خواتین کا عالمی دن اور موسمیاتی بحران
حمیدہ لاسی کا گاؤں مچھار کن، بیلہ شہر کی مغربی سائیڈ پر دریائے پورالی کے کنارے آباد ہے، جہاں صدیوں سے لوگوں کا روزگار کاشتکاری اور مال داری سے جڑا رہا ہے۔ چند سال قبل شدید بارشوں کے بعد دریا بپھر گیا اور تباہ کن سیلاب نے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گاؤں کے بیشتر مکانات پانی میں ڈوب گئے، زمینیں برباد ہو گئیں اور لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی کرنا پڑی۔ حمیدہ کا شوہر مزدوری کے لیے شہر گیا ہوا تھا۔ جب سیلاب آیا تو اس نے اپنے تین بچوں کو سنبھالا اور دیگر خواتین کے ساتھ محفوظ جگہ کی طرف نکل پڑی۔ مرد کسی نہ کسی طرح بچ نکلے، مگر عورتیں۔ جو بچوں، بوڑھوں اور گھر کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ نفسیاتی و مالی مشکلات کا شکار ہوئیں وہ اپنے گھروں، مویشیوں اور روزگار سے محروم ہو گئیں، مگر ان کے دکھ بانٹنے والا کوئی نہ تھا۔
سیلاب کے بعد ایک این جی او نے بحالی کا منصوبہ شروع کیا۔ گاؤں کی بیشتر خواتین خاموش رہیں، مگر حمیدہ نے اپنی بپتا سنائی اور اپنے لیے دو کمروں کے ایک محفوظ گھر کی منظوری لینے میں کامیاب ہو گئی۔ آج وہ نہ صرف اپنے بچوں کو ایک محفوظ چھت فراہم کر چکی ہے بلکہ دوسری خواتین کے لیے بھی امید کی کرن بن گئی ہے۔ یہ کہانی صرف حمیدہ کی نہیں، بلکہ ان لاکھوں خواتین کی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سب سے زیادہ جھیلتی ہیں۔ زمین کی زرخیزی کم ہو، سیلاب آئے یا خشک سالی ہو۔ سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ عورتوں اور بچوں کا ہی ہوتا ہے۔
آج کیونکہ خواتین کا عالمی دن ہے اس مناسبت سے کیوں نا ایسی خواتین کے مسائل پر بات چیت کی جائے جو پاکستان میں گزشتہ سالوں سے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے جنم لے رہے ہیں۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب سے زیادہ خواتین پر پڑ رہے ہیں، خاص طور پر وہ خواتین جو زراعت سے وابستہ ہیں۔ ملک میں خوراک کی پیداوار میں مرکزی کردار ادا کرنے والی 70 فیصد خواتین موسمیاتی بحران کا براہ راست شکار ہیں۔ پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے، تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، تباہ کن سیلابوں اور غیر متوقع موسمی شدت کا سامنا کر رہا ہے۔ زراعت کے شعبے میں 68 فیصد خواتین اور 28 فیصد مرد شامل ہیں، لیکن شدید موسمی حالات خواتین کی زندگیوں پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کے مطابق، 2022 کے سیلاب نے سندھ اور بلوچستان میں 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین کی صحت کی سہولیات کو شدید متاثر کیا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بے گھر ہونے والے ہر 5 افراد میں سے 4 خواتین ہوتی ہیں، جب کہ شدید موسمی آفات خواتین کی جنسی اور تولیدی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ جیسے جیسے موسم کی شدت بڑھ رہی ہے، پاکستان سمیت کئی خطوں میں خشک سالی اور غیر موسمی بارشوں نے دیہی خواتین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی تنازعات، صنفی عدم مساوات اور کمزوریوں کو مزید بڑھا رہی ہے، جس سے خواتین صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا بھی کر رہی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قدرتی آفات کے دوران خواتین اور بچوں کی اموات کا امکان مردوں کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ انہیں معلومات، نقل و حرکت اور وسائل کی محدود دستیابی کا سامنا رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، قدرتی آفات میں دیہی خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، اس لیے انہیں بارش کے پانی کے ذخیرے، بہتر بیجوں کے استعمال اور مختلف فصلوں کی کاشت کے طریقے سکھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان جیسے علاقوں میں جہاں سخت موسم اور پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے ان اثرات کو سنجیدگی سے لیں اور خواتین کو مضبوط اور خودمختار بنانے کے لیے اقدامات کریں، تاکہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی زندگی کو بھی محفوظ بنا سکیں۔
اس تمام پس منظر میں بلوچستان کی چند متحرک خواتین کے ساتھ بات چیت کی گی ہے۔
