ادب، فن تنقید اور قارئین کی نا انصافی


دنیا کے ہر کونے کے لوگ ارسطو کی ذہانت کے قائل ہیں، اس کا فلسفہ اور کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ارسطو ایک عظیم انسان تھا کہ اس نے لوگوں کو سوچنے کی راہ پر لگایا۔ لیکن وہ ایلیٹ کی حکومت (Aristocracy) کا حامی تھا، وہ غلامی کے حق میں تھا، اور اسے ”نظامِ قدرت“ قرار دیتا تھا۔ عورتوں کے بارے میں اس کے نظریات متعصبانہ اور برے تھے۔

جارج واشنگٹن نے امریکہ کو آزادی دلوائی، وہ گریٹ تھا، آج تک ہے۔ مگر وہ غلامی کو جائز سمجھتا تھا، اس کے پاس غلام تھے۔ سفید فاموں کے حق کے لیے لڑنا اور کلرڈ کا وہی حق ماننے سے منکر رہنا اس کے دہرے معیار کو دکھاتا ہے۔

کرم چند گاندھی ہندوستان کا بہت بڑا لیڈر تھا، اس کے نام کے ساتھ مہاتما لکھا جاتا ہے۔ لیکن اس نے ساؤتھ افریقہ کے کلرڈ پیپل کے لیے اپارتھائڈ کے خلاف کوئی موثر قدم اٹھایا نہ کوئی تحریک چلائی۔ ذات پات کو اچھا نہ سمجھنے کے باوجود اس نے کھل کر اس کے خلاف کوئی بیان نہ دیا، اسے ختم کرنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اقلیت جب آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی تو اس کے حقوق کی ضمانت دیے بنا اس کے آزادی طلب کرنے کے حق کی مخالفت کی (اینٹی ڈیموکریٹک رویہ)

اقبال پچھلی صدی کے بہت بڑے فلسفی اور شاعر تھے، انہیں حکیم الامت، قوم کا نباض کہا جاتا ہے۔ لیکن حالت یہ ہے کہ ایک طرف تو اقلیت کے حقوق کی خاطر ملک کو تقسیم کرنے کا کہہ رہے تھے (جسے اصول جمہوریت کی بنا پر درست مانا جاتا ہے ) ساتھ ہی اپنی شاعری میں جدید جمہوریت کو ”ناقص“ کہا۔ ”وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ“ کہہ کر یہ ظاہر کیا کہ خواتین کوئی رنگ و روغن قسم کی چیز ہیں، ان کی الگ اور ذاتی خود مختار حیثیت نہیں ہے۔

جناح ایک بڑے لیڈر اور قوم کے فاؤنڈنگ فادر تھے لیکن اس ملک کو چلانا کس اصول پر ہے، اس کے متعلق کوئی واضح دستاویزی کام نہیں کیا۔ ایک طرف اسلامی مملکت کا نعرہ لگایا اور دوسری طرف یہ کہا کہ ریاست کا عوام کے عقیدے اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ جس سے لوگوں میں ابہام کو پنپنے کی جگہ ملی۔ پھر انہوں نے ہی ملک کے اکثریتی صوبے کے بنگالی عوام کے جذبات کی پروا کیے بنا، ان کی رائے جانے بنا ان پر اردو کو مسلط کر دیا۔

فیض احمد فیض بلا مبالغہ پاکستان کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ نظریاتی طور پر مارکسی تھے، انہوں نے تمام عمر اسی کی پذیرائی، تبلیغ اور نفاذ کی جدوجہد میں گزاری، اس کی خاطر مقدمات کا سامنا کیا، جیل کاٹی جو بجا طور پر انہیں نظریات کے لیے کھڑا رہنے والا ثابت کرتی ہے۔ تاہم ان کی سیکولر مارکسی نظام کی حمایت آگے چل کر ”اسلامی اشتراکی انقلاب“ کی خواہش اور امید میں تبدیل ہوتی دکھائی دی تو ان کے نظریات تضادات کی زد میں آئے۔ مزید یہ کہ جب جلاوطنی اختیار کرنے کا موقع آیا تو انہوں نے ماسکو چھوڑ کر بیروت کو منتخب کیا۔ اس اختیاری جلاوطنی سے پیشتر ”سلطنتِ ایوبیہ“ کے نام نہاد سنہرے دور میں انہوں نے انگلستان میں بھی لگ بھگ دو سال گزارے۔ یہ ایک بہت بڑا نظریاتی اور سیاسی تضاد تھا اور ان کے مخالف انہیں اس فیصلے پر ملامت کرتے ہیں۔ ایک قادر الکلام شاعر ہونے کے باوجود ان پر تنقید ہوتی ہے۔

بلاشبہ یہ چھ اشخاص اپنے وقت کے عظیم لوگ ہیں لیکن ساتھ ہی ان کے کچھ فیصلے اور نظریات انسانی حقوق کے خلاف تھے۔ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ ہم ان کی عظمت کے انکاری نہیں ہیں لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ وہ کوئی مقدس گائے نہیں، ان سے جو غلطیاں ہوئیں ان پر تنقید ہو سکتی ہے۔ تنقید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کی کاز کے مخالف ہیں، اس کا مقصد ہوتا ہے کہ قوم کے لیڈرز جو غلطیاں کر گئے ہیں ہم انہیں تسلیم کر کے سدھار لیں۔ (کیا آج کا امریکہ جارج واشنگٹن کی پالیسی پر چل سکتا ہے؟ تصور کریں ذرا! )

شیکسپیئر کو انگریزی ادب میں دیوتا جیسا مقام حاصل ہے۔ اس کے ڈرامے آج تک پڑھے اور پرفارم کیے جاتے ہیں۔ لیکن وہ نو آبادیت کے نظریہ کے حق میں تھا، مقامیوں کو وحشی، غیر مہذب کہا۔ اس نے اپنے ڈراموں میں خواتین کے کردار کمزور اور جذباتی (جیسے اوفیلیا) یا پھر ظالم اور فتنہ پرور (جیسے لیڈی میکبتھ کا کردار) بنا کر پیش کیے۔ اس نے تمام ہیروز اپر کلاس سے لیے، شاہ، شہزادہ، ڈیوک، نائٹ، نواب سے کم اس نے کسی کو مرکزی کردار کے لیے نہیں چنا۔ اس نے کسی کسان، مزدور، سپاہی کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے ہیرو بنا کر پیش کرے۔ شیکسپیئر کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں مگر اس کے کام کے کئی پہلو تنقید کو دعوت دیتے ہیں۔

انگریزی کے ادب میں ایک ایپک اہم ترین ہے، Paradise Lost جو جان ملٹن نے لکھی، لیکن وہ ایک حد تک مذہبی شدت پسند تھا۔ اس نے شیطان کے کردار کو ہیرو بھی دکھایا، اور ولن بھی۔ جس سے پڑھنے والوں کے ذہن میں ایک مذہبی ابہام پیدا ہوا۔ اس نے حوا کے کردار کو آدم سے کم تر دکھایا، اسے قصور وار ظاہر کیا۔ ملٹن بہت بڑا شاعر تھا پھر بھی اس کے کام کے کچھ نکات پر تنقید ہو سکتی ہے۔

فرانز کافکا نے میٹامارفسس لکھا، وہ کریٹیو جینئس تھا، لیکن اس کی تحریریں نا امیدی کو فروغ دیتی ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ کئی جگہ پر اس کا تجریدی اندازِ تحریر قاری کے فہم میں نہیں آتا۔ اس کی تخلیق کاری کو تسلیم کرنے کے باوجود اس پر تنقید ہو سکتی ہے۔

