بلاسفیمی بزنس گروپ بہت ایمانداری سے کام کرتا ہے


بلاسفیمی بزنس گروپ کے بارے میں فیکٹ فوکس کی تازہ سٹوری تو آپ کی نظر سے گزری ہو گی۔ اس کے بعد کچھ اور لوگوں کی تحریریں بھی سامنے آئی ہیں جنہوں نے بلاسفیمی بزنس گروپ کے خلاف اپنی دشمنی کا اظہار کیا اور خوب زہر اگلا ہے۔ یہ سب لوگ متعصب ہیں اور انسانی جان کو بہت قیمتی سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس بزنس گروپ کے خلاف غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ اس آرٹیکل کا مقصد بلاسفیمی بزنس گروپ کی خوبیوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ ان کے خلاف غلط پروپیگنڈا کے اثر کو زائل کیا جا سکے۔ اور انہیں معاشرے میں وہ مقام دیا جا سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔ کاش۔ اس بزنس گروپ کی سب نہیں لیکن کچھ خصوصیات کا مختصر ذکر درج ذیل ہے۔

بلاسفیمی بزنس گروپ کی پہلی خوبی یہ ہے کہ وہ تشدد کے خلاف ہیں اور غریب نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اپنے شکار کو پھانسنے کے لیے وہ تلوار، بندوق یا ڈرون استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ شہد جیسا میٹھا اور اجنبی نوجوان پرائی لڑکی سے رابطے جیسا پرکشش جال پھینکتے ہیں۔ متعصب لوگ اسے ہنی ٹریپ کہتے ہیں۔

ایک خوبصورت لڑکی بائی چانس رابطے میں آتی اور بس ٹھہر جاتی ہے۔ بات قدرے تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔ اوریا مقبول جان کو لوپ میں لیے بغیر ریکوڈک اور اس کے ہم منصب دیگر زیر ناف، اوہ معذرت، زیر زمین خزانوں کی تصاویر کا تبادلہ بہت آسانی سے شروع ہو جاتا ہے۔ اسی خوشی اور کورٹ شپ کے ماحول میں راؤ رحیم، مدثر شاہ اور عبدالعزیز کی انٹری ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا ہے کہ وہ امن کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتے اس لیے ایک پر امن ڈیل کے لیے مذاکرات کی پیش کش کرتے ہیں۔ اپنے ریکوڈک پک جیسے قیمتی لیکن خفیہ اثاثوں کی تصاویر کو زمانے سے بچانے کے لیے مختلف آپشن دیے جاتے ہیں۔ بخیل لوگ ان آپشنز کو بلیک میلنگ کا نام دے کر اصل میں بزنس گروپ کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

اب نوجوان اور اس کے گھر والوں پر منحصر ہے۔ وہ اگر اتنے محنتی پرامن اجنبی لوگوں کے لیے چند لاکھ روپے کا بندوبست بھی نہیں کر سکتے تو وہ یقیناً بہت غریب ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت میں وہ اس نوجوان کے لیے تاحیات فری روٹی، کپڑا اور رہائش کا بندوبست کر دیتے ہیں۔ اس سہولت کو عرف عام میں اڈیالہ جیل کہتے ہیں۔ یہ مقام کوٹ لکھپت جیل بھی ہو سکتا۔ کھانا پینا وہاں بھی فری ہے۔ ہو گئی ناں ایک غریب نوجوان کی مدد اور وہ بھی پر امن طریقے سے۔

بلاسفیمی بزنس گروپ والے اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ پولیس کو اسلام آباد کے مضافات میں ایک سر بریدہ لاش ملتی ہے۔ ڈی این اے سے ثابت ہوتا ہے کہ لاش چند دن قبل اغواء کیے جانے والے عبداللہ کی ہے۔ کئی ٹیلی فونز کے ریکارڈ کی مدد سے کھرا راؤ رحیم کی جانب چل نکلتا ہے۔ عبداللہ کے والد کیس کو فالو کر رہے ہیں۔ ان کا بیان بھی راؤ رحیم ہی کے خلاف جاتا ہے۔ راؤ رحیم گھبرا گیا۔ حتی کہ بلاسفیمی بزنس گروپ کو اپنا آزمودہ کار ہتھیار کام میں لانا پڑا۔ نوجوان مقتول عبداللہ کے والد کے خلاف بلاسفیمی کا کیس درج کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے بیٹے کے قتل کا مقدمہ راؤ رحیم کے سر سے ہٹا لیں تو ان کے خلاف درج کیا جانے والا تازہ بلاسفیمی کیس واپس لے لیا جائے گا۔ بزنس گروپ کی فراخدلی دیکھیں کہ مقتول عبداللہ کے والد کو سوچنے کا موقع دیا اور ساتھ ہی اگلے اعلان تک گرفتار نہ کرنے کی سہولت بھی دے دی۔ یعنی بلاسفیمی کا ملزم سامنے بیٹھا ہے اور گرفتار نہیں کیا جا رہا۔ مقتول عبداللہ کے والد صاحب چونکہ بلاسفیمی کیس کی نوعیت اور بلاسفیمی بزنس گروپ کی بے پایاں طاقت کو سمجھ اور بھگت چکے تھے اس لیے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ انہوں نے پولیس کے سامنے اپنا بیان بدل دیا۔ جونہی انہوں نے اپنا بیان بدلا، بلاسفیمی بزنس گروپ نے ان کے خلاف درج شدہ اپنا بلاسفیمی کا مقدمہ بھی واپس لے لیا۔ ہے ناں معاہدے کی شاندار پاسداری۔ آج کی دنیا میں یہ ایمانداری بھلا کہاں نظر آتی ہے۔

بلاسفیمی بزنس گروپ کے لوگ آپس میں بہت اتفاق سے کام کرتے ہیں۔ جو کہ نیک لوگوں کی نشانی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ نابالغ غریب مسیحی بچی رمشا کے خلاف کیے جانے والے جھوٹے کیس سے لے کر ابھی تک یہ لوگ اکٹھے کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ کروڑوں روپوں کا بزنس ہے لیکن ان کا آپس میں کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ ہے نا شاندار اتفاق کی بات۔

بلاسفیمی بزنس گروپ ایک یونیک بزنس آئیڈیا ہے جس سے ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوا ہے۔ اس بزنس گروپ کو بند کرنے یا نقصان پہنچانے والے ملک و قوم اور مذہب کے دشمن ہیں۔ ہم ان کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik