ایک بیدار شاعر: ساحرؔ


ادیب شاعر یا کسی فنکار کے غور و خوض کا دائرہ جدا گانہ ہوتا ہے۔ فنکار جو کچھ سمجھتا ہے اس کے اظہار پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ فنکار کا مشاہدہ ہی اس کی تخلیق کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے جسے وہ جذب کر لیتا ہے اور یہ جذب و انجذاب کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اور فنکار اپنے فن کے قالب میں ڈھال کر اسے پیش کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہی اس ادیب یا شاعر کی انفرادیت ہوتی ہے۔ کولرج کا خیال ہے کہ ”جتنا خیال گہرا ہو گا کہ شاعر اتنا ہی عظیم ہو گا۔“ اور مجنوں ؔ گورکھپوری کے یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں کہ ”شاعری کا تعلق ابتدا ہی سے حیاتِ انسانی کے اغراض و مقاصد کی فلاح و ترقی سے ہے۔“

ساحرؔ لدھیانوی کی شاعری پر یہ جملے صادق آتے ہیں۔ ساحر ؔلدھیانوی بیسویں صدی میں اردو شعر و ادب کے افق پر ایک عہد ساز شخصیت بن کر اُبھرے۔ ترقی پسند ادبی تحریک کی ہم نوائی میں انھوں نے اپنے فکر و فن کے گوناگوں پہلوؤں کو صفحہ قرطاس پر کامیابی کے ساتھ بکھیر دیا۔ اردو نظم کی دیرینہ روایات سے یکسر احتراز کیا۔ تجربات سے مزین ان کی شعری افکار کا رقبہ وسعت آمیز ہے۔ ساحر کی نظمیں بڑی ہنگامہ خیز اور انقلاب آفریں ثابت ہوئیں۔ ساحر نے اپنی شاعری کا خود احتساب کیا۔ فرماتے ہیں :

دُنیا کے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

ساحر بہ بانگ دہل اپنے موقف کا اعلان یوں کرتے ہیں :۔

رَجعت پسند ہوں نہ ترقی پسند ہوں
اس بحث کو فضول و عبث جانتا ہوں میں
آئینہ حوادثِ ہستی میں میرے شعر
جو دیکھ رہا ہوں وہ کہتا رہا ہوں میں

لیکن اس کے باوجود انتہا پسندی سے گریز کیا لیکن ترقی پسند ضرور ثابت ہوئے۔ ان کی نظمیں ”طلوع اشتراکیت، اجنبی محافظ، تاج محل، فنکار خودکشی سے پہلے“ وغیرہ ان کے ترقی پسند ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے سیاسی شاعری کی اور اپنی نظموں کو اپنے پیغام کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری در حقیقت وقت کی آواز تھی ان نظموں میں بالغ نظر سیاست داں نظر آئے۔ جرات فکر، جرات اظہار اور جرات عمل ان کی شاعری کا بنیادی خمیر ہے۔ ساحر نے ادب کو قومی زندگی کا ترجمان قرار دیا۔ ان کا کلام سامراجیوں اور ظلم روا رکھنے والوں کے خلاف، کسانوں، مزدوروں کی خستہ حالی اور طبقاتی کشمکش اور تمام مظلوم انسانوں کی طرف داری اور ان کے حقوق کی حمایت کی بہترین ترجمانی پیش کرتا ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ ادب کو عوام کی اجتماعی زندگی کا ترجمان بلکہ ان کے نزدیک بہترین خواہشوں اور تمناؤں کا بھی اظہار کرنا چاہیے جس کی پیروی سے عوام متحد اور منظم ہو کر اپنی انقلابی جد و جہد کو کامیاب بنانے اور انقلابی قوت میں مزید اضافے کے امکانات کو پوشیدہ کر سکیں۔ ان عناصر سے مملو ادب سامراجیت اور ظلم و استبداد کے خلاف مسلسل و پیہم حرکت کا اعلان ثابت ہو گا۔ ساحر کا انسانیت کے مستقبل پر کامل اعتماد تھا۔ وہ ذہنی سیاسی اور اقتصادی مساوات کے علمبردار تھے۔ ساحر کے کلام میں احساس کی شدت بے پناہ ہے۔

کتنی آسائشیں رہیں ایوانوں میں
کتنے در میری جوانی پہ سدا بند رہے
کتنے ہاتھوں نے بنا اطلس کمخواب مگر
میرے ملبوس کی تقدیر میں پیو بند رہے

لیکن اس کے باوجو د و عزم و یقین کے ساتھ خود اعتمادی سے سرشار زندگی کی قوس و قزح پر کامل بھروسا رکھتے ہیں۔

مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں
عشق ناکام سہی زندگی نا کام نہیں

