ٹرمپ انتظامیہ میں بھارتی نژاد ماہرین کا غلبہ
امریکی سیاست بالخصوص ریپبلکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ میں بھارتی نژاد امریکی ماہرین کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ ماہرین قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، قانون نافذ کرنے والے انٹیلی جنس اداروں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اس دوران کسی بھی نمایاں امریکی مسلمان یا پاکستانی نژاد شخصیت کی نئی امریکی انتظامیہ میں عدم موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسلام مخالف قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں صدر ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت کے دوران کئی اہم بھارتی نژاد افراد کو کلیدی عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے جو اگلے چار سالوں کے لیے امریکی حکمت عملی کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ ان میں پال کپور، کاش پٹیل، نکی ہیلی، اجیت پائی، سیما ورما، ڈاکٹر وویک مرثی، راج شاہ، تلسی گیبرڈ اور سری رام کرشنن شامل ہیں جن کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ماہرین کی شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی، سیکیورٹی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق فیصلوں پر بھارتی نژاد امریکیوں کی گہری چھاپ ہوگی۔
پال کپور ایک معروف ماہر سیکیورٹی اور جوہری امور ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا نامزد کیا ہے۔ ان کی تقرری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ وہ بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حامی ہیں اور پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ پال کپور کی تحریریں اور تحقیق جنوبی ایشیائی سیکیورٹی اور عسکریت پسندی پر مرکوز رہی ہیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کی قیادت میں امریکہ پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔ اس تقرری سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی حکومت بھارت کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی اور پاکستان کو مختلف معاملات پر دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرے گی۔
کاش پٹیل ایک بھارتی نژاد امریکی وکیل ہیں جنہیں صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں ایف بی آئی کا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی نے کئی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے کیونکہ ان کی تقرری سے ایف بی آئی جیسے خودمختار ادارے میں سیاسی مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی موجودگی میں ایف بی آئی کی پالیسیاں جنوبی ایشیا سے متعلق تفتیشی معاملات میں بھارت کے حق میں جھک سکتی ہیں۔
سری رام کرشنن ایک بھارتی امریکی ٹیکنالوجی ایگزیکٹو ہیں جنہیں وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مشیر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وہ سلیکون ویلی میں اپنی مہارت اور تجربے کی وجہ سے مشہور ہیں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھارت کے ساتھ تعاون بڑھا سکتا ہے جس سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھارت کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہو گا۔
اجیت پائی جو ایک بھارتی نژاد امریکی وکیل ہیں کو فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اثر و رسوخ صرف ملکی پالیسیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عالمی سطح پر پھیلنے اور ڈیجیٹل معیشت میں امریکہ کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ سیما ورما ایک اور بھارتی نژاد امریکی خاتون ہیں جنہیں صدر ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں سینٹرز فار میڈیکیئر اینڈ میڈیکیڈ سروسز (CMS) کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نجی ہیلتھ انشورنس منصوبوں کے دائرہ کار کو بڑھانے اور میڈیکیڈ کے کام کی شرائط نافذ کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے جو ٹرمپ کے صحت کی دیکھ بھال کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر وویک مرثی کو صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے دوران سرجن جنرل کے عہدے پر مقرر کیا ہے۔ اس بھارتی نژاد امریکی معالج کو امریکہ میں صحت عامہ کے بحران خاص طور پر COVID۔ 19 وبا پر قابو پانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال میں امریکی ردعمل کو سائنسی ہدایات اور انتظامیہ کی سیاسی ترجیحات کے درمیان متوازن رکھنے کے حوالے سے ایک قابل اعتماد شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ راج شاہ جو ایک بھارتی نژاد امریکی سیاسی حکمت عملی ساز ہیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ڈپٹی پریس سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کردار میڈیا تعلقات اور مواصلاتی حکمت عملی کے انتظام پر مرکوز ہے۔ ان کو یہ ذمہ داری ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں ایک ایسے موقع پر دی گئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کو شدید سیاسی تقسیم اور میڈیا کی سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہونے والی 43 سالہ تلسی گیبرڈ ایک اور اہم بھارتی نژاد خاتون ہیں جنہیں صدر ٹرمپ نے ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس مقرر کیا ہے۔ واضح رہے کہ تلسی گیبرڈ ہوائی سے سابق کانگریس وومن رہنے کے علاوہ امریکی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کا دفتر ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور صدر کے بنیادی انٹیلی جنس مشیر کے طور پر کام کرنے کے لیے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
ان تقرریوں سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی نژاد امریکی ماہرین کا اثر و رسوخ ٹرمپ انتظامیہ میں غیر معمولی طور پر بڑھ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں مستقبل میں پاکستان، چین اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے امریکی پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے۔ ان ماہرین کی تعیناتی امریکی پالیسی میں تین بنیادی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے : امریکہ اور بھارت کے درمیان عسکری اور سفارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، امریکی پالیسی میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور امریکہ اپنی ٹیکنالوجی پالیسی میں بھارت کو اہم شراکت دار سمجھ رہا ہے، جو مستقبل میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھارت کے اثر و رسوخ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم میں کسی نمایاں امریکی مسلمان یا پاکستانی نژاد شخصیت کی عدم موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام دشمن قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں اور پاکستانی نژاد امریکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن انہیں حکومتی سطح پر خاطر خواہ نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ یہ عدم موجودگی کئی وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے جن میں اسلامو فوبیا، امریکہ کے بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات اور پاکستان مخالف پالیسی شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ میں بھارتی نژاد ماہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کی مستقبل کی پالیسی میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اوپر کی سطور میں بیان کیے گئے بھارت نژاد افراد کی تعیناتی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھارتی امریکیوں کا اثر و رسوخ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان امریکہ میں بھارتی امریکی کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے جو نہ صرف امریکی سیاست بلکہ جنوبی ایشیائی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، مسلمانوں اور پاکستانی نژاد امریکیوں کی حکومتی سطح پر کم نمائندگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکی پالیسی میں بھارت کو فوقیت دی جا رہی ہے جس سے مستقبل میں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔


