ظلم پہ خاموشی جرم ہے


(جی پی ایم سی کے یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر کے ہاتھوں انٹرن ڈاکٹر کی جنسی ہراسانی کا کیس)

ویسے تو بڑے نامور اور معتبر اداروں میں صاحب اختیار افراد کے ہاتھوں بے بس اور کم اختیار رکھنے والی خواتین کی جنسی ہراسانی کے واقعات کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں لیکن اگر ان رویوں پہ معاشرہ خاموشی اختیار کر لے تو یہ ایک اجتماعی جرم ہے۔ جس کا ارتکاب ہم اکثر کرتے آئے ہیں۔ اور جس کے لئے ہم سب جوابدہ ہیں۔

حال ہی میں جنسی ہراسانی کا ایک اور مبینہ واقعہ کراچی کے اعلیٰ حکومتی ادارے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے باون سالہ سینئر سربراہ اور شعبہ کی انٹرن ڈاکٹر کے درمیان پیش آیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات کچھ اس طرح بیان کی گئی ہیں۔

7 دسمبر 2024ء کی صبح سینئر ڈاکٹر نے چپراسی کے ذریعے خاتون ڈاکٹر کو اپنے دفتر میں بلوایا۔ ان کے پہنچنے پر چپراسی کو ہدایت کی کہ وہ کسی کو بھی اندر آنے سے روکے اور دروازے کی حفاظت کرے۔ اس کے بعد وہ مبینہ طور پر خاتون ڈاکٹر سے نامناسب گفتگو میں مصروف ہو گئے، اور اس پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ ان کے ساتھ شاپنگ کے لیے مری جائیں اور بار بار اصرار کرتے رہے کہ وہ اس کے پاس بیٹھ جائے۔ خاتون ڈاکٹر کے واضح انکار کے باوجود، وہ قریب آئے اور اسے زبردستی پکڑ کر نامناسب حرکت کی۔

اس واقعے سے پریشان خاتون ڈاکٹر انتہائی سراسیمگی کی حالت میں دفتر سے باہر بھاگیں اور آڈیٹوریم پہنچیں، جہاں کچھ مرد رفیق کار ڈاکٹروں نے ان کی پریشانی دیکھی۔

9 دسمبر کو ، خاتون ڈاکٹر نے انتظامیہ کے پاس باضابطہ طور پر شکایات درج کرائیں، بشمول JPMC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، JSMU (جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ) کے وائس چانسلر، اور ہیلتھ کمیشن۔ نتیجے کے طور پر ، اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جن میں فیکلٹی ممبران اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز سے متعلق تفصیلی انکوائری کی گئی۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ سینئر ڈاکٹر اس سے پہلے بھی مذکورہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر گفتگو میں جنسی ہراسانی کا گھٹیا مظاہرہ کرتے رہے تھے۔

اس واقعہ سے متعلق بننے والی انکوائری کمیٹیوں میں حسب ذیل اراکین شامل تھے۔
جے پی ایم سی، چیئرپرسن ڈاکٹر نگہت شاہ (ایچ او ڈی گائنی ڈیپارٹمنٹ)
چیئرپرسن محکمہ صحت ڈاکٹر ثاقب منیر (ڈائریکٹر ہیلتھ)
جے ایس ایم یو کے چیئرپرسن ڈاکٹر مسرور (جے ایس ایم یو کے پرنسپل)
سندھ انسانی حقوق کمیشن کے جج ارشد نور صاحب

ابتدائی انکوائری رپورٹ پر سینئر ڈاکٹر کو یورولوجی وارڈ سے ہٹا کر واپس جے ایس ایم یو بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں ہیومن رائٹس کمیشن کے جسٹس ارشد نور نے آزادانہ انکوائری کی اور سینئر ڈاکٹر کو قصوروار پایا۔ جس کے نتیجے میں انہیں JPMC سے ہٹا دیا گیا، JSMU میں محکمہ کے سربراہ کے طور پر ان کے عہدے کو منسوخ کر دیا گیا۔

اس فیصلے کے جواب میں سینئر ڈاکٹر نے ان کمیٹیوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بغیر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کمیٹی کی تمام کارروائیوں کو روک دیا۔ اب اس معاملے کی سماعت 4 مئی کو ہونے والی ہے۔

دریں اثنا، سینئر ڈاکٹر کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی ہے، اور سیشن کورٹ میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

تاہم کارروائی کے دوران سینئر ڈاکٹر نے اپنے اوچھے کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا مثلاً فیس بک پر خاتون ڈاکٹر کے خلاف ہتک آمیز مہم چلائی جس میں ان کی ذاتی تصاویر کے ساتھ نامناسب کمنٹس بھی شامل ہیں۔ خاتون ڈاکٹر مہرین کو مبینہ طور پر گمنام قومی اور بین الاقوامی کالوں کے ذریعے بھی بلیک میل کیا گیا، جس سے خاتون ڈاکٹر کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔

الزامات کی سنگین نوعیت اور متعدد انکوائریوں کے نتائج کے باوجود تحقیقاتی کمیٹیوں کی حتمی رپورٹیں ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ خاتون ڈاکٹر کو ہراسانی اور ہتک عزت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہیں خدشہ ہے کہ ان کی کردار کشی اور عدالتی کاروائی میں تاخیر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

