بے عزتی زلنسکی کی ہوئی یا ٹرمپ کی؟


کیمروں کے سامنے بٹھا کر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے نائب صدر کی معاونت سے یوکرین کے صدر زلنسکی کی جو بے عزتی کی ہے وہ دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ اس حوالے سے میرے بھی کچھ ’’دانشورانہ‘‘ خیالات ہیں۔ ان کے تمام تر پہلوئوں کے اظہار کے لئے مگر ایک کالم کافی نہیں۔ کلیدی نکتہ جس پر لوگوں نے توجہ نہیں دی میری دانست میں زلنسکی کی نہیں بلکہ بائیڈن کی بے عزتی تھی۔ ٹرمپ کو صدارتی انتخاب جیتے ہوئے تین سے زیادہ ماہ گزر چکے ہیں۔ اس کی جبلت میں شامل منتقم المزاج شخص مگر اپنے پیشرو کو ابھی تک بھولنے اور بخشنے کو تیار نہیں۔ جوبائیڈن کو وہ امریکی تاریخ کا ’’احمق ترین صدر‘‘ گردانتا ہے۔ اسے گماں ہے کہ اگر 2020ء کا انتخاب اس سے ’’چرایا‘‘ نہ گیا ہوتا تو پوٹن کبھی یوکرین پر حملہ آور نہ ہوتا۔ روسی صدر نے درحقیقت ’’نالائق‘‘ بائیڈن کی وائٹ ہائوس میں موجودگی کا فائدہ اٹھایا۔

روس کے یوکرین پر حملے کا ’’احمق بائیڈن‘‘ کو ذمہ دار ٹھہرانا سراسر زیادتی ہے۔ اسی باعث یوکرین کا صدر اسے یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ روس نے یوکرین میں دراندازی اوبامہ کے دورِ صدارت ہی میں شروع کر دی تھی۔ ٹرمپ اس کے بعد صدر منتخب ہوا تب بھی اس نے یوکرین کی ہتھیائی زمین اسے لوٹائی نہیں۔ جو رقبہ روس نے ہڑپ کیا تھا اس میں کریمیا کا جزیرہ بھی شامل ہے۔ یہ جزیرہ کبھی خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ اس کے زوال کے بعد روس اس پر قابض ہو گیا تھا۔

روسی شہنشاہیت اور خلافت عثمانیہ کی تاریخ فی الوقت بھلا دیتے ہیں۔ غور طلب یہ حقیقت ہے کہ پوٹن سے محبت سے زیادہ زلنسکی سے کیمروں کے روبرو مباحثہ کرتے ہوئے بنیادی طور پر امریکہ کا صدر اور نائب صدر بائیڈن کو حقارت کا نشانہ بنائے ہوئے تھے۔ کیمرہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کمزوری ہے۔ کاروباری اعتبار سے بہت ذہین اور کامیاب نہ ہونے کے باوجود اس نے نیویارک کے میڈیا میں ’’دوست‘‘ تلاش کئے۔ مقامی اخبارات میں امیر لوگوں کی دعوتوں کے بارے میں جو کالم لکھے جاتے ہیں ٹرمپ اپنے دوستوں کی بدولت اکثر ان میں نمایاں طور پر قابل ذکر رہتا۔ خود نمائی کی ہوس نے اسے TV Realty کی دنیا تک پہنچا دیا۔ وہاں وہ ایسے پروگرام کا میزبان ہوا جس کے شرکا  کے مابین کامیاب کاروباری نسخے دریافت کرنے کا مقابلہ ہوتا۔ جو شریک پروگرام منافع بخش مگر قابل عمل منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہتا ٹرمپ اسے نہایت رعونت سے You Are Fired کہتے ہوئے پروگرام سے فارغ کر دیتا۔ Apprentice (اپرنٹس) نام کا یہ پروگرام پورے 16 برس تک چلتا رہا۔ اس کی وجہ سے ٹرمپ کو میڈیامیں چھائے رہنے کا ہر ڈھب آتا ہے۔ ہنر ابلاغ پر کامل گرفت کی وجہ سے امریکی معاشرے کے قدامت پرست شمار ہوتے حلقوں میں وہ انتہائی غیر اخلاقی حرکتوں کے ارتکاب کے باوجود قابل قبول ہوا۔ یوکرین کے صدر کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد اسی تناظر میں یہ کہنے سے باز نہیں آیا کہ کیمروں کے روبرو ہوئے اس واقعہ نے ’’اچھا ٹی وی (شو)‘‘ بنا دیا ہے۔
ٹرمپ کی بائیڈن سے منتقم المزاج نفرت لیکن میرا درد سر نہیں۔ حیران میں اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پر چھائے میرے بے تحاشہ ’’انقلابی‘‘ ہم وطن اس امر پر حسرت کا اظہار کرتے پائے گئے کہ جس وقت ٹرمپ اپنے نائب صدر کے ساتھ مل کر وائٹ ہائوس آئے مہمان کی بے عزتی کررہا تھا تو وہاں زلنسکی کے بجائے پاکستان کا کوئی اہم عہدے دار بیٹھا ہونا چاہیے تھا۔ جوانی میں یہ بدنصیب بھی ’’انقلابی‘‘ رہا ہے۔ اپنے حکمران طبقات اور ہر نوع کی اشرافیہ کو آج بھی صدقِ دل سے خود غرض اور قابل تنقید محسوس کرتا ہوں۔ 2014ء  سے بتدریج ہمارے ہاں صحافت کے روایتی ذرائع میں کھل کر لکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور پھونک پھونک کر لکھنے سے اکتاہٹ نہیں بلکہ شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔

مذکورہ جذبات کے باوجود نہایت دیانتداری سے اپنے کسی صدر، وزیر اعظم یا ریاستی ادارے کے سربراہ سے شدید نفرت کے ہوتے ہوئے بھی کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ اسے کسی دوسرے ملک کا طاقت ور تسلیم ہوا صدر تذلیل کا نشانہ بنائے۔ مذکورہ خواہش کا اظہار کسی بھی حوالے سے’’حب الوطنی‘‘ کا دعویٰ نہیں ہے۔ کسی غیر ملکی کے ہاتھوں اپنے حاکم کی بے عزتی سے حظ اٹھانا درحقیقت میری کمزوری ہی کو اجاگر کرے گا۔ یہ پیغام دے گا کہ میں خود تو ہار کر بکری ہو گیا مگر اب جوش ملیح آبا دی کے ایک مصرعہ کے مطابق ’’اللہ جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں‘‘ والا رویہ اختیار کر لیا ہے۔
سوشل میڈیا کی وجہ سے میسر گم نامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’انقلابی روپ‘‘ دھارنا میری دانست میں ’’احتیاط‘‘نہیں بزدلی ہے۔ ہمارے ہاں آزادی اظہار پر جو قدغنیں یا ریڈ لائنز ہیں انہیں کئی بار عبور کر کے نوکریاں گنوائی ہیں۔ اب بھی میرے چند ساتھی ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ میں بھی شاید بہت دیر تک اقبال کی بتائی ’’عقل‘‘ کی طرح لبِ بام کھڑا محو تماشہ نہ رہ سکوں۔ ایک منتقم المزاج ا ور خود پرست غیر ملکی کے ہاتھوں مگر اپنے بدترین دشمن کی بھی تذلیل برداشت نہیں کر سکوں گا۔ اس گماں میں مبتلا ہونے سے قطعاََ گریز سے کام لوں گا کہ جیسے اس نے ’’میرا بدلہ‘‘ لے لیا ہے۔ نئی نسل کے ’’انقلابی‘‘ جن کے Bulge سے میرے بہت ہی پڑھے لکھے دوست خیر کی امیدیں باندھے ہوئے ہیں تاہم ’’دوسروں‘‘ کے ہاتھوں‘‘ وہ سب ہوتا دیکھنے کے خواہاں ہیں جو بذاتِ خود کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ایسے ’’انقلاب‘‘ کو دور سے سلام۔

امریکہ اور یوکرین کے سربراہوں کے مابین ہوا ڈرامہ مجھے پہلے امریکہ اور بعدازاں پاکستان کی اندرونی سیاست میں الجھا گیا۔ کالم کے آغاز ہی میں لیکن عرض کر دیا تھا کہ کیمروں کے روبرو TV Realty کے مہا فنکار ٹرمپ نے جس انداز میں یوکرین کے صدر کی بے عزتی کی ہے وہ دنیا میں ہیجان و خلفشار کو مزید بھڑکائے گا۔

امریکہ کے قریب ترین اتحادی بھی اب مشکل وقت میں خود کو کاملاََ تنہا محسوس کریں گے۔ برطانیہ امریکہ کا حاکم رہا ہے۔ 1980ء کی دہائی سے مگر اسے واشنگٹن کی ہاں میں ہاں ملانے والے ادنیٰ کارندے کی طرح دیکھا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کی بھی ٹرمپ نے واشنگٹن میں کیمروں کے سامنے ’’کلاس‘‘ لینے کی کوشش کی۔ موصوف سفارت کارانہ مہارت سے بچ گئے۔ واشنگٹن سے لندن لوٹتے ہی مگر برطانیہ کے وزیر اعظم نے یوکرین کے صدر کو اپنے ہاں بلاکر روس کے خلاف مزاحمت پر ڈٹے رہنے کو سراہا۔ برطانیہ اور امریکہ کے مابین یہ تاریخی خلیج کا اظہار ہے اور اس کے اثرات سے دنیا کے کئی ممالک محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS

One thought on “بے عزتی زلنسکی کی ہوئی یا ٹرمپ کی؟

  • 04/03/2025 at 10:41 صبح
    Permalink

    درست اور کچھ یوں بھی لگ رہا ہے کہ یورپ کو عقل آگئی ہے وہ نیٹو کو انگیج کئے بغیر اس آگ پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کرلیں گے۔ شاید ۔۔۔کہ اس میں ان کی بچت ہے۔
    امریکہ نے جس طرح فرانس پر اضافی ٹیکس لگایا ہے وہ دراصل پورے یورپ کے لئے پیغام ہے۔
    امریکہ کی لگائی آگ سے یورپ شدید معاشی مشکلات میں ہے۔ اور اگر یہ جنگ ختم نہیں ہوتی تو یورپ میں بہت کچھ ختم ہوجائے گا۔
    یوکرین امریکہ کو اپنی معدنیات دے اس سے بہتر ہے روس سے صلح کرکے اس کے ساتھ معدنیات شیئر کرلے۔
    اچھا پڑوسی ۔۔۔ برے پڑوسی سے بہتیرے بہتر ہوتا ہے۔

Comments are closed.