دیانتداری، فرض شناسی اور خوش کلامی کی روایت کے علم بردار: اصغر عابد
ادارے کے سارے دفاتر تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف ایک کمرہ ایسا ہے جہاں تاریکی نے تا حال اپنا ڈیرہ نہیں ڈالا، باہر سے گزرنے والا کوئی بھی شخص پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ یہ کمرہ کس کا ہے۔
اس کمرے میں ایک ایسا سادہ لوح شخص بیٹھتا ہے جسے شاید خود اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ فرض شناسی میں جنون کی کس بلند سطح پر آ چکا ہے۔
کام، کام اور صرف کام کی دُھن کسے کہتے ہیں، اس سوال کا جواب جسے مطلوب ہو، یہاں سے با آسانی حاصل کر سکتا ہے۔ اس صورت حال کی شعوری یا لاشعوری وجہ، شعر و سخن سے لگاؤ ہے یا نہیں، مگر یہاں بھی صبح کا آغاز غالب کی طرح کان پر قلم رکھ کر نکلنے سے مختلف نہ تھا۔ پھر یہ قلم یوں رواں ہوتا کہ لکھنے اور لکھوانے کے عمل میں وقت کا تصور جیسے گُم ہو جاتا۔ ان لمحات میں، چاروں ہاتھ پاؤں سے، درپیش معاملات کی ادائیگی اور انجام دہی کے سوا کچھ زیر غور نہ ہوتا۔ دوستوں اور ملنے والوں کی آمد، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس انہماک اور یکسوئی کو منتشر نہ کر پاتی۔ روزانہ کے اخبارات کے ڈھیر، روزانہ اپنی اپنی افادیت اور اہمیت کے تناسب سے بتدریج نئی شکل کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے چلے جاتے۔ مطلوبہ شائع شدہ تصاویر، اپنی ماخذ سے جدا ہو کر نئی فائلوں میں جلوہ گر ہوتیں۔ نئے دن اور نئی تاریخ کے ساتھ، دل کش پیرائے میں یہ فائلیں اپنے مقررہ پڑاؤ اور منزلوں سے گزرنے کے لئے گردش میں آ جاتیں۔ یہ روز کی سرگرمی، ہر روز اسی جذبے اور جزئیات کے ساتھ ادا کی جاتی۔
درحقیقت یہ کمرہ، کار جہاں دراز ہے کی وہ تصویر تھی جہاں گزشتہ سے آئندہ، ہمیشہ پیوستہ رہتا۔ جانے والے کل کی مصروفیت اور مشغولیت ابھی ختم نہ ہوتی کہ آنے والے کل کا غم لاحق ہو جاتا۔ آج اور کل کا یہ کھیل بے انت تھا مگر مقابل کھلاڑی بھی تھکن کو تھکا دینے والا ٹھہرا۔ اس مشق میں کبھی حوصلہ پست نہ کیا اور جاں فشانی سے اس تسلسل میں اپنی جولانی طبع کے جوہر دکھائے۔ اس سارے عمل کی خاص بات یہ ہے کہ اس دوران، نہ کہیں سے داد کی خواہش رہی نہ کہیں سے تحسین کی تمنا، کام سے لگاؤ اور فرض کی ادائیگی ایسے کی جیسے اپنے آپ سے، راستی ( اور راستے ) سے نہ ہٹنے کا عہد کیا ہو۔
دفتر کی ذمہ داریوں کو ذمہ داری سے نبھانا، یقیناً صرف انھیں آتا ہے جنہیں ان حروف کے اشتراک سے جنم لینے والے مفہوم سے ( حقیقی ) شناسائی ہو۔ الفاظ اور مفہوم سے دوستی رکھنے والے کے لئے بھلا کس طرح ممکن تھا کہ وہ اس احساس سے خالی ہو۔ اسی احساس نے ایک عملی کردار کی وہ شمع روشن کی جس کی تابناکی پھر کسی سے اوجھل نہ رہی۔ دفتر کے شریک کار اور باہر سے آنے والے اجنبی ( مہمان ) ، سبھی اس کی تائید میں یک زبان ہوئے۔ فرض شناسی کی اس داستان میں الیکشن کی طویل نشریات ہوں، اہم قومی دنوں کا اہتمام ہو، یا قدرتی آفات، غیر معمولی حالات میں ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش پیش ہونے میں طمانیت محسوس کی۔ جو کہا گیا اُس پر خوش دلی سے عمل ہوا اور جو نہیں کہا گیا اُس پر بھی خود کو فراخ دلی سے رضا مند پایا۔ ہر موقع محل پر ایک ہی ہدف ہمیشہ پیش نظر ہوتا کہ جو سونپا گیا ہے اُس کی احسن تکمیل، کیوں کر ممکن ہو۔