ٹالسٹائی نے نظروں کے سامنے چلنے پھرنے والے کرداروں کو کاغذ پر اتارا۔ حقیقت سے قریب تر ناولز لکھے، اور کمال فن سے لکھے لیکن ساتھ ہی انہیں بے حد طویل کر دیا۔ خواتین کے متعلق اس کا نظریہ بھی دقیانوسی ہی ہے۔ ایک عظیم ادیب ہونے کے باوجود اس کے کام پر تنقید ہوتی ہے۔

اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی بہت با اثر لوگ تھے، انہوں نے ادب کی بہت خدمت کی لیکن ان کی کسی کتاب یا کہانی میں مارشل لاء، ڈکٹیٹرشپ، نظریاتی بنیاد پر حکمرانوں کا قوم کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے خلاف کچھ نہ لکھا۔ ان کے پاس ریڈرشپ تھی، ان کی آواز میں اثر تھا، ان کے پاس وسائل تھے کہ یہ لوگوں کے شعور کو جگاتے لیکن انہوں نے ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں کے طاقتور لوگوں کے ہاتھوں عوام پر ہونے والے مظالم پر قلم نہیں اُٹھایا۔ چندراوتی، راجہ گدھ، زاویہ اور لبیک لکھ کر چلتے بنے۔ دوسری طرف احمد فراز بھی تھے۔ انہیں ٹین ایجرز کا شاعر ہونے کی تہمت سے نوازا گیا لیکن جہاں جہاں ظلم دیکھا خاموش نہ رہے۔ ( ان کی ”پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں“ جیسی ایک نظم بانو، اشفاق، ممتاز اور شہاب کی کل کمائی پر بھاری ہے ) ایک ذاتی رائے ہے کہ یہ ”بابوں“ والا پورا گروہ ڈیپ سٹیٹ سے درون خانہ کسی معاہدے، کسی سمجھوتے میں تھا، ذرا جو انہوں نے غیر جمہوری لوگوں کو کیل کانٹا چبھویا ہو۔ اگر کوئی کسی نقصان کے خوف سے ایک موضوع پر کھل کر بات نہ کر پائے تو اشاروں کنایوں میں ہی کہہ دے۔

عظیم تاریخی، سیاسی شخصیات کی زندگی کی مثالیں، دنیائے ادب کے بڑے نام، ان کے کام پر کی جانے والی تنقید اور تاثرات۔ یہ ثبوت ہے کہ عظیم شخصیات اور فن پاروں پر تنقید ہو سکتی ہے۔ اپنی تعلیم کے دوران جب تنقید کا سبجیکٹ پڑھنا شروع کیا تو اس میں پہلا سبق یہی تھا:

”Even master pieces are not perfect.“

بہترین سے بہترین کام میں بھی کوئی کجی، کوئی کمی ہوتی ہے اور اس پر تحقیقی اور تعمیری تنقید ہونی چاہیے۔ اور جب کوئی قد کاٹھ اور علم و عقل والا غیر متعصب شخص ایک کتاب پر تنقید کرتا ہے تو وہ کئی سمتوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لٹریری تھیوری، جیسا کہ؛

فارمل ازم/سٹرکچرل ازم، مارکسی نظریہ، سائیکو اینالسز (تحلیل نفسی نظریہ) ، پوسٹ کالونیل نظریہ، پوسٹ ماڈرن ازم، فیمن ازم، ریڈر رسپانس تھیوری اور ڈی کنسٹرکشن ازم۔ یہ وہ زاویے ہیں جن کی بنا پر لٹریچر کو پڑھا اور پرکھا جاتا ہے، اس کی قدر و منزلت طے پاتی ہے

(ہر ایک نظریہ ایک مکمل جہت ہے، آپ ان کے متعلق سرچ کر کے پڑھ سکتے ہیں )

لٹریری تھیوری کے اصولوں سے مدد لے کر ادبی تنقید عمل میں لائی جاتی ہے، جیسا کہ تاثراتی، وضاحتی و تشریحی، نظریاتی، تاریخی اور سماجی۔ ثقافتی تنقید کی جاتی ہے۔