روبینہ کریم، منیجر ویمن کمپلیکس سینٹر، محکمہ ترقی نسواں خضدار، کا کہنا ہے کہ خواتین کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، ہنر مند بنایا جائے اور آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر خواتین معاشی طور پر خود مختار ہوں گی تو کسی بھی قدرتی آفت جیسے سیلاب، خشک سالی یا شدید موسمی حالات کے دوران کم متاثر ہوں گی اور اپنے خاندان کے لیے بہتر سہارا بن سکیں گی۔ ہنرمندی اور مالی استحکام نہ صرف خواتین کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ خواتین کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خواتین کو با اختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شازیہ حمید، جو کہ پودا آرگنائزیشن کی لسبیلہ میں فوکل پرسن ہیں، کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، بشمول سیلاب اور خشک سالی، خواتین پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ پاکستانی معاشرے میں گھریلو ذمہ داریوں کا زیادہ تر بوجھ خواتین پر ہوتا ہے۔ گھروں کو سنبھالنے، بچوں کی دیکھ بھال اور خوراک کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر خواتین پر ہی عائد ہوتی ہے، جس کی وجہ سے موسمیاتی آفات کے دوران ان کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی معاشی حالت کمزور ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، وسائل کے موثر استعمال، اور پائیدار طرزِ زندگی اپنانے میں وہ زیادہ بہتر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر دیہی خواتین، جو کہ زراعت اور مال مویشی پالنے سے وابستہ ہوتی ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی، اور شدید موسم جیسے عوامل ان کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
شازیہ حمید کے مطابق، خواتین کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے کچن گارڈننگ، کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر اور کلائمیٹ اسمارٹ لائیوسٹاک جیسے شعبوں میں خواتین کی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسمی حالات کے مطابق زراعت اور مال مویشیوں کی دیکھ بھال کے بہتر طریقے اپنا سکیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین ماحول دوستی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ گھریلو سطح پر تربیتی عمل میں ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے بلکہ ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکے
وانگ کی ادی پروجیکٹ کی کوآرڈینیٹر حفصہ قادر رونجھو کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیلاب میں وہ غیر سرکاری تنظیم وانگ کے پلیٹ فارم سے لسبیلہ کے مختلف دیہات میں سیلاب متاثرین کے ساتھ کام کے دوران بہت ساری تجربہ اور فکر رکھتی ہیں کہ دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خواتین کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں۔ شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی نہ صرف غذائی قلت کا باعث بنتے ہیں بلکہ خواتین کی تولیدی اور ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ حاملہ خواتین کو صاف پانی، متوازن خوراک اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حفصہ قادر کے مطابق، اس بحران سے نمٹنے کے لیے صنفی حساس پالیسیوں اور بنیادی صحت کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے اور ایسے سانحات کے بعد خواتین و بچوں کی ذہنی صحت پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حقیقیت ہے کہ دنیا بھر میں قدرتی آفات سے زیادہ تر متاثرہ طبقے بچے اور خواتین ہوتے ہیں اور ہمارے ملک میں اور خاص طور پر بلوچستان میں یہ کمزور ترین طبقہ تصور کیا جاتا ہے۔
زیتون کریم، جو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک لیکچرار اور سماجی کارکن ہیں، کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے پسماندہ اور وسائل سے محروم خطے میں، جہاں بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی شدید کمی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ جب کوئی قدرتی آفت، جیسے شدید بارشوں کے باعث آنے والا سیلاب یا زلزلہ، اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے کمزور طبقے کو ہوتا ہے، اور ان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا گروہ خواتین کا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ گزشتہ برسوں میں آنے والے شدید سیلابوں کی وجہ سے بلوچستان میں اسکول بند ہو گئے، جس کے نتیجے میں لڑکیوں کی پہلے سے کم شرحِ تعلیم مزید کم ہو گئی۔ پہلے ہی بلوچستان میں خواتین کی تعلیم کو کئی سماجی، ثقافتی اور معاشی رکاوٹوں کا سامنا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ مسائل مزید سنگین ہو رہے ہیں۔
زیتون کریم نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ بلوچستان کی خواتین اپنے سادہ طرز زندگی کو لے کر ماحول دوست ہیں، وہ کسی بھی طرح موسمیاتی تبدیلی کا محرک نہیں ہیں، کیونکہ وہ صنعت، بھاری ٹرانسپورٹ یا دیگر آلودگی پھیلانے والے عوامل میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے باوجود، موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ شکار وہی ہو رہی ہیں۔ بلوچستان میں پہلے ہی صحت، تعلیم، پانی، اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی ہے، اور جب ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خشک سالی، شدید بارشوں، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات آتی ہیں، تو خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہماری زندگیوں پر کیا اور کیسے اثر پڑ رہا ہے اور ان کے اثرات کو کم کرنے میں ہمارا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے اور اس کی تشہیر کرنی چاہیے کہ ہمارا قومی لباس بیش قیمت مگر انتہائی ماحول دوست ہے، ہم ہاتھ کی بنی ہوئی بہت سی اشیاء کا آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر بڑے پیمانے پر کسی کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تو وہ حکومت ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تحقیق کرنے اور اس کے مطابق خطے اور لوگوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
زیتون کریم نے مقامی وسائل کے بہتر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کو جب بھی موقع ملے، انہیں موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر اور اس سے جس طرح وہ متاثر ہو رہی ہیں اس پر آواز بلند کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی، انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جو مقامی سطح پر تیار کی گئی ہوں، خاص طور پر دستکاری سے بنی اشیاء۔ اس کے برعکس، مہنگے یا مشہور برانڈز کی مصنوعات نہ صرف زیادہ خرچ طلب ہوتی ہیں بلکہ ان کی تیاری میں ماحول کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی مصنوعات کو فروغ دینے سے نہ صرف خواتین کو خودمختاری حاصل ہوگی بلکہ یہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہو گا۔ بلوچستان کی روایتی دستکاری اور ہنر مند خواتین کا کام ماحول دوست ہوتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کو ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں، مکالموں اور اقدامات کا لازمی حصہ بننا چاہیے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے مسائل کی خود نمائندگی کرسکیں، چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکیں اور اپنی کمیونٹی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، اور اس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی، غیر مقامی پلاسٹک کی بنی ہوئی اشیا کے مقابلے میں مقامی پیش یا لکڑی سے بنی ہوئی مصنوعات کو فروغ دینا ہو گا (جہاں تک ممکن ہو) جو ہم صدیوں سے استعمال کرتے آرہے ہیں۔
ان تمام متحرک خواتین کے ساتھ بات چیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خواتین کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صنفی برابری اور خواتین کو با اختیار بنائے بغیر کسی بھی سماجی یا ماحولیاتی مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ پاکستان، خاص طور پر بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں میں، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے خواتین کی زندگیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی آفات کے نتیجے میں خواتین کو بے گھری، صحت کے مسائل، خوراک کی قلت اور تعلیمی مواقع کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت، غیر سرکاری تنظیمیں اور سماجی ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جو خواتین کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔ خواتین کو ہنر مند بنانے، مقامی معیشت میں ان کے کردار کو مضبوط کرنے اور پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے عملی منصوبے بنائے جائیں۔ موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین پر پڑ رہا ہے، لہٰذا انہیں اس مسئلے کے حل کا بھی ایک فعال حصہ بنایا جائے۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی بحران ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں اجتماعی اور مساوی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ جب خواتین خودمختار ہوں گی، تو نہ صرف وہ اپنے خاندانوں کی بہتری کے لیے کام کر سکیں گی، بلکہ اپنی کمیونٹیز اور پورے معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی لا سکیں گی۔


