افغانستان میں سب اچھا کیوں نہیں
افغانستان کے سرکاری سوشل میڈیا کی صفحات پر میرے گزشتہ سے پیوستہ کالم ’افغانستان میں سب اچھا نہیں ہے‘ جو ہم سب پر 6 فروری 2025 کو شائع ہوا تھا، کا ذکر طنزیہ انداز میں ہوا ہے، جس کے مطابق ذاتی طور پر نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے صحافی اخبارات میں لکھتے ہیں، کہ افغانستان میں سب اچھا نہیں ہے۔ میں اپنے اخبار کے لئے پختون خطے اور اس کے ایشوز کور کرنے کے فرائض سر انجام دیتا ہوں۔ ذاتی زندگی میں، میں کسی کو نیک خواہشات کا اظہار کروں یا دعائیں دوں، وہ مجھ پر انسانیت کے تحت لازم ہوتا ہے۔
جب موجودہ افغان حکومت کی آمد کو محسوس کرتے ہوئے میں نے لکھا، کہ طالبان دوبارہ حکومت میں آنے والے ہیں، تو اس وقت بھی کچھ دوستوں نے اسے میری خواہش سمجھتے ہوئے مجھے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان میں سب اچھا نہیں ہے، تو افغان حکومت سمجھتی ہے کہ میں غلط فہمیاں پھیلا رہا ہوں، جبکہ میں صحافیانہ فرائض ادا کرتے ہوئے اپنے قارئین کے لئے دیانتدارانہ تجزیہ پیش کر رہا ہوں، نہ کسی فریق کی ذاتی حمایت اور نہ مخالفت کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں، کہ افغانستان پرامن، خوشحال اور مستحکم ہو، جس کے پاکستان سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ کھلے بارڈر، مفید تجارت اور برادرانہ تعلقات ہوں، لیکن اس وقت کی صورت حال میری خواہش کے مطابق نہیں ہے۔
خطے کے جغرافیہ پر جلد اثر انداز ہونے والی ایک بیان میں، کل صدر ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں بہت اہم مسائل اور پالیسی کا ذکر کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ”باگرام ائرپورٹ اور افغانستان میں کروڑوں ڈالر کا چھوڑا ہوا امریکی اسلحہ اور نئی گاڑیاں، ہمیں چین پر نظر رکھنے کے لئے ضروری تھیں، جو اب چین کے ہاتھوں میں (باگرام ائرپورٹ) چلا گیا ہے“ ۔
غالباً دوحہ معاہدہ میں، باگرام ائرپورٹ ’کسی وقت‘ امریکہ کے ’استعمال‘ میں واپس دینے کی خفیہ شق موجود ہے، جس کو ٹرمپ دشمنی میں جو بائیڈن اور اس وقت کی امریکی اسٹیبلشمنٹ نے درخورِ اعتنا نہ سمجھتے ہوئے مکمل نظر انداز کر دیا تھا، اور وہ ہارڈویئر جو امریکہ افغانستان میں، چین پر ”نظر رکھنے کے لئے“ چھوڑ چکا تھا، اس کو لوٹنے اور تقسیم کرنے دیا گیا۔ بس چند جہاز اور ہیلی کاپٹر تھے، جو امریکہ کے کہنے پر افغان پائلٹ ہمسایہ ملک لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
دوسری طرف ٹرمپ کے آتے ہی پاکستان کو دیے گئے ایف سکسٹین طیاروں کی روکی گئی گرانٹ واپس بحال کردی گئی، جس سے لگتا ہے کہ اگر ”ضرورت پڑی“ تو ان طیاروں کو امریکی ”مدد“ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ طیارے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے لئے دیے گئے تھے۔
اب اگر افغانستان کی حکومت کو احساس ہو تو وہ سی سا کھیل میں استعمال ہونے والے تختے کے درمیان میں کھڑی، امریکہ یا چین کے حق میں اپنی بیلنس قائم کرنے میں مصروف ہے۔
اگر افغان حکومت امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کے خفیہ شق (باگرام ائرپورٹ) کے تحت اپنے عہد کی پاسداری کرتی ہے، تو نہ صرف یہ کہ اپنے اقتدار کے تسلسل کو برقرار رکھ سکے گی، بلکہ اندرون ملک استحکام اور عالمی مفادات، سہولیات اور قبولیت عام سے بھی مستفید ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ ایسا نہ کر سکی تو پھر یورپ میں حالیہ اختتام پذیر ہرات کانفرنس، پاکستان کو ایف سکسٹین کی گرانٹ کی بحالی، افغانستان کے اندر امن و امان کی بدتر ہوتی ہوئی صورتحال، اور ہر عالمی محاذ سے ڈس انگیجمنٹ کی ٹرمپ پالیسی کو سمجھنے کے لئے، نیوٹن یا آئن سٹائن کے آئی کیو کی ضرورت نہیں ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کو اس جغرافیہ میں ٹیکل کرنا چاہتی ہے، جہاں پاکستان اور افغانستان موجود ہیں۔ امریکہ کے اس بارے میں خواہشات کیا ہیں، ابھی معلوم نہیں، لیکن پاکستان کی خواہش ہوگی، کہ یہ جنگ پاکستان کی بجائے افغان سرزمین پر لڑی جائے، اور پاکستان ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہو۔ جب روس آ رہا تھا تو پاکستان میں پہلے سے سیاسی بندوبست کر دیا گیا تھا، اور جب نائن الیون ہونے والا تھا، تب بھی بندوبست پہلے ہو گیا تھا، اور اب بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ امریکہ کو افغانستان کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا تو پھر اس صورت میں افغانستان میں ”سب اچھا نہیں ہو گا“ ۔ خصوصاً موجودہ افغان حکومت کے پاس بہت تھوڑے آپشن بچے ہوں گے۔ ماضی میں افغانوں نے کس کس کو شکست دی ہے، ایسا بیانیہ ہمیشہ ریلیونٹ نہیں ہوتا، کیونکہ کوئی ملک یا قوم صرف جنگوں کے لئے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ہر قوم اچھی اور خوشحال زندگی گزارنے کی خواہش مند ہوتی ہے، جس طرح جاپانی، جنوبی کورین اور ویتنامی قومیں بڑی خونریز جنگوں کے بعد آج گزار رہی ہیں۔
افغانستان سی سا کے مرکزی تختے پر بیلنس کیسے قائم رہ سکتا ہے، یہ ملین ڈالر کا سوال ہے۔ ایک طرف چین ہے، جس نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی غیر سیاسی (تجارتی) اور سٹریٹجک انویسٹمنٹ کی ہے، جس کو افغانستان کی ضرورت ہے، اور دوسری طرف امریکہ کی خواہشات اور دوحہ معاہدہ کے خفیہ شقیں ہیں، جو افغان حکومت کے پیروں کی زنجیر بنتی جا رہی ہے۔
امریکہ، دوحہ معاہدہ کے بعد جس معتدل افغان لیڈرشپ کو مستقبل کے اقتدار میں اہم کردار دلانا چاہتا تھا، اس کو امریکہ وہ کردار بھی نہیں دلا سکا، جس کے بعد لڑکیوں کی تعلیم جیسی بنیادی انسانی حق اور دوسرے ازکار رفتہ نان ایشوز پیدا ہو گئے ہیں، جس کی بناء پر مخالف طاقتیں افغانستان کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ ٹرمپ کا تازہ حالیہ پالیسی بیان اس کے مستقبل کا رخ متعین کرنے جا رہا ہے۔
یہی سمجھانے کے لئے میں نے لکھا تھا کہ افغانستان میں سب اچھا نہیں ہے۔ اقتدار میں موجود رہنے کے علاوہ آپ کے پاس ایسی کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے، جس سے اندرون ملک اطمینان و استحکام اور بیرون ملک آپ کی گڈ ول پیدا ہو سکے۔ ٹرمپ کی آمد کے بعد بہت ساری تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ درست صف میں جگہ بنانے کا وقت ہے۔



ٹرمپ کے بحال کئے گئے 397 ملین ڈالر برائے ایف سولہ کی اصل کہانی یہ ہے کہ جب امریکہ افغانستان میں تھا تو پاکستان ایک اہم اتحادی تھا اور دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے خصوصی بلاک 52 ٹائپ کے ایف سولہ پاکستان کو ملے جن کے مشن اور مدد کے لئے امریکہ پاکستان کو ادائیگی کرتا تھا۔
یہ جہاز صرف جیکب آباد پر ہی رہتے تھے جہاں مخصوص امریکی عملہ بھی موجود ہوتا تھا اور ہے یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ جہاز انڈیا کے خلاف استعمال نہ ہوسکیں اور نہ اس کی ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کے ہاتھوں جاسکے۔
فروری 2019 میں بالاکوٹ اور پاکستان کے جوابی حملے کے بعد جب انڈیا نے شور مچایا کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف وہ ایف سولہ استعمال کئے ہیں جو دہشت گردی کے نام پر ملے تھے تو امریکہ نے تصدیق تک ان جہازوں سے متعلق جو ادائیگیاں ہونی تھیں روک لی تھیں۔
–
یہ اور متعدد دوسری ادائیگیاں ٹرمپ کے آنے تک 5 بلین ڈالر ہوچکی تھیں۔
فروری 2019 سے ستمبراکتوبر 2021 تک پاک فضائیہ نے جو مدد اتحادیوں کو افغانستان میں فراہم کی تھیں
397 ملین ڈالر کا زیادہ تعلق اسی سے ہے۔
مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ پاکستان لگ بھگ کئی لاکھ ان افغانیوں کو اب بھی سیف ہاؤس میں رکھ رہا ہے جو طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں عارضی رکھے گئے تھے کہ انہیں یورپ یا امریکہ کچھ عرصے بعد بلالے گا۔
ان کو رکھنے کے لئے بھی پاکستان کو یقیناً ان ممالک سے رقم ملنی ہے میرا اپنا اندازہ ہے کہ پاکستان نے ان اتحادی ممالک بالخصوص امریکہ کو دھمکی دی ہے کہ ان لوگوں کو اپنے ملک بلائیں ورنہ ہم انہیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کردیں گے۔
یہ 397 ملین ڈالر میرے خیال میں کچھ عرصے تک اس معاملہ کو نہ اٹھانے کا معاوضہ ہے۔ ڈالر ظاہر ہے پاکستان ہی آئے ہیں چاہے جس مد میں آئیں۔