ڈیٹرائیٹ سے کراچی کا سفر اور چار ہم سفر
آج رات آٹھ بجے شب میری ڈئیٹرائٹ، مشی گن سے پاکستان روانگی کا دن ہے۔ جہاں مقصد کچھ ماہ کے لیے کراچی ملیر کے کوہی گوٹھ ہسپتال میں بطور تھرپسٹ والینٹیر کرنے کاہے۔ ایک خواب جو میری کل وقتی ملازمت کے ساتھ اب تک ممکن نہ ہوسکا تھا۔ ڈیٹرائیٹ ائر پورٹ پہ سامان چیک ان کے بعد میں اپنے ہینڈ کیری کے ساتھ مسافروں کے لاؤنج میں پہنچتی ہوں۔ سیل فون ہاتھ میں ہے جسے چارج کرنے کے لیے میں الیکٹرک پوائنٹ کی تلاش کے لیے ادھر ادھر نظر دوڑاتی ہوں۔ سامنے ہی ایک قدرے خوش شکل نوجوان پہ نظر پڑتی ہے جس کے چہرے پہ کالی چھوٹی داڑھی خوب جچ رہی تھی۔ وہ میرے ہاتھ میں سیل فون اور نظروں میں چارجر کی تلاش کو بھانپ گیا۔ ”آنٹی فون چارج کرنا ہے یہ دیکھیے ادھر ہے پوائنٹ۔ لائیے مجھے دیجیے میں لگاتا ہوں۔“ اس کے لب و لہجہ سے صاف ظاہر تھا کہ تعلق پنجاب سے ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنے بڑوں خاص کر بزرگ خواتین کے کاموں کی انجام دہی میں راحت محسوس کرتا ہے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا فون چارجر پہ لگا دیا۔ اور پھر ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گئی۔ پتا چلا مشی گن کے شہر فلنٹ کے رہنے والے ہیں اور میری طرح ٹرکش ائر لائن سے پاکستان جا رہے ہیں۔ استنبول میں کچھ گھنٹے قیام کے بعد ان کی منزل گجرانوالہ ہے جبکہ ہماری کراچی۔
ہمارے متجسس دماغ نے ہمیں اس بانکے نوجوان سے مزید گفتگو پہ اکسایا۔ مقصد اس پاکستانی نوجوان کے خیالات کو ٹٹولنا تھا کہ وہ پاکستان سے کتنا پر امید ہے اور اس ملک میں اپنا مستقبل کیسا دیکھ رہا ہے؟
تیس سالہ عثمان منیر نے بتایا کہ وہ گجرانوالہ کے ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان سے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔ ان کا باسمتی چاولوں کا بزنس ہے جو وہ بشمول امریکہ کچھ اور ممالک میں کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں کنسٹرکشن کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔ جو ’الحمدللہ‘ بڑا کامیاب ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ تین سال قبل ان کی شادی اپنی پسند کی لڑکی سے ہوئی جو یہاں ہیر کٹنگ اور میک آپ سیلون کے بزنس سے وابستہ ہے مگر تمام تر مالی خوشحالی کے باوجود اسے امریکہ کی زندگی پسند نہیں۔ بقول عثمان ”پاکستان میں عورتوں کی زندگی بہت اچھی ہوتی ہے۔ شاپنگ، ٹی وی ڈرامے، بہترین کھانے اور گھریلو کام کاج کے لیے نوکر چاکر۔“ انہوں نے بتایا کہ وہ دس سال سے یہاں ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کا گرین کارڈ کا حصول ان کے لیے بہت آسان تھا ”بس ایک ملین ڈالرز شو کرنے ہوتے ہیں۔“
