’اگر وزیراعظم کرکٹ بورڈ کی جان چھوڑ دیں!‘


سالہا سال جس قوم نے دنیائے کرکٹ پہ اپنا راج جمائے رکھا اور آئی سی سی کے دو اوّلین ورلڈ ٹائٹلز بھی اپنے نام کیے، آج وہی ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ و چیمپئینز ٹرافی میں شرکت کی قابلیت سے بھی معذور رہ جاتی ہے۔

جب آج سے تین دہائیاں پہلے ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے کوئی بزرجمہر اس زوال کی بنیادیں ڈال رہے ہوں گے تب یقیناً مقامی مبصرین نے بھی خوب غوغا ڈالا ہو گا مگر جہاں کرکٹ بورڈز چلتے ہی حکومتی مداخلت کے بل پہ ہوں، وہاں لاکھ شور مچا لیا جائے انہونی ہو کر رہتی ہے۔

پاکستان کرکٹ نے نوّے کی دہائی میں اپنا بھرپور عروج دیکھا۔ گو تب اس کی عظمت کا مائٹی ویسٹ انڈیز سے کوئی تقابل تو نہیں تھا مگر اس کی قوت سبھی کی مسابقت کو کافی تھی اور تحسین اس قدر تھی کہ سپانسرز بھی امڈ امڈ کر آتے تھے۔

جب کوئی سپورٹس کلچر کامیابی کے زینے چڑھنے لگتا ہے تو مارکیٹ اکانومی اپنا دھن اس پہ دھن نچھاور کرنے لگتی ہے۔ نوّے کی دہائی کے پاکستانی کرکٹرز کی سٹار پاور ایسی زبردست تھی کہ پیپسی اور کوکا کولا جیسے برانڈز میں سالہا سال ایڈورٹائزنگ کی سرد جنگ چلتی رہی۔

لیکن جب وہی سپورٹس کلچر ناکامیوں کی داستانیں اٹھانے لگتا ہے تو اس کے سارے مالی سرپرست بھی کنارہ کش ہونے میں ایک پل نہیں لگاتے اور اس کا سب سے پہلا جھٹکا رائٹس بیچتے وقت سامنے آتا ہے۔

آسٹریلیا دنیائے کرکٹ کا مضبوط ترین کلچر رکھتا ہے اور بارہا ورلڈ ایونٹس میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے مگر اسی کلچر کی نمائندہ آسٹریلوی ٹیم کے کپتان اور نائب کپتان جب جنوبی افریقہ میں سینڈ پیپر سے بال ٹیمپرنگ کرتے پکڑے گئے تو دہائیوں سے براڈکاسٹ پارٹنر چینل نائن نے اگلے رائٹس سائیکل کی بولی میں شامل ہونا بھی گوارا نہ کیا اور بیشتر سپانسرز نے بھی اپنے معاہدے منسوخ کر ڈالے تھے۔

جب پانچ ورلڈ کپ جیتنے والے سپورٹس کلچر کو بھی اپنی ایک جگ ہنسائی پہ سارے پیسے اور ساری عزت کھونے کے لالے پڑ جاتے ہیں تو پاکستانی کرکٹرز کے پاس بھلا ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہو گی کہ وہ ہر جگہ خفت اٹھا کر بھی عزت، شہرت اور پیسے سے مالا مال رہ پائیں؟

کوئی صاحبِ دل اگر اس کرکٹ کلچر کی فکر رکھتا ہو تو کیا اسے بھی یاد دلانا ہو گا کہ یہاں ڈیڑھ ہی سال پہلے وہ نوبت گزر چکی جب کوئی پاکستان کرکٹ کے نئے رائٹس سائیکل میں بولی تک لگانے کو تیار نہ تھا اور بات وزیراعظم کی مداخلت اور قومی نشریاتی ادارے کی منت تک آ پہنچی تھی؟

اور کیا یہ بھی کسی کو یاد ہے کہ آٹھ سال پہلے جس چیمپئینز ٹرافی جیت نے پاکستان کی کچھ رونق بحال کی تھی، اس کی کوالیفکیشن میں بھی پاکستان وقت سے بہت پیچھے رینگ رہا تھا اور عین کٹ آف ڈیٹ کے پاس جا کر بمشکل کوالیفائی کر پایا تھا؟

