عمران خان، زیلنسکی، قرۃ العین حیدر اور مریم نواز
چند ماہ قبل میرے ایک کزن کے بیٹے کی شادی تھی جو گاؤں میں رہتے ہیں۔ سرائیکی بیلٹ میں گاؤں میں ہونے والی شادی کے لیے اردگرد کے گاؤں کے لوگ بھی کہتے ہیں ”سائیں! وسیب دی شادی اے ونجناں تاں پوسی“ (اپنے علاقہ کی شادی ہے جانا تو پڑے گا) ۔ اس شادی میں بھی مہمانوں کی زیادہ تعداد کا تعلق مختلف گاؤں اور دیہات سے تھا اس لیے میرا خیال تھا کہ ولیمہ کا انتظام گاؤں میں ہی رکھا جائے گا لیکن میزبانوں نے ولیمہ خیرپور ٹامیوالی شہر کے بالکل قریب واقع ایک شادی ہال میں رکھا۔ وجہ بتائی گئی کہ گاؤں کی شادی میں بھکاریوں کی ایک بڑی تعداد بالٹیاں اور بڑی بڑی دیگچیاں اُٹھا کے آ جاتی ہے کہ کھانے میں سے پہلے ہمارا حصّہ دو۔
اچھا، آپ نیشنل جیو گرافک چینل پہ جنگل کی ویڈیوز دیکھیں تو شکار پہ شیروں کے متحارب گروہ کی لڑائی ہو رہی ہو تو گیدڑ، لگڑبگے اور لومڑیوں کو بھی امید ہو جاتی ہے کہ اب ہمیں بھی حصّہ ملے گا۔ راقم نے دو مارچ 2022 کو ایک بلاگ بعنوان ”روس یوکرائن وار۔ کشکول اُٹھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے“ لکھا تھا جو بلاگ ویب سائٹ ”ہم سب“ پہ بھی شائع ہوا۔ اس بلاگ میں راقم نے اشارہ دیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک بشمول جنوبی ایشیائی ممالک اس جنگ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے اپنے کشکول اٹھا کر زیادہ سے زیادہ ”بھیک“ اکٹھی کرنے کی کوشش کریں گے۔
آج دو مارچ 2025 کو جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو تھوڑی دیر پہلے نیوز ٹی وی چینلز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کی ملاقات کی ایک ویڈیو دوبارہ دکھائی جس میں دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ ٹرمپ زیلنسکی کو کہہ رہا تھا کہ تمہاری اوقات نہیں کہ تم امریکہ کو ڈکٹیٹ کر سکو۔ اس ملاقات کا انجام کیا ہو گا اُسے تو ایک طرف رکھیں بس ٹرمپ کے سامنے زیلنسکی کی باڈی لینگوئج سے میں بہت محفوظ ہوا۔ پتہ نہیں کس ماں نے اسے جنم دیا مجال ہے جو ٹرمپ کے غصّہ کا سامنا کرتے ہوئے اس جوان کے ماتھے پہ پسینہ آیا ہو یا اس کے ہاتھ کانپے ہوں بلکہ وہ تو ماتھے پہ تیوری چڑھا کے اور سینہ تان کے اکڑ کے جواب دے رہا تھا۔
اچھا، اگر آپ زیلنسکی کا موازنہ اردو ناول ”آگ کا دریا“ کی مصنفہ قرۃ العین حیدر کے ساتھ کریں تو لگتا ہے دونوں ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب کے بقول قرۃ العین حیدر بے عزتی کو ترسی ہوئی خاتون تھیں۔ گزشتہ رات قاسمی صاحب کا ایک کالم پڑھا جس کی چند لائنیں یہاں من و عن نقل کر رہا ہوں۔
