مسلح جدوجہد کا ممکن حاصل وصول
عشروں سے مملکت خداداد پاکستان۔ افغانستان کے عوام اور مسلح جدوجہد کو دین ایمان اور عقیدہ سمجھنے والے ایک بڑی آگ کی چتا اپنے لئے اور مخالفین کے لئے جلائے بیٹھے ہیں اور اپنے اپنے اہداف کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ 50 :سال کا دورانیہ بدترین دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے گزر گیا اور تباہی بربادی کے علاوہ کسی فریق کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ تو آج میں ناچیز دعوت دیتا ہوں کہ اس صورتحال کے دوسرے زاویہ یا رخ کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
وطن عزیز یا اس خطہ میں سب سے زیادہ مسلح کارروائیاں ٹی ٹی پی نے کی ہیں یا بلوچ لبریشن آرمی نامی ایک بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم نے۔ یقینی طور پر پاکستان اور افغانستان کے معاشرت اور معیشت کو ان حملوں نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور سماج کی بنت کو بھی کمزور کیا ہے۔
ٹی ٹی پی اور بلوچ مسلح تنظیموں کو اس گلوب کی سب سے بڑی حقیقت کو سمجھنا ہو گا۔ گلوب پر جو بھی لکیریں ہیں۔ وہ امریکہ یا بڑی طاقتوں نے اپنے مفاد میں لگائی ہیں۔ جب تک امریکہ نہیں چاہے گا یہ لکیریں تبدیل نہیں ہوں گی۔
اس لیے اگر کوئی بلوچستان کو یا لر و بر کو الگ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ تو امریکہ منتقل ہو کر وہاں کا الیکشن لڑیں۔ وہاں کی حکومت میں اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ آپ موجودہ وفاق پاکستان برصغیر یا ایشیا کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیں۔
آپ یقین کر لیجیے آخری بلوچ باشندہ بھی مارا جائے۔ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوا تو یہ لکیریں تبدیل نہیں ہوں گی۔ اسی طرح آخری افغان یا پشتو بولنے والا بندہ بھی مارا جائے۔ لیکن امریکہ کو لر و بر کو ایک کرنا منظور نہ ہوا تو لکیروں کے تبدیل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
اب یہ آپ کو سوچنا ہے کہ موجودہ وفاق میں بہتر شراکت داری کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی طرح ڈائیلاگ کا راستہ اپنانا ہے یا اپنے نوجوانوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر مرواتے چلے جانا ہے۔
بلوچ قوم پرستوں اور علیحدگی پرستوں نے پیپلز پارٹی سے زیادہ اپنے جوان مروائے ہیں اور پیپلز پارٹی کے برابر اپنی لیڈرشپ کی قربانی دی ہے۔ لیکن آج تک حاصل کیا ہوا ہے۔ یا حاصل کیا کر سکے ہیں۔ آب یقین کیجئے کہ انڈیا بھی بلوچستان کی موجودہ وفاق پاکستان سے آزادی کا حامی نہیں ہے۔
لکیریں تبدیل کرنا ریاست پاکستان کے اختیار میں بھی نہیں ہے۔ ریاست پاکستان آج بلوچ عوام کو آزادی دینے کا فیصلہ کر بھی لے۔ تو یقین کیجئے کہ ریاست پاکستان کی حکومت کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ اتھارٹی کو تبدیل کر دیا جائے گا لیکن بلوچ عوام کو آزادی کسی صورت میں نہیں ملے گی۔
اس بین الاقوامی سچائی کو سمجھنا بلوچ اور پختون لیڈرشپ کی ذمہ داری ہے اور اس کو آگے اپنے نوجوانوں کو سمجھانا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں جہاں بھی نئے ملک بنائے گئے ہیں۔ آزاد کیے گئے ہیں۔ وہاں پر ان کا کوئی نہ کوئی مفاد تھا۔ جو فی الوقت اور فی الحال ہمیں موجودہ وفاق پاکستان کو توڑنے کی صورت میں دکھائی نہیں دے رہا۔


