گلزار کی شاعری
چلو لمحے چھیلیں!
مروڑیں اسے، انگلیوں میں لپیٹیں، اڑائیں
ستاروں کی ڈھیری میں ڈھک دیں!
کبھی چھیل کر، ایک لمحے میں جھانکو
تو اس میں بھنور، جیسی نا بھی ملے گی
تمہیں کال کی۔
جہاں سے وہ لمحہ چلا تھا
وہیں پہ ڈبو دیں؟
چلو لمحے چھیلیں!
گزشتہ و موجودہ صدی کی جدید اردو شاعری میں نمایاں نام ”گلزار“ ہے۔ ان کے لہجے میں روایت اور جدت کا الگ امتزاج ہے۔ گلزار کو میں نے سب سے پہلے ایک رسالے میں پڑھا تھا۔ ان کی ایک آزاد نظم اس میں چھپی تھی۔ جو اتنی دل کو لگی کہ میں نے ان کا لکھا ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنا شروع کیا۔ انٹرنیٹ سے، رسالوں سے، یہاں سے، وہاں سے، ادھر سے، اُدھر سے۔
گلزار کے گیت اور نظمیں سرحد پھلانگ کر آتے ہیں اور سمع و بصر کو پوری طرح متاثر کر جاتے ہیں۔ مذہب و ملت کی کوئی قدغن اس آواز کو روک نہیں سکی۔ کیونکہ رنگ، نسل، مذہب اور قومیت کی تفریق کے باوجود بنی نوع انسان ایک قبیلہ ہے اور فن، ادب، شاعری، موسیقی تمام انسانوں کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ جہاں نظریات، عقائد، معیشت، جغرافیہ انسان کو انسان کے مد مقابل کھڑا کرتا ہے وہاں کتاب، شاعری، موسیقی، داستان نویسی انسانوں میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ اور گلزار کی شاعری بجا طور پر یہی کر رہی ہے۔
گلزار تقسیم ہند سے پہلے کے ضلع جہلم کے علاقے دینہ میں پیدا ہوئے، ہجرت کر کے سرحد پار مکین ہوئے۔ گلزار ہندوستانی ضرور ہیں مگر کچھ کچھ تو وہ ہمارے بھی ہیں۔ ان کا اصلی نام سمپورن سنگھ کالرا ہے۔ یہ بالی ووڈ میں ”گلزار“ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، یہی ان کا قلمی نام ہے۔
اس سال گلزار کی ایک کتاب ”چلو لمحے چھیلیں“ پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ 101 آزاد نظموں کا مجموعہ ہے، اشعار، گیت یا غزلیں اس کا حصہ نہیں ہیں۔ کتاب کا دیباچہ نصیر احمد ناصر نے تحریر کیا ہے۔
سب سے پہلے تو کتاب کے عنوان پر نظر کریں۔ کیا ندرت خیالی ہے۔ ”چلو لمحے چھیلیں۔“ آج تک لمحوں کے گننے، بیت جانے، گزر جانے، لوٹ آنے یا تھم جانے کا ہی پڑھا۔ چھیلنے والا خیال گلزار نے ہمیں تھمایا ہے۔ یہ خیال لمحوں کی یادگاری کی طرح نہیں، انہیں دوبارہ جینے جیسا بھی نہیں، یہ تو حال و ماضی کے لمحوں کو چھیل کر ان کے اندر جھانکنے جیسا ہے۔ لمحہ موجود میں کسی دوسرے لمحے کو کھینچ لانے جیسا۔