”سنگ میل کے مالک نیاز احمد صاحب کا فون آیا کہ انڈیا سے قرۃالعین حیدر آئی ہوئی ہیں۔ چنانچہ یہ پیغام سنتے ہی میں سب کام کاج چھوڑ کر سنگ میل پہنچ گیا۔ اس وقت وہ کافی معمر ہو چکی تھیں مگر میں ان کے چہرے پہ ان کے باطن کی خوبصورتیوں میں کھویا ہوا تھا۔ اس وقت وہ کچھ غصے میں تھیں اور ان پبلشروں کے خلاف بات کر رہی تھیں جو پاکستان میں ان کی کتابیں ان کی اجازت کے بغیر شائع کیے جا رہے تھے۔ یہ سن کر مجھے بہت غصّہ آیا۔ میں نے کہا آپ مجھے چند لائن ڈکٹیٹ کروا دیں میں نوائے وقت میں شائع کرا دوں گا۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے چند لائنیں لکھیں“ ۔
”صبح اٹھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ خبر دو کالمی سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں گھر سے نکل گیا اور شام کو واپس آیا تو وائف نے بتایا کہ آپ کی عینی آپا کا فون آیا تھا، میں نے کہا شکریہ ادا کر رہی ہوں گی، بولی نہیں وہ تو بہت غصّے میں تھیں۔ میں ابھی حیرانی کے عالم میں تھا کہ فون کی گھنٹی بجی، دوسری طرف عینی آپا تھیں۔ میں ابھی بات کرنے کو ہی تھا کہ انھوں نے مجھ پہ چڑھائی کر دی“ تم پاکستانی ہو ہی ایسے تمہیں کس نے میری تصویر شائع کرنے کی اجازت دی اور خبر میں ایک لفظ یوں تھا اور آپ کے ہاں یوں تھا۔ میں نے عرض کی آپا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں مگر آپ یقین جانیں اس میں بدنیتی کا کوئی دخل نہیں تھا۔ مگر انھوں نے میری معذرت کو ہی رد کر دیا اور میرے اور دوسرے پاکستانیوں کے بارے میں بہت نازیبا الفاظ استعمال کیے ”۔
”تب میرا پارہ چڑھ گیا اور میں نے برصغیر کی اس سب سے بڑی فکشن رائٹر کو مخاطب کر کے کہا“ آپ لکھتی کیا ہیں جس پہ اتنا ناز کر رہی ہیں، ہمارے پاس ایک سے بڑھ کر ایک فکشن لکھنے والے ہیں۔ آپ کچھ عرصہ ان کے قدموں میں بیٹھیں تو شاید لکھنا سیکھ جائیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کا لہجہ بدل گیا اور بہت شائستگی سے کہنے لگیں ”میں معافی چاہتی ہوں کسی اور کا غصّہ میں نے آپ پر نکال دیا۔ میں بہت ممنون ہوں کہ آپ نے میرے لیے یہ خبر شائع کی“ ۔
قاسمی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اگلے دن نیاز صاحب کا فون آیا کہ بتایا جائے کہ عینی آپا کے لہجہ میں تبدیلی کیسے آئی؟ ”میں نے کہا نیاز بھائی! عینی آپا کا تعلق ایلیٹ کلاس سے ہے جہاں قدم قدم پہ آداب بجا لانے والے لوگ ان کے آگے پیچھے پھرتے ہیں، اس کے علاوہ ایک بہت بڑی رائٹر کے طور پر ہر جگہ ان کی پذیرائی ہوتی ہے، میں نے سوچا یہ ہر وقت عزت کے دائرے میں رہتی ہیں اور بے عزتی کو ترسی ہوئی ہیں اور یوں اپنی آرزو پوری ہونے پر خوش باش ہو گئیں اور کوئی بات نہیں“ ۔
ٹی وی چینل پہ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تلخ گفتگو دیکھ کر راقم سوچ رہا تھا کہ زیلنسکی کے مزاج سے ملتی جلتی سیاسی شخصیت پاکستان میں کون سی ہو سکتی ہے؟ ذہن میں صرف دو ہی نام آئے، ایک عمران خان اور دوسرا مریم نواز۔ ہاں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ ان دونوں میں زیلنسکی جیسی بہادر، دلیر اور بالکل مرعوب نہ ہونے والی شخصیت کون ہو گی؟ دونوں میں سے زیادہ آہنی اعصاب کس کے ہیں؟
عمران خان کے چاہنے والوں نے کہنا ہے کہ اس نے جیل میں رہنا قبول کیا ہے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا اور مریم نواز کے حامیوں نے کہنا ہے کہ پنجاب میں تجاوزات کے خلاف جو اپریشن مریم نواز نے کرایا وہ ملک کی تاریخ میں پہلے کسی سویلین حکمران کے بس کی بات نہ تھی ہاں فوجی حکمران اس طرح کی جرات کر سکتے تھے۔
اکبر شیخ اکبر کا اندازہ ہے کہ ٹرمپ زیلنسکی تنازعہ یورپ اور امریکہ کو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کر دے گا اور کوئی پتہ نہیں کہ مستقبل میں برطانیہ اور امریکہ ایک دوسرے پہ جنگی حملہ کرنے کے لیے پر تول رہے ہوں۔ اگر یورپ اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں تو صرف امریکی اور یورپی معیشتیں ہی تباہ نہیں ہوں گی بلکہ جنوبی ایشیا کی معیشت کو جو پہلے ہی کشکول کے سہارے کھڑی ہے اسے بھی زور کا چکر آئے گا۔
آئندہ وزیرِ اعظم مریم نواز بنتی ہیں یا مراد علی شاہ بنتے ہیں یا عمران خان ”گولفرز“ کے ساتھ سنگل پیج پہ آ کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتے حالات میں پاکستان کا آئندہ آنے والا حکمران اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا اور بنگلہ دیش کے بھی مستقبل قریب کے حکمران اپنی معیشت کو امریکی یورپی تنازعہ کی وجہ سے پہنچے والے ممکنہ نقصان سے کیسے بچاتے ہیں؟
ایک راستہ تو یہ ہے کہ ”سارک معاشی نظام“ کو رکن ممالک مشترکہ طور پر اپنا لیں یعنی ایک دوسرے کو ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر باہمی تجارت پر سے پابندیاں ہٹا لیں۔ دوسرا یہ کہ جو اشیاء یورپ اور امریکہ سے درآمد کرتے ہیں وہ سارک رکن ممالک ایک دوسرے سے منگوانا شروع کر دیں۔
بھارت کو پاکستان کے بند دریاؤں بشمول راوی اور ستلج یہاں تک کہ تاریخی ہاکڑہ دریا میں مستقل بنیادوں پہ پانی چھوڑنا ہو گا اور پاکستان کو وہ بھارتی مصنوعات پاکستان آنے کی اجازت دینا ہوگی جو اس وقت وہ امریکہ اور یورپ سے منگوا رہا ہے۔ مثلاً پاکستان میں دالیں زیادہ تر آسٹریلیا سے آ رہی ہیں جب کہ مقامی چاول مارکیٹ کی ضرورت پوری نہیں کر پاتا تو بھارتی چاول دبئی اور ملائیشیا وغیرہ کے راستہ پاکستان منگوایا جاتا ہے جو جہاز کے کرایوں اور بیرونی ٹیکسوں کی وجہ سے پاکستانی مارکیٹ میں مزید مہنگے داموں دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک کو نئے معاشی معاہدہ میں جانا ہو گا۔ پاکستان اور انڈیا جو ریڈی میڈ کپڑے اور گارمنٹس امریکی اور یورپی کمپنیوں سے منگوا رہے ہیں وہ بنگلہ دیش سے خریدیں۔ سری لنکا کو کوکنگ آئل مینوفیکچرنگ کا مرکز بنا دیں اور سارک رکن ممالک اپنی یہ ضرورت سری لنکا سے پوری کریں۔ کچھ قارئین شکوہ دیتے ہیں کہ آپ کا بلاگ طویل ہو جاتا ہے لہذا اس حوالے سے مزید تجاویز کسی آئندہ بلاگ کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔


