پہاڑ کی آواز: جاپانی ادب کا ایک شاہکار ناول
پہاڑ کی آواز نوبل انعام یافتہ جاپانی ادیب یاسوناری کاواباتا کا معروف ترین ناول ہے۔ اس میں ایک بوڑھے شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو عمر کے آخری حصے کو پرسکون گزارنے کا خواہش مند ہے مگر نہ چاہتے ہوئے بھی بگڑتے ہوئے گھریلو معاملات میں دخل دینے پر مجبور ہے۔ مصنف نے ناول میں خاندان کے آپسی تعلقات کی نزاکت کو لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1954 میں جاپانی زبان میں چھپا۔ 1970 میں امریکن ادیب ایڈورڈ سیڈنسٹیکر نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا جب کہ محمد سلیم الرحمٰن نے 1995 میں اسے اردو زبان میں منتقل کیا۔
تبصرہ کے آغاز سے قبل ہم مصنف کا مختصر تعارف پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ قارئین ان کے بارے میں آگاہ ہو سکیں۔ یاسوناری کاواباتا جاپان کے نامور ادیب تھے جو 1899 میں جاپان کے شہر اوساکا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے شاعرانہ اسلوب اور حساس نثر کی وجہ سے شہرت پائی۔ 1968 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا مگر اس سے قبل وہ جاپان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ بھی جیت چکے تھے۔ وہ اپنی نثر میں جاپانی ثقافت، قدرتی خوب صورتی اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو نہایت دل کش انداز میں پیش کرتے ہیں۔ 1972 میں انہوں نے خود کُشی کر لی تھی اور اس کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی البتہ کچھ عرصہ تک مختلف افواہیں ضرور گردش میں رہیں۔ اپنی زندگی میں انہوں نے کئی ناول تحریر کیے لیکن ’برف دیس‘ ، ’ہزار کونجیں‘ اور ’پہاڑ کی آواز‘ زیادہ مقبول ہوئے۔ کاواباتا کی تحریروں کی خوبی ہے کہ اس میں جاپانی فلسفہ جمالیات مونو نوآورے کی عکاسی پائی جاتی ہے۔
مرکزی کردار 60 سال کا شِنگو ہے جو ایک کامیاب کاروباری شخصیت اور گھر کا سربراہ ہے۔ وہ جاپانی معاشرے کا روایتی شریف النفس شخص ہے جو وضع دار ہونے کے ساتھ ساتھ رسم و رواج کا پابند بھی ہے۔ وہ بڑھاپے کی وجہ سے پریشان ہے اور نفسیاتی الجھاؤ میں مبتلا ہے اور دن بدن کمزور پڑتی یادداشت کی وجہ سے تناؤ کا شکار بھی ہے۔ اس کے اپنی بیوی یاسوکو کے ساتھ تعلقات عدم توجہی کا شکار ہیں۔ وہ ا پنے بیٹے سوئیچی اور اس کی بیوی کیکو کے بگڑتے ہوئے ازدواجی تعلقات کی وجہ سے پریشان بھی ہے۔ اس کا بیٹا اپنی بیوی سے بے وفائی کرتا ہے اس لیے شِنگو اپنی بہو کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے۔
مصنف نے اپنے مخصوص اسلوب سے بوڑھے شِنگو کی داخلی دنیا کی خوب عکاسی کی ہے، جو بڑھاپے کے احساسات سے پیدا ہونے والی بے ثباتی اور خاندانی تعلقات میں بگاڑ جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وجودی کشمکش جیسے موضوع کو نہایت حساسیت کے ساتھ پیش کیا ہے اور ساتھ ہی جنگِ عظیم دوم کے بعد کے جاپانی معاشرے کی روایتی خاندانی اقدار میں بدلاؤ کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
اگر ناول کے مختلف پہلووں پر بات کی جائے تو سب سے اہم موضوع تعلقات میں نا پائے داری کا ہے۔ شِنگو کا بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ بے وفائی کرتا ہے جس کی وجہ سے خاندان میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور ماحول میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔ شِنگو کا اپنی بہو سے رویہ بے مثال ہے وہ اس کی خاموشی میں گہری تکلیف محسوس کرتا ہے مگر وہ حالات کو بہتر کرنے میں بے بس دکھائی دیتا ہے۔ مصنف اس ثقافتی و سماجی بدلاؤ کی وجہ جنگ کو قرار دیتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ روایتی خاندانی ڈھانچے جدیدیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث زوال پذیر ہوئے۔
ناول میں قدرت بطور استعارہ استعمال ہوئی ہے، جو انسانی زندگی کی نا پائے داری اور خود شناسی کی علامت ہے۔ ناول کا عنوان اس پُراسرار آواز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو شِنگو کو پہاڑ سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس آواز کو مصنف نے موت کے قریب آنے کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ بدلتے موسم، درختوں اور پھولوں کا ذکر اور خاموش لمحات زندگی کے عارضی ہونے کی علامت کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ یہ نفیس مگر پر اثر تاثرات کاواباتا کے اسلوب کی خاص پہچان ہیں جو جاپانی جمالیاتی تصور کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ ناول خواب ناک کیفیت لیے ہوئے ہے جہاں جذبات اور یادیں حقیقت کے ساتھ مدغم ہیں۔ کاواباتا کی نثر نہایت با اثر اور دل میں گھر کرنے والی ہے جو قارئین کو شِنگو کی اندرونی کیفیات کے ساتھ ایسے جوڑتی ہے کہ وہ اس کی تنہائی اور پچھتاؤں کو اپنی ذات کا حصہ تصور کرنے لگتے ہیں۔
ناول کا ایک اور نمایاں پہلو بڑھاپے اور یادداشت کے زوال کا عمیق تجزیہ بھی ہے۔ شِنگو اکثر اوقات ماضی کے اندھیروں میں کھویا رہتا ہے اور اپنی جوانی کے ایام کو یاد کرتے ہوئے ماضی اور حال کے درمیان الجھا رہتا ہے۔ یہ خلش انسانی ذہن کی کمزوری اور وقت گزرنے کے ساتھ بد لتے ہوئے احساسات کی عمدہ عکاسی ہے۔
اختتام پر ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ پہاڑ کی آواز ایک ایسا ناول ہے جس میں جنگ کے بعد کے جاپانی معاشرے کے ثقافتی بدلاؤ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس میں بڑھاپے میں پیش آنے والے مسائل، تنہائی، یادداشت کا زوال اور ماضی کے پچھتاؤں کو فکری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ناول کے ذریعے نا صرف انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے بلکہ زندگی کی نا پائیداری کے حسین مگر افسردہ پہلووں کو بھی اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شِنگو کی جدوجہد کے ذریعے کاواباتا انسانی زندگی کی خوب صورتی اور المیے کو یکجا طور پر پیش کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ناول ایک بہترین ادب پارہ قرار پاتا ہے۔
کئی مقامات پر ناول سست روی کا شکار بھی ہے مگر اس کے باوجود دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ عالمی ادب کے قارئین کے لیے یہ ناول ایک بہترین تحفہ ہے اور بیسویں صدی کے نصف کے جاپانی معاشرے کی ثقافت کو سمجھنے کا بے لاگ ذریعہ بھی۔


