بنگلہ دیش میں چند دن قسط: 4
تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ گوہر تاج
ستتر سالہ فرہاد مظہر ہمارے سامنے صحافیوں کے دو گروپوں سے بات کرنے کے بعد بہت تازہ دم اور اچھے لگ رہے تھے۔ ہمارے بعد طلبہ کا ایک گروپ بھی ان سے ملنے کا انتظار کر رہا تھا۔
”آپ غالب کے مداح ہیں؟“ میں نے ان سے مصافحہ کرتے وقت پوچھا تھا۔
”کون نہیں ہے؟“
انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
میں نے انہیں اپنے امریکہ میں رہنے والے دوست شاہ فضل عباس کا غالب کا ترجمہ پیش کیا۔ ”میں اور میری بیوی یقیناً اس کتاب کو پسند کریں گے۔“ انہوں نے کتاب لیتے ہوئے کہا۔ ہم بیٹھ گئے اور انہوں نے چاولوں سے بنی مٹھائی پیٹھا پیش کی۔
ہم نے اپنی گفتگو شروع کی۔
”آپ مارکسسٹ ہیں، مالداروں اور زمینداروں کے عوامی استحصال کے بہت مخالف ہیں۔
مولانا حمید بھاشانی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ”میں نے ان سے پوچھا۔
”وہ ایک عظیم انسان تھے۔ قومی لیڈر نہیں وہ ملّا اور short Sighted Communist (کوتاہ نظر کمیونسٹوں ) کے خلاف عالمگیر سطح کے شخص تھے۔ وہ ملا کے خلاف تھے کیونکہ وہ ذاتی جائیداد کے نام پر استحصال اور نا انصافی کی حمایت کرتے ہیں۔ مولانا کہا کرتے تھے کہ تمام زمینیں اور وسائل اللہ کے ہیں اور ان وسائل سے منافع عوام کو جانا چاہیے۔ وہ کمیونسٹ پر تنقید کرتے تھے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف سامنے آتے ہیں۔ مولانا ہمیشہ انسانی حقوق اور جمہوریت کا احترام کرتے ہیں اور وہ موجودہ بدترین قسم کی سرمایہ داری میں بہت متعلقہ ہیں۔ اس نے جواب دیا۔
”اگر مارکس یہاں موجود ہوتا تو آپ اس کے ردعمل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے گلوبلائزیشن اور ایکسپلوریشن کے خلاف ہے؟“ میں ایک اور سوال کرتا ہوں۔
”اس نے شاید وہی کہا جو میں کہہ رہا ہوں“ انہوں نے کہا اور ہنس دیے۔ ”ہمیں اس قسم کی عالمگیریت کی مخالفت کرنی چاہیے جو نا انصافی کو فروغ دینے اور عوام کا استحصال کرنے کے لیے ہے۔ نوجوانوں کو اس استحصال کی مخالفت کرنی چاہیے اور ہماری اقدار کو گلوبلائزیشن سے نہیں لوکلائزیشن سے آنا چاہیے۔ تمام مغربی اقدار اچھی نہیں ہیں ہمیں اپنے مذاہب کی ثقافت، روایات اور اقلیتوں کو استحصال سے بچانا چاہیے۔“
”میں یہاں اپنے دوست ڈاکٹر نظمل کے ساتھ ہوں جو اس میٹنگ کے لیے آپ سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہے۔ ہم سیزیرین سیکشن سرجری کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور اس مہم میں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔“ میں نے سوالیہ انداز میں کہا۔
”اوہ اس کے لیے تو ضروری ہے کہ میں اپنی بیوی کو ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لیے فون کروں۔ وہ کھڑے ہوئے اور چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے اندر گئے۔ ان کے ساتھ فریدہ مظہر آئیں۔
مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ حفاظتی عملہ اور سیکیورٹی کے بغیر یہ چھوٹا سا سادہ اپارٹمنٹ ان کے دفتر کے ساتھ ان کی رہائش گاہ بھی ہے۔ فریدہ مظہر موجودہ حکومت میں وزیر ہیں اور چٹاگانگ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔
فرہاد صاحب نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ کس طرح خواتین سیزیرین سیکشن کا شکار ہوتی ہیں جو کہ نارمل نہیں ہے اور ہمیں خواتین کے حقوق کی اس قسم کی پامالی کو روکنے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔
فریدہ مظہر صاحبہ نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا ”یقیناً نارمل پیدائش کو سیزیرین سیکشن سے کرنا بہت بری صورتحال ہے۔“
اس سلسلے میں ہم سب نے عام لوگوں تک سچ پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کے کردار کے بارے میں بھی گفتگو کی۔
میں نے اپنی کتاب فریدہ صاحبہ کو پیش کی اور بتایا کہ اس کا اردو اور سندھی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”اوہ میں تو اسے اردو میں پڑھنا چاہوں گی۔“ انہوں نے اردو میں کہا۔ ”مجھے اردو پڑھ کر مزہ آتا ہے یہ بہت پیاری زبان ہے۔“ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ وہ یہ کتاب اور دوسری کتابیں اردو میں حاصل کریں۔
