بے بس مائیں، گمشدہ صدائیں


Hassan Umar Sahafi

ماں کے وجود سے جنم لینے والی دنیا نے ہمیشہ اسی ماں کو صبر کا درس دیا، قربانی کا بوجھ دیا، اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ وہ جو سب کے لیے روشنی کا مینار بنی، خود اندھیروں میں دھکیل دی گئی۔ وہ بہن جو بھائی کے لیے دعا کرتی رہی، وہ بیٹی جو باپ کے سائے میں پروان چڑھی، وہ بیوی جو شوہر کے لیے زندگی کا سہارا بنی۔ مگر جب اس نے اپنے لیے جینے کی خواہش کی، تو سوالوں کی صلیب پر چڑھا دی گئی۔ یہ کہانی کسی ایک عورت کی نہیں، یہ پاکستان کی ہر اس عورت کی کہانی ہے جس کا وجود روایات، غیرت، جبر، اور نا انصافی کے بوجھ تلے دبایا جاتا رہا۔

بلوچ ماؤں کے نصیب میں صرف ممتا کی تپش نہیں، انتظار کی اذیت بھی لکھی گئی ہے۔ وہ مائیں جو اپنے لاپتہ بیٹوں کی یاد میں ان کے کپڑے سینے سے لگائے بیٹھی ہیں، وہ بہنیں جو بھائیوں کی راہ تکتی ہیں، وہ بیٹیاں جو دروازے کی ہر آہٹ پر چونک جاتی ہیں کہ شاید ابا لوٹ آئیں۔ ان کے لیے انصاف ایک خواب بن چکا ہے۔ سڑکوں پر نعرے لگاتے ہوئے، بینرز اٹھائے کھڑے یہ چہرے محض احتجاج نہیں کر رہے، یہ ان زخموں کی گواہی دے رہے ہیں جو برسوں سے رستے آ رہے ہیں۔ یہ زخم ریاستی بے حسی کے ہیں، یہ زخم ان وعدوں کے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوئے، یہ زخم اس ستم کے ہیں جو صدیوں سے عورت کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں ماؤں کے لیے صرف ممتا ہی کافی نہیں، یہاں انہیں حوصلہ بھی چاہیے۔ حوصلہ اس خوف کو نظرانداز کرنے کا جو انہیں قدم قدم پر دھمکاتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ سڑکوں پر آنا، بینرز اٹھانا، سوال کرنا۔ یہ سب انہیں مزید مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ مگر وہ پھر بھی اپنے بچوں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر وہ خاموش رہیں، تو تاریخ کے صفحے ان کی قربانیوں کو بھی مٹا دیں گے۔

پاکستان میں عورت کے لیے ہر دن ایک جنگ ہے۔ چاہے وہ کسی دیہات میں ہو یا کسی بڑے شہر میں، چاہے وہ گھریلو خاتون ہو یا ملازمت پیشہ، اس کا ہر قدم آزمائشوں سے بھرا ہوتا ہے۔ کبھی اسے تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے، کبھی اسے شادی کے نام پر ایک نئے قید خانے میں دھکیل دیا جاتا ہے، کبھی وہ کام کی جگہ پر ہراسانی کا سامنا کرتی ہے، اور کبھی غیرت کے نام پر اس کی سانسیں چھین لی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا سماج ہے جہاں عورت کو پہلے پاؤں میں بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ دوڑ کر دکھائے۔

ہزاروں خواتین آج بھی عدالتوں میں انصاف کی منتظر ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے شوہر یا بیٹے لاپتہ ہیں، کچھ وہ ہیں جنہیں جائیداد سے بے دخل کر دیا گیا، کچھ وہ ہیں جو تشدد کا نشانہ بنیں اور خاموش کرا دی گئیں۔ ان کے لیے انصاف محض ایک خواب ہے، ایک ایسا خواب جو روز آنکھوں کے سامنے ٹوٹتا ہے اور پھر نئے دن کے ساتھ جُڑنے کی امید رکھتا ہے۔

