پختونوں کی غداری پر دھینگا مشتی
کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کچھ پختون قوم پرستوں، کچھ سوڈو قوم پرستوں، کچھ نیم پکے قوم پرستوں اور کچھ الٹرا قوم پرستوں کے درمیان، ملک کے ساتھ ان کے آپس کے تعلق اور اخلاص پر لڑائی جاری ہے۔
سارے قوم پرست مانیں یا نہ مانیں، لیکن وہ پاکستانی ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی پہچان پاکستانی ہے۔ تبھی تو جب بھی ان سے شناخت مانگی جائے، تو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پیش کر کے اپنی پاکستانی شناخت کی صداقت پر اصرار کرتے ہیں۔ کوئی پولیس والا گلی میں، ایف آئی اے والا ائرپورٹ پر یا فوجی اپنی چیک پوسٹ پر ان سے شناخت طلب کر کے ان پر شک کرے، تو مذکورہ سارے پختون قوم پرست، قسمیں کھاتے ہوئے ثبوت پیش کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا یہاں دفن ہیں اور زمینیں جائیدادیں خریدی ہوئی نہیں ہیں، بلکہ وراثتی ہیں۔ بلکہ ایسے دعاوی پکڑے جانے والے افغان مہاجرین بھی کرتے ہیں۔
لیکن یہ سب کرنے کے باوجود بھی وہ سوشل میڈیا پر جاری لڑائی میں ایک دوسرے کو پاکستانی ہونے، پاکستانی ترانے پڑھنے اور ملک کے ساتھ وفادار ہونے کے طعنے دیتے ہیں۔
1948 میں باچا خان نے پارلیمنٹ میں پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا، 1973 کے آئین پر دستخط کر کے ولی خان نے پاکستان کی اسمبلی کا ممبر بن کر حلف وفاداری اٹھایا، بعد میں یہی کچھ ان کے بیٹے اور پوتے نے کیا۔ لیکن ان سب واضح وابستگیوں کے باوجود کچھ لوگ پاکستانی ترانہ پڑھنے پر معترض ہیں۔
میں نے جتنی تحقیق کی ہے باچا خان نے کبھی بھی الگ ملک بنانے یا پختونستان کا مطالبہ کیا نہ کبھی پاکستان سے آزاد ہونے کی جدوجہد کی۔ وہ ایک سادہ دل اور ایماندار شخص تھے، میں نہیں مانتا کہ ان کے دل میں کچھ اور، اور زبان پر کچھ اور تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی نازک موڑ آئے، جب اس کا غلط فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا، لیکن عبد الولی خان نے ہمیشہ اپنا وزن پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کی خاطر پاکستان کے استحکام کے پلڑے میں ڈالا۔
عبد الصمد خان اچکزئی ہوں یا ان کے فرزند محمود خان اچکزئی، یا ان کے خاندان اور پارٹی کے دوسرے عہدیداران، جو بھی اسمبلی میں گیا، اس نے پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری اور حب الوطنی کا اقرار کیا۔ باچا خان، عبدالولی خان، اسفندیار خان اور ایمل ولی خان کی طرح، عبد الصمد خان اچکزئی، محمود خان اچکزئی اور ان کے خاندان کے افراد پر، کرپشن یا وطن فروشی کا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ان لوگوں کو اپنے وطن سے سچی محبت تھی اور ہے، جو کرپشن کر کے ملک کی جڑیں کاٹنے اور وطن فروشی کر کے ملک سے غداری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
منظور پشتون کا شناختی کارڈ ریاست نے ضبط کیا ہوا ہے، اور پاسپورٹ بنا ہوا نہیں، یہ شکوہ وہ کئی بار کر چکا ہے۔ اس نے کبھی بھی پاکستانی پاسپورٹ یا شناختی کارڈ نہ لینے یا چھوڑنے اور کسی اور ملک کی شناخت اپنانے کا ارادہ یا خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ اپنے لئے پاکستانی آئین کے تحت گارنٹی شدہ حقوق، اور اپنے ساتھ پاکستانی قانون کے تحت سلوک کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مذکورہ بالا تینوں لیڈران سے وطنی شناخت مانگی جائے تو خود کو پاکستانی کہتے ہیں۔
عبدالولی خان پر کئی مواقع پر پاکستان ”بچانے کا الزام“ دھرا جاتا ہے، اور یہی الزام محمود خان اچکزئی پر آج لگایا جاتا ہے، جب وہ بڑے خلوص اور دردمندی سے پاکستان کو بچانے کی اپیلیں کرتا ہے۔
