دھنک کا آٹھواں رنگ
لینہ حاشر کی کتاب ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ جس نے اپنے اچھوتے نام اور دل موہ لینے والی من موہنی سی پیاری سی تصویر کی بدولت میری توجہ حاصل کی اور پھر اس کتاب کو خریدنے اور پڑھنے کی خواہش کو بڑھا دیا۔ لاہور انٹرنیشنل بک فیئر سے کتاب خریدی اور بس پڑھنا شروع کر دیا۔ تبصرہ کچھ ذاتی مصروفیات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہو گیا۔
حقیقت پر مبنی واقعات، سانحات یا آپ بیتی کو مصنفہ نے بہت خوبصورت، پُر اثر، اچھوتے انداز میں لفظوں میں ڈھالا اور پھر ان کو کہانیوں کی شکل میں پیش کیا ہے۔ وہ واقعات جو خبروں کا حصہ تو بنتے ہیں لیکن کچھ ہی دن بعد ان کی بازگشت ختم ہو جاتی ہے اور وہ ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن مصنفہ نے ان کو اپنے لفظوں میں کالم یا بلاگ کی شکل میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ کتابی شکل میں بھی محفوظ کر دیا ہے۔ ان واقعات کو، سچائی کو کہانیوں کی شکل میں کہیں درد و تکلیف سے بھرے لفظوں سے بیان کیا ہے تو کہیں طنز و مزاح کا تڑکہ لگایا اور اپنے پیغام کو نہایت ہی مثبت انداز سے قارئین تک پہنچایا ہے۔
لکھنا بہت مشکل کام ہے۔ پھر احساسات کو لفظوں کی شکل میں ڈھالنا آسان کام نہیں ہوتا۔ قدرت اپنے خاص لوگوں کو ہی یہ صلاحیت تحفتاً یا انعام میں عطا کرتی ہے۔ لفظوں کا تانا بانا بننا، عام فہم اور دلفریب انداز میں پیش کرنا، بامقصد اور حقائق پر مبنی لکھنا، یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ بلاشبہ مصنفہ کے لکھنے کا انداز بہت ہی متاثر کن ہے۔
لینہ حاشر کی کتاب دھنک کا آٹھواں رنگ کے تمام مضامین دل کو چھو لینے والے ہیں۔ جس میں معاشرے کے مسائل کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ جو تقریباً ہر گھر کی کہانی کی نمائندگی کرتی ہے۔ حقائق، مسائل اور دل کے دکھ، کرب و تکلیف کو کہانی کی شکل میں ڈھالنا بہت دل گردے کا کام ہے۔ کچھ مسائل تو ایسے ہیں جن پر مصنفہ کے قلم اٹھانے پر ہی عمل کیا گیا یا ان کا حل نکالا گیا۔ کتاب کا ہر مضمون پڑھنے والے کو باندھ کر رکھتا ہے اور اس کے اختتام پر میرے دل میں تھا کہ اسے ابھی اتنی جلدی ختم نہیں ہونا چاہیے تھا کچھ اور رنگ بکھیرنے چاہئیں تھے۔
لینہ حاشر کی یہ کاوش قابلِ ستائش ہے کیونکہ انھوں نے زندگی سے جڑے ہر رنگ کو چھیڑا ہے۔ پھر جس طرح اس کتاب کی اشاعت کی گئی اور پڑھنے والوں تک پہنچایا گیا ہے وہ بھی قابلِ تحسین ہے۔


