دھنک کا آٹھواں رنگ
کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ کتاب اربابِ علم و فن سے تحسین حاصل کرنے کے بعد عوام میں بھی بے حد مقبول ہو چکی ہے۔
لینہ حاشر اردو ادب کے جدید دور کی ایک نمایاں افسانہ نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ وہ ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں، ادب سے شناسائی گھر ہی میں ہو گئی۔ والد، طنز و مزاح کے بادشاہ اور اردو و فارسی کے معروف شاعر انور مسعود ہیں، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ والدہ سے جہاں انھیں اعلیٰ تعلیم و تربیت ملی، وہیں والد سے طنز و مزاح، تیکھی تحریر اور المیہ نگاری کی صلاحیت ورثے میں ملی۔
چند سال پہلے وہ اپنے غیر روایتی بلاگز کے ذریعے ادبی دنیا میں متعارف ہوئیں، جہاں ان کی ہلکی پھلکی، مگر طنزیہ اور سیاسی و سماجی بے ترتیبی پر مبنی تحریروں نے جلد ہی قارئین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ بعد ازاں، ”ہم سب“ ویب سائٹ پر کالم لکھنے کے بعد وہ پاکستان کی نمایاں خواتین مصنفین میں شامل ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، مختلف اخبارات میں بھی ان کے کالم باقاعدگی سے سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل پر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ معاشرے کے ان منفی پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں جو عام آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں۔
زندگی ایک بے بہا نعمت ہے، اور جو لوگ اس کی قدر جانتے ہیں، وہ اسے یوں ہی ضائع نہیں کرتے بلکہ ہر لمحہ اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے تحت گزارتے ہیں، اور ان کی محنت و لگن ان کے مقصد کو ناکام نہیں ہونے دیتی۔ لینہ حاشر بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے مظلوموں کی آواز بننے کا فیصلہ کیا۔
کچھ عرصے پہلے اردو ادب کی اس ممتاز ادیبہ کی دل چیر دینے والی تحریریں پڑھنے کا موقع ملا۔ کتاب بھیجنے والے صاحب نے دریافت کیا: ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ شائع ہو چکی ہے، کیا آپ کو بھی ارسال کر دوں؟ کسی نئے مصنف یا مصنفہ کی کتاب خریدنے سے پہلے عمومی طور پر سوچا جاتا ہے، مگر جانے کیا ہوا کہ فوراً ہاں کہہ دی۔ اگلے ہی دن جب کتاب ہاتھ میں آئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے ایک خودکار مشین کی طرح صفحات پلٹتے جا رہے ہوں۔
پہلا ہی افسانہ جس کا عنوان تھا ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ ۔ نے چونکا دیا۔ مرنے کے بعد بھلا کوئی خط کیسے لکھ سکتا ہے؟ لیکن جیسے ہی ابتدائی سطریں پڑھیں، خواجہ سرا کے جذبات، ماں سے محبت اور گلہ شکوہ سامنے آیا، تو کتاب ہاتھ سے چھوڑنے کا دل نہیں کیا۔ آنکھیں نم ہو گئیں، مگر گھر کے دوسرے افراد کیا سوچیں گے؟ یہی خیال آیا، سو تنہائی میں چلا گیا، دروازہ بند کیا، اور دوبارہ ایک ایک خط، یادداشت اور افسانہ پڑھنے لگا۔
یہ جذبات کس قدر سادہ، مگر پراثر تھے۔ یہ احساسات قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ معاشرے میں ایسے کتنے ہی افراد اور گھرانے موجود ہیں جو ظلم سہتے ہیں، مگر زبانِ حال سے کچھ نہیں کہتے۔ وہ انسانیت کے درد میں ڈوبی کسی لینہ حاشر جیسے قلم کے منتظر رہتے ہیں، جو ان کی بے بسی کو الفاظ میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کرے۔
لینہ حاشر ایک ایسی مسیحا بن کر سامنے آئی ہیں جو مظلوموں کے زخموں کو محسوس کر کے ان پر مرہم رکھتی ہیں۔ کتاب میں شامل کہانیاں، افسانے، خطوط، یادداشتیں اور طنز و مزاح سے بھرپور کالم۔ سبھی میں ان کی شخصیت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی تحریروں میں ان کے ذاتی احساسات، جذبات اور تجربات کا بڑا دخل ہے۔ وہ ایک دردمند دل رکھتی ہیں، اور جہاں کہیں کسی کو تکلیف میں دیکھتی ہیں، ان کا قلم بے چین ہو جاتا ہے۔
یہ کتاب 51 مختلف تحریروں پر مشتمل ہے، جن میں ہر تحریر اپنی جگہ منفرد ہے۔ لینہ حاشر کی تحریریں معاشرے کے ان افراد کی آواز بن چکی ہیں جنہیں کوئی نہیں پوچھتا، کوئی نہیں سنتا۔ ان کے قلم نے عورت پر ہونے والے ظلم و ستم کو بھی بے نقاب کیا ہے، جہاں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے عورت مرد اور معاشرے کی زیادتیوں کا شکار نظر آتی ہے، مگر اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔
ہمارے اردگرد ایسی بے شمار کہانیاں بکھری ہوئی ہیں جو اخباروں کی زینت بنتی ہیں، اور ہم محض افسوس کے چند الفاظ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ عام لوگ ظلم و بربریت کی داستانیں سن کر چند لمحوں کے لیے افسوس تو کرتے ہیں، مگر پھر اپنی روزمرہ زندگی میں مگن ہو جاتے ہیں۔ مگر ایک ادیب عام انسانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی سوچ کسی عام واقعے کو بھی نظر انداز نہیں کرتی۔ اس کے قلم میں وہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ ظلم کی زنجیروں کو توڑنے کی ہمت رکھتا ہے۔ وہ ہر اس رویے کے خلاف آواز بلند کرتا ہے جو انسان کو بے توقیر کر دے۔
لینہ حاشر کی تحریریں پڑھ کر یقیناً قاری کا ضمیر جاگ جاتا ہے، اور وہ عام انسانی رویوں پر سوال اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ ”لکھنے سے کیا ہوتا ہے؟“ ۔ کیونکہ تحریر کی طاقت وہی سمجھ سکتا ہے، جس کے قلم نے کبھی سچائی کو الفاظ میں ڈھالا ہو۔
”دھنک کا آٹھواں رنگ“ ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کے جذبات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے، اور یہی کسی بھی کامیاب مصنف کی تحریر کا اصل کمال ہوتا ہے۔