تینوں اندرون ملک قومی شناختی کارڈ اور بیرون ملک پاکستانی پاسپورٹ پر اپنی شناخت کراتے ہیں۔ منظور پشتون کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن اسے بیرون ملک سفر کرنے دیا جاتا یا اس کی خواہش ہوتی، تو لازم پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتا۔
مذکورہ تینوں پختون لیڈران نے کبھی بھی پاکستانی پاسپورٹ یا شناختی کارڈ ریاست کو واپس کر کے کسی اور ریاست کی شہریت حاصل کرنے کا ارادہ یا خواہش ظاہر نہیں کی ہے۔ تینوں کے پاس، محب وطن پاکستانیوں کی طرح، کوئی ڈبل نیشنلٹی بھی موجود نہیں۔ تو پھر ایک پختون قوم پرست کیوں خود کو زیادہ اور دوسروں کو کم پاکستانی ثابت کرنے پر لگا ہوا ہے؟ خود کو اچھا اور دوسروں کو کمتر مسلم یا غیر مسلم تو مولویوں کا وظیفہ ہے۔
صحافی جج نہیں ہوتا نہ ہدایت کار ہوتا ہے کہ وہ یا تو کسی سیاستدان اور قوم کی نیت اور کردار کا فیصلہ کرے، یا کسی سیاستدان کو کس طرح رہنا چاہیے، ایسے ہدایات دیتا رہے۔ پختون قوم اور لیڈرشپ کو پہلے غدار اور ناقابلِ قبول، ضیاء شاہد جیسے راتب خور بتاتے تھے، اور آج کل یہ کام رؤف کلاسرا کے ذمے ہے، اس وقت جس کی مخصوص اسائنمنٹ محمود خان اچکزئی بنے ہوئے ہیں۔ جب نون لیگ کے ایک جلسے میں، محمود خان اچکزئی نے پنجابی تاریخی سیاسی رویے کا شکوہ کیا تھا، تب بھی رؤف کلاسرا نے اس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ ویسی باتیں جاوید چوہدری اور ایاز ملک کے کالموں میں کئی بار چھپ چکی ہیں، لیکن اس سے رؤف کو تکلیف نہیں ہوتی۔
الزامات لگانا اور کردار داغدار کر کے پیش کرنا سازشیوں کا پرانا طریقہ ہے۔ مذکورہ تمام پختون لیڈران پر ملک سے غداری اور وطن فروشی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ جس کا اعادہ رؤف کلاسرا نے اپنے ٹی وی شو میں، محمود خان اچکزئی کے آج کے سیاسی کردار پر بات کرنے کی بجائے اس کی نیت پر بات کرتے ہوئے یہ کہہ کر کیا، کہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے والے محمود خان اچکزئی سے کوئی پوچھے کہ کیا وہ ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی بارڈر کے طور پر مانتا ہے۔
رؤف کلاسرا کی یہ عجیب بے تکی منطق ہے کہ جو شخص ملک کے آئین اور قانون کی بالادستی چاہتا ہے وہ محب وطن نہیں اور جو سیاستدان ایسا نہیں چاہتے وہ محب وطن ہیں۔
بجائے اس کے کہ آپ رؤف کلاسرا کو پاکستانی آئین اور قانون کے ساتھ محمود خان اچکزئی کی وابستگی کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے، اس کی ہکلاہٹ بند کر دیتے، آپ سب نے ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی شروع کردی۔ کل باچا خان اور ولی خان غدار تھے کیونکہ وہ حزبِ اختلاف کو لیڈ کر رہے تھے، اور آج محمود خان اچکزئی غدار ہے، کیونکہ آج وہ حزبِ اختلاف کی موثر آواز بن چکے ہیں۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ برے وقت میں لیڈرشپ کا حق پختون کو کیوں مل جاتا ہے؟
کل ضیاء شاہد کی بب شوربہ آلود تھی آج رؤف کلاسرا کی سفید شرٹ پر داغ نظر آتے ہیں۔
میں پاکستانی ہوں، میرا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل اور شناخت پاکستانی ہے، اور میں پختون بھی ہوں۔ اگر کسی پختون قوم پرست کا لیڈر، اپنی پاکستانی شناخت، کارڈ، پاسپورٹ اور نیشنلٹی ترک کر کے کسی اور ملک کا شہری بن گیا ہے تو صرف اسے حق بے کہ وہ دوسروں کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دے۔



رئوف کلاسرا کی تعریف میں اس طرح کرتا ہوں کہ
–
فرض کریں ایک سرکاری گاڑی کا ڈرائیور پٹرول پمپ پر جاکر سو روپے کا نوٹ دیکر کہتا ہے ٹینک فل کردو۔
ٹینک 99 روپے کے تیل پر فل ہوجاتا ہے۔ ڈرائیور 100 روپے کا بل بنواکر ایک روپیہ جیب میں رکھ لیتا ہے
–
اگلے چند دن بعد کلاسرا کرپشن کا اسکینڈل بریک کرتے ہیں کہ سرکاری ملازم ڈیڑھ سو روپے کے غبن میں ملوث
–
ویسے کلاسرا واحد صحافی ہے جس نے غیرملکی سفر میں ملنے والی دس ہزار ڈالر کی قیمتی گھڑی گھر لے جانے کی بجائے توشہ خانہ کو واپس کردی تھی۔