شدت پسندی سے اعتدال تک: ایک نئی سوچ کی ضرورت
ہم معاشرتی اور رویوں کے حوالے سے ایک عجیب الجھن کا شکار ہیں۔ ہمارے اندر شدت پسندی کا ایسا طوفان برپا ہے جس نے ہماری روزمرہ زندگی سے لے کر مذہبی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہم جب مذہبی ہوتے ہیں تو انتہا پسند ہو جاتے ہیں، دوسروں کو کافر اور گمراہ قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے، اور جب غیر مذہبی رخ اختیار کرتے ہیں تو مذہب کو بالکل چھوڑ کر زندگی میں ایسا رنگ اختیار کر لیتے ہیں جیسے مذہب کا وجود کبھی تھا ہی نہیں۔ یہ رویہ ہماری شخصیت، سوچ اور کردار کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔ نہ ہم مکمل مذہبی رہتے ہیں، نہ مکمل غیر مذہبی، بلکہ ایک عجیب سی منافقت اور دوغلے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی انتہا پسندی نہ صرف ہمارے مذہبی رویوں میں نظر آتی ہے بلکہ کھیل کے میدان، سڑکوں، دفاتر، گھروں، حتیٰ کہ تعلیمی اداروں اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی جھلک رہی ہوتی ہے۔
ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ اس شدت پسندی کی جڑ کہاں ہے۔ درحقیقت اس کا سب سے بڑا سبب ہماری ابتدائی تربیت ہے۔ ہمیں بچپن سے یہ نہیں سکھایا جاتا کہ اختلافِ رائے کو کیسے برداشت کرنا ہے، دوسرے کی بات کو کیسے سمجھنا ہے، اور کسی بھی معاملے کو متوازن انداز میں کیسے دیکھنا ہے۔ ہمیں یہی سبق دیا جاتا ہے کہ یا تو ہم بالکل صحیح ہیں یا بالکل غلط۔ یہ ”سیاہ یا سفید“ کی سوچ نے ہماری ذہن سازی کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم نے درمیانی راستہ، جسے اعتدال کہتے ہیں، اسے کبھی اپنایا ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں یا تو ہم محبت کی انتہا پر پہنچ جاتے ہیں یا نفرت کی انتہا کو چھو لیتے ہیں، اور یہ انتہا پسندی ہماری شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔
ہماری تعلیمی نظام نے بھی شدت پسندی کے بیج بونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسکول، کالج، اور یونیورسٹیز میں نصاب اس قدر خشک اور نتیجہ پرست بنا دیا گیا ہے کہ بچوں کو صرف نمبرز اور گریڈز کی دوڑ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ شخصیت سازی اور کردار کی تعمیر بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی ڈگری لینا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ زندگی میں جذبات پر قابو کیسے پایا جاتا ہے، خوشی کیسے منائی جاتی ہے، اختلاف کو کیسے برداشت کیا جاتا ہے، اور ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کو کیسے سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے بڑے ہو کر اسی رویے کو اپنا لیتے ہیں جو انہوں نے معاشرے میں دیکھا ہوتا ہے۔
ہماری ثقافتی سرگرمیاں بھی اسی شدت پسندی کا شکار ہو چکی ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں جب ثقافتی پروگرامز منعقد ہوتے ہیں تو یا تو ان پر اتنی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے، یا پھر انہیں اتنی آزادی دے دی جاتی ہے کہ وہ فحاشی اور بے حیائی کی سرحدوں کو پار کر جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کبھی ”پرفارمنگ آرٹس“ اور ”فحاشی“ کے درمیان فرق سمجھایا ہی نہیں گیا۔ پرفارمنگ آرٹ کا مقصد انسانی جذبات، معاشرتی مسائل اور تہذیبی اقدار کو تخلیقی انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ تھیٹر، میوزک، ڈانس، اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں دراصل کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہیں، جو اس کے جذبات اور احساسات کو دنیا کے سامنے لاتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں یا تو انہیں مکمل حرام قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر بغیر کسی اخلاقی اصول کے اپنایا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آرٹ اور فحاشی میں فرق ہوتا ہے، اور یہ فرق سکھانا تعلیمی اداروں کا کام ہے۔ اگر بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ فن کا مقصد تفریح کے ساتھ ساتھ ایک مثبت پیغام دینا بھی ہوتا ہے، تو شاید ہم اس شدت پسندی سے نکل سکیں جو یا تو فن کو دبانے پر مجبور کرتی ہے یا اسے بے راہ روی کی شکل دے دیتی ہے۔
ہماری ایک اور بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم خوشی منانے کا فن بھول چکے ہیں۔ ہم سال بھر عید کے انتظار میں رہتے ہیں، مگر جب عید کا دن آتا ہے تو نماز کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں اور شام تک سو جاتے ہیں، پھر اٹھ کر یہی کہتے ہیں کہ ”عید تو بس بچوں کے لیے ہے۔“ یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہم جذباتی طور پر اس قدر دب چکے ہیں کہ خوشی منانا ہمیں عجیب سا لگنے لگا ہے۔ ہم خود کو اس قدر قید کر چکے ہیں کہ زندگی کا لطف اٹھانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ اگر کبھی خوشی منانے کا موقع مل بھی جائے تو ہم اسے اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ وہ خوشی بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر شادی بیاہ کی تقریبات کو دیکھ لیں جہاں خوشی منانے کے بجائے لوگ دکھاوے اور دوسروں کو نیچا دکھانے میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال ہماری ثقافتی تقریبات کا ہے، جہاں اکثر یا تو یہ پروگرام بالکل ختم کر دیے جاتے ہیں یا پھر ان میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کی بھرمار ہو جاتی ہے۔
ہمیں ایک نئے تعلیمی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے، جو بچوں کو جذباتی ذہانت، برداشت، اور خوش رہنے کا سلیقہ سکھائے۔ یہ نظام صرف نصاب کی کتابوں تک محدود نہ ہو، بلکہ بچوں کو عملی طور پر زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کرے۔ والدین کو بھی اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بچے سب سے زیادہ سیکھتے ہی اپنے والدین سے ہیں۔ اگر والدین خود خوش رہنے کا فن جانیں گے، برداشت کا مظاہرہ کریں گے، اور زندگی سے محبت کا اظہار کریں گے، تو بچے بھی اسی رویے کو اپنائیں گے۔
حکومتی سطح پر بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سیمینار، ورکشاپس، اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ضروری ہے، جہاں نوجوانوں کو سمجھایا جائے کہ شدت پسندی ایک ذہنی بیماری ہے، اور زندگی کا اصل مقصد محبت، برداشت، اور خوشی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ خوشی منانا گناہ نہیں، بلکہ خوشی کو انتہا پسندی میں بدل دینا ذہنی انتشار کی علامت ہے، جس کا علاج ضروری ہے۔
یہ ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے رویوں پر غور کریں۔ شدت پسندی نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے، چاہے وہ مذہبی ہو، سماجی ہو، یا ثقافتی۔ ہمیں خوش رہنے کا فن سیکھنا ہو گا، دوسروں کو بھی خوش دیکھنے کی عادت اپنانی ہوگی، اور اپنی نئی نسل کو شدت پسندی کے اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہو گا۔ ورنہ ہم ایک ایسے معاشرے میں قید ہو جائیں گے جہاں نہ خوشی باقی بچے گی اور نہ سکون۔ زندگی کو جینا سیکھیں، خوشی منائیں، اور دوسروں کے لیے بھی خوشی کا باعث بنیں یہی ایک بہتر اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔


