پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 8 )


Writing and Outlining

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا گیا کہ استاد کی عزت کرو ہمیشہ اپنے بڑوں سے سنا کہ جو استاد کی عزت نہیں کرتا وہ بے ادب رہ جا تا ہے۔ علم حاصل کرنے کے لئے استاد کی عزت ضروری ہے۔ آج کے بچے ماں باپ اور استاد سے دور ہو گئے ہیں اور گوگل سے قریب۔ کوئی مسئلہ پیش آیا نہیں کہ گوگل سے مدد مانگ لی۔ جب ہم کسی مسئلے میں ہوتے تو والدین کی مدد چاہتے تھے جس سے وہ مدد تو ملتی ہی تھی اس کے علاوہ ماں باپ کی شفقت اور ان کے تجربے سے جو سیکھ ملتی وہ الگ۔

ہمیں جو آداب والدین سے ملے وہ گوگل سے ملنا ممکن نہیں۔ اب بچے گوگل کی دنیا میں کھو گئے ہیں۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں گوگل نے زندگی کو آسان تو کیا ہے مگر استاد سے دوری بھی قائم کردی ہے۔ استاد ہمیں علم کے ساتھ ساتھ زندگی کے اسلوب سے روشناس کراتے تھے۔ زندگی کرنی کیسے ہے وہ بتاتے تھے۔ ہماری روایات ہمیں والدین اور استاد سے منتقل ہوتی تھیں۔ جب ہم بڑوں کے پاس بیٹھتے تھے تو چار اچھی باتیں سیکھ کر اٹھتے تھے۔

اگر کبھی مجھ سے کاغذ یا قلم گر جاتا تو یہ سننے کو ملتا کہ اٹھا کر چوم لو۔ ہمیں یہ سکھایا گیا کہ اگر استاد کو اور کتاب کو عزت نہ دی تو علم ہمیں کیسے میسر آئے گا۔ مجھے یاد ہے ایک محفل میں امی کو سر طاہر مسعود ملے وہ مجھے یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ پڑھاتے تھے انھوں نے امی سے کہا کہ میری کلاس میں ڈیڑھ سو بچے پڑھتے تھے مگر آپ کی بیٹی مجھے اس لئے یاد ہے کہ یہ جس طرح احترام کرتی تھی کوئی اور نہیں کرتا تھا۔ زندگی میں آگے بڑھنے اور کامیاب ہونے کے لئے علم کے ساتھ ساتھ ادب آداب بھی بہت ضروری ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے ساتھ ہم استاد سے بھی رشتہ جوڑے رہیں۔ زندگی میں کچھ بڑا کرنے کے لئے ماں باپ کی نصیحت اور استاد کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔ ہم آج تک اپنے بڑوں سے ان کے اساتذہ کے بارے میں سنتے ہیں کہ کیسے انھوں نے آگے بڑھنے میں مدد کی کس طرح انھوں نے ذہن پہ اپنے نقش چھوڑے ہیں۔

امی آج بھی برجیس باجی اور حمرا خالہ کا جو احترام کرتی ہیں اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے استاد اور شاگرد کا رشتہ کیسے ہوتا تھا۔ استاد کس طرح شاگرد کے اندر موجود صلاحیت کو نکھارتے تھے اور کوئی کمی ہوتی تو اس کے لئے دن رات ایک کرتے کہ اسے دور کیا جا سکے۔

ہم کتنی بھی ترقی کر لیں اور دنیا کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی ہمارے پاس ہو والدین اور اساتذہ کا نعم البدل نہیں۔ پرما تم فرجاد اور آج کے بچے بہت ذہین ہو اور تمہاری نسل کو ہم سے بہت زیادہ exposure میسر ہے۔ آنے والا وقت تمہارا ہے کوشش کرو کہ تمہاری ترقی میں گوگل کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کی رہنمائی بھی شامل رہے۔

منزل پر پہنچنے کے بعد جب تم پلٹ کے دیکھو گی تو تمہیں احساس ہو گا کہ تمہارا پہلا قدم لینے میں والدین اور اساتذہ نے کیا کردار ادا کیا ہے۔

میں آج تک جو بھی کر پائی اس میں گھر کا ماحول اور اساتذہ کا بہت عمل دخل ہے۔ جن لوگوں نے ہماری اس وقت انگلی پکڑی ہو جب ہم لڑکھڑا رہے ہوں ان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور مان سمان دینا چاہیے۔ خوش رہو خوب علم حاصل کرو اور علم دوست بنو۔

Facebook Comments HS