خاموشی کی ماں میرے راستے کی سب سے حسین خاتون
شندور، لاسپور اور یارخون کی طرف جاتے ہوئے، مستوج پل کو پیچھے چھوڑیں تو سامنے ایک کچے مکان کے قریب، ایک چھوٹی سی نہر بہتی ہے۔ اسی نہر کے کنارے، ایک ماں کی بے پناہ محبت، خاموشی اور ممتا کی ایک ایسی داستان بکھری پڑی ہے، جسے سن کر دل دہل جائے، کلیجہ منہ کو آئے اور آنکھوں کے آنسو رکنے کا نام نہ لیں۔
یہ کہانی ایک ایسی ماں کی ہے، جس کا اکلوتا بیٹا اب آسمان کے تاروں میں جا بسا ہے، مگر زمین پر ماں کی محبت آج بھی زندہ ہے، کبھی نہ ختم ہونے والی۔ وہ ننگے پاؤں، کہیں گم سم بیٹھی نظر آتی ہے، گہرے خیالوں میں گم، جیسے کسی انجانی دنیا میں کھوئی ہوئی ہو۔ وہ میرے راستے کی ایک حسین مگر درد بھری کہانی ہے۔
جب بھی میں اپنے گھر کی طرف جاتا ہوں، دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ماں آج بھی اپنی خاموش دنیا میں بیٹھی ملے۔ میں جب بھی اس سے ملا ہوں، ممتا کی محبت کو پہلے سے زیادہ گہرا پایا ہے۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشان، بکھرے سفید بال، ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے کنکر، ایک کمزور سی چھڑی، اور آنکھوں میں ایک عجب سی مایوسی، مگر ساتھ ہی خودداری اور اللہ کا شکر ادا کرنے والی روشنی نمایاں ہوتی ہے۔
یہ ماں، جسے دنیا نے بھلا دیا، مگر جس کا دل آج بھی اپنے بیٹے کے نام پر دھڑکتا ہے، میرے راستے کی سب سے حسین ماں ہے۔
دھوپ کی شدت سے درخت کے سائے بھی سمٹنے لگے تھے، مگر وہ عورت وہیں بیٹھی تھی بالکل اسی درخت کے نیچے، جہاں سے وہ نہر بہتی تھی، جہاں اس نے اپنے بیٹے کو آخری بار سوتا چھوڑا تھا۔ وقت بدلتا رہا، دن رات آتے جاتے رہے، لیکن اس کی دنیا وہیں رک گئی تھی، جہاں ایک ننھا سا وجود اس کی گود سے نکل کر پانی میں جا بسا تھا۔
اس کے ہاتھوں کی لکیر میں شاید وہ ننھے ہاتھ کبھی قید تھے، مگر اب وہ خالی تھے، ایسے خالی جیسے کسی کا سب کچھ لُٹ چکا ہو۔ ہلکی ہوا جب اس کے دوپٹے کو چھوتی، تو وہ لمحہ بھر کے لیے چونکتی، جیسے کسی معصوم آواز نے ”ماں“ کہہ کر پکارا ہو، مگر پھر خاموشی واپس اپنی گرفت مضبوط کر لیتی۔
یہ ماں ہے نہ روتی ہے نہ ہنستی ہے۔ ، اس کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں ہیں، لیکن دل کی چیخیں اگر کسی کو سنائی دے سکتی ہیں، تو وہ بس یہ بے رحم ندی ہے۔ وہ ندی، جس نے ایک پل میں اس کی گود اجاڑ دی تھی، اور پھر روزانہ بے فکری سے بہتی رہتی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
شام ڈھلنے لگتی، لوگ گھروں کو لوٹتے، چراغ جلنے لگتے، لیکن وہ وہیں رہتی نہ کسی سے بات کرتی، نہ کسی کو روکتی۔ بس اس نہر کو تکتے تکتے رات میں کھو جاتی۔ شاید وہ ندی کو دیکھتی نہیں، بلکہ اس پانی میں اپنے بیٹے کے عکس کو ڈھونڈتی تھی۔ اسے لگتا، اگر وہ زیادہ دیر تک دیکھے، تو شاید کہیں سے وہ چھوٹے چھوٹے قدم بھاگتے ہوئے واپس آ جائیں گے، وہ ننھے ہاتھ دوبارہ اس کے گلے میں لپٹ جائیں گے، وہ معصوم ہنسی دوبارہ اس کے کانوں میں گونجے گی۔ مگر یہ سب وہم ہے
میں نے نہ چاہتے ہوئے ایک بار پوچھا
”تم کیوں نہیں روتیں؟“
اس نے ایک ویران مسکراہٹ دی، وہ مسکراہٹ جو صدیوں کے درد میں گندھی ہوئی تھی، اور بس اتنا کہا
”ماں کی آنکھیں تب روتی ہیں، جب اس کا دل زندہ ہو۔ میرا دل تو اس دن اسی نہر میں ڈوب گیا تھا۔“
پھر وہ واپس ندی کی طرف دیکھنے لگی۔ جیسے وہ خود بھی اس کے ساتھ بہہ جانا چاہتی ہو، جیسے اسے کسی سے کچھ نہیں چاہیے تھا، نہ دلاسا، نہ تسلی۔ میرے گھر کے راستے کی یہ خاتون نہ روتی ہے نہ ہنستی ہے، وقت کے کنارے بیٹھی ایک خاموش مجسمہ بن چکی ہے۔


