پالتو جانوروں اور فصلوں کی مختصر تاریخ


انسانی زندگی میں استعمال ہونے والے بے شمار پالتو جانور اور فصلیں ہمیشہ سے انسانی تاریخ میں ان کا حصہ نہیں تھیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں نے مختلف مرحلوں میں انہیں اپنایا۔ اس سب کی ابتدا آج سے گیارہ ہزار سال پہلے اس وقت ہوئی جب انسانوں نے Fertile Cresent (موجودہ ترکی، شام، فلسطین، اسرائیل وغیرہ کے علاقے ) میں سارا سال شکار کی تلاش میں اپنی جگہ بدلتے رہنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے گاؤں میں مستقل رہنا شروع کیا۔ اس علاقے کی زرخیزی کی وجہ سے یہاں پہ انسانوں نے باقاعدہ کاشت کاری شروع کی اور اپنے اردگرد موجود مختلف جنگلی گھاسوں اور درختوں کو ان کی موزوں خصوصیات کے باعث پالتو بنانا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہی عمل مختلف جانوروں کے ساتھ بھی کیا گیا جس کا مقصد انہیں اپنی زراعت میں بالواسطہ یا بلا واسطہ استعمال کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھانا تھا۔ یہیں سے چھوٹے گاؤں سے بڑی آبادیاں، شہر اور پھر ملک بنتے چلے گئے۔ اس تقریباً پچھلے بارہ ہزار سال کے انسانی سماج کے ارتقاء کے نتیجے میں آج کافی سارے پالتو جانور اور فصلیں انسانی معاشرے کا لازمی جزو بن چکے ہوئے ہیں۔ یہ مختلف فصلیں اور جانور مختلف جگہوں اور مختلف تاریخوں میں پالتو بنائے گئے۔ اس مختصر سے مضمون میں ہم یہ دیکھیں گے کہ سب سے پہلے کوئی بھی فصل یا جانور کس جگہ پر اور کب پالتو بنائی گئی۔

انسانی تاریخ میں سب سے پہلے جن جانوروں کو پالتو بنایا گیا وہ کتے تھے جنہیں Fertile Cresent میں تقریباً دس ہزار سال قبل مسیح میں انسانوں نے اپنے شکار میں مدد حاصل کرنے کی غرض سے اپنایا۔ اس وقت انسان کا زیادہ تر شکار پر انحصار تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ اس علاقے کی بے پناہ زرخیزی کی وجہ سے زراعت کے مختلف طریقوں کو بھی اپنانا شروع کر چکا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں اس علاقے میں رہنے والے انسانوں کی اکثریت نے زراعت کو اپنا پیشہ بنا لیا اور یوں زرعی انقلاب برپا ہوا۔ اس زرعی انقلاب میں (تقریباً پچاسی سو سال قبل مسیح تک) انسانوں نے گندم، چنے، زیتون، بھیڑوں اور بکریوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا۔ اگلے ایک ہزار سال (پچھتر سو سال قبل مسیح) تک چین میں چاول، باجرہ، سور اور ریشم کے کیڑے کو انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ساتھ شامل کر لیا گیا۔ کیلے اور گنے انسانی تاریخ میں پہلی بار سات ہزار قبل مسیح میں پاپوا نیو گنی کے علاقے میں پالتو بنائے گئے۔ گائے کو چھے ہزار سال قبل مسیح میں جنوب مغربی ایشیا اور ہندوستان میں پالتو بنایا گیا اور اسی عرصے میں بلی کو مصر میں پالتو بنا لیا گیا۔ کافی جو آج دنیا کے تقریباً ہر ایک ملک میں استعمال ہو رہی ہے اسے سب سے پہلے ایتھوپیا میں پالتو بنایا گیا تاہم اس کے بارے میں مستند معلومات موجود نہیں ہیں کہ یہ کتنے وقت پہلے ہوا۔ باجرہ تقریباً پانچ ہزار سال قبل مسیح میں Sahel Africa کے علاقے میں پالتو بنایا گیا۔

گھوڑوں کو چار ہزار سال قبل مسیح میں موجودہ یوکرین کے علاقے میں، گدھوں کو مصر میں اور بھینسوں کو چین میں اسی عرصے میں پالتو بنایا گیا۔ مکئی، پھلیاں اور کدو پینتیس سو سال قبل مسیح میں Meso America میں پالتو بنائی گئیں جبکہ اسی عرصے میں آلو اور لاما کو انڈیز اور ایمازون کے علاقوں میں پالتو بنایا گیا۔ سورج مکھی کے پھول کو پچیس سو سال قبل مسیح میں موجودہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مشرقی حصے میں پالتو بنایا گیا اور اسی وقت میں اونٹ کو عرب کے اندر پالتو جانور کا درجہ حاصل ہوا۔ تقریباً یہاں پر پہنچ کر تمام اہم میملز اور فصلوں کو پالتو بنانے کا سفر ختم ہوا جس کے بعد سے آج تک دنیا میں مختلف جگہوں پر مختلف جانوروں اور فصلوں کو پالتو بنانے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن انہیں اتنے بڑے پیمانے پر کامیابی نہیں ملی جو اس سے پہلے کی domestication کا خاصہ رہی ہے۔

نوٹ: اس مضمون میں موجود تمام تاریخیں اور معلومات Jared Diamond کی لکھی ہوئی کتاب Guns، germs and steel سے لی گئی ہیں۔

Facebook Comments HS