شہاب نامہ پر ایک اعتراض کے جواب میں


شہاب نامہ کا بار اول یعنی پہلا ایڈیشن سن 1987 کے ماہ اگست میں اور دوسرا اسی سال میں اس کے ایک ماہ بعد ۔ اگر ساحر لدھیانوی کی تلخیاں شاعری کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے تو شہاب نامہ کو ایسی ہی فوقیت اردو سوانح عمری کے باب میں حاصل ہے۔

کتاب کی اشاعت سے کئی برس پہلے اس کے ابواب سیارہ ڈائجسٹ میں چھپا کرتے تھے اور شاید ان میں کچھ اسلام آباد کی ایک ادبی محفل میں اشاعت سے قبل پڑھے بھی گئے۔ شہاب صاحب کو بطور فیڈرل سیکرٹری تعلیم ریٹائر ہوئے چند برس ہوئے تھے۔ اپنی ملازمت کے اختتام سے دس برس قبل آخری دفعہ انہوں نے استعفی جنرل یحیی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دیا۔ ان کے نزدیک یہ ہوس پرست، کج رو جرنیلوں کا ایک ٹولا تھا جس کے ساتھ ان کی ملازمت کا تال میل نہیں بنتا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ تین دفعہ ملازمت سے استعفی دے چکے تھے۔ ایک تو اپنے آئی سی ایس کے ایام میں۔

بھٹو نے انہیں اقتدار سنبھالنے کے بعد واپس ملازمت پر بقایا میعاد کے لیے بلایا۔ ناہید مرزا کی سفارش پر پطرس بخاری نے جو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے تھے انہیں ایک وفد میں شامل کرایا تھا۔ پطرس بخاری قدرت اللہ شہاب کو بہت تکریم اور تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بھٹو بھی ان کے قدر دان تھے۔ شہاب صاحب شروع سے سادہ مزاج اور کم آمیز ہمیشہ سے تھے۔ فقیری اور ملامت دونوں ہی کا چولا میلان طبیعت نے اوڑھا دیا تھا۔ زندگی قدرے گمنام سی تھی۔ ملازمت سے فراغت کے بعد اسلام آباد کے ایک سرکاری گھر میں اپنی ہمشیرہ کے ساتھ قیام تھا، ان کی شریک حیات بیگم ڈاکٹر عفت 17 جون سن 1974 کے دن برطانیہ میں دنیا سے سدھار چکی تھی۔ ایک بہت جاں سوز باب شہاب نامہ میں عفت کے نام سے بھی ہے۔

شہاب نامہ میں کل ایک کم ساٹھ ابواب ہیں

شہاب نامہ کے تین ابواب چھوٹا منھ بڑی بات، نائنٹی اور بملا کماری کی بے چین روح کے علاوہ باقی ابواب سے ایک عام قاری کو جس تفصیل سے روشناس کرایا گیا ہے، وہ Contemporary History کا بہت مثبت کارنامہ ہے۔

اس زندگی کا ادراک ہمیں Those who ruled India Women of Raj پڑھ کر اور خود بطور ایک ایسے ہی نیم طاقتور اس دفتر میں کئی دفعہ جا کر جہاں گورنر جنرل اور شہاب صاحب بیٹھا کرتے تھے وہاں سرکاری امور میں شرکت کر کے اور چند پرانے افسروں سے مل کر ہوا اس کتاب پر بیشتر افراد اپنا قد بڑھانے کے لیے بھی معترض ہوتے ہیں حالانکہ یہ تو وہ بے بساط ناقد ہیں جنہوں نے شہاب صاحب والی زندگی تو قریب سے دیکھی بھی نہیں روحانی تو دور کی بات ہے، دنیاوی بھی۔ ہم نے کسی دوست کو بتایا کہ جب ملکہ وکٹوریہ کی سلطنت (سلطنت کا دورانیہ 1837۔ 1901 ) پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا دنیا کی مالدار ترین خاتون شارلٹ ڈی راتھ شیلڈ کی دعوت میں مدعو کیا جانا ملکہ کی شاہی ضیافت سے زیادہ معتبر اور من بھاؤنا مانا جاتا تھا۔ انہیں اس بات پر یقین نہ آتا تھا۔ سو کسی بات پر یقین نہ آنا بہت ذاتی اور نجی ترجیح ہے۔

نائینٹی بہت Elevated Spiritual State کی بات ہے۔ اسے یکسر نظر انداز کرنا سہل اور اس کا ادراک بہت بڑا تجربہ مانگتا ہے۔ اسے شہاب صاحب نے جب شامل کتاب کیا تو بڑا فیصلہ تھا۔ ملامت کا جانو ایک تربیلا ڈیم برسٹ ہو گیا۔ اس عہدے کی گمبھیرتا کے پس منظر میں تو یہ کوئی کھلونا پھلواری اور بچوں کی دنیا جیسے رسائل کی کچی پکی داستان لگی سر رائیڈر ہیگرڈ کی مشہور کتاب ”دی ری ٹرن آف شی“ قسم کی داستان۔

