”ا وبنٹو ا وبنٹو“ میں اس لیے ہوں کہ ہم سب ہیں!
کہتے ہیں کہ ایک قدیم افریقی قبائل کے بچوں کو ایک پیشکش کی گئی کہ انعام کے طور پر درخت کے تنے کے قریب ایک پھلوں کی ٹوکری رکھ دی گئی اور کہا گیا کہ درخت تک پہنچنے وا لا پہلا بچہ پھلوں کی یہ ٹوکری جیت لے جائے گا جب انہیں اسٹارٹ کا سگنل دیا گیا تو وہ ایک ساتھ مل کر درخت کی جانب چلتے رہے جب تک وہ درخت تک نہ پہنچے کوئی کسی سے آگے نہ بڑھا۔ سب ایک ساتھ وہاں پہنچے اور پھل بانٹ لیے جب پوچھا کہ بچوں نے ایسا کیوں کیا؟
جبکہ بچوں میں سے کوئی بھی پہلے پہنچ کر ایک ٹوکری حاصل کر سکتا تھا تو ان بچوں نے جواب دیا : ”اوبنٹو اوبنٹو“ یعنی ہم میں سے کوئی کیسے خوش ہو سکتا ہے جب تک باقی بھی خوش نہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ ان کی تہذیب میں ”اوبنٹو اوبنٹو“ کا مطلب ہے : (میں اس لئے ہوں کہ ہم سب ہیں ) ۔ یہ قدیم قبیلہ خوشی کا راز جانتا ہے وہ محبت اور انسانیت کو جانتے ہیں۔ مجھے یہ کہانی سن کر اپنے گھر کا خرگوش اور طوطا یاد آ گئے، ہمارے گھر میں ایک طوطا ہے جو پنجرے میں بند رہتا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش ہے جو کھلا پھرتا ہے۔
ان دونوں کی خوب دوستی ہے۔ طوطا اپنی خوراک میں سے کچھ حصہ خرگوش کے لیے بچا رکھتا ہے اور جب وہ خرگوش اس کے پاس آتا ہے تو وہ خوراک پنجرے سے باہر پھینک دیتا ہے تاکہ خرگوش کھا سکے اور خرگوش بھی جو اسے جہاں سے جو بھی کھانے کو ملے طوطے کو ضرور پہنچا دیتا ہے۔ یوں ان کی ایک دوسرے کے لیے محبت بڑی متاثر کن ہوتی ہے۔ لیکن ایک دن میں نے دیکھا کی طوطے کو ڈالی گئی خوراک میں سے کچھ حصہ خرگوش کو دے کر بھی طوطے نے اپنے پنجرے میں کچھ بچا کر ایک طرف رکھ دیا ہے۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس نے خرگوش کو بچی ہوئی اپنی ساری خوراک کیوں نہیں دی؟ تھوڑی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ بلبل کا ایک جوڑا وہاں آ پہنچا اور پنجرے کے نیچے سے خوراک چگنے لگا اب طوطا وہ بچی ہوئی خوراک اپنی چونچ سے کتر کتر کر پنجرے کے نیچے ڈالنے لگا اور وہ جوڑا کھاتا رہا۔ تب مجھے سمجھ آئی کہ طوطا اپنے حصے کی خوراک کیوں محفوظ کر کے رکھتا رہتا ہے۔ اب طوطے کا یہ معمول ہے کہ وہ خوراک بچا کر رکھ لیتا ہے اور اس بلبل کے جوڑے کا انتظار کرتا ہے اور وہ بلبل کا جوڑا بھی روز آنہ اپنی حاضری ضرور دیتا ہے۔
وہ پرندہ بھی سمجھتا ہے کہ ”اوبنٹو اوبنٹو“ یعنی میں اس لیے ہوں کہ ہم سب ہیں۔ تمام ذی روح کی طرح پرندے اور جانور بھی ایک دوسرے کے لیے قربانی و ایثار کا جذبہ رکھتے ہیں اور بانٹ کر کھاتے ہیں۔ یہی ”اوبنٹو“ کا فلسفہ ہے جو افریقی ثقافت سے ماخوذ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”میری انفرادیت ہمارے اجتماعی وجود سے جڑی ہے“ یہ تصور باہمی ربط، ہمدردی، ایثار، محبت اور اجتماعی فلاح کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان کی شناخت اور کامیابی دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات پر منحصر ہے۔
قدرت کے اس اصول سے انسان ہی نہیں پرندے اور جانور بھی آگاہ ہیں۔ ہر جاندار سمجھتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن اور اس کی معنویت دوسروں کے ساتھ جینے میں ہی ہے۔ انسان فطری طور پر ایک سماجی مخلوق ہے او ر اس کی خوشی، سکون اور ترقی اس کے دکھ سکھ بانٹنے اور باہمی تعلقات کی مضبوطی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آئیں ہم سب مل کر ایک اکائی ”ہم“ بن جائیں ”میں“ تم ”اور“ آپ ”نہ رہیں۔ اسلامی فلسفہ ( اخوت و مواخات ) کا تصور“ اوبنٹو ”سے کہیں بلند تر ہے اسلام میں“ امت ”اور“ مواخات مدینہ ”اس کی عملی تصویر ہیں۔
قرآن اور حدیث میں اجتماعی فلاح، ہمدردی اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام لازم قرار دیا گیا ہے ورنہ ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ حدیث نبوی ﷺ ہے کہ“ مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے (صحیح مسلم ) ایک اور جگہ فرمایا کہ مسلمانوں کی مثال ایک عمارت جیسی ہے کہ اس کے اجزا ء دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے یہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب، تہذیبوں، اور فلسفیانہ مکاتب فکر میں بھی یہ ”اوبنٹو“ کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود نظر آتا ہے۔
جس کا مرکزی پیغام ہمیشہ ”ہم سب کا بھلا ایک دوسرے سے جڑا ہے“ ہی ہوتا ہے۔ سقراط، افلاطون، اور ارسطو کے نظریات میں ”اجتماعی فلاح“ اور ”شہری ذمہ داری“ کا تصور ملتا ہے۔ افلاطون نے ”دی ریپبلک“ میں ایک مثالی ریاست کا تصور دیا ہے جہاں ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق دوسروں کے فائدے کے لیے کام کرتا ہے جو ”اوبنٹو“ کے فلسفے کی تائید کرتا ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھنچ سکتی ہیں۔
ہمارے ابا جی فرماتے تھے کہ باہمی اتحاد قائم کرنا سب سے بڑی خدمت خلق ہے۔ انسانیت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ زندگی اجتماعی طور پر مل جل کر گزاری جائے اور مل جل کر تب ہی گزاری جا سکتی ہے جب ہم ایک دوسرے کے کام آئیں ایک دوسری کی مدد کریں، ایک دوسرے سے محبت کریں۔ وہ عبادت بذریعہ خدمت انسانیت پر یقین رکھتے تھے اور پوری زندگی اس پر کاربند رہے۔
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
محبت، ہمدردی اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہی وہ عناصر ہیں جو زندگی کو بامقصد اور خوبصورت بناتے ہیں۔ اگر ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر مل کر چلیں تو نہ صرف ہمارے انفرادی مسائل حل ہو سکیں گے بلکہ ایک بہتر اور ہم آہنگ معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔ کیونکہ دنیا کی رونق خوشحالی اور امن سے منسلک ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہر فرد اپنی موجودگی اور سلامتی کو اہمیت دیے اور دوسروں کی فلاح و بہبود میں دلچسپی لے۔ جب ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور محبت و احترام سے پیش آتے ہیں تب ہی ہم پرامن اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں ہے بیرون دریا کچھ نہیں
قومی سطح پر ایک متحد اور ہم آہنگ معاشرہ نہ صرف ایک فرد کی سلامتی بلکہ پورے ملک کی ترقی، استحکام، اور خوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے۔ کیونکہ ملک کی معاشی ترقی، سماجی استحکام، قومی اتحاد، ثقافتی و تعلیمی ترقی باہمی یکجہتی سے ہی جڑی ہوئی ہے۔ آئیں اپنے ملک اور قوم کے لیے ایک ہو کر ہم سب اس کے استحکام، سلامتی اور یکجہتی کے لیے کام کریں اور باہم مل کر وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی سعی کریں، قومیت، لسانیت، صوبائیت، مذہب اور مسالک سے ہٹ کر منتشر اور بٹے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کریں اور سب ایک دوسرے سے باہم مل کر پودے لگائیں، باہم مل کر ڈیم بنائیں، ہم سب مل کر ملکی قانون کی پابندی کریں، سب مل کر اپنے ملک کے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے دفاع کو مضبوط بنائیں، مل کر معیشت کو مستحکم کریں، تاکہ ایک بہتر اور محفوظ ترقی یافتہ وطن اپنی آنے والی نسلوں کے لیے تعمیر کر سکیں۔ آئیں ایک ”اوبنٹو“ زندگی جی لیں کہ ”میں اس لیے ہوں کہ ہم سب ہیں“ ہماری قوم اور ملک کو آج قومی یکجہتی، استحکام اور باہمی اتحاد کی ضرورت پہلے سے بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اپنے آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی تاریخ مرتب کر جائیں جس پر وہ فخر کر سکیں۔