(Impressionistic criticism
Exegetical Criticism
Theoretical Criticism
Historical Criticism
Socio-Cultural Criticism)

اتنے عدسوں، اور امتحانوں سے گزر کر ادبی پارے اپنا قد بناتے ہیں۔ اگر کوئی تحریر یا کتاب نقادوں کے نزدیک اچھی نہ ہو اور عوام میں مقبول ہو جائے تو انتظار کریں۔ وہ جلد ہی اسی رفتار سے زمین پر آئے گی جیسے وہ آسمان پر چڑھی تھی۔

کوئی کام تنقید سے مبرا نہیں ہوتا۔ یہ چیز آپ سمجھ لیں کہ ادب میں اچھے نقاد ختم ہو جائیں تو اچھے ادیب بھی پیدا نہیں ہوتے۔ اگر اردو ادب میں شاہ کار تخلیق نہیں ہو پائے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو کو اچھے اور مخلص نقاد نہیں ملے۔ زوال ایک ہی دن میں نہیں آتا۔ اس کا پس منظر، وجوہات سمیت پورا ڈھانچہ ہوتا ہے۔

لیکن ہماری جنریشن کے رائٹرز انوکھے ہیں۔ انہیں ریڈر کی شکل میں کسٹمرز چاہیے۔ انہوں نے ادب کو کمرشلائز کر دیا ہے (کمرشلائز کو گوگل کر کے پہلے تین چار نتائج پڑھیے تاکہ مطلب بخوبی واضح ہو سکے ) اسے فن سے نکال کر انڈسٹری بنا دیا ہے۔ اور انڈسٹری والے تو بس میکاولی کے کہے پر چلتے ہیں۔ انہیں روایت، معیار اور اقدار وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ چند ہزار فالورز مل جائیں تو ان سے ہضم نہیں ہوتے، کھٹے ڈکار لیتے ہیں، ہلکے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اپنے کام کو بیسٹ آؤٹ آف بیسٹ سمجھنے کے بخار میں ایسے مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کوئی خامی دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے ڈیجیٹل اور سائبر سکواڈ بنا لیے ہیں۔ جیسے ہی کوئی ناقد انہیں آئینہ دکھا دے یہ اس سکواڈ کے ذریعے اس پر ذاتی حملے شروع کروا دیتے ہیں، اسے ٹرول کرواتے ہیں۔

کمرشلائز ہونے کے بعد انہوں نے پیڈ پرموشنز کروا کر پڑھنے والوں کا ذہن ہی ہائی جیک کر لیا ہے۔ اگر کوئی مشہور شخصیت ایک نو آموز کی کتاب کے ساتھ تصویر بنوا لے تو پھر تو اس رائٹر کی چاندی ہو جاتی ہے۔ دیکھنے والے اپنے دماغ اور تنقیدی فکر سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے چنے منے نئے رائٹرز اور وہ رائٹرز جو نئے تو نہیں لیکن شہرت اور پیسہ مل جانے کے بعد انہیں لگتا ہے کہ ان پر تنقید کرنا گناہ ہے۔ ان سے تنقید برداشت نہیں ہوتی۔ وہ تنقید سے مستثنیٰ ہیں بھلے وہ ردی کہانیاں لکھ رہے ہوں، بھلے دوسروں کا کام چرا رہے ہوں، بھلے مذہب کو چھاپ اور بیچ کر ذاتی فوائد حاصل کر رہے ہوں۔

شیکسپیئر، ملٹن، ٹالسٹائی وغیرہ ہولی کاؤ نہیں ہیں۔ لیکن پرسوں پیدا ہونے والے لٹریچر کی شد بد نہ رکھنے والے فیک فگرز ہولی کاؤ ہیں۔

قصور ان کا نہیں ہے، قصور ہے پڑھنے والوں کا، جو ان کو فالو کرتے ہیں اور ان کی تعریف میں بے ایمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے فنِ تنقید کو اتنا غیر موثر کر دیا ہے کہ لگتا ہے اگر کوئی درست رائے دے بھی دے تو اس کی رائے نقار خانے میں طوطی کی آواز ہوگی۔ یہی قارئین ہیں جو کھمبیوں کی طرح کتابیں پیدا کرنے والے رائٹرز کے کاپی پیسٹ اور پلیجرائزڈ کام کو سراہتے ہیں۔ اس کے نقصانات کا انہیں اندازہ نہیں ہے۔ ایک تو ہولی کاؤز خود کو مزید ہولی سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسرا؛ تعریف اور شناخت کے اصل حق دار کا حق مارا جاتا ہے، جس نے اچھا کام کیا، لائق تحسین تخلیقات دیں وہ پیچھے رہ جاتا ہے اور کوڑا کرکٹ کتابوں والے لائم لائٹ لے اڑتے ہیں۔ تیسری چیز؛ ادب کا معیار نیچے آتا ہے، اگر بری تحریر پر اچھا رسپانس جاتا رہے گا تو لکھنے والا اسی کی کاربن کاپیاں ہی مارکیٹ میں لاتا رہے گا، وہ بہتری کیوں کرے گا؟ چوتھی خرابی اس میں یہ ہے کہ لوگوں کا اپنا ذوق بلند نہیں ہوتا، انہوں نے انسٹاگرام والی رائٹرز کے تخلیق کیے ہوئے بلبلے کے اندر اپنی کائنات سکیڑ لی ہے، انہوں نے اپنی نظر اور دنیا کو بڑا ہونے سے روک لیا ہے۔ اس نقصان کو وہ ابھی نہیں سمجھیں گے، کسی اور وقت سمجھیں گے مگر تب تک دیر ہو چکی ہوگی۔

قارئین کو اپنے نا انصافی والے رویے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ گربہ کشتن روزِ اول۔ اس لیے نیند سے جاگ جائیں اور فالورز کے نشے میں مست ہو جانے والے پدّے رائٹرز کو بتائیں کہ ہم آپ کو ضرور پڑھیں گے مگر کچھ پڑھنے لائق لاؤ تو سہی۔ ہمیں خوب صورت سر ورق سے متاثر نہ کریں، خوبصورت خیالات اور نظریات لائیں ورنہ کام نہیں چلے گا۔

ریلز کے لائکس، شیئر کے نمبرز اور فگرز کا اثر نہ لیں۔ یہ دھوکے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ادب، فن تنقید اور قارئین کی نا انصافی

  • 09/03/2025 at 5:35 شام
    Permalink

    ایک اچھی تحریر جس میں متعدد لچ خوامخواہ موجود ہیں۔ ادھورے سچ۔

    جناح سے متعلق آپ نے جو لکھا یہ ایک عام پاکستانی تو کہہ سکتا ہے کیا آپ نے کبھی ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ میرے حساب سے آپ نے خوامخواہ محمد علی جناح کو رگڑا دے مارا۔
    پہلے تحقیق کرلیں کہ ان سوالات کہ کیا جواب ہیں ؟

    اقبال پر اعتراض بنتا اگر آپ جدید جمہوریت کی تعریف میں ان کے ملفوظات بھی لکھتے ۔
    اقبال نے تو مسلم لیگ (جناح مخالف گروپ) کی قیادت کرتے ہوئے ایک آئیڈیا پیش کیا تھا جس میں نہ پاکستان کا لفظ تھا اور نہ اس طرح آزادی کی بات کی گئی تھی جسے ہم آج پاکستان کا خواب بناکر درسی کتب میں پیش کرتے ہیں۔

    1938 تک تو مسلم لیگ کی مسلمانوں میں کوئی حیثیت یا اہمیت ہی نہیں تھی۔ یہ تو لندن سے واپسی کے بعد جب آہستہ آہستہ جناح کا کام شروع ہوا اور 1937 کا الیکشن بری طرح ہارنے کے بعد بھی جب لیگ قابل قبول ہونے لگی تب تک اقبال کا انتقال ہوچکا تھا اور 1940 کے جلسے کے وقت اقبال کا صرف نام اور شاعری موجود تھی۔ یعنی قرارداد لاہور 1940 میں بھی پاکستان یا کوئی مستند فریم ورک آزادی کا موجود نہیں تھا۔ اسی طرح 1947 کے مئی تک پاکستان بننے کا فیصلہ ہی نہیں ہوا تھا تو جناح کی تیاریوں پر انگلی اٹھانے کی کیا تک ہے۔ اس وقت مقصد مسلمانوں کو آزاد ملک دلوانا تھا جو مل نہیں رہا تھا تو اس کا آئین کیا ہوگا یا نظام حکومت کیسا ہوگا ایک بچگانہ بات ہے۔
    یہ دھماکہ تو 3 جون 1947 کو ہوا جب جناح کو علم ہوا کہ محض سوا دو مہینے بعد پاکستان بننے جارہا ہے، اس وقت بھی دستور ساز اسمبلی ہو یا دارالحکومت کہاں ہوگا اور خود انڈو پاک کے تعلقات کیسے ہونگے کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔

    ریڈکلف نے جس بے ڈھنگے طریقے سے پنجاب اور کشمیر کا تیا پائنچہ کیا اس نے ایک نئی طرح کی مصیبت پیش کردی تھی۔ قتل و غارت فسادات ایک جناح کیا کیا کرتا۔ ماؤنٹ بیٹن ایک الگ کہانی میں لگا تھا کہ وہ کسی طرح دونوں ممالک کا مشترکہ گورنر جنرل بن جائے۔ لیکن جناح کو اس کے مضمرات معلوم تھے۔

    شہاب، ممتاز مفتی یا اشفاق احمد ادیب ضرور تھے مگت سرکاری ملازم بھی تھے۔ اور اتنے عقلمند ضرور تھے کہ اس حیثیت میں وہ کہاں تک جاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان ہوں نے اپنی تحریروں یا شاعری میں روزگار کو سیاست سے الگ رکھا۔ اسی فہرست میں جمیل الدین عالی بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کو علم تھا کہ سربراہ مملکت ایوب ہو یحیی ضیا یا مشرف عوام بھی وہی رہیں گے اور حکمراں بے نظیر بنے زرداری یا شریف۔۔۔عوام کی فکر کسی کو نہیں۔ تو خوامخوا اپنی زندگی کو مشکل بنانا۔

    اسی طرح آپ احمد فراز کوایک نظم لکھنے پر شاعری کی عظمت پر چڑھا رہے ہیں لیکن کیا آپ یہ بھول گئے کہ 1999 میں جب مشرف نے اقتدار سنبھالا احمد فراز نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ تھے اور مشرف کے دور اقتدار پر انہوں نے کوئی حرف نہیں کہا اور سکون سے چھ سال اس جگہ بیٹھے رہے 2005 تک۔
    اسی دوران 2004 میں ان کو مشرف نے ہلال امتیاز دیا جو فراز نے بخوشی گلے میں ڈال لیا۔
    2005 میں 74 سالہ فراز کو اس فاؤنڈیشن سے ہٹادیا گیا جو ایک سرکاری ادارہ تھا۔ یہاں کئی سوالات تھے کہ کیا کوئی سرکاری افسر اس عمر تک ایسی نوکری پر رہ سکتا تھا۔ کیا احمد فراز کو علم نہیں تھا کہ وہ مشرف کی مدح سرائی میں توسیع پر توسیع لیتے رہے۔ اسی دوران ایک اور ابھرتے کھلاڑی افتخار عارف بھی پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں 22 گریڈ پکڑے بیٹھے تھے اور وہ بھی مشرف دور میں سکون سے رہے اور اب احمد فراز کے خلاف ان کی عمر اور کچھ فیصلوں کی وجہ سے جب انگلیاں اٹھیں تو مشرف نے لگ بھگ 2005 یا 2006 میں فراز کو ہٹادیا۔

    احمد فراز کو یہ بات بہت کھلتی تھی اور 2006 میں انہیں موقع مل گیا اور ایک اہم واقعہ کے بعد ان کا ضمیر جاگ گیا اور 2006 میں انہوں نے 2004 میں مشرف سے ملے ہلال امتیاز کو مشرف کے فیصلوں کے خلاف احتجاجاً واپس کردیا // واہ ۔۔۔۔۔ شہاب مفتی یا اشفاق احمد نے کبھی کم از کم یہ منافقت نہیں کی۔ وہ سرکاری ملازم پہلے تھے اور اسی طرح مرے۔

    جب مشرف نے اکتوبر 1999ءکو نواز شريف کي(بُری بھلی جيسی بھي) جمہوری حکومت کا تحتہ الٹا تو احمد فراز وزارتِ تعليم ميں نيشنل بُک فاونڈيشن کے مينجنگ ڈائريکٹر کے اہم عہدے پہ فائز تھے تب انھيں جمہوريت کے حق ميں اتنے منفعت اور اہم عہدے سے استعفيْ دينے کا خيال کيوں نا آيا؟ موصوف2005ء تک کم بيش چھ سال مينجنگ ڈائريکٹر کہ عہدے پہ مشرف کی غير جمہوری حکومت ميں پوری آب و تاب سے فائز رہے –

    کيا يہ درست نہيں کہ فراز نےناشرین، ادیبوں اور دانشوروں پر مشتمل تقریبا دو سو افرادکے وفد جن ميں انتظار حسین، عطاءالحق قاسمی اور زہرہ نگاہ وغيرہ شامل تھےکی سربراہی کرتے ہوئے اگست 2004 کے اواخر ميں بھارت ميں کتاب ميلے ميں مشرف کی "غير جمہوری” حکومت کي طرف سے پاکستان کی نمائندگی کی تھي؟ جنرل مشرف ہی کے عہد حکومت میں انہیں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کی رقم کمال فن ایوارڈ کے ذیل میں عطا کی گئی –

    کيا يہ درست نہيں کہ اسلام آباد ميں بہت قيمتی ذاتی مکان ہوتے ہوئے بھی نومبر 2004ء ميں فراز اور انکی بیگم ریحانہ گل جو ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے سے دو برس پہلے ريٹائرڈ ہو چکي تھيں اور سرکاري ملازم ہونے کے ناطے ملنے والے مکان پہ دو سال سےنوٹس ملنے کے باوجود بھی مقررہ مدت تک مکان خالی نہیں کیا تھا۔ جبکہ قانوناٌ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بھی ملازم چھ ماہ سے ذيادہ مکان رکھنے کا مجاز نہيں ہوتا ہے۔

    ااحمد فراز نے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر یہ مکان اپنے نام کروانے کی کوشش ميں کاميابی نہ ملنے پہ فوجی حکومت کے قائم ہونے کے چھ سال بعد فوجی حکومت سےاخمد فراز کا پہلا اختلاف سامنے آيا؟ اور جون 2005 ميں تہتر 73 سال کی عمر ميں احمد فراز کی عمر اور علالت کے باعث "سولہ سال بعد” جب انھيں ’نیشنل بک فاؤنڈیشن، کے مينجنگ ڈائريکٹر جيسے اہم عہدے سے ہٹا ديا گيا اور پورے ايک سال کے انتظار تک جب مزيد مراعات کی کوئی صورت نہ بنی تو انھيں ملک ميں فوجی حکومت کا انکشاف ہوا اور قومی اور ذاتی ضمير کے ہاتھوں دو سال قبل ملنے والا ’ہلال امتیاز‘ واپس کرديا –

    یہ لوگ اچھے شاعر تو تھے ہی سچے منافق بھی تھے !
    ضروری نہیں ایک عظیم شاعر ایک عظیم انسان بھی ہو اور یہ ہمیں احمد فراز نے سکھایا۔ لفظوں کے بیوپاری۔

Comments are closed.