ادارے کا دورہ کرنے والے افراد اور وفود کو ایسے خوش آمدید کہا جیسے ادارے کی نیک نامی پر ذرا سی آنچ نہ آ جائے۔ اپنی روایتی شائستگی، نرم خوئی اور دھیمے پن کے ساتھ مہمانوں کی ممکنہ حد تک دلجوئی مقدم رکھی۔ مہمان خواہ وہ کسی پس منظر، کسی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں، جاتے جاتے اگر انھیں سب سے زیادہ جو بات یاد رہ جاتی وہ اُن کے میزبان کی شخصیت ہوتی۔ مہمان، میزبان کا ایسا مثبت تاثر لے جاتے ہوئے شاید اس بات کی گہرائی سے بے خبر ہوں، مگر باخبر، یہ شعور رکھتے تھے کہ اس نتیجہ خیزی کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ میزبان نے اپنی اور اپنے ادارے کی عزت کو کبھی علیحدہ کر کے نہیں دیکھا۔
دفتر کی ذمہ داریوں سے اتنی والہانہ، مسلسل اور مستقل وابستگی دیکھتے ہوئے، بظاہر یہی اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد اپنے لئے کیا وقت بچتا ہو گا، مگر تخلیقی صلاحیت، وجود کا حصہ ہو تو اُسے اپنا آپ ظاہر کرنے اور خود کو منوانے سے کون روک سکتا ہے، سو جس طرح دفتری ماحول کو اپنے طرز عمل سے اپنا گرویدہ بنایا، اُسی طرح ادبی دنیا میں اپنے طرز تخیل اور طرز تحریر سے ایک نمایاں شناخت کے ساتھ پذیرائی حاصل کی۔ روایتی اسلوب اختیار کیا تو خوب داد سمیٹی اور روایت سے ہٹ کر پیش رفت کی تو نئی جہت کے اولین صف کے حق دار قرار پائے۔ جاپانی ثقافت کی نمائندہ ہائیکو جب پاکستان میں متعارف ہوئی تو ابتدا میں ”جن تخلیق کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، وہ فہرست بلاشبہ اس نام کے بغیر نامکمل ہے۔ بات صرف یہیں نہ رکی، عملی طور پر ادبی اداروں کو متحرک رکھنے میں بھی جی بھر کر فعال کردار ادا کیا۔
جب تک صحت نے ساتھ دیا، ریٹائرمنٹ کو پاؤں کی زنجیر نہ بننے دیا۔ ادب کے لئے جتنا سرگرم رہا جاسکتا تھا، اس نئے مرحلے میں بھی اُس میں یکسر کمی نہ آنے دی۔ اپنی ذہانت اور کارکردگی سے نیشنل بک فاونڈیشن کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں ادارے سے وابستگی تک جی جان سے کام کیا۔
وقت کی پابندی، کام کی اہمیت کا احساس، فرائض کی بروقت انجام دہی، خوش دلی اور خوش کلامی سے افراد اور اداروں سے رابطے، کتاب سے محبت اور اس محبت کی ترویج ( اور تشہیر ) ، وہ سب کچھ، جو زندگی بھر، زندگی کا زاد راہ تھا، وہ ہی ہر لمحے زندگی کا اثاثہ رہا۔
(اصغر عابد، پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد میں افسر تعلقات عامہ کے عہدے پر فائز رہے، اور بیماریوں سے طویل نبرد آزمائی کرتے ہوئے اس سال 3 مارچ کو اپنے حلقۂ اثر میں سب کو افسردہ چھوڑ گئے )





دکھ ہوتا ہے کہ زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے
سائنس میں ایک اصطلاح ہے جس کا اردو میں ترجمہ بگاڑ ہے۔ اینٹروپی Entropy
اور اس کا سادہ سبھاؤ مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چلتے سسٹم میں (چاہے وہ کار جہاں دراز ہی کیوں نہ ہو) وقت کے ساتھ ساتھ بہتری نہیں آسکتی بلکہ مزید بگاڑ آنا عبث ہے۔ آپ ایک برتن میں ترتیب سے گیندیں رکھ کر اگر اسے ہلائیں تو لگ بھگ ناممکن ہے کہ وہ گیندیں اب دوبارہ اسی ترتیب میں خود بخود آسکیں۔
–
ہمارے اردگرد بھی ایسا ہی ہے بالخصوص ہمار معاشرہ۔ اچھی روایات ختم ہوچکیں اور کم از کم پاکستانی معاشرے میں پیچھے صرف والعصر ان الانسان لفی خسر رہ گیا ہے اور اینٹروپی ہے کہ بڑھتی چلی جارہی ہے چہ جائیکہ یہ سسٹم ختم ہوجائے اور ایک نیا سسٹم یا معاشرہ وجود میں آئے۔
–
جانے والا کل من علیھا فان ہوچکا۔ کل ہماری باری ہے مگر اچھا ہے کہ ہم کم از کم جانے والوں کو اور ان کے پیاروں کو بتاتو سکتے ہیں کہ ہم بھی یاد کرتے ہیں ان کو۔
–
وگرنہ بس میں ہو تو جانے والے دوستوں کو ہر ایک یہی کہہ رہا ہو :
–
آج جانے کی ضد نہ کرو۔۔۔۔تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں ۔ جان جاتی ہے جب اٹھ کہ جاتے ہو تم