ان کی شادی کو تین سال ہوئے ہیں۔ ”ابھی بچے نہیں لیکن جب ہوں گے انشا اللہ تو بچوں کو چار پانچ سال کی امریکی تعلیمی اداروں میں اسکولنگ کے بعد ، جب وہ امریکی لب و لہجہ کی انگریزی سیکھ لیں گے تو واپس پاکستان لے جائیں گے۔“ ان کا دوسرا گول بچوں کو پاکستان کے ایچیسن کالج میں پڑھانا ہے۔ ”ہم ان کو یہاں کے ماحول میں نہیں بڑا کریں گے۔ “ ہمارا خاندانی نظام بہت ہی اچھا ہے۔ جہاں ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ محبت اور رشتوں کا پاس ہے۔ ”انہوں نے کہا کہ امریکہ آنے کا مقصد بزنس کے علاوہ مستقبل میں اسٹین فورڈ سے ڈگری لینا بھی ہے۔ کہ یہاں کی تعلیم کی بات ہی کچھ اور ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کا مستقبل بہت اچھا ہے۔ “ جب ہمارا عمران خان آئے گا تو سب بہتر ہو جائے گا۔ وہ اصول پرست آدمی تھا۔ ہم کو پنکی پیرنی وغیرہ سے سروکار نہیں، وہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ بس عمران خان ہمارا لیڈر ہے۔ کرپشن کے الزام دے کے اسے بند کیا ہوا ہے۔ جبکہ اگر اس نے کرپشن کیا ہوتا تو اس کی دھجیاں اڑا دی ہوتیں۔ ”ان کی رائے کے مطابق عمران خان کے خلاف کام کرنے والی خود ہماری فوج ہے۔ “ ہم جیسے بھی ہیں ایک بہت اچھی قوم ہیں۔ ہمارے پاس صبر ہے۔ بس جاہل ملّا نے معاملہ خراب کیا ہوا ہے۔ لیکن اب صورت حال مختلف ہے کیونکہ اب ہمارے پاس انجینئر محمد علی اور ساحل عدیم جیسے لوگ دین کو سمجھا رہے ہیں۔ ”
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے قائل وہ اس وقت ہوئے کہ جب ان کے والد کا کینسر کا علاج شوکت خانم میں 2007 ء میں ہوا ”ہم روزانہ علاج کا بیس ہزار ادا کر رہے تھے اور اسی کمرے میں ایک آدمی کا بلا تفریق مفت علاج ہو رہا تھا“ ۔ انہوں نے کہا عمران خان سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے اپنی ٹیم پہ بہت زیادہ بھروسا کیا۔ عثمان اینکرز شاہد مسعود اور مشاہد حسین کو فولو کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی جاگیرداری نظام نہیں سوائے پاکستان کے جس کی وجہ سے پاکستان کے غریب عوام پس رہے ہیں۔
عثمان نے کہا کہ وہ رمضان اور عید منانے پاکستان آتے ہیں۔ وہاں پہ عبادتوں اور پاکستانی کھانوں کا مزا ہی اور ہے۔ انہوں نے بہت اپنائیت سے پاکستان میں اپنے بہت خوبصورت بڑے مینشن جیسے گھر کی تصاویر دکھائیں جن کا معیار امریکی لگژری گھر سے کسی طور کم نہ تھا۔ وہ دو ماہ میں ایک بار پاکستان کا چکر لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ”لاہور آئیں تو ضرور ہمارے گھر آئیں۔ ہم آپ کو مزیدار کھانے کھلائیں گے اور خوب گھمائیں گے۔ کون کہتا ہے پاکستان میں لوگ خوش نہیں۔ الحمدللہ ہمارے علاقے میں ہر ایک کے پاس بڑے کارخانے اور بزنس اور اچھے مکانات ہیں۔ میری ملنے والے تو سب خوش ہیں۔“ چلتے چلتے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بزرگوں سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ نصیحت لینا پسند کرتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کے تجربہ کی روشنی میں کچھ سیکھ سکیں۔ ہم نے کہا ”نصیحت تو نہیں مگر یہ ضرور کہناطہے کہ ہمیں اپنے دماغوں کو کھول کے رکھنا چاہیے۔ اور اپنے محدود دائروں سے نکل کے دوسروں کے مسائل سمجھنا اور اپنی زمین پہ پاؤں رکھ کر منکسر المزاجی سے چلنا چاہیے۔ جبھی ہم عام لوگوں سے جڑتے ہیں۔“ عثمان نے بہت مودبانہ لہجہ میں شکریہ ادا کیا۔ بورڈنگ پاس کے مطابق ہماری سیٹیں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پہ تھیں۔ لہٰذا ہم نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا۔
عثمان سے گفتگو کے بعد میری ملاقات ڈیٹرائیٹ سے استنبول جانے والے ہوائی جہاز میں برابر بیٹھے مسافر مسعود سے ہوئی۔
پچیس سالہ مسعود کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ باوجود اس کے کہ ان کی مادری زبان بنگلہ ہے وہ ٹھیک ٹھاک اردو بول رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جس جرمن کمپنی میں کام کرتے ہیں وہاں ان کے ساتھ کام کرنے والے کچھ ساتھی پاکستانی ہیں۔ البتہ ان کی انگریزی بالکل واجبی سی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ دس سال قبل ہی امریکہ کے شہر اسٹرلنگ ہائیٹ میں فیملی ویزہ پہ آئے تھے۔ والدین کے علاوہ ان کے نو بہن بھائی اور بہت سے خواب ہیں۔ جن کو وہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا دس سال میں یہ ان کا بنگلہ دیش کا دوسرا دورہ ہے۔
مسعود کی بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان اور دوسرے ممالک کی تاریخ سے دلچسپی میرے لیے دلچسپی کا باعث تھی۔ انہوں نے کہا بنگلہ دیشی اس لیے متحد ہیں کہ بحیثیت قوم کہ وہ اپنی ماں اور اپنی مادری زبان بنگلہ سے محبت اور اس کی عزت کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں بہت سے گروپ ہیں جن کی کوئی ایک زبان نہیں۔ بنگلہ دیش بننے کی بنیاد ہی بنگلہ زبان کا دفاع تھا۔ جس پر سب متحد تھے۔ اور انہوں نے اس کے لیے جنگ لڑی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق سلہٹ سے ہے جہاں ملک کے اور دوسرے شہروں کے مقابلہ میں محبت، برداشت اورطامن اور بھائی چارے کی فضا ہے۔ جو سلہٹ کے صوفی حضرت جلال شاہ اللہ کی تعلیمات کے سبب ہے۔ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے تہواروں میں جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے مذہب کی عزت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں چھیانوے فی صد مسلمان ہیں یہی وجہ ہے کہ بنگالیوں کے دل میں ان کے لیے نرم گوشہ ہے بہ نسبت ہندوستان کے ہندوؤں کے لیے، جن کا کلچر مختلف ہے۔ ان کی باتیں سن کر میرے ذہن میں سوال اٹھا کہ اگر بنگلہ دیش کو ایک زبان نے جوڑا ہے تو کئی زبانیں بولنے والے انڈیا کو کس نے جوڑ کے رکھا ہے؟ سقوط ڈھاکہ کی وجوہات کا مزید پوسٹ مارٹم نتائج عوام تک پہنچانا کیا ہماری ذمہ داری نہیں؟
حالیہ سیاسی حالات کے متعلق کہا کہ حسینہ واجد نے شروع میں اچھا کام بھی کیا مگر بتدریج تعلیمی معیار میں بربادی شروع ہو گئی۔ نصاب کا بہت سا حصہ مجیب کی زندگی کے بارے میں تھا جو طلباء کے لیے مدد گار نہیں۔ ان کے خیال میں اگر پیسہ صحیح طرح خرچ کیا ہوتا تو آج بنگلہ دیش ہانگ کانگ ہوتا۔ اس وقت ملک کی صورتحال کچھ گمبھیر ہے۔ ڈاکٹر یونس کے پاس منصوبوں کے لیے تھیوری تو بہت ہے مگر انہیں عوام سے جڑنا اور اس منصوبوں پہ عمل پیرا کرنا نہیں آتا۔ تاہم وہ بنگلہ دیش کے مستقبل کے متعلق مثبت رائے رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب میں امریکہ آیا تو میرا ٹارگٹ خوب پیسے کمانا، لگژری کار اور بہترین مکان تھا۔ لیکن اب میری ترجیحات میں سکون سے سادہ زندگی گزارنا اور سخت محنت کرتے ہوئے اپنی ذاتی بزنس چلانا اور مالی طور پہ مستحکم ہونا ہے۔ میں اپنی معلومات کو ہر روز بڑھاتا ہوں۔ انٹرنیٹ سے تاریخ سیکھتا اور تازہ دم ہونے کے لیے دنیا کی مختلف جگہوں پہ جاتا اور وہاں بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ مسعود کی نظر میں خاندانی رشتوں اور ان کی سپورٹ کی بہت اہمیت ہے۔ ان کا ٹارگٹ اپنے بزنس کو بڑھاتے ہوئے معاشی خود مختاری اور انسانیت کو فروغ دینا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اپنی سخت محنت سے ایک دن وہ سب حاصل کر لیں گے، جس کی انہیں خواہش ہے مثلاً اکنامی کلاس کے بجائے بزنس کلاس میں سفر۔ میں نے ان سے کہا ”اچھا ہوا ابھی وہ اکنامی کلاس میں ہیں ورنہ ہم ان سے ملاقات سے محروم رہتے۔“
23 فروری 2025 ء
میری ڈیٹرائیٹ سے اڑنے والی فلائیٹ کا سفر استنبول، ترکی پہ عارضی طور ختم ہوتا ہے۔ ترکی جس کا کچھ حصہ یورپ اور کچھ ایشیا میں واقع ہے، اپنے تاریخی مقامات اور اعلیٰ ٹرانسپورٹ نظام ہی نہیں بلکہ اپنے لق و دق استنبول ائر پورٹ کی بناوٹ، اور صفائی ستھرائی کے نظام کی وجہ سے بھی متاثر کن ہے۔ جہاں آپ کو کھو جانے کا احتمال ہوتا ہے۔ وہاں سے کراچی پہنچانے والی فلائیٹ میں ابھی سات گھنٹے باقی ہیں۔ جبکہ مسعود کی بنگلہ دیش کی فلائیٹ کے لیے ساڑھے تین گھنٹے کا انتظار تھا۔ لہٰذا اس کی اور میری منزلیں اب جدا تھیں۔
بنگلہ دیش اور پاکستان، پچاس سال قبل پاکستان کے یک لخت ہونے کے بعد خاک و خون کے دریا میں ڈوبی دو آشنا قوموں نے اپنی راہیں ضرور بدلیں لیکن پچھلی رفاقتوں کی یادوں کی کسک تو ابھی نئی نسل میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ کم ازکم مسعود کی گفتگو سے مجھے یہ تاثر ملا۔ اس سفر کے بعد وہ اور میں اجنبی نہیں تھے۔ میں پچھلی نسل کی مغربی پاکستانی اور وہ نئی نسل کا بنگلہ دیشی باشندہ جو بنگلہ دیش کے لیے پر امید لیکن پاکستان کی بدامنی کے لیے متفکر تھا۔ نئی نسل امن اور انصاف چاہتی ہے۔ کاش ہمارے سیاست دان یہ بات سمجھ لیں۔
اسامہ کے ساتھ کچھ وقت۔
ائر پورٹ پہ سات گھنٹے وقت گزارنے کے تصور سے ہی مجھے اکتاہٹ ہونے لگی۔ ”کیسے وقت کٹے گا۔“ ۔ ایسے میں مجھے اسامہ نظر آئے جو میرے برابر بیٹھے سیل فون پہ اپنی امی سے گفتگو میں مصروف تھے۔ بات ختم ہونے پہ انہوں نے مجھے شاید غیر شعوری طور پہ روایتاً سلام کیا۔ مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی امی سے بات کر رہے ہیں۔ جن کو اس کا علم نہیں کہ وہ کل ملنے آرہے ہیں۔ وہ بغیر بتائے برلن سے کراچی جاکر اپنے گھر والوں کو سر پرائیز دینا چاہ رہے ہیں۔ 26 سالہ اسامہ برلن، جرمنی کی یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کر رہے۔ پاکستان میں بیچلرز کے بعد بھی بہت کم تنخواہ پہ کام کر رہے تھے۔ ”میں واپسی کا تو سوچ ہی نہیں سکتا۔ بیچلرز اور ماسٹرز کو 25 ہزار کی نوکری آفر ہوتی ہے جو گزارے کے لائق نہیں کیونکہ ہر چیز مہنگی ہے۔ مختلف ممالک میں داخلے کے لئے اپلائی کیا۔ برلن نے قبول کیا۔ ایم ایس کے بعد برلن میں نوکری کروں گا۔ زبان یہاں ایک مسئلہ ہے تاہم کام چلاؤ جانتے ہیں مگر اب کراچی میں قیام کے دوران گوئٹے انسٹی ٹیوٹ سے زبان سیکھنے کا ارادہ ہے۔“
ان کے رمضان میں آنے کا مقصد روزے اور عید خاندان کے ساتھ منانا ہے۔ ”پچھلا رمضان بہت پھیکا تھا۔“
انہیں پاکستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے حکومت سے تو کچھ امیدیں نہیں۔ ”عمران خان کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ تبدیلی آئے گی۔ لیکن وقت پورا نہیں ہوا اور ان کی حکومت ختم ہو گئی۔ آپ اتنے کم وقت میں تو پرکھ نہیں کر سکتے۔“
ارمان بلوچ
23 فروری، 9 بجکر 45 منٹ پہ ترکی کے وقت کے مطابق استنبول سے کراچی کی فلائیٹ کا وقت تھا۔ سات گھنٹوں کے انتظار کی تھکن نے کراچی پہنچنے کی خوشی کو کچھ ماند سا کر دیا تھا۔ میری سیٹ کھڑکی کے پاس والی نہ تھی۔ جی چاہا کہ کوئی مہربان مسافر مجھ سے سیٹ بدل لے اور میں نیلے آسمان اور تیرتے سفید بادلوں کو دیکھتے ہوئے کھڑکی پہ سر رکھ کر دیر تک آنکھیں موند لوں۔ مگر جو جوان، قدرے دیر میں آئے انہوں نے اپنا بورڈنگ پاس دکھاتے ہوئے قدرے دو ٹوک اور سپاٹ لہجہ میں کہا کہ یہ سیٹ ان کی ہے۔ میں نے بلا تامل بظاہر خوشدلی سے کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ خالی کردی۔ سوچا کہ چاہے کچھ ہو جائے اب کسی سے گفتگو کی تو چور کی سزا وہ میری سزا۔ مگر چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں۔
کچھ دیر بعد ہی مجھے پتا چل چکا تھا کہ میں جن سے مخاطب ہوں ان کا نام ارمان بلوچ، عمر بیالیس سال ہے، بلوچ قبیلہ رند سے تعلق رکھتے ہیں۔ یکلخت مجھے ان کے لہجہ کے ترشی کی وجہ سمجھ میں آ گئی۔ جس قوم کے ساتھ اس کی دھرتی ماں نے امتیازی سلوک اور وسائل سے محروم کیا اس کا وجود کیا نا انصافی کے خلاف سلگتی آگ نہیں بنے گا؟ ارمان کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ ترکی میں گزشتہ پانچ سال سے نو میڈ ڈیجیٹل میڈیا پہ کام کرتے ہیں۔ ملک چھوڑنے کی بنیادی وجہ بتائی کہ میں ٹیکنالوجی سائیڈ پہ ہوں اور ملک میں انٹرنیٹ بہت سلو (سست) ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کے ساتھ حکومتی رویہ کا ذکر بھی بہت درد مندی سے کیا۔ ”یہاں ایسے ایسے پہاڑ ملیں گے جہاں ایلومونیم، سلور، کاپر ایک ہی پہاڑ پہ ملیں گے۔ گوادر جسے اس کی ساخت کی بنا پہ ہیمر ہیڈ (ہتھوڑے کے سر والا) بھی کہا جاتا ہے۔ اگر وہاں کھڑے ہوں بڑی بڑی مچھلیاں اور کچھوے تیرتے نظر آئیں گے۔ سوئی گیس سوئی کے مقام سے نکلتی ہے اور اس صوبے کے عوام اس سے محروم ہیں۔ جہاں آپ کو پینے کے لیے پانی، سونے کے لیے پنکھا، بیماری میں دوا نہ ملے ہاں مگر وہاں مرنے کے لیے کفن اور جلی لاشیں ضرور ملتی ہیں۔“
انکے مطابق، ”پاکستان کی آزادی کے وقت بلوچستان آزاد تھا جس کا بعد میں قائد اعظم کے کہنے پہ پاکستان سے الحاق ہوا۔“ انہوں نے گہرے تاسف سے کہا کہ ہم قوم تو ہیں ہی نہیں۔ قوم تو ترکی ہے۔ جہاں انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی مشفقانہ سلوک ہوتا ہے۔ ”
ارمان بلوچ نے اپنی تلخ نوائی پہ بار بار مجھ سے معافی مانگی۔ مگر مجھے ان کے سچ اور تلخ لہجہ پہ دکھ کے ساتھ پیار آیا۔
ہمارا طیارہ سرعت رفتاری سے ترکی سے پاکستان کے طویل راستے کو طے کرتا ہوا وقت سے چالیس منٹ پہلے صبح کے چار بجکر نو منٹ پہ پاکستان انٹرنیشنل ائر پورٹ پہ پہنچ چکا تھا۔ ترکی کے عظیم الشان ہوائی اڈے کو دیکھنے کے بعد پاکستان کے اس اہم ترین ہوائی اڈے کی حالت زار پہ میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ 1992 ء میں بننے والا نیا قائد اعظم ائر پورٹ اب کسمپرسی کی دل جلانے والی مثال ہے۔ مگر اس سے زیادہ تکلیف مجھے ہر انسان کے چہرے پہ طاری محرومی اور فرسٹریشن نے پہنچائی۔
اپنے سامان کو ٹرالی میں لادے جب میں باہر جانے والے گیٹ کے پاس پہنچی تو دو صفائی کرنے والے ملازمین کو زمین پہ جابجا بکھری گلاب کے پھولوں کی پنکھڑیوں کو محنت سے سمیٹتے دیکھا۔ ”یہ کس نے پھینکی ہیں؟“ میں نے عادت سے مجبور ہوکے سوال داغا۔ ان میں سے ایک نے چڑ کے کہا۔ ”عمرہ کرنے والوں کے رشتہ داروں نے ان کے استقبال میں نچھاور کی ہیں۔“ ارے یہ تو کام بڑھانے والی بات ہے۔ ”میں نے نادانستگی میں بھس میں چنگاری کا کام کیا۔“ جی ہم ویسے ہی بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں اب یہ کام مزید ہے۔ ”میں نے کہا“ پھولوں کی پتیاں پھینکنے پہ پابندی لگانی چاہیے۔ ”جس پر دونوں نے بیک وقت اس عبارت کی نشاندہی کی جس کے تحت پھولوں کی پتیاں پھیکنے پہ پابندی تھی۔“ ارے پھر تو اس پر جرمانہ لگنا چاہیے۔ ”اپنے اس مفت مشورے پہ مجھے یاد آیا کہ میں اپنے پیارے وطن“ اسلامی جمہوریہ الباکستان ”میں داخل ہو چکی ہوں۔ مجھے تو بس یہی شکر ادا کرنا چاہیے کہ میں اس قابل نہیں کہ لوگ مجھ پہ گلاب کی پتیاں نچھاور کریں۔