مگر جیت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے غلغلے میں اصل بات کہیں نیچے دب جاتی ہے وگرنہ جو المیے آج پاکستان کرکٹ کو درپیش ہیں، عین یہی اس چیمپئین ٹیم کے بھی تھے مگر تب فخر زمان کے سرپرائز فیکٹر اور چند کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی نے سارے عیب ڈھانپے رکھے۔

مگر اب جس ڈگر یہ کرکٹ ٹیم چل رہی ہے، کچھ بعید نہ ہو گا کہ اگلی چیمپئینز ٹرافی کی کوالیفکیشن سے ہی معذور رہ جائے۔ اور اگرچہ حالیہ رائٹس سائیکل میں پی ٹی وی کی بدولت ساکھ بچ گئی تھی مگر اگلی بار شاید اس کی قیمت بھی کہیں زیادہ چکانا پڑے۔

آئی سی سی کا دستور یہ واضح کرتا ہے کہ وہ اپنے کسی رکن بورڈ میں سیاسی مداخلت ہونے پہ اس کی رکنیت معطل کر سکتا ہے اور تمام فنڈز بھی ضبط کر سکتا ہے۔ ماضی میں زمبابوے اور ویسٹ انڈیز جیسے کرکٹ بورڈز یہ پابندیاں جھیل بھی چکے ہیں۔

گو پی سی بی کے انتظامی معاملات بھی ان کرکٹ بورڈز سے بہت بہتر نہیں ہیں مگر پی سی بی کا جینئس آئین اس سیاسی مداخلت کو وہ خوبصورت قانونی شکل دیتا ہے کہ آئی سی سی کا دستور بھی اپنی انگلیاں دانتوں میں داب لے۔

جہاں دیگر کرکٹ بورڈز میں ٹاپ تک پہنچنے کے لئے سالہا سال کا انتظامی تجربہ اور کرکٹنگ کلچر کا گہرا فہم درکار ہوتا ہے، وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کی ’چیئرمینی‘ پانے کو ایسی خرافات میں گھسنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کو فقط ایک کوالیفکیشن درکار ہے اور وہ ہے صاحبان اقتدار سے سانٹھ گانٹھ، کیونکہ پاکستان کرکٹ کی ڈگر ہمیشہ وزیراعظم ہاؤس سے ہی طے ہو گی اور اس کی لگام تھامنے کا اہل بھی وہی ہو گا جسے وزیراعظم کی مکمل خوشنودی حاصل ہو گی۔

کہنے کو یہاں پی سی بی آئین کے تحت ایک مکمل دستوری عمل ہے جہاں دس رکنی گورننگ بورڈ ووٹ کے ذریعے اپنے چیئرمین کا انتخاب کرتا ہے مگر اصل میں اس سے بھونڈی ذہنی ورزش بھلا کیا ہو گی کہ اپنا کریئر کرکٹ کو وقف رکھنے والے آٹھ ارکان اپنے ارمانوں کی بارات میں صرف اس دولہے کے سر سہرا دھرنے کا کام کرتے ہیں جسے بطور پیٹرن ان چیف وزیراعظم نے یہاں گھسا رکھا ہوتا ہے۔

اب جو منتظم بورڈ کی صدارت سنبھالے گا ہی سیاست کے دروازے سے، وہ بھلا اپنے اقتدار کے طول کی بجائے کرکٹ کی بقا کا کیسے سوچ پائے گا؟ جبکہ اسے یہ بھی علم ہو کہ اس کی موجودہ ٹرم پوری ہونے کی ضمانت بھی کارکردگی نہیں، صرف سیاسی استحکام پہ ٹِکی ہے؟

مرض اس کرکٹ کلچر کے دل میں ہے مگر آنے والے بورڈ سربراہان فقط اس کے چہرے کی خوشنمائی پہ مرکوز رہتے ہیں۔ اپنی ہستی کے جواز کو وہ اپنی اپنی سوچوں کے الگ الگ بے نتیجہ ٹورنامنٹس برپا کرواتے ہیں اور اپنا وجود ثابت کرنے کو ہر شعبے میں ٹانگ گھسیڑنا ان کے لئے ناگزیر ٹھہرتا ہے۔