ساحر نے ہندوستان کی سیاست پر جو گہرے نقوش چھوڑے وہ بیش بہا ہیں۔ ان کے سماجی و سیاسی و عصری شعور اور فنی عظمت نے انھیں صف اول کے شعراء میں جگہ دی۔ آزادی کے بعد ملک میں غیر متوقع حالات نے تہذیب و انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیں اور اس ہیجان و طوفان میں ساحر لدھیانوی کے فن پارے بکھرے شیرازے کو مرتب کرتے نظر آئے ہیں۔ ساحر لدھیانوی کی نظم ”مفاہمت کا یہ دلدوز انداز ملاحظہ فر مائیں :

جہاد ختم ہوا دور آشتی آیا
سنبھل کے بیٹھ گئے محملوں میں دیوانے
ہجوم تشنہ لباں کی نگاہ سے اوجھل
چھلک رہے ہیں شراب ہوس کے پیمانے

اگر فیض احمد فیضؔ نے اس آزادی کو شب گزیدہ سحر سے تعبیر کیا۔ تو ساحر نے اسے لفظ ”تماشا“ سے موسوم کیا۔ سیاسی منظر نامے پر ساحر کے خیالات اردو کے شعری افکار اور وسعت اظہار پر ایک کھلا challenge ہے۔ ساحر کی شاعری کا بلند آہنگ وقتی تاثر سے لبریز تھا۔ ساحر نے احساس و اثر کو لازم و ملزوم قرار دیا۔ غم کی حالت میں صدمے سے دو چار ہونا اور خوشی میں سرور سے ہم آہنگی احساس ہے اور جب یہ احساسات و جذبات الفاظ کے پیکر اختیار کرتے ہیں تو شعر بن جاتے ہیں۔ نظم ”احساس کا مراں“ کا یہ بند انھیں خیالات و تاثر کی نشاندہی کرتا ہے۔

سرخ طوفان کی موجوں کو جکڑنے کے لئے
کوئی زنجیر گراں کام نہیں آ سکتی
رقص کرتی ہوئی کرنوں کے ناظم کی قسم
عرصہ دہر یہ اب شام نہیں آ سکتی

ساحر لدھیانوی نے سماجی حقیقت پسندی کا بڑا سنبھلا ہوا انداز پایا ہے۔ ساحر لدھیانوی کے عہد میں اس صدی کے بڑے حصے میں جنگ کے بادل عالم انسانیت پر منڈلاتے رہے۔ سیاست دانوں کی لغزشوں کا نتیجہ بے شمار بے قصور انسانوں کو بھگتنا پڑا۔ اس عہد کے متعدد شاعروں نے جنگ و خون ریزی کی مذمت کی امن و خیر سگالی کی فضا قائم رکھنے کی اپیل کی۔ جدید غزل میں انقلابی با نکپن کو ساحرؔ نے بخوبی برتا۔ مجازؔ کی طرح ساحرؔ کے یہاں شدت جذبات تو ہے مگر ان کی رومانیت مریضانہ اور غیر صحت مند نہیں۔ انداز کے والہانہ پن کی ایک شاندار مثال نظم ”تاج محل“ سے اخذ ہے۔

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
نئی زندگی اور خوش آئند مستقبل کے پیرو کار ساحر غم آشنا فطرت کے مالک بھی تھے۔ اک مثال پیش ہے۔
حیات ایک مستقل غم کے سوا کچھ نہیں شاید
خوشی بھی یاد آتی ہے تو آنسو بن کے آتی ہے

ساحر کی نظم ”میرے عہد کے حسینو“ اُردو شاعری میں ایک کامیاب اضافہ ہے۔ اس میں موجودہ ایٹمی دور کی اچھی عکاسی کی گئی ہے۔ لوممبا کے قتل سے متاثر ہو کر ساحر نے ”خون بھر خون“ کے عنوان سے ایک نظم قلم بند کی۔ ایسی نظم جس میں انسانیت کا بھر پور جذ بہ چھپا ہوا ہے جو اس بات کا مصداق ہے کہ شاعر کا دل ہمیشہ سے انسانیت کے لئے تڑپتا رہا۔ الغرض شعری معنویت کے لحاظ سے ساحر کا کلام وقیع اہمیت و افادیت کا حامل ہے جس کے توسط سے عوامی انقلاب کے لئے راہیں ہموار ہوئیں۔ ساحر کے خیال اور اشعار میں ایک برجستگی ہے جس نے بین الاقوامی فہم کی راہوں کو مستحکم و مربوط کیا۔ انہیں کلام پر قدرت ہے اور اس عتبار سے وہ اپنی تمام معاصرین میں یکتا ہے عصری مسائل پر آپ کے قلم نے جن موضوعات کا احاطہ کیا اس سے آپ کی نگاہ کی تہہ رسی کا اندازہ ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS