فلسفے کے راز۔ پہلی قسط۔ ول ڈورانٹ
ول ڈورانٹ نے بیسویں صدی میں فلسفے کے ثقیل اور دشوار علم کو ساری دنیا کے عوام میں اسی طرح مقبول بنایا جس طرح سٹیون ہاکنگ اور کارل ساگن نے سائنس کے پیچیدہ علم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچایا۔
میں نے جب ول ڈورانٹ کی سوانح کے بارے میں تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ 1885 میں میساچیوسڑس امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق کینیڈا کے کیتھولک فرنچ خاندانوں سے تھا اسی لیے ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ ایک پادری بنیں لیکن ڈورانٹ کو نوجوانی سے ہی مذہب سے زیادہ فلسفے سے عشق تھا کیونکہ وہ فلسفی سپینوزا کے پرستار تھے۔
کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پہلے وہ استاد بنے پھر انہوں نے پندرہ برس کی خوبصورت دوشیزہ ایریل کوفمین سے شادی کر لی۔ ایریل ایک وفا شعار شریک حیات تھیں اور انہوں نے زندگی کے ہر راستے پر ان کا مرتے دم تک ساتھ دیا۔
1917 میں ڈورانٹ نے کولمبیا یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور فلسفے کے مدرس بن گئے۔
1926 میں انہوں نے اپنی معرکتہ الآرا کتاب دی سٹوری آف فلاسفی
THE STORY OF PHILOSOPHY
تخلیق کی۔ وہ کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ اس کے کئی زبانوں میں تراجم ہوئے اور انہیں اس کتاب کی اتنی آمدنی ہوئی کہ وہ اگلے چالیس سال دی سٹوری آف سویلائزیشن
THE STORY OF CIVILIZATION
کی گیارہ جلدوں کے لیے تحقیق کرتے رہے۔ اس کتاب میں ان کی بیگم نے ان کا بڑا ساتھ دیا اور دونوں کو پلٹزر پرائز جیسے ادب کے بہت سے انعامات سے نوازا گیا۔
ڈورانٹ اور ایریل نے مل کر اپنی مشترکہ سوانح عمری لکھی اور اسے ڈوول آٹو بائیوگرافی
DUAL AUTOBIOGRAPHY
کا معنی خیز نام دیا۔
ڈورانٹ جب پچانوے برس کی عمر میں بیمار ہوئے اور انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا تو ایریل اتنی دکھی ہوئیں کہ انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور ڈورانٹ کے فوت ہونے سے دو ہفتے پہلے ہی فوت ہو گئیں۔ وہ پچھتر برس کی محبت بھری رفاقت کے بعد اپنے محبوب کے بغیر زندہ نہیں رہنا چاہتی تھیں۔ وہ زندگی کی طرح مرنے کے بعد بھی ان کے پہلو میں لیٹنا چاہتی تھیں۔
ڈورانٹ کی وفات 1981 میں اپنی چھیانویں سالگرہ کے دو دن بعد ہوئی لیکن ان کی کتاب فالن لیوز
FALLEN LEAVES
2014 میں چھپی۔ میں اس کتاب کے چند جملوں کا ترجمہ اور چند اقتباسات کی تلخیص آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
بچے
بچے اور سادہ لوح انسان پورا سچ بولتے ہیں۔
بچے وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے ماں باپ کو کرتا دیکھتے ہیں اور بہت سے ماں باپ اپنی خوش فہمی میں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے ان کے اعمال کی بجائے ان کے اقوال سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ انہیں پند و نصائح کرتے رہتے ہیں۔
نوجوانی
نوجوانی میں انسان نہ ماضی کا سوچتے ہیں اور نہ مستقبل کا۔
نوجوان پہاڑی چڑھتے ہوئے نہیں سوچتے کہ اس پہاڑی کے دوسری طرف کیا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ زندگی ہمیں اس وقت دانائی دیتی ہے جب وہ ہم سے نوجوانی چھین لیتی ہے۔
نوجوانی میں انسان میں خود آگہی پیدا ہوتی ہے اور وہ پہلی بار محبت کا مزہ چکھتا ہے۔
بڑھاپا
انسان اتنا بوڑھا ہے جتنی اس کی شریانیں
اور اتنا جوان ہے جتنے اس کے خیالات
بڑھاپا ہمارے لیے دانائی کا تحفہ لے کر آتا ہے۔
روح
میری روح اس وقت تک زندہ ہے جب تک میرا جسم زندہ ہے۔ میرے جسم کی موت کے ساتھ میری روح بھی مر جائے گی کیونکہ روح زندگی کی توانائی کا ہی دوسرا نام ہے۔ اسی لیے ماہرین اب روح کو سائیکی کا نام دیتے ہیں
جنت اور دوزخ
میرے لیے جنت اور دوزخ جگہوں کا نہیں کیفیتوں کے نام ہیں۔
اخلاقیات
اخلاقیات ہی انسان کو مہذب بناتی ہے۔
میری نگاہ میں اخلاقیات کا اپنے دور اور حالات کے ساتھ گہرا رشتہ ہے۔ اخلاقیات کا احترام کرنے والا انسان اپنی انفرادی زندگی کے فیصلے اپنے ماحول کو مد نظر رکھ کر کرتا ہے۔
ٹکنالوجی
ٹکنالوجی نے جنگ کی نفسیات کو بدل دیا ہے۔ اب انسان اپنے سامنے کھڑے دوسرے انسان کو قتل نہیں کرتا بلکہ ٹکنالوجی کی مدد سے سینکڑوں ہزاروں میل دور کے انسانوں کو قتل کر رہا ہوتا ہے۔ ماضی کی جنگوں میں انسان تیروں اور بندوقوں سے چند سو انسان قتل کرتا تھا اب وہ بموں سے ہزاروں لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔
انارکسٹ
ہم سب کے دلوں میں ایک انارکسٹ چھپا بیٹھا ہے جو اس مجرم سے ہمدردی دکھاتا ہے جو پولیس کو دھوکہ دے کر بھاگنا چاہتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی پولیس کو پسند نہیں کرتا جب تک ہمیں خود پولیس افسر کی مدد کی ضرورت نہ پڑے
عورت
میں جب کسی عورت کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اس سے رومانوی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہوں۔ عورت فطرت کا ایک حسیں فن پارہ ہے۔
فطرت
فطرت دیوانی ہے۔ وہ ارتقا چاہتی ہے اسی لیے وہ انسانوں کو دھوکے دیتی رہتی ہے تاکہ وہ افزائش نسل کا سلسلہ جاری رکھیں۔
حب الوطنی
اپنی قوم سے محبت کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسری قوموں کے انسانوں پر ظلم کریں اور انہیں نیست و نابود کر دیں۔
مذہب
وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں مذہب کا کردار کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بہت سے لوگ اب مافوق الفطرت ہستیوں پر ایمان نہیں رکھتے۔
تاریخ
تاریخ مثالیت پسند نہیں حقیقت پسند ہے۔ وہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پچھلے چھ ہزار برس میں انسان نے کیا کیا نہ کہ یہ کہ اسے کیا کرنا چاہیے تھا۔
۔ ۔
نوٹ: میں اپنے دانشور دوست حفیظ غزنوی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ول ڈورانٹ پر کالم لکھنے کا مشورہ دیا
دوسری قسط سقراط کے بارے میں ہوگی


