شیطان کہاں سے آئے گا؟ دروازہ تو بند ہے!


ماہ مبارک رمضان کے آتے ہی یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ شیطان قید ہو گیا ہے۔ جب شیطان قید میں چلا گیا تو معاشرے میں شیطانیاں کون کرتا ہے؟ کچھ گروہ جیسے منافع خور اور ملاوٹ والا سامان فروخت کرنے والے تو پہلے سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے کو بھی سمجھتے ہیں پہلے ایک واقعہ پڑھ لیں۔ ہم کمرے میں بیٹھے تھے اور سردی کی وجہ سے کمرہ مکمل بند تھا۔ میری بیٹی نرجس فاطمہ جس کی عمر پانچ سال ہے، ماں اسے کچھ پڑھانا چاہ رہی تھی اور وہ پڑھ نہیں رہی تھی بار بار کھیلنے کی طرف توجہ کر لیتی تھی۔

ماں نے اسے کہا بیٹا جب پڑھنے کو دل نہ کر رہا ہو تو اعوذ باللہ پڑھتے ہیں۔ فاطمہ نے پوچھا ایسا کیوں پڑھتے ہیں؟ ماں نے کہا بیٹا شیطان آ جاتا ہے نا اسے دور کرنے کے لیے۔ فاطمہ نے غور سے کمرے کا جائزہ لیا اور بڑے یقین سے کہا :شیطان کہاں سے آئے گا؟ دروازہ تو بند ہے! یہ جملہ سنتے ہی ہم نے زور سے قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگے۔ وہ بغور ہمارا جائزہ لے رہی تھی اور تجسس اس ہنسنے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی۔

میں ابھی بھی سوچ کر مسکراتا ہوں کہ شیطان کہاں سے آئے گا دروازہ تو بند ہے۔ میرے دوستو، اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم کوئی دروازہ بند کرنا بھول گئے ہیں جہاں سے شیطان داخل ہو جاتا ہے۔ ماہ مبارک رمضان میں جب نیکی اور خیر کے دروازے کھل جاتے ہیں تو بھی شیطانی صفات موجود رہتی ہیں اور ہم صبح شام دیکھتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے شیطان لوگوں پر مسلط ہوا ہوا ہے۔

ایک نہیں دسیوں واقعات ہیں ابھی یہ تحریر لکھ ہی رہا تھا کہ میرا دوست حیدر آیا اور کہا ڈاکٹر صاحب ذرا سستے سٹال سے فروٹ نا لے آئیں؟ میں نے سوچا چلیں آؤٹنگ بھی ہو جائے گی اور اور فروٹ بھی لے آتے ہیں۔ کلو سیب کا ریٹ اڑھائی سو روپے، کیلے کا سو دو سو روپے بتایا۔ حیدر نے کہا کیش اینڈ کیری پر بھی یہی ریٹ تھے۔ ان میں تو فرق ہی کوئی نہیں ہے، میں نے کہا صبر کرو۔ ریٹ لسٹ چیک کی تو سیب اول درجے کا پونے دو سو اور کیلے بھی ایک سو ساٹھ کے درجن لکھے ہوئے تھے۔

جب کہا کہ ریٹ تو یہ ہے۔ اس پر کہنے لگا وہ وائٹ سیب ہے وہ گولڈن کا ریٹ ہے میں نے کہا جناب وہ تو وائٹ سے مہنگا ہوتا ہے قبل اس کے میں کہتا کہ چلیں گولڈن ہی دے دیں، فوراً کہا چلیں آپ اسی ریٹ پر لے لیں۔ یہ حال ہے؟ بندہ کہاں جائے؟ اسلام آباد کے پوش ایریا میں یہ صورتحال ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ آ کر فقط مقدار بتاتے تھے اور سامان لے جاتے تھے۔ ریٹ لسٹ کوئی چیک ہی نہیں کر رہا تھا۔ ہماری وجہ سے ایک دو اور لوگوں کو بھی سرکاری ریٹ پر چیزیں دینا پڑیں۔ سوچ رہا ہوں ہمیں بد دعائیں ہی نا کر رہا ہو۔

صرف یہی نہیں آپ ماہ مبارک رمضان سے ایک ہفتہ پہلے کے ریٹ اور آج کے ریٹ چیک کر لیں۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہاں کوئی دروازہ کھلا رہ گیا ہے جہاں سے یہ لوگ شیطان سے رابطے میں ہیں۔ لگتا یوں ہے ماہ مبارک رمضان سے پہلے ہی شیطان ان کی اتنی تربیت کر دیتا ہے کہ کیسے حرام کھانا ہے؟ یہ اس سے باہر نکل ہی نہیں پاتے۔ ابھی دیکھ رہا ہوں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کے پیج سے لسٹ شائع ہوئی ہے کہ پنجاب کے کئی شہروں میں پے آرڈر پر پانچ سو ہزار روپیہ ریٹیلر جگا ٹیکس وصول کر رہے تھے اتنی شکایات ملی ہیں کہ انہیں کاؤنٹر کرنے کے لیے ٹول فری نمبر اور انتظامیہ کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔

سوچتا ہوں ان لوگوں نے مرنا نہیں ہے؟ ان لوگوں کا کوئی مذہب نہیں ہے؟ ہم بطور معاشرہ اتنے تباہ ہو چکے ہیں کہ اب شیطان ہو یا چلا جائے ہمیں اس سے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا۔ ہم بے حس ہو کر غریب اور مظلوم لوگوں کو لوٹنے کے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سوچیں جن لوگوں کو دس دس ہزار روپیہ پنجاب حکومت غریب ہونے کی وجہ سے دے رہی ہے وہ انتہائی مستحق لوگ ہیں۔ انہیں بھی لوٹنے سے باز نہیں آ رہے۔

ان لوگوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے جب تک انہیں ڈنڈے کا خوف نہیں ہو گا یہ لوگ شیطان کی دوستی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ انہیں اس کے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے ریاست کو غریب کو لوٹنے کے سارے دروازے بند کر دینے چاہئیں۔ یہ کسی غریب مسکین کی حلال کی کمائی نہ لوٹ سکیں۔ کل ہی پشاور کے ایک دوست پشاور کے سکھ دکانداروں کی ماہ مبارک رمضان کی ریٹ لسٹ شیئر کی جس میں ماہ رمضان سے پہلے والے ریٹس سے ریٹس کم کر دیے گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہ ان کے ہاں شیطان بند ہوا ہے اور ہمارا دروازہ بہرحال کھلا ہے جہاں سے ہدایات مل رہی ہیں اور لوٹ کھسوٹ جاری ہے۔ یہ بتانے کی تو بہرحال ضرورت نہیں ہے کہ ماہ رمضان مسلمانوں کے لیے برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں والا مہینہ ہے دوسروں کے لیے نہیں۔

Facebook Comments HS