اڑیسہ کا صدر مقام Cuttack جہاں وہ تعینات تھے وہ بدھ مت اور ہندو ازم کی بہت بڑی Mythology کا جڑواں مرکز ہے۔ بملا کماری کی روح پر ان دیومالائی تخیلات کی چھاپ ہے کتاب شہاب صاحب کی ملازمت سے فراغت اور ایام بے نامی میں شائع ہوئی سو شہاب صاحب نے اس تحریر سے کوئی دنیاوی لابھ نہیں اٹھایا۔ وہ بہت ایماندار، قابل اور گمنامی پسند افسر تھے۔

غلام اسحق سلمان فاروقی فواد حسن فواد، نرگس سیٹھی، جیسے پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بھی باتھ آئی لینڈ کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے۔ آج تو گریڈ سترہ کے افسر بھی ایک سے دو کروڑ کی جیپوں میں سوار پھرتے ہیں۔ وہ اس زمانے میں بھی جب ان کا شمار مملکت کے طاقتور ترین افسروں میں ہوتا تھا موٹر رکشہ پر دفتر آتے جاتے تھے۔ اس رکشہ کو اس زمانے میں اپنی آواز کی وجہ سے پھٹ پھٹی کہا جاتا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے کی موٹر سائیکلیں لگی ہوتی تھیں بہت شور مچاتی تھیں۔ گورنر جنرل اسکندر مرزا کی اہلیہ جنہیں رات کی محافل کے دیر تک جاری رہنے کی وجہ سے صبح جلدی اٹھنے سے نفرت تھی۔ ان کی نیند اس رکشہ کی گورنر جنرل ہاؤس موجودہ گورنر ہاؤس سندھ۔ مین آمد پر شدید غصہ آتا تھا انہوں نے گورنر جنرل کو مجبور کیا کہ وہ شہاب صاحب کو سرکاری کی طرف کار پرچیز ایڈوانس دے دیں جو ان کی چوبیس تنخواہوں کے برابر ہو گا اور کاٹا جاتا رہے گا۔

(2)

دھندا ہی تو اصل دھرم ہے

بھارت میں جہنم کی سزا بھی عدالت کے دائرہ کار میں اس وقت آ گئی جب آج سے دو برس قبل بھارت میں الہ آباد جسے فیصلے سے چار سال قبل پریا رگ راج کا نام دیا گیا وہاں کی لکھنؤ بینچ کے جسٹس شمیم احمد کی عدالت نے محمد خالق کے مقدمے میں فیصلہ دیا کہ بھارت کی مقدس کتب پراناس کی رو سے یہ بات طے ہے کہ جو گائے کو خود کاٹے یا دوسروں کو کاٹنے دے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے مولانا (مائی لارڈ کا عربی ترجمہ) شمیم احمد نے مزید فرمایا کہ گو بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں کے تمام باشندوں پر لازم ہے کہ وہ بشمول ہندو مت کے تمام دھرموں کا احترام کریں۔ گائے ماتا کی چونکہ ہندو دھرم میں ایک بہت مقدس حیثیت ہے سو اس کی تقدیس اور تحفظ سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔

justice-shamim-ahmed

گائے کی توہین اور اسے کاٹنے کے الزام میں بہت سے مسلمان سن 2017 سے ہجوم ہلاکت کا نشانہ بنے ہیں۔ ایک کو تو اس الزام میں مار مار کے ادھ موا کر دیا کہ اس کے گھر سے گائے کا گوبر برآمد ہوا تھا۔ مودی کے راج میں ان کے گجراتی ساتھیوں امبانی آڈانیوں شاہوں کی کھل کے لوٹ مار کو بچانے کے لیے دھرم کا شور مچایا گیا ہے۔

اس پس منظر میں حیرت ناک امر یہ ہے کہ انڈیا دنیا میں گائے کا گوشت برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ وہ امریکہ سے زیادہ گوشت برآمد کرتا ہے اور برازیل کے ساتھ اس برآمدی تجارت میں اس کی نمبر ون کی مسابقت جاری ہے۔ مگر ان ججوں کو کون بتائے کہ گائے کا گوشت بیچنے کے لیے گائے کا کاٹنا بھی ضروری ہے۔

بھارت میں گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیاں دھندے میں لگی ہیں۔

