ڈاکٹر عبدالسلام کا ادبی ذوق


پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) ادیب بھی تھے اور چوٹی کے سائنسدان بھی۔ ادیب پہلے تھے سائنسدان بعد میں بنے۔ ادب ان کے ڈی این اے میں تھا جس کو پروان ان کے مشفق والد اور بے لوث اساتذہ کی تربیت نے چڑھایا تھا۔

ایک اخباری نمائندے نے ان سے سوال کیا عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ سائنسدان خشک مزاج لوگ ہوتے ہیں؟ اس کے جواب ڈاکٹر سلام نے کہا یہ بات بالکل غلط ہے۔ ادب اور شعر سے مجھے ہمیشہ لگاؤ رہا ہے۔ سارے ہی بڑے سائنسدان بڑے اچھے ذوق کے مالک رہے ہیں۔ یہ تو آرٹس والے ہوتے ہیں جو بالکل ’چرخے‘ ہوتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ ادب میں دل چسپی لی ہے۔ (سوانح عبدالسلام از قلم چوہدری عبدالحمید لاہور صفحہ 302 )

سلام نہ صرف عالمی شہرت کے عہد ساز سائنسدان تھے بلکہ ایک صاحب طرز ادیب اور قادر الکلام انشاء پرداز بھی تھے۔ ان کی ژرف نگاہی، بصالت فکر، اور وسیع النظری کا تو ایک عالم معترف تھا۔ فیض میموریل لیکچر 1988 میں انہوں نے کہا تھا: ”سائنسدان حسن و جمال سے غیر متعلق نہیں ہوتے۔ جمالیاتی ذوق سے متصف سائنسدانوں کے پیش کردہ نظریات بالآخر صحیح ثابت ہوئے گو شروع میں وہ ضعیف نظر آتے تھے“ ۔

سکول کے زمانے سے ہی سلام کو ادب سے لگاؤ تھا۔ یہ ادبی ذوق ان کے والد کی خاص توجہ سے ان میں پیدا ہوا تھا۔ ان کے بچپن میں ان کے والد محترم ان کو اپنے ساتھ سہ پہر کے وقت سائیکل پر بٹھا کر جھنگ کے مضافات میں لے جاتے جہاں وہ کھلے میدان، فیکڑیاں، دکانوں، باغات کا مشاہدہ کرتے یا مختلف مشینوں کے انجن جیسے بھاپ انجن، کپاس اور فلور ملز کے انجن، موٹر انجن، سائیکل، اور سائنسی اہمیت کی چیزیں یعنی دریائے چناب کا پل اور تریموں ہیڈ وغیرہ دکھاتے۔ گھر واپس آ کر ان کے والد مطالبہ کرتے کہ جو کچھ انہوں نے مشاہدہ کیا ہے اس کو قلم بند کریں۔ یوں ان میں مشاہدے کی قوت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ تحریر کی صلاحیت بھی نکھرتی چلی گئی اور مضمون نویسی پر قدرت حاصل ہوتی گئی۔

سلام کا بچپن والد کے وضع کردہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے گزرا جس نے آگے چل کر ان کی ذہنی صلاحیتوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ والد کی تربیت ان کے رگ و ریشہ میں پیوست ہو گئی۔ بچپن میں سکھائے گئے اصول و ضوابط ان کے لئے رہ نما ثابت ہوئے، ان میں خود اعتمادی پیدا ہوئی اور عزت نفس کا خیال اور خود شناسی کے احساس نے جنم لیا۔ احساس ذمہ داری نے سلام کی تخلیقی قوتوں کو مہمیز دی۔