گلزار زندگی کی سیڑھی چڑھتے ہوئے جس جگہ پہنچے ہیں وہاں سے وہ نیچے جھانکتے ہوئے بہت کچھ نگاہوں کی گرفت میں لیے کھڑے ہیں اور جہاں جہاں ان کا دھیان ٹھہرتا ہے وہاں سے اس لمحے کو چھیل کر، اس سے رس کی کیفیت نکالتے ہیں۔ یہ ماضی کا ناسٹالجیا ہے۔ وہ ماضی کی کئی چمکتی یادوں اور کئی دھندلے لمحوں کو بوڑھی نظروں سے دیکھ کر الٹا پلٹا رہے ہیں، اسے جھاڑ کر جانچ رہے ہیں کہ اس سے کیا نکلے گا۔ کتاب کی اکثر نظمیں اس کے عنوان سے مطابقت رکھتی ہیں۔
نظم دیکھیے ؛ ”پلپلے لمحے“ :
میں اکثر پلپلے لمحے اٹھا کر دیکھتا ہوں
انگلی سے دبا کر
ہوا کے بلبلوں جیسے ہی لگتے ہیں
ہر اک لمحے میں کوئی اک دھڑکتا وقت رکھا ہے
پچک جائے کوئی تو جانے کیا نکلے؟
یہ ہو سکتا ہے تنہائی کا ویرانہ نکل آئے
یا بل کھاتا بگولا کوئی بھنوراتا ہوا نکلے
اڑا لے اور پھر پاؤں نہ پڑنے دے زمیں پر
سمندر پھوٹ کے نکلے کسی لمحے سے، شاید
آنکھ بھر جائے
بڑے زرخیز ہوتے ہیں یہ لمحے
کئی تو حاملہ ہوتے ہیں۔
ان سے اور لمحے جنم لیتے ہیں
مگر کچھ بانجھ بھی ہوتے ہیں، سوکھے بیر کی
گٹلی کے جیسے
پچکتے ہیں نہ کٹتے ہیں!
”چلو لمحے چھیلیں“ کی نظموں کے تھیمز انہی کیفیات اور احساسات کے گرد گھومتے ہیں جو سفرِ حیات کا بڑا حصہ کاٹ لیے جانے کے بعد دل و ذہن میں گھر کرتے ہیں۔ جب ذمہ داریوں کے اکثر بوجھ شانوں سے سرک چکے ہوتے ہیں۔ جب کچھ انوکھا ہونے کی امید ہوتی ہے نا انتظار، جب وصال میں کوئی کشش نہیں رہ جاتی، جب ہجر کی تکلیف جاں جلانا چھوڑ چکی ہوتی ہے۔ جب ہر دن للکار کے ”ڈوئل“ لڑنے کا چیلنج دیتا ہے۔ جب کسی نئی یا پرانی محبت کے وارد ہونے کی کوئی امید نہیں رہ جاتی۔ زندگی کے اس موڑ پر واقعات کی ترتیب نا بھی بدلے تو معنی و مطالب بہرحال بدل جاتے ہیں۔ نگاہوں کے سامنے سب کچھ اتنی بار وقوع پذیر ہو چکا ہوتا ہے کہ اس میں کوئی کشش نہیں رہ جاتی۔ روزمرہ کے معمولات کی اکتاہٹ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ”فضا بوڑھی لگتی ہے“ ۔ گلزار نے ان سب حالتوں کو نظموں میں پرویا ہے۔
کتاب کی مجموعی فضا کسی قرنطینہ جیسی ہے۔ ایسا قرنطینہ جو ایک ایکسٹرا ٹرسٹریل زندگی کی تلاش میں کھڑا کر دے۔
گلزار کے لیے کہیں مزہ یا دل کشی ہے تو وہ؛ لفنگے کوچوں میں بھٹک کے لُچّی گلیوں کے چوک دیکھنے میں،
دوست کی باتوں کے سبزے پر لیٹے رات اور دن کی گرہیں کھولنے میں ہے۔ لیکن شامیں پرانے خط اور لفافے لپیٹتے کھولتے اور صبحیں اخباری خبروں کی جگالی میں گزر جاتی ہیں۔ اور تلاش ہے تو نئی نظم کی۔ یہی کیفیت کئی مختلف انداز و طرز سے کتاب کے اوراق پر سجی ہے۔
کہیں ہجرت کا دکھ ظاہر ہو جاتا ہے، کال کے ظلم و جبر میں مرد و زن کی بے بسی اور ریاستی استبداد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ سفر حضر کے چھوٹے چھوٹے واقعات و تصورات کو بھی گلزار نے نظر انداز نہیں کیا۔