بلوچ عورتوں کا دکھ ان سب دکھوں سے کہیں گہرا ہے۔ یہاں صرف خواب نہیں چھینے جاتے، یہاں بیٹے، بھائی، باپ، اور شوہر بھی چھین لیے جاتے ہیں۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کی جدائی میں سڑکوں پر دن رات احتجاج کرتی ہیں، وہ بہنیں جو ہر دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، وہ بیویاں جو ہر آہٹ پر چونک جاتی ہیں، ان کے آنسوؤں کی کوئی قیمت نہیں۔ ان کی فریادیں صرف دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں، ان کے مطالبے صرف ہواؤں میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ انہیں غدار کہا جاتا ہے، انہیں باغی کہا جاتا ہے، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ عورتیں جو زندگی دیتی ہیں، وہ زندگی کی بھیک کیوں مانگ رہی ہیں؟

یہی درد عورت مارچ کے نعروں میں گونجتا ہے۔ یہ مارچ صرف برابری کی جنگ نہیں، یہ انصاف کی جنگ ہے۔ یہ ان ماؤں کا مقدمہ ہے جو انصاف کے در پر دستک دیتے دیتے تھک چکی ہیں۔ یہ ان بہنوں کی چیخ ہے جو اپنے بھائیوں کے نام خط لکھتی ہیں مگر کوئی جواب نہیں آتا۔ یہ ان عورتوں کی آواز ہے جو اپنے وجود کی پہچان چاہتی ہیں، جو اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہیں، جو مرد کی برابری نہیں، بلکہ اپنی خودمختاری چاہتی ہیں۔ عورت مارچ محض چند بینرز، چند نعرے، یا چند مظاہرے نہیں۔ یہ صدیوں کی خاموشی توڑنے کی کوشش ہے۔

یہ مارچ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں، یہ ان عورتوں کے حق میں بھی ہے جو چھوٹے دیہات میں بیٹھی ہیں، جن کی آواز میڈیا تک نہیں پہنچتی، جن کی کہانیاں کوئی نہیں سنتا۔ یہ ان مزدور عورتوں کی بھی نمائندگی کرتا ہے جو روزانہ اینٹیں اٹھاتی ہیں، مگر ان کے اپنے حقوق مٹی میں دفن کر دیے جاتے ہیں۔ یہ ان طالبات کا بھی مقدمہ ہے جنہیں تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے، یہ ان ورکنگ ویمن کی بھی حمایت کرتا ہے جو دفاتر میں ہراسانی سہتی ہیں، یہ ان بیواؤں اور طلاق یافتہ عورتوں کا بھی ساتھ دیتا ہے جنہیں سماج بوجھ سمجھ کر درکنار کر دیتا ہے۔

یہ مارچ اس لیے ہے کہ کوئی عورت گھر کی چار دیواری میں قید نہ ہو، کوئی لڑکی خواب دیکھنے سے پہلے انہیں توڑنے پر مجبور نہ ہو، کوئی ماں اپنے بیٹے کی واپسی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہو، کوئی بہن اپنے بھائی کی گمشدگی کے نوحے نہ لکھے۔ یہ اس دن تک جاری رہے گا جب تک انصاف ہر عورت کی دہلیز تک نہیں پہنچ جاتا، جب تک ہر بیٹی، ہر بہن، ہر ماں، اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتی۔ یہ صرف عورتوں کی نہیں، ہر مظلوم کی جنگ ہے، اور جب تک ظلم باقی ہے، یہ صدا گونجتی رہے گی۔

یہ مارچ اس لیے ہے کہ عورت کو انسان سمجھا جائے۔ اس کے احساسات، اس کے خواب، اس کی خواہشات، سب کی اہمیت ہو۔ یہ مارچ ان سب کے لیے ہے جو صدیوں سے بے آواز تھے، جو ہر دن اپنے حق کے لیے لڑتے رہے، مگر انہیں ہمیشہ پیچھے دھکیل دیا گیا۔ جب تک ایک بھی عورت اس معاشرے میں دباؤ اور خوف میں زندگی گزار رہی ہے، جب تک ایک بھی ماں اپنے بچے کی راہ دیکھ رہی ہے، جب تک ایک بھی بہن اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے چیخ رہی ہے۔ تب تک عورت مارچ کی یہ صدا بلند ہوتی رہے گی، یہ احتجاج جاری رہے گا، یہ جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی۔

Facebook Comments HS