جارج حباش الحکیم: ٹائیگر آف زرقا
جارج حباش الحکیم 1926 کو فلسطین کے شہر لِدّا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک آرتھوڈوکس مسیحی عرب گھرانے سے تھا۔ بچپن میں حباش مقامی چرچ میں کوائر ممبر بھی تھے۔ وہ ایک فلسطینی سیاستدان، مزاحمتی انقلابی رہنما، گوریلا جنگجو اور میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام اور عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران حباش کے خاندان سمیت شہر کی عرب فلسطینی آبادی کو جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا۔ جبری بے دخلی کے دوران حباش کی بہن کی موت واقع ہو گئی۔ اس صدمے نے حباش کے دل و دماغ پر گہرا اثر کیا۔
1951 میں حباش نے امریکن یونیورسٹی بیروت سے میڈیکل میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد بطور ڈاکٹر فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں کام شروع کیا۔ ڈاکٹر ہونے کی نسبت سے عرب دنیا میں حباش کو الحکیم کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
1967 میں یاسر عرفات اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) سے اختلافات کے بعد حباش نے ”پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین“ (PFLP) کی بنیاد رکھی جو ایک مارکسسٹ۔ لیننسٹ مسلح انقلابی تنظیم تھی۔ جو اسرائیل کے وجود کے خلاف تھی اور پورے علاقے میں ایک جمہوری اور سیکولر ریاست کے قیام کی حمایت کرتی تھی۔
جارج حباش کے نزدیک PLO فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے حوالے سے پس و پیش کا شکار ہو رہی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ یاسر عرفات اور PLO نے فلسطینی عرب عوام کے انقلابی مقصد کو ترک کرتے ہوئے امن مذاکرات کی راہ اپنائی۔ حباش نے انقلابی جذبے کے ساتھ پاپولر فرنٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد فلسطینیوں کی آزادی اور اسرائیل کے وجود کا خاتمہ تھا۔ حباش کا موقف ہمیشہ یہ رہا کہ فلسطین کی آزادی صرف مسلح مزاحمت اور عالمی سطح پر فلسطینیوں کے لیے مضبوط آواز اور یکجہتی کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے اور اسی نظریے کے تحت انہوں نے 1970 میں مشہور زمانہ ”ڈاؤسن ائر فیلڈ ہائی جیکنگ“ کی قیادت کی۔ حباش نے ستمبر 1970 میں ”ڈاؤسن ائر فیلڈ ہائی جیکنگ“ کی منصوبہ بندی کی جس میں چار یورپی ائر لائنز کو ہائی جیک کر کے اردن کے صحرائی علاقے زرقا میں اتارا گیا۔ ہائی جیکنگ کے واقعے نے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کر لی اور دنیا بھر میں فلسطینی مزاحمت نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ فلسطینی مزاحمت اور آزادی کی تحریک سے متاثر ہو کر پاکستان میں بھی زرقا کے نام سے ایک فلم بنائی گئی جس کا مشہور گانا تھا ”رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے“ ڈاؤسن ائر فیلڈ ہائی جیکنگ کے بعد اردن کے شاہ حسین نے فلسطینی مزاحمت کو کچلنے کے لیے پاکستان کے جنرل ضیاء الحق، جو اُس وقت برگیڈیر کے عہدے پر فائز تھے، کی مدد سے فلسطینی گوریلا جنگجوؤں کے خلاف ایک وحشیانہ فوجی آپریشن شروع کیا۔ یہ آپریشن اتنا سفاک تھا کہ ہزاروں فلسطینی جنگجو شہید ہو گئے، اور فلسطینیوں کے خون سے زمین رنگین ہو گئی۔ فلسطینی عوام اس خونریزی اور بے رحمانہ کارروائی کو ”بلیک ستمبر“ کے نام سے یاد کرتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فلسطینیوں کے لیے تاریخ کا بدترین سانحہ تھا بلکہ ایک انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے ایک عرب حکمران کی طرف سے کی گئی خونریزی تھی۔ یہ دن فلسطینی مزاحمت کے لیے ایک دردناک یادگار بن چکا ہے جس میں نہ صرف ان کی قربانیاں شامل ہیں بلکہ اس وحشیانہ حملے کے ذریعے فلسطینیوں کی آزادی کی جدوجہد پر ایک گہرا حملہ کیا گیا۔
حباش کی قیادت میں فلسطینی جدوجہد کو عالمی مزاحمت کا حصہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ مختلف انقلابی رہنماؤں کا اتحاد قائم ہوا جن میں کیوبا کے فیڈل کاسترو، لیبیا کے معمر قذافی اور دیگر مشہور انقلابی رہنما شامل تھے۔ جارج حباش نے دنیا بھر کی انقلابی تنظیموں سے رابطہ قائم کیا اور فلسطینی عوام کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
حباش زندگی بھر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان 1993 میں ہونے والے اوسلو امن معاہدے پر تنقید کرتے رہے اور انہوں نے ہمیشہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ 2008 میں دل کا دورہ پڑنے سے اردن میں ان کا انتقال ہو گیا۔ جارج حباش الحکیم کا نام فلسطینی مزاحمت کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا پیغام دنیا بھر کے انقلابیوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔


