نسیم حجازی کے ہیروز اور آج کے زیروز


ہمارا ماننا ہے کہ اگر آپ نے زندگی میں کبھی نسیم حجازی کے ناول نہیں پڑھے، تو سمجھیں کہ تاریخ، رومانس، اور فزکس کے قوانین سے مکمل ناآشنا ہیں۔ آج کی نسل جو ”ارطغرل“ دیکھ کر اپنے اجداد کے ماضی کے کارناموں پر حیرت زدہ ہے، اگر کبھی نسیم حجازی کے ناول پڑھ لیتی، ان کے ہیروز کو اپنا آئیڈیل بنا لیتی تو یقین مانیں، یہ بستر پر لیٹے لیٹے دشمن کے کئی قلعے فتح کر چکی ہوتی اور ان کو ویزوں کے لئے یوں خوار نہ ہونا پڑتا۔

نسیم حجازی کے ناولوں میں جو مسلمان ہیرو ہوتے تھے، وہ اقبال کے مردِ مومن کی چلتی پھرتی تصویریں ہوتے تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جو ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں غیر مسلم حسینہ کا دل تھامے رکھتے تھے۔ ان کی تلوار دشمن مردوں کے لیے قیامت اور غنیم کی خواتین کے لیے کشش ثقل کی مثل تھی۔

یہ ہیرو ایسے تھے کہ اگر دشمن سینکڑوں بھی ہوتے اور یہ اکیلا بھی ہوتا، تو سمجھو آخر میں میدان دشمن کی لاشوں سے اٹا ہونا تھا۔ ان کی چمکدار تلوار دیکھ کر دشمن مردوں کے چہرے سفید ہو جاتے تھے اور ان کی دشمن خواتین کے گلابی۔ دشمن لڑکیاں ان پر ایسی مرتی تھیں، جیسے آج کل کی نسل ٹک ٹاک پر فلٹرڈ چہروں والی لڑکیوں پر مرتی ہے۔

نسیم حجازی کے ہیروز کے گھوڑے تاریخ میں پہلی اینیمیٹڈ کاریں تھیں۔ نہ یہ کھاتے، نہ پیتے، نہ سوتے اور پھر بھی دن رات مسلسل دشمنوں کا صحراؤں، جنگلوں، پہاڑوں اور سمندروں میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتے تھے۔ کئی کئی دن بھوکے رہنے کے باوجود بھی اتنے تازہ دم ہوتے جتنا آج کل کی نسل میکڈانلڈ کے برگر اور کوکاکولا پینے کے بعد بھی نہیں ہوتی۔

یہ ہیرو صرف عام ہتھیاروں پر انحصار نہیں کرتے تھے، بلکہ اگر ضرورت پڑتی تو جدید سائنسدانوں کو بھی حیران کر دینے والی ایجادات کر لیتے۔

اگر پانی میں تیرنا ہو، اور کشتی نہ ہو، تو ان کے پاس چمڑے کی بنی کوئی ایسی تھیلی ضرور ہوتی جسے پھونک مار کر کشتی بنا لیتے۔

اگر دشمن قلعے کی دیواریں 40 فٹ اونچی ہوں، تو مردِ مومن بغیر کسی سیڑھی کے صرف دوڑتے دوڑتے ہوا میں اچھل کر قلعے کے اندر پہنچ جاتا۔ اگر کہیں مشعلیں نہ ہوں، اور رات کا اندھیرا ہو، تو ان کی تلوار چمکنا شروع کر دیتی، جیسے کہ کوئی جدید اسمارٹ لائٹ ہو۔

اکثر مسلمانوں کا ماننا ہے جو بھی جدید ایجادات موجود ہیں مسلمان ہارون الرشید کے دور میں ان کی داغ بیل ڈال چکے تھے۔ جبکہ ہمارے ہمسائے ہندوستانی اس سے بھی زیادہ لمبی لمبی چھوڑتے ہیں کہ یہ ساری ایجادات رام اور لکشمن نے کی تھیں مگر آپ نسیم حجازی کو پڑھیں گے تو آپ کو لگے گا سچ مچ مسلمان ڈرون اور سمارٹ فون سے بھی جدید ایجادات استعمال کر چکے تھے مثلاً ایک ناول میں نسیم حجازی کا ہیرو اپنے تیر کے اوپر آتش گیر مادہ باندھ کر کئی سو کلومیٹر دور سے پھینکتا ہے اور یہ تیر کئی ندی نالوں، جنگلی جھاڑیوں، اور آدھے شہر کی عمارتوں کو عبور کرتا کبھی اوپر کبھی نیچے ہوتا شہر کے درمیان واقع دشمن کے سپہ سالار کے زمین دوز کمرے میں جا گھستا اور اس کو ادھر ہی تباہ کر دیتا ہے۔

ایک اور بات لیڈیز فرسٹ کے اصول پر نسیم حجازی کے یہ ہیروز مردوں کی بجائے خوبصورت خواتین کو اسلام کا پیغام دینا اپنا بنیادی فریضہ سمجھتے تھے مگر یہ ہیرو کبھی معاشقے کے چکر میں اپنی لڑائی کو نہیں بھولتے تھے، بلکہ عین وقت لڑائی معاشقہ کرنا ان کا خاص ہنر تھا۔

یہ مسلمان ہیرو کبھی راستہ نہیں بھولتے، کبھی ڈی ہائیڈریشن یا شوگر کا شکار نہیں ہوتے تھے، اور کبھی تھکتے نہیں تھے۔ نقشہ دیکھنے کی ضرورت ان کو نہیں ہوتی تھی کیونکہ اللہ نے انہیں ”GPS“ نما دماغ دیا ہوتا تھا۔ کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ یہ بھوک کو بھی جہاد سمجھتے تھے۔ اور دو دن بھوکے رہ کر بھی دشمن کے درجنوں فوجیوں کو ایسے گرا دیتے تھے جیسے آج کے نوجوان پیزا کھانے کے بعد ویڈیو گیم کھیلنے کے لئے بستر پر گرتے ہیں۔

اگر آج کے نوجوان نسیم حجازی کے ناول پڑھیں تو ان کو سمجھ آئے کہ ان کی زندگیاں کتنی ناکام ہیں!

یہ 10 منٹ دوڑیں تو سانس پھول جاتا ہے، اور حجازی کے ہیرو بغیر کھائے پیے 5 دن گھوڑے پر بیٹھ کر جنگ لڑ لیتے تھے۔

یہ اچھے کپڑے پہننے اور آئی فون رکھنے کے باوجود کسی کو متاثر نہیں کر پاتے، اور حجازی کے ہیرو زخموں سے چور، خون میں لت پت، اور گرد سے اٹے ہوئے ہونے کے باوجود لڑکیوں کے دل جیت لیتے تھے۔

ان کے پاس آج گوگل میپس ہے، پھر بھی راستہ بھول جاتے ہیں، جبکہ حجازی کے ہیرو اندھیری رات میں بھی دائیں بائیں نہیں دیکھتے تھے، بس چلتے جاتے تھے اور قلعے نمودار ہوتے جاتے تھے۔

آج اگر کوئی حقیقی مردِ مومن بننا چاہے، تو اسے چاہیے کہ نسیم حجازی کا کوئی بھی ناول پڑھے، گھوڑا خریدے، اور پھر کسی دور دراز مقام پر نکل پڑے۔

اگر یہ سب کچھ نہیں کر سکتے، تو پھر آرام سے چپس کھائیں اور نیٹ فلکس دیکھیں، کیونکہ مردِ مومن بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں!

Facebook Comments HS