بچپن میں ہر بچہ متجسس ہوتا ہے اس لئے عبد السلام بھی ہر چھوٹی بات کی اپنے والد سے وضاحت چاہتے اور جب گھر واپس آ کر مضمون باندھتے تو وہ تمام باتیں جو انہوں نے سنی ہوتیں کمال چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لاتے۔ بطور انشاء پرداز وہ جزئیات نگاری سے تحریر میں جان ڈال دیتے تھے۔ جھنگ کالج میں تعلیم کے دوران ان کے والد کے دیرینہ دوست اور شاعر شیر افضل جعفری کی صحبت حاصل رہی۔ سالوں بعد جب ڈاکٹر سلام جھنگ کالج تشریف لائے تو ان کی آمد پر شیر افضل جعفری نے اپنا کلام ’چنہاں دا چن‘ ان کے استقبال میں پڑھا تھا۔ پنجابی کی یہ نظم ڈاکٹر سلام کی اہلیہ امت الحفیظ صاحبہ نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر لندن سے مجھے بھجوائی تھی تاکہ اس کو کتاب میں شامل کر لوں۔ یہ نظم راقم السطور کی کتاب ’عبدالسلام، مسلمانوں کا نیوٹن‘ میں شامل ہے۔

کالج کے دور میں ان کے چند ادبی شہ پارے جو منصہ شہود پر آئے وہ یہ ہیں : نہم جماعت کے طالب علم سلام کا یہ مضمون ’اقبال میری نظر میں‘ جو انہوں نے اقبال ڈے 1939 کے لئے لکھا تھا۔ وزیر آغا کا کہنا ہے کہ ”کالج کے جلسہ تقسیم انعامات میں سب سے زیادہ انعام ایک لڑکے کو ملے جو اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ اس کو کتابوں کا اتنا بڑا ڈھیر ملا جو اس سے اٹھایا نہیں جاتا تھا۔ اس لڑکے کا نام عبدالسلام تھا۔ میں کالج میگزین کا مدیر تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے عبدالسلام کا ایک اردو ڈرامہ بھی شائع کیا تھا۔“ اردو ڈرامہ گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج جھنگ کے مجلہ چناب (ایڈیٹر وزیر آغا) میں 1939 میں شائع ہوا تھا۔ (شام کی منڈیر سے، 1989 صفحہ 39 )

مرزا غالب پر مقالہ، ”اسد اور غالب“ میں آپ نے تاریخی شواہد کی روشنی میں اس سال کا بھی ذکر کیا جب اسد سے غالب کا تخلص تبدیل کیا گیا۔ یہ بھی بتایا کہ پہلی مرتبہ اس نئے تخلص کا استعمال کب اور کہاں کیا؟ یہ 1940 میں لکھا گیا اور اس دور کے مشہور اردو رسالے ’ہمایوں‘ کے صفحات کی زینت 1942 میں بنا تھا۔ سلام کو اپنے اس تحقیقی اور ادبی مضمون پر جو انہوں نے عرق ریزی سے تیار کیا تھا ہمیشہ فخر رہا۔ جھنگ میں انٹرمیڈیٹ کے سالوں میں کالج لائبریری کے انچارج رہے۔

آپ کے قلم میں جدت اور رنگینی اس وقت مزید پیدا ہوئی جب گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ کے دوسرے سال میں آپ کو کالج کے مجلہ ’چناب‘ کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ اس کی ادارت سے آپ کو بہت فائدہ پہنچا۔ کالج کی لائبریری میں ہر قسم کے موضوعات پر موجود کتابوں سے انہوں نے خوب استفادہ کیا۔ جب آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں طالبعلم تھے تو آپ کو مجلہ ’راوی‘ کے اردو، انگلش حصوں کا اکتوبر 1945 میں ایڈیٹر ان چیف مقرر کیا گیا۔ مجلہ میں آپ کے انگلش اداریے اور مضامین شائع ہوئے جن میں سے۔ ”اے وزٹ ٹو جرمنی“ قابل ذکر ہے، جو راوی میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون کی اصل کاپی راقم کی ذاتی لائبریری میں ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کی سٹوڈنٹ یونین کے آپ صدر بھی رہے۔

علامہ اقبال سے عقیدت

عبدالسلام کی پہلی ادبی تحریر ”اقبال میری نظر میں“ چودہ سال کی عمر میں اقبال ڈے کے موقعہ پر گورنمنٹ کالج جھنگ کے جلسہ یوم اقبال میں منظر عام پر آئی۔ یہ جلسہ علامہ اقبال کی پہلی برسی 21، اپریل 1939 کو منعقد ہوا تھا۔ بعد میں یہ تحریر ہفت روزہ ’عروج‘ (ایڈیٹر اسماعیل پانی پتی ) جھنگ میں بھی شائع ہوئی تھی۔ اس پرانے مضمون کی کاپی پروفیسر سمیع اللہ قریشی (پرنسپل گورنمنٹ کالج) نے ڈاکٹر وحید قریشی، ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور کو مہیا کی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا کہ ان کو مضمون نگاری کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ ’اقبال میری نظر میں‘ سے درج ذیل اقتباس ان کی زبان پر گرفت اور لطافت کی اعلیٰ مثال ہے : ”1876 میں کون اس نوزائیدہ کی طبع رسا سے واقف تھا جس سے گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ تھی اور جس نے آ کر اس کی کایا پلٹ دی اور اس کو گنج زر دیا۔ اس وقت کسی کو کیا معلوم تھا اس کہ بچہ کی شوخی گفتار کے چرچوں سے زمین و آسمان گونج اٹھیں گے۔ نہیں ہر گز نہیں مگر فیضان خداوندی اس وقت اس بچہ پر رنگینی اور رفعت خیال بن کر نازل ہو رہے تھے جو کی انٹرنس کے درجہ تک طبیعت میں محفوظ رہے اور ایف اے کلاس میں مو لا نا میر حسن کی فیضان صحبت نے ان جواہر کو جلا دی۔“

جب سلام نے بی اے کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی تو رسالہ عروج میں ان کو یوں ہدیہ تبریک پیش کیا گیا:

کیا باد صبا لائی مسرت کی نوید آج
قسمت نے دکھایا ہے عجیب روز سعید آج
کس شان سے چمکا ہے تو اے عبدالسلام آج
روشن تیرے نام سے ہوا جھنگ کا نام آج
ہستی پہ تیری جھنگ سدا ناز کرے گا
پنجاب کو ہستی پہ تیری فخر رہے گا

سلام کو علامہ اقبال سے والہانہ عقیدت تھی، جن کی شاعرانہ عظمت کا ان کو عہد طفولیت سے ہی اعتراف تھا۔ ان کے کلام کو بڑے غور و فکر سے ذہن نشین کرتے۔ علامہ کی نظم ’شکوہ اور جواب شکوہ‘ تو ان کو بے حد پسند تھی۔ آپ کے سوانح نگار جگجیت سنگھ نے بھی درج ذیل اشعار کو بایوگرافی میں نقل کیا ہے :

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمین بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
(نیو دہلی 1992، صفحہ 186 )

ڈاکٹر سلام کی جدید سیکولر سوانح لندن سے 2023 میں طبع ہوئی ہے۔ اس کے مصنف کے مطابق جب سلام بحری جہاز سے کیمبرج جا رہے تھے تو ان کو جہاز کے بیرونی عرشہ (اپر ڈیک) پر جگہ ملی جہاں وہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے یا پھر چہل قدمی کرتے زیر لب علامہ اقبال کے اشعار گنگناتے اور ان میں پنہاں فلسفہ پر غور کرتے تھے۔ M۔ Masud۔ Abdus Science، London 2023، page 124

ڈاکٹر سلام کو اوائل زمانہ سے ہی انگلش، اردو، فارسی اور عربی میں گہری دلچسپی تھی۔ ان کے والد گرامی نے ان کے لئے بہترین اساتذہ کا انتظام کیا جو ان کی ان زبانوں میں ٹیوٹرنگ کرتے اور ان کے رموز و اوقاف سمجھاتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے والد گرامی چوہدری محمد حسین نے گورنمنٹ کالج جھنگ کے پرنسپل سے دریافت کیا کہ سلام کے مضامین معیاری ہوتے ہیں یا نہیں؟ پرنسپل نے کہا کہ وہ سلام کو نصیحت کریں کہ مضامین لکھتے ہوئے متن میں وہ دوسرے ادیبوں اور لکھاریوں کے لمبے اقتباسات درج کر نے سے گریز کریں جو قاری کی طبیعت میں گرانی پیدا کرتی ہے۔ انہیں موقعہ محل کے مطابق مختصراً ہی استعمال کرنا چاہیے۔

سلام ادب کو زندگی کا بنیادی حوالہ سمجھتے تھے۔ ابتداء ہی سے روز مرہ زندگی کے واقعات اور مشاہدات پر چھوٹے چھوٹے مضامین صفحہ قرطاس پر اتارتے۔ آپ کو شعراء کرام کی سوانح عمریوں میں بھی دل چسپی تھی۔ ان کے اردو کے استاد شیر افضل جعفری ان کے مضامین کی نوک پلک سنوارنے میں مدد کرتے تھے۔ لکھنے لکھانے کا یہ عمل ساری عمر جاری رہا۔ ان کو لفظوں کی معنوی قدر و قیمت کا خوب اندازہ تھا۔ ان کے مضامین تراکیب و محاوروں کا استعمال ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتا تھا۔

مضمون لکھنے پر انعام

مضمون نگاری کا مظاہرہ سلام ہر فورم پر کرتے رہے۔ مارچ 1936 جھنگ میں جو تعلیمی نمائش منعقد ہوئی تھی، اس میں ڈپٹی کمشنر کی طرف سے آپ کو بہترین مضمون ضبط تحریر لا نے پر پہلا انعام دیا گیا۔ آپ کی بصالت فکر کے باعث آپ کے قلم سے نمودار ہونے والی تحریریں معنی آفریں اور سحر انگیز ہوتی تھیں۔

آپ کے مضامین، تحریروں، تقاریر، رپورٹس، سے یہ بات مترشح ہوتی کہ آپ ایک صاحب اسلوب ادیب، اور قدآور فلسفی تھے۔ آپ کو صوفیانہ مزاج، سائنسی دماغ اور حساس طبیعت فطرت نے ودیعت کی تھی۔ ان کی تحریروں میں جزئیات نگاری، واقعہ نگاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مضامین میں ان کی ذاتی زندگی کے واقعات بھی شامل ہیں اور خود کو کردار بنا کر دنیا کو مشاہدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سکول کے زمانے کا یہ قصہ سنایا: بچپن ( 1936 ) میں ہمارا تعارف فطرت کی چا ر قوتوں کے بارے میں ان کے ٹیچر سے ہوا۔ پہلے اس نے ہمیں گریویٹی کے بارے میں بتایا۔ ہر کوئی اس کے متعلق شد بد رکھتا تھا کیونکہ نیوٹن جیسے سائنسدان کا نام جھنگ جیسے شہر میں بھی ہر ایک معلوم تھا۔ پھر اس نے مقناطیسی قوت کے بارے میں بتایا اور ایک مقناطیس دکھایا۔ پھر اس نے الیکٹریسٹی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ جھنگ میں نہیں پائی جاتی بلکہ لاہور میں پائی جاتی ہے جو ایک سو میل دور تھا۔ آخر پر ٹیچر نے نیوکلیئر فورس کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ قوت یورپ میں پائی جاتی انڈیا میں نہیں اس لئے ہمیں اس کے بارے میں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ (ڈائراک میموریل لیکچر) Unification of fundamental forces، page 50، 1990

آپ کو اپنے رشتہ داروں، دوستوں، اور رفقاء سے بے پناہ محبت تھی اور ان کے خطوط کے جوابات انتہائی خلوص اور شفقت سے دیتے تھے۔

بعض اوقات وہ اپنے مضامین اور تقاریر میں حکایات اور واقعات سنا کر بات کو دلنشین بنا دیا کرتے تھے۔ ایک سیمینار میں دو نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہائزن برگ اور پال ڈائراک مدعو تھے، سوال یہ تھا کون کس کا تعارف پہلے کروائے۔ اس مسئلہ کو سلام نے ایک حکایت سنا کر حل کر دیا۔ ڈاکٹر سلام نے دو نوبل انعام یافتگان کا تعارف یوں کرایا: صدیوں پہلے ایران کے بادشاہ کے ہاں کسی پڑوسی سلطنت کا بادشاہ مدعو تھا دونوں بادشاہ دربار میں تشریف فرما تھے۔ اور ساتھ میں ایران کے بادشاہ کا وزیر اعظم بھی۔ مشروبات پیش کیے جاتے ہیں وزیر کے لئے اب مسئلہ یہ ہے کہ مشروب پہلے اپنے بادشاہ کو پیش کرے یا مہمان بادشاہ کو۔ دونوں صورتوں میں اعتراض کی گنجائش نکلتی تھی۔ پرانے زمانے کے وزیر با تدبیر سیانے ہوا کرتے تھے۔ اس نے اپنے بادشاہ کے طرف مشروب بڑھاتے ہوئے کہا : ایک بادشاہ کو ہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے بادشاہ کو مشروب پیش کرے It befits one King to present to another یہ دلچسپ واقعہ سنا کر سلام نے کہا

آج میری بھی یہی کیفیت ہے۔ مگر اس ایرانی وزیر با تدبیر نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ میں دعوت دیتا ہوں کہ جناب ڈائراک Dirac تشریف لائیں اور ہائیزن برگ Heisenberg کو متعارف کرائیں۔

دنیا کے منفرد افراد میں ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ چاہے وہ اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہ بولیں، مگر ان کا وجود ایسی سحر انگیز لہریں چھوڑتا ہے کہ سامنے والا ان کے سحر میں گرفتار ہو کر بہت کچھ سیکھ لیتا ہے۔ ان کے وجود سے نکلنے والی لہریں سامعین کی علمی پیاس کو بجھاتی ہیں۔ علم ایک روشنی ہے اور روشنی کو منتشر ہونے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ روشنی بغیر میڈیم کے بھی سفر کرتی ہے۔ انگریزی ان کی مادری زبان نہیں تھی مگر اپنے خیالات کو بیان کرتے ہوئے اتنی خود اعتمادی سے انگلش بولتے کہ مضامین خودبخود اپنی تہیں کھولتے نظر آتے۔ انہوں نے اپنی ادبی حیثیت کو راوی میگزین میں شائع ہونے والے مضامین سے بھی منوایا۔ انگلش میں ان کا پہلا مضمون 1940 میں راوی رسالے میں Hair and Hairdresser کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ مضمون میں مختلف ممالک میں باربر شاپس میں زیر استعمال آلات اور ان کے استعمال پر تفریق کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کا ذاتی تجربہ ان کو اس وقت ہوا جب آپ پیرس میں حجام کی کرسی پر بیٹھے تھے۔

ڈاکٹر عبدالسلام کو اوائل زندگی سے ہی شاعری میں خصوصی دل چسپی رہی۔ سائنس میں اپنی دماغ سوز مصروفیات اور تناؤ کو کم کر نے کے لئے وہ قرآنی آیات کریمہ، اشعار، قصائص اور ادب کو بھی اپنے لیکچرز میں شامل کر لیتے تھے۔ ایک مضمون Scientific Thinking میں یہ بحث کرتے ہوئے کہ آیا سائنس اینٹی ریلیجن ہے؟ فرمایا نہیں سائنسی علم انسان میں تحیر کی روح پیدا کرتا۔ اس ضمن میں آپ نے فیض احمد فیض کے درج ذیل شعر کا حوالہ دیا تھا:

کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی

اس شعر کی تشریح یوں فرمائی: یہاں فیض نے چشم حیراں کی بات کی ہے۔ یہی اعلیٰ سائنس کی بنیاد ہے اور یہی سائنسی تحقیق کی معراج۔ تفکر کے سفر کی ہر منزل چشم حیراں کو مزید حیرانیوں کی وادی میں گم کر دیتی ہے۔ (فیض میموریل لیکچر، آئیڈیلز اینڈ ریلٹیز، صفحہ 285، سنگاپور)

فیض احمد فیض کے بارے میں ڈاکٹر سلام کہتے ہیں : فیض ایک عظیم شاعر اور میں ایک حقیر سائنسدان۔ وہ حسن و عشق کی دنیا میں رہنے والے اور میں ایٹم کی دنیا کا باشندہ۔ وہ زندگی میں رنگینی کے دلدادہ اور یہ عاجز زاہد و خشک، وہ قید و بند سے آشنا، ارباب اقتدار کی نگاہ میں معتوب اور میں حکومتوں سے کام لینے کا خوگر۔ (فیض میموریل لیکچر لاہور) ایک دفعہ سلام کی فیض صاحب سے اچانک ملاقات ملتان ائر پورٹ پر ہو گئی تو انہوں نے سلام کی نوٹ بک میں اپنے اشعار اور غزلیں لکھ کر دی تھیں۔

سلام ایک منجھے ہوئے قلم کار کی حیثیت سے حالات حاضرہ اور واقعات کو اپنے مضامین کا موضوع بناتے تھے۔ ان کے مضامین اور تقریروں میں سحر انگیزی آخری وقت تک برقرار رہتی۔ نوبل انعام ملنے کے بعد وطن عزیز میں کسی نے کہا کہ پہلے جھنگ کی شہرت مائی ہیر کی وجہ سے تھی اب اس کی شہرت نوبل انعام کی وجہ سے ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر سلام نے جواب دیا کہ دنیا میں اس وقت تین سو کے قریب نوبیل انعام یافتہ پائے جاتے ہیں جن کے نام پر شہر بھی آباد ہیں۔ مگر دنیا میں صرف ایک ہیر ہے۔

لاہور میں قیام کے دوران سلام نہ صرف ریاضی اور طبیعات کی کتابوں کا مطالعہ کرتے بلکہ تاریخی کتب جیسے تاریخ اسلام، اسلامی تہذیب، ثقافت، تاریخ ہند، اور تاریخ اقوام عالم بھی ان کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔ یوں ان کا مطالعہ وسیع اور عمیق ہو گیا۔ ان میں معلومات کو جذب کرنے کی اور کامل ارتکاز کی بے پناہ صلاحیت پائی جاتی تھی۔

انہوں نے نہ صرف پاکستان کے مسائل پر اظہار خیال کیا بلکہ دنیا خاص طور پر اسلامی دنیا کو درپیش مسائل اور ان کے پائیدار حل کی طرف توجہ دلائی تھی۔ جہاں انہوں نے ادب میں جمالیاتی پہلو پر قلم اٹھایا وہیں پاکستان کی سائنسی ترقی، طریقہ تعلیم، ، مسلمان اور سائنس کا باہمی تعلق، نارتھ اور ساؤتھ کے ممالک میں تفریق، اور اسلام اور مغربی معاشرے کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو کم کر نے کے لئے بھی اپنا قلم استعمال کیا۔

تاریخ نگاری پر عبور

ڈاکٹر سلام کو تاریخ نگاری پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔ ان کی نظر حالات حاضرہ اور ماضی کے حالات پر بہت گہری تھی۔ انہوں نے اکیس سال کی عمر 1947 میں مسجد فضل لندن میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مضمون ’تاریخ اسلام کے پانچ ادوار‘ میں اسلامی تاریخ کے روشن پہلوؤں، خلافت کے ادوار (عربوں کا دور، سلجوق حکمرانوں کا دور 1050، منگول قوم کا تیرہویں صدی کا دور، صفوی اور عثمانی ترکوں کا دور، 1500، 1700کے بعد کا دور، مسلم دنیا اور 1947کے حالات) اور فاتح اور مفتوح قوموں کے مابین پیدا ہونے والی خلیج کو چابک دستی سے بیان کیا۔ یہ مضمون مسلم ہیرالڈ لندن میں 1983 میں شائع ہوا تھا۔ اس کا اردو ترجمہ راقم مضمون نے کیا جو 20اگست2004 کو شائع ہوا تھا۔ https://files.alislam.cloud/alfazl/rabwah/A20040820.pdf

مذکورہ مضمون سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو جس سے پتہ چلتا کہ اس سائنسدان کی پوری اسلامی تاریخ پر عمیق نظر ہے ”ہارون الرشید کی وفات کے ایک سو سال بعد عباسی خلفاء کی طاقت میں انحطاط آنا شروع ہو گیا۔ خراسان کے علاقہ میں سمانید حکومت قائم ہو گئی۔ فارس میں بووید حکومت، مصر میں فاطمی حکومت اور عرب میں کارمیتھین۔ فاطمی حکومت کے علاوہ ان تمام حکومتوں نے بغداد کے خلیفہ کو برائے نام تسلیم کیا مگر اسلامی امت اس قدر خلفشار کا شکار ہو چکی تھی کہ لگتا تھا کہ سیاسی طور پر تباہی اس کا مقدر بن چکی ہے۔ “

تاج محل اور نیوٹن کی پرنسپیا

ڈاکٹر سلام نے علی گڑھ میں تقریر میں کہا: ”آج سے تین سو سال قبل 1660 میں جدید عالمی تاریخ کی دو عظیم یادگاریں تعمیر ہوئیں۔

ایک لندن میں، سینٹ پال کیتھڈرل، دوسری مشرق میں آگرہ کا تاج محل۔ بیان کی ضرورت نہیں یہ دونوں یادگاریں بذات خود اس بات کا مجسم اظہار ہیں کہ تاریخ کے اس دور میں ان دو میں سے کون سی تہذیب فن تعمیر، کاریگری، دستکاری، صناعی اور ثروت کی کس منزل پر تھی۔ البتہ لگ بھگ اسی زمانہ میں ایک تیسری یادگار بھی وجود میں آئی۔ جس کے بعد کے اثرات زیادہ گہرے اور دور رس ثابت ہوئے۔ یہ نیوٹن کی طبیعات کے موضوع پر شہرہ آفاق تخلیق پرنسپیا ہے۔ مغرب کے اس شاہکار کے ہم پلہ مغل ہندوستان میں کچھ بھی نہ تھا۔ اب میں آپ کو بتاؤں گا کہ نادر المثال تاج محل دینے والی ٹیکنالوجی پر نیوٹن کی پرنسپیا پر قائم ٹیکنالوجی سے ٹکرانے کے بعد کیا بیتی ”۔ (تہذیب الاخلاق علی گڑھ مئی 1989، ترجمہ ڈاکٹر اسرار احمد)

جب وہ گورنمنٹ کالج میں تیسرے سال کے طالب علم تھے تو انہوں نے ریاضی پر اپنا انگلش میں تحقیقی مقالہ رقم کیا جس کا نام ”اے پرابلم آف راما نوجن“ تھا۔ یہ مضمون مارچ تا جون 1943 میں میتھس سٹوڈنٹ (مدراس) جلد نمبر XI شمارہ 1۔ 2 میں شائع ہوا تھا۔ اس مقالہ میں سلام نے رامانوجن کے انتہائی مشکل طریقے کو مساوات کے خصوصی سیٹ کو حل کرنے کے برعکس انہیں حل کر نے کا انتہائی سادہ طریقہ بتایا تھا۔ یہ مضمون راقم السطور کی کتاب مسلمانوں کا نیوٹن صفحہ 362 پر شامل اشاعت ہے۔

