔ یہ سب وہ نام ہیں جنہوں نے پی ٹی وی کو محض ایک چینل نہیں بلکہ ایک ثقافتی ادارہ بنایا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ڈرامے کو فن، موسیقی کو عبادت اور اداکاری کو تہذیبی آئینہ بنایا۔

لیکن آج جب میڈیا کی دنیا میں بے ہنگم شور اور سطحی تفریح کا راج ہے وہی پی ٹی وی ماضی کے دھندلکوں میں کھو رہا ہے۔ ہم نے اپنا وہ آئینہ دھندلا دیا وہ چراغ بجھا دیا وہ درسگاہ ویران کر دی۔ مگر شاید ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس ورثے کی حفاظت کریں۔ اس معیار کو بحال کریں اور اپنی نئی نسل کو وہی ذوق، وہی تہذیب، وہی وقار واپس دلائیں جو کبھی پی ٹی وی نے ہمیں دیا تھا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر آواز بلند کریں تاکہ ہماری صدا حکومتی ایوانوں تک پہنچ سکے۔ ہمیں اپنے اس عظیم ریاستی ادارے کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ صرف ایک چینل نہیں بلکہ ہماری ثقافتی پہچان، ہماری تہذیبی شناخت اور ہماری قومی وراثت ہے۔ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کی تو شاید آنے والی نسلیں اس سرمائے سے محروم ہو جائیں۔ آئیں مل کر پی ٹی وی کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرنے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

Facebook Comments HS