حقیقت بھی یہ ہے کہ اکثر تمام شواہد کے باوجود تاخیر ہماری عدالتوں کا شیوہ رہا ہے۔ جو معاملے کو ٹھنڈا کر کے مجرم کو سزا سے بچا لیتی ہے کیونکہ اس دوران مجرم اپنے ہتھکنڈے استعمال کر کے فیصلہ پہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جنسی ہراسانی کے معاملہ میں یہ عین ممکن ہے۔ مردانہ تسلط اور طبقاتی تفریق کے معاشرے میں اس قسم کے واقعات پاور اور کنٹرول کے کھیل کا حصہ ہیں۔ خاص کر اندھے قانون والے معاشرے میں کہ جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مترادف وکٹم ہی مورد الزام قرار پانے کے بعد اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی سزا پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتنی ہی عورتیں اپنی آواز کو دبا کو ظلم کو خاموشی سے سہ لیتی ہیں۔ لیکن خاتون ڈاکٹر نے ”بول کے لب آزاد ہیں تیرے“ کے مترادف بڑی جرات مندی سے ظلم کے آواز اٹھائی بلکہ ان لڑکیوں کو بھی آواز دی جو اب تک سینئر ڈاکٹر کے رویے کا خاموشی سے نشانہ بنتی رہیں۔

یہ خوش کن بات ہے کہ ملک کی اہم خواتین تنظیموں نے خاتون ڈاکٹر کے جرات مندانہ لب کشائی کے عمل کو بے حد سراہا۔ اور اس زیادتی کے خلاف عملی جدوجہد میں یکجہتی کا اظہار کیا۔

اس سلسلے میں عورت مارچ کراچی نے ایک آفیشل بیان جاری کیا ہے جس کی تحریک نسواں، ڈبلیو اے ایف /ویف، نیشنل آرگنائزیشن فار ورکنگ کمیونیشیز NOW، Fem Consortia، اور حقوق نسواں کی حامی دوسری تنظیموں نے تائید کی ہے۔ اس مراسلے کے مطابق ”میڈیکل سینٹر (JPMC) نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے جو ہمارے اداروں کے اندر شکاریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کی لڑائی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پاکستان میں تمام ہیلتھ ورکرز کے تحفظ اور وقار کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

”ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزم کو تمام سرکاری فرائض سے ہٹایا جائے اور اس کا نام پی ایم ڈی سی سے خارج کیا جائے۔ انکوائریوں کے نتائج کا عوامی انکشاف اور تمام مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔ ہراساں کرنے کے خلاف سخت پالیسیوں کو نافذ کرنا اور تمام ملازمین کے لیے ایک محفوظ رپورٹنگ میکانزم قائم کرنا اختیاری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

حقوق کی یہ جنگ ان ہیلتھ ورکرز کے لیے ہے جو باوجود ہراسانی اور دھمکیوں کے انتھک محنت کرتے ہوئے ہماری بستیوں کی خدمت کرتی ہیں۔ ان کی حفاظت اور وقار، مطالبہ ہی نہیں ان کا بنیادی حق ہے۔ ”

ان تنظیموں نے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے بھی معاہدات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری انصاف کے حصول اور ملزم ڈاکٹر کے لائسنس کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس قسم کے مجرموں کو اپنے کیے کی سزا ملے اور مستقبل میں مزید ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔

اتفاق سے یہ رپورٹ مارچ کے مہینے میں لکھی گئی کہ جس کی آٹھ تاریخ کو عالمی سطح پہ عورتوں دنیا کی خواتین پوری یکجہتی سے، جنس کی تفریق کی بنا پہ غیر مساوی اور مختلف سطح پہ نا روا سماجی رویہ کو کانفرنسوں، سیمینارز اور عورت مارچ کی صورت چیلنج کرتی ہیں۔

لاہور، پاکستان میں آشا (الائنس اگینسٹ سیکشول ہراسمنٹ) کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 58 فی صد خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو جنسی ہراسانی کا سامنا ہے۔ جس کا ارتکاب کرنے والے ادارے کے ڈاکٹرز، نرسیں، مریض اور ان کو دیکھنے آنے والے کرتے ہیں۔

خواتین کی اسی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ 2010ء میں پاکستان میں ملازمت کی جگہ پہ ہراسانی سے تحفظ کا قانون نافذ کیا گیا ہے۔

جی پی ایم سی کا واقعہ بھی جنسی ہراسانی ہے۔ اگر ہمیں اپنے سماج میں زندگی کی رمق کا ثبوت دینا ہے تو پوری یکجہتی کے ساتھ اس تحریک کا ساتھ دینا ہو گا تاکہ پاور اور کنٹرول کے اس گیم میں شکایت کنندہ خاتون ڈاکٹر اور ان جیسی بہت سے لڑکیوں کو طاقت اور انصاف مل سکے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ظلم پہ خاموشی جرم ہے

  • 14/03/2025 at 8:37 صبح
    Permalink

    اپنے شاگردوں کرایہ داروں اور ماتحتوں کے ساتھ جنسی روابط یا ہراسگی کے واقعات اب عام ہیں۔
    فیس بک کی سابق عہدیدار خاتون کا اپنے مرد ماتحت کو ایسے ہی ایک می ٹو میں الجھانا ۔۔۔۔ایک آنے والی کتاب کا واقعہ ہے۔
    غلط بات بہرحال غلط ہے چاہے جو کرے اور جہاں کرے۔

    • 14/03/2025 at 9:14 صبح
      Permalink

      یہ مغرب کی مثالیں ہیں ۔ جہاں آپ مقیم ہیں مگر برائیاں صرف پاکستان میں نظر آتی ہیں یا یہاں کہ مرد حضرات میں۔

Comments are closed.