انٹرنیشنل لیول کا ایک کرکٹر تیار کرنے کو ایک پوری دہائی کی ٹریننگ درکار ہوتی ہے جہاں اس کی مہارت کے ساتھ ساتھ فٹنس، ڈائٹ اور پریشر گیم پریکٹس ضروری ہے۔ مگر اس کرکٹ کلچر میں ایسی سرمایہ کاری کون کرے گا جہاں کسی کو بھی معلوم نہ ہو کہ اگلی صبح اس کا اپنا مستقبل کیا ہو گا؟

جہاں کھلاڑی صرف اپنے کرئیر اکاؤنٹس اور بینک اکاؤنٹس کی فکر میں کھونے لگیں، لا محالہ وہاں ٹیم کی جیت اور قومی نمائندگی کا فخر ثانوی ترجیح ہی بن سکتے ہیں۔

دنیا بھر کی کرکٹ مہارت کے جس نہج پہ جا چکی ہے، اس میں کلیدی کردار فٹنس کا ہے۔ مگر پاکستانی سپر سٹارز ہنستے مسکراتے پریس کے سامنے اپنی بدترین فیلڈنگ کے جواز میں مہمان نوازوں کی پیش کردہ بریانیاں لاتے ہیں اور ایک ہیڈ کوچ محض اس لئے ٹیم کا دشمن ٹھہرتا ہے کہ وہ ہر دوسرے مہینے فٹنس ٹیسٹ اور فیٹ لیول ٹیسٹ پہ زور کیوں دیتا ہے۔

بلاشبہ سٹیڈیمز بنانا اور ایونٹ کروانا بھی پاکستان کرکٹ کے لئے بہت مفید ہے مگر جب ایسے ایونٹس میں مسابقت کی بات آئے گی تو وہاں پورے کرکٹ کلچر کی درستی کے بنا چارہ نہیں۔ اور یہ اصلاح تبھی ممکن ہے جب گراس روٹ لیول پہ بھی نہ صرف فٹنس معیارات کی پاسداری ہو بلکہ ایک ورلڈ کلاس فٹنس ٹریننگ سٹرکچر کی تشکیل میں پیسہ جھونکا جائے۔

درجنوں اقوام، رنگ رنگ خیالات اور کئی زبانوں میں بٹے ملک کو صرف ایک ہی شے جوڑتی ہے جو کہ کرکٹ ہے۔ اور بدقسمتی اس ملک کی یہ بھی ہے کہ اس کے پاس اب کھیل بھی صرف ایک ہی بچا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ کھیل بھی یونہی زوال کو چلتا رہا تو پھر وہ کیا مدعا ہو گا جہاں سب پاکستانی یک زبان ہو کر سبز جھنڈے کے پیچھے کھڑے ہوں؟

اور نہایت عاجزی سے یہاں ایک آئینی سا سوال پوچھنے کی بھی جسارت ہے کہ جب پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلتا ہی نہیں تو پھر اس پہ وزیراعظم کی ایسی سخت سرپرستی کیا جواز رکھتی ہے جبکہ صوابدیدی تقرر کی بنیاد بھی میرٹ نہیں، خالص سیاسی مفاد ہی ہوتا ہو؟

اگر یہ قوم کرکٹ بچانا چاہتی ہے اور اپنے اکلوتے کھیل کو مکمل زوال کی راہ سے ہٹانا چاہتی ہے تو سب سے ناگزیر قدم وزیراعظم کی اس سے مکمل لاتعلقی ہو گی جہاں پیٹرن ان چیف کی حیثیت فقط اعزازی ہو۔ اپنی راہ چننے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا خود مختار ہونا ضروری ہے، تبھی یہ اپنے اعمال کا پورا ذمہ دار بھی ٹھہرے گا اور تبھی شاید کھیل کی بقا بھی اس کی ترجیحات میں آ پائے گی۔

Facebook Comments HS