فرہاد مظہر صاحب نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں خاص کر ان کی نئی کتاب ”ماس پروٹیسٹ اینڈ کونسٹیٹیوشن“ بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی بہت پسندیدہ کتاب ہے۔
ہم ابھی ان سے رخصت ہونا نہیں ہونا چاہتے تھے، حالانکہ ہم نے تقریباً نوے منٹ ان سے گفتگو میں گزارے اور مزید بات چیت کرنا چاہتے تھے لیکن ہمیں وہاں سے نہ چاہتے ہوئے بھی جانا پڑا کیونکہ اور بھی بہت سے لوگ ان سے ملاقات کے منتظر تھے۔
وہ بہت سادہ مزاج آدمی تھے اور ان سے بات کرنا بہت اچھا لگا۔ ہم نے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے ہاتھ ملایا۔
دس دسمبر 2024ء
ستیندرا ناتھ بوس ایک سائنسدان تھے جنہوں نے آئین سٹائین کے ساتھ کام کیا۔ ان کی بنیادی دلچسپی کوانٹم فزکس تھی۔ وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں لیکچرار تھے اور ایک عمارت میں قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کی عمارت میں کے ایک حصے میں قیام پذیر تھے۔ تقسیم ہند کے بعد عمارت کا یہ حصہ ڈھاکہ پریس کلب کے قیام کے لیے دے دیا گیا جس کے لیے حکومت مشرقی پاکستان نے یونیورسٹی کو سو ٹکے بطور کرایہ ادا کرنے پر اتفاق کیا۔
بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد 1947ء میں حکومت نے یہ جگہ پریس کلب کو دی اور ایک نئی بڑی عمارت کی تعمیر کے لیے گرانٹ بھی دی۔ پریس کلب میں ہم ایک اہم صحافی سالک صاحب (خان محمد سالک) سے ملنے گئے جنہوں نے ہمیں اپنے ساتھ لنچ کرنے کی دعوت دی تھی۔ کھانا کراچی پریس کلب کے کھانے کی طرح سادہ اور انتہائی لذیذ تھا۔
سالک بھیا ایک باخبر صحافی ہیں اور پاکستانی جمہوریت اور برصغیر کی سیاست کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔
وہ نالورن کے بارے میں بھی جانتے ہیں اور انہیں فیسٹولا اور بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے سیزیرین سیکشن کی شرح کے بارے میں تشویش تھی۔ ہم نے ان سے بنگلہ دیش میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی۔ ان سے ملنے کے بعد ہم بنگلہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے دفتر میں کچھ ڈاکٹروں سے ملنے گئے۔
آفس میں ایڈمنسٹریٹر کا رویہ بہت دوستانہ تھا۔ انہوں نے ہمارا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا اور ڈاکٹر قاضی واثق کی تصاویر دکھائیں جنہوں نے گزشتہ سال بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ میں بی ایم اے ہاؤس میں بچھی کرسیاں کا انداز دیکھ کر حیران رہ گیا جو بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ ہمارے پی ایم اے ہاؤس کراچی میں ہے۔
ہم نے وہاں کچھ ڈاکٹروں سے ملاقات کی اور میں نے انہیں ڈاکٹر اظہار چوہدری صدر پی ایم اے سینٹر کی جانب سے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن ہمارے بین الاقوامی سفیر ڈاکٹر کھو کر تشریف لائیں گے۔
ڈھاکہ میں بی ایم اے (بنگلہ دیش میڈیکل ایسوسی ایشن ) ہاؤس
بی ایم اے ہاؤس کے ایڈمنسٹریٹر نے مجھے بنگلہ زبان میں لکھا ہوا پرانا بیج دکھایا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ایسٹرن ونگ۔
میں بنگلہ دیش میڈیکل ایسوسی ایشن کے انچارج سے ملا۔ عام طور پر ڈاکٹر صحافی، قانون دان، طلباء، عام لوگ اور اساتذہ پاکستان کے بہت دوست ہیں۔ میں نے بہت سے لوگوں سے گفتگو کی۔ کسی نے بھی مجھ سے کسی قسم کی مخاصمت یا دشمنی نہیں دکھائی۔ وہ سب کراچی، گلگت، سوات اور لاہور جانا چاہتے تھے۔ وہ سب سوچتے ہیں کہ ماضی، ماضی ہے اور ہمارے درمیان اچھے تعلقات ہونے چاہئیں اور ہمیں آزادانہ طور پر اپنے ملک کا دورہ کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
فرہاد صاحب نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ہمارے علاقے میں کوئی بھی ملک دوسری قوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ہم سب کو ترقی کرنی چاہیے اور امن سے رہنا چاہیے۔ وہ بنگلہ دیش کے عام لوگوں کی طرح بہت پر امید ہیں۔ (جاری ہے۔ )