فلکیاتی اجسام کو دسترس میں لے کر انہیں برت لینے، ان سے پرے نکل جانے کی آرزو، پہاڑ سرہانہ بنائے، آسمان اوڑھ کر سونے کی خواہش، ستاروں کو بستے میں بھرنے کی آشا، کائنات کی سرحدوں کو پار کرنے کی تمنا، آکاش کھینچ کر کاغذ کی مثل مروڑ کر طوطا بنا کر پنجرے میں بند کر لینا۔ ایسے جان دار تخیلات ہیں کہ کئی بار پڑھنے پر بھی ان کی تازگی برقرار رہتی ہے اور پڑھنے والا گلزار کی تخلیق کردہ متوازی کائنات میں پہنچ جاتا ہے۔
تمام نظمیں خوبصورت ہیں لیکن مذکورہ نظمیں مجھے خاص طور پر اچھی اور بامعنی محسوس ہوئیں :
برس بدلا تو کیا بدلا
نیکسلائٹ
اُردو
اک نظم کی سوئی سے
چلو لمحے چھیلیں
پلپلے لمحے
پیبلو
روز جگالی کرنا سب اخباروں کی
چلو نا بھٹکیں۔
وہی معمول ہے
دن گزارے کیسے کیسے
اپنے دروازے پر آتے ہو دستک دینے
بوڑھا بوری سیٹھ ’ذوالفقار علی‘ ۔ خیر!
میں کچھ کہتا نہیں اس سے
کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے
رائٹرز کانفرنس
وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے جو بارڈر پر
گلزار کا اندازِ بیان، فقروں، مصرعوں کی ترکیب کو آپ کتاب پڑھے بنا نہیں سمجھ سکتے۔ کچھ نظموں سے خوبصورت ٹکڑے ملاحظہ ہوں :
کیسے کاٹے کوئی بیماری میں بیکاری کے دن؟
الٹی لٹکی ہوئی بوتل سے اترتی ہوئی پھیکی بوندیں
دست و بازو میں مرے
رینگتی رہتی ہیں دن بھر
ایک بے رنگ سے کیڑے کی طرح
_________________________
سب نظموں میں تیرا ذکر نہیں ہے پھر بھی
ایک ہی چہرہ کیوں ان میں ہر بار اگھڑ کر آتا ہے
_________________________
دل جلے تو دھواں ہی اٹھتا ہے
کیوں کبھی روشنی نہیں ہوتی
_________________________
شہر کی سڑکوں پر صبح کی بھیڑ کو دیکھ کے لگتا ہے
رات کو موت ہوئی ہوگی اس دن کی شاید
_________________________
خیال پل کر بڑے بھی ہوتے ہیں
اور وہ بھی
ہمارے چہروں کے نقش لے کر
خیال اولاد کی طرح ہیں
_________________________
کسی بھی سمت چلا فاصلے نہ ختم ہوئے
ہمیشہ بڑھتے رہے دھول اڑا کے آنکھوں میں
جسے قریب سمجھتا تھا دور ہوتا گیا
_________________________
میں اک غریب علی بابا اور میرا گدھا
بتاؤ کتنا اٹھا لیں گے گر اٹھا بھی لیں؟
_________________________
بہتے وقت میں پاؤں ڈال کے بیٹھا شاعر
پیر کے انگوٹھے سے لمحے توڑ رہا ہے
_________________________
ذرا ایک تنکا دینا
آشیانے میں لگانا ہے
مجھے ڈر ہے کہیں اس چڑیا کا انڈا نہ گر جائے
مرا شہتیر چھت کا ہل گیا ہے!
_________________________
صبح و شام رات، آتے جاتے ہی رہے مگر
میرے گھر پہ اپنا بن کے کوئی بھی رہا نہیں
_________________________
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد نہیں ہوتی
بند آنکھوں سے روز میں سرحد پار چلا جاتا ہوں
ملنے مہدی حسن سے!
سنتا ہوں ان کی آواز کو چوٹ لگی ہے
اور غزل خاموش ہے سامنے بیٹھی ہوئی ہے
_________________________
شاعری کی کتاب پڑھی ہو اور کہنہ مشق شاعر کی کتاب پڑھی ہو پر کوئی نیا لفظ نہ سیکھا ہو ایسا نہیں ہوتا، اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔ کتاب نے ہندی، پنجابی اور اردو کے بہت سے نئے الفاظ سے روشناس کروایا۔ جیسا کہ ’چواتی‘ ۔ اس کا مطلب ہے چنگاری، چننگ، ایک لکڑی کو آگ لگا کر اس سے دوسری لکڑیوں کو جلانا۔ توے کو چولھے سے ہٹانے کے بعد ، توے کی پشت پر جو چنگاریاں دیر تک جلتی بجھتی، حرکت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
کتاب کا اسلوب ”گلزارانہ“ ہے۔ (اگر آپ شاعری پڑھتے ہیں تو اس جملے کا مفہوم سمجھ گئے ہوں گے ) کلاسیکی عربی شعراء اپنے کلام میں زبان پر ذرا سا بھاری پڑنے والے لفظ کو ثقیل کہہ کر خارج کر دیتے تھے۔ مصرعے میں کوئی لفظ ہلکی سی اٹکن پیدا کرتا تو اسے شاعر کی کمزوری شمار کیا جاتا تھا۔ مگر اردو میں ایسی خطائیں معاف ہیں (کیوں کہ جس اضافے کو پذیرائی مل جائے وہ رائج بھی ہو جاتا ہے اور جو رائج ہو جائے اس پر سوال مشکل سے اُٹھتا ہے ) اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ اردو کا تاریخی و تہذیبی سرمایہ عربی، فارسی اور انگریزی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہاں تبدیلی کا عمل بے حد تیز ہے، جس نے طرزِ زندگی سے لے کر، طرزِ رہن اور طرزِ فکر پر نا مٹنے والے اثرات نقش کیے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے زبان بھی خود کو محفوظ نہیں رکھ سکی اور ہم دیکھتے ہیں کہ زبان کی صورت وہ نہیں رہی جو چند دہائیاں پیشتر تھی۔ اس بدلے ہوئے لہجے کی مثال ہم گلزار کی شاعری میں دیکھ سکتے ہیں۔ غیر روایتی تراکیب، سائنسی اصطلاحات جیسے اجنبی الفاظ یہاں بکثرت ہیں۔ جن کی عدم موجودگی شاید زیادہ اچھی ہوتی۔
نظموں کے موضوعات میں یکسانیت کا عنصر ہے جو کچھ قارئین کے لیے بیزار کن بھی ہو سکتا ہے۔
گلزار سے بس ایک بات کہنا تھی کہ کراچی اور ان کے شہر میں گرتی لاشوں پر منڈلاتی چیلیں اور اترتے گِدھوں کے علاوہ بھی مماثلتیں ہیں۔ دونوں ممالک کے آدمیوں میں اور بھی کئی طرح کی مطابقت اور مشابہت پائی جاتی ہیں، بہتر ہوتا وہ ان پر بھی دھیان دے لیتے۔
کتاب کو پاکستان میں صریر پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ کتاب کا سرورق اتنا معنی خیز اور خوب صورت ہے کہ ڈیزائنر کو داد دینے کا جی چاہتا ہے۔ سرورق میں رنگوں کا چناؤ اور تناسب بھی بھلا ہے۔ کتاب کی پرنٹنگ اور کاغذ کی کوالٹی اعلیٰ درجے کی ہے۔
شاعری لطیف زبان میں لطیف کیفیات کو بیان کرنے کا نام ہے۔ ”چلو لمحے چھیلیں“ میں گلزار یہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ نے گلزار کی نظمیں نہیں پڑھیں تو یقیناً کچھ کھو رہے ہیں۔