ان میں سے کئی کمپنیاں مشترکہ کاروبار ہیں۔ کہیں منیش ملے چیف ہیں تو کہیں ہندو سرمایہ کار ہیں۔ بڑے بڑے گروپس ہیں جن میں سے گائے کے گوشت کی فروخت بھی ایک شعبہ ہے۔ چھ بڑی کمپنیاں جو مشرق وسطی اور دیگر ممالک کو گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرتی ہیں ان میں چار الکبیر گروپ (مالک ستییش اور اتل سبروال ) عربین ایکسپورٹ کے مالک (ممبئی کے سنیل کپور) ، M۔ K۔ R Frozen Food Exports کے (مالک دہلی کے مدن ایبٹ ) P۔ M۔ L Industries Pvt۔ Ltd۔ کے ( مالک اے ایس بنڈرا) ہیں۔ اب سمجھ میں آیا جہاں دھندا ہے وہاں دھرم کسی نہاں خانے میں اے۔ سی چلا کر سویا ہوتا ہے۔ نوٹ مولوی پنڈت پادری کی جیب سے نکلے یا کسی طوائف کے پرس سے اس کی مارکیٹ میں ویلیو وہی ہے جو اس پر درج ہے۔ سو دھرم کے معاملے میں دھیرج رکھا کریں۔ جو فیصلے بھگوان نے کرنے ہیں ان کو اپنے اوپر نہ لاد لیں۔ ہر وقت بس اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے دنیا میں ایک بدمعاش کم ہوجاتا ہے۔ دھرم کے نام پر فراڈ میں بابا رام دیو کو لے لیجیے۔ مودی کی دوست ہیں۔ یوگا کرتے ہیں۔ اصل نام ہے۔ رام کرشنا یادو۔

ان کا پتانجلی کے نام سے آیورویدک دواؤں کا اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی نیٹ ورتھ دس ہزار کروڑ روپے ہے۔ کمپنی کا ہیڈکوارٹر بھی ان کے ایک بہت مقدس دھام ہری دوار میں ہے۔

کپل شرما کی کامیڈی نائٹس میں آئیں تو زیادہ ہی اتراتے ہیں ارچنا پورن سنگھ اور کپل شرما کی شو میں بیوی اداکار سمونا چکرورتی کو دیکھ کر ایسے باؤلے ہو رہے تھے کہ مت پوچھیں۔

ہمارے ہاں کے اسلامی شہد کی طرح ان کا شہد بھی اتنا بکتا ہے کہ مت پوچھیں۔ دنیا بھر میں شہد کی مکھیاں مل کر اتنا شہد نہیں پیدا کرتیں جتنا پاکستان بھارت کے یہ دو ادارے، دھرم کا لیبل لگا کر اپنے نام پر چاول، مکئی، گڑ اور رنگ کو رگڑا دے کر شہد بیچتے ہیں۔ آپ کو کون سمجھائے کہ بیس لاکھ پھولوں پر سے مکھیاں رس لائیں تب کہیں جاکر صرف چار سو گرام شہد پیدا ہوتا ہے۔

پار سال ان کی فراڈ دواؤں کے خلاف پالکڈ کے ڈرگ انسپکٹر نے قابل اعتراض دواؤں اور جادوئی علاج کے قانون مجریہ 1954 کے تحت کیس کر دیا تھا۔ مجسٹریٹ کو تو یہ خاطر میں نہ لائے مگر سپریم کورٹ کی اتراکھنڈ بینچ نے انہیں نکیل ڈال دی۔ ان کے خلاف بھارت کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے دعوی کیا تھا کہ یہ کمپنی، دمہ، بلڈ پریشر، مردانہ کمزوری، جنسی طاقت اور جانے کیا کیا الم غلم دوا اور علاج کے نام پر بلا سند، بلا منظوری بیچتی ہے۔ بات اتنی بڑھی کہ قریب تھا بھارت کے سب سے بڑے یوگی اور مہادیو کو سپریم کورٹ جیل بھیج دیتی۔ سائیں نے معافی مانگ کر جان چھڑائی۔ سو صاحبو جہاں دھرم کا نام لیا جائے اور اس سے کوئی فرد اپنی ساکھ، مقبولیت اور مال میں مفتی نعیم بنوری ٹاؤن والے اور حق خطیب پیر شف شف کی طرح چمتکار دکھائے تو جان لیں کہ ان کا نظر نہ آنے والا جڑواں بھائی شیطان ہے اور آپ کو ثواب دارین کا جھانسا دے کر اپنی آدھی روٹی پر آپ کے مال کی دال مکھنی گھسیٹنا چاہتا ہے۔ اصل دھرم بس دھندا ہے۔ باقی ہیر پھیر ہے۔

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

One thought on “شہاب نامہ پر ایک اعتراض کے جواب میں

  • 11/03/2025 at 5:03 شام
    Permalink

    محض شان دار
    مفتی صاحب کی شاہ کار علی پور کا ایلی اپنا ایک سیکوئیل بھی رکھتا ہے نام "الکھ نگری”
    الکھ نگری اور لبیک دونوں شہاب صاحب کی روحانیت کی پیاز پر سے کچھ چھلکے اتارتے ہیں۔
    ایک واقعہ جو کم لوگوں کے علم میں ہے عبید اللہ بیگ نے کسی کو سنایا تھا
    یاد رہے عبید للہ بیگ مرحوم کی بیگم سلمی بیگ کی بہن کسی زمانے میں ممتاز مفتی کی بہو ہوتی تھیں تو ان لوگوں کا شہاب صاحب سے دور پار کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔….
    واقعہ پھر کبھی۔۔۔۔

Comments are closed.