انگلش میں مقالہ جات اور کتابیں

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا آپ کو انگلش پر عہد شباب سے ہی مکمل عبور حاصل تھا۔ اس کے شواہد رسالہ ’راوی‘ کے ایڈیٹوریلز اور مضامین ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد جب کیمبرج یونیورسٹی پہنچے تو یہاں آپ کو دقیق سائنسی پیپرز لکھنے پڑے۔ آپ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے جو مقالہ قلم بند کیا وہ نظری طبیعات میں ایک شاہکار تھا۔ اس کی وجہ سے آپ کی دھاک مغربی ممالک میں بیٹھ گئی۔ اس کے بعد اگلے چالیس سالوں میں آپ نے تھیورٹیکل فزکس پر 243 مقالہ جات صفحہ قرطاس پر اتارے جن کی تفصیل ترتیب وار ایس ایم احمد (کراچی) نے اپنی کتاب Abdus Salam as we know him میں پیش کی ہے۔ پہلا سائنسی مقالہ A problem of Ramanujan، 1943 میں لکھا گیا اور آخری مقالہ 1990 Fermion Induced Singularities دیگر دو سائنسدانوں کے تعاون سے لکھا گیا تھا۔ انگلش میں آپ کے اشہب قلم سے جو بارہ کتابیں منصہ شہود پر آئیں ان کی فہرست کتاب مسلمانوں کا نیوٹن میں صفحہ 176 پر درج ہے۔ اس کتاب کے مطابق آخری مقالہ 1993 میں عالمی شہرت کے سائنسی جرنل فزکس لیٹرز میں شائع ہوا تھا۔ دو کتابیں یونی فیکیشن آف فنڈامنٹل فورسز 1990 (اردو ترجمہ انیس عالم، اساسی قوتوں کی یکجائی ) اور نوٹس آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 1990 آپ نے مجھے اٹلی سے ڈاک سے بھجوائی تھیں۔

اس حقیر پر تقصیر کے پاس آپ کی 114 انگلش تقاریر کی فہرست ہے جس کے مطابق پہلی تقریر ڈھاکہ میں 1961 میں کی تھی اور آخری 1993 میں۔ چند ٹائپ شدہ تقاریر کے مسودے میری لائبریری میں ہیں جو مجھے آئی سی ٹی پی (اٹلی) سے موصول ہوئے تھے۔

آپ کی ادبی شاہکار کتاب کا نام Ideals and Realities ہے (اردو ترجمہ شہزاد احمد ارمان اور حقیقت 1996 ) جس میں آپ کے مضامین اور تقریروں کو پیش کیا گیا ہے۔ پہلی بار یہ 1983 میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی تھی۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔ میرے پاس اس کے چار ایڈیشن ہیں، جو مجھے ٹریسٹ (اٹلی) سے موصول ہوئے تھے۔

بچپن میں انسان نے جو کچھ سیکھا ہوتا وہ باتیں النقش کا الہجر ہو کر تمام عمر اس کی مینارہ نور بن کر اس کی رہ نمائی کرتی ہیں۔ سلام کے والد اور اساتذہ نے جس طرح ان کی تربیت کی اس کی جھلک ان کی باقی زندگی میں نمایاں نظر آتی ہے۔ نوبل انعام ملنے کے بعد نوائے وقت کے وارث میر کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر سلام نے کہا تھا: سائنسی تحقیق میری زندگی بن چکی ہے اور میرے لئے رموز فطرت کی تلاش در اصل خدا کی حکمتوں کی تلاش ہے۔

حرف آخر

جھنگ جیسے دور افتادہ شہر میں پرورش پانے والا یہ بچہ بڑے ہو کر سائنس کی دنیا میں آفتاب بن کر ابھرا اور اپنی ضیا پاشیوں سے مغرب و مشرق کو روشن کیا۔ اکناف عالم میں مسلمانوں کے سائنس میں کھوئے ہوئے وقار اور مرتبہ کو بڑی آن بان سے بحال کیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عبدالسلام اسلامی دنیا کے لئے سرمایہ افتخار تھے۔

Facebook Comments HS