بلوچستان بے اختیار حکمرانی، ناراض بلوچ اور عدم اعتمادی


دنیا میں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو مخصوص مفادات کے لیے نہ صرف برقرار رکھے جاتے ہیں بلکہ ان سے کئی طرح کے کاروبار بھی چلتے ہیں۔ بعض خطوں میں مسائل پیدا کرنے سے طاقت اور عہدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور بدقسمتی سے پاکستان میں یہ دونوں عوامل موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان، جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالامال خطہ ہے، ہمیشہ سے سیاسی بے حسی، ناقص حکمرانی اور استحصالی پالیسیوں کا شکار رہا ہے۔ حکمران جماعتیں اور ریاستی ادارے بلوچستان کو پاکستان کا لازمی ستون تو مانتے ہیں، مگر جب اس کی ترقی، بنیادی حقوق اور عوامی مسائل کے حل کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ یہی رویہ بلوچستان میں سیاسی اور سماجی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے، جس کا نتیجہ ناراض بلوچ نوجوانوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ آج، یہ ناراضگی صرف مردوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ خواتین بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں اور اس جدوجہد میں عملی کردار ادا کر رہی ہیں۔

بلوچستان میں حکمرانی محض نمائشی ہے، جسے ایک دکان میں رکھی ہوئی پروڈکٹ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جب تک اس کی طلب ہوتی ہے، اسے نمایاں رکھا جاتا ہے، اور جب اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہی حال بلوچستان کی حکومتوں کا ہے، جہاں منتخب نمائندوں کو بظاہر اقتدار میں لایا تو جاتا ہے، مگر اختیارات کی ایسی حد بندی کر دی جاتی ہے کہ وہ محض رسمی کارندے بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہاں کے سیاستدان اقتدار کی کرسی پر تو بیٹھتے ہیں، مگر پالیسی سازی اور فیصلے کے اختیار سے محروم ہوتے ہیں۔ ان کا کردار بس بجٹ پیش کرنے، ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات کرنے، اور حکومت کے پہلے سے طے شدہ فیصلوں کی توثیق تک محدود رہتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بلوچستان کے اکثر سیاسی رہنما خود کو بے اختیار سمجھ کر صرف ذاتی فوائد سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا جائے کہ وہ صوبے کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کیوں ناکام رہے، تو ان کے پاس یہی جواز ہوتا ہے کہ اختیارات ان کے ہاتھ میں نہیں۔ اگر ایسا ہی ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کو صرف نمائشی حکمرانی کیوں دی گئی؟ اور اگر ان کے پاس اختیارات نہیں، تو وہ عوام سے ووٹ کس بنیاد پر مانگتے ہیں؟

بلوچستان میں ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ احساسِ محرومی اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد ہے۔ بلوچ نوجوان، جو روزگار، معیاری تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں، وہ ریاستی اقدامات پر سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے، انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے حالات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی حب الوطنی کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں بار بار وفاداری کے امتحان سے گزارا جاتا ہے، اور ان کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ نہ صرف بلوچ عوام میں مزید بداعتمادی پیدا کر رہا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو بھی بڑھا رہا ہے اور اس عمل سے ’تھرڈ پارٹی‘ کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

اگر بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صوبہ آج بھی ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور پالیسی سازی کے حوالے سے باقی پاکستان سے پیچھے ہے۔ بلوچستان کے باقی حصے ترقی جن کے خواب کا حصہ تک نہیں اگر گوادر جس کا سب سے زیادہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اس کی بات کی جائے تو، ایک بین الاقوامی سطح کا منصوبہ ہے، وہاں کے مقامی لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں دیے جا رہے، اور جو تعلیم حاصل کر بھی لیتے ہیں، ان کے لیے مناسب روزگار موجود نہیں۔

یہ مسائل صرف حکومت کی ناکامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مجموعی پالیسی کی ناکامی ہیں۔ بلوچستان کو قومی دھارے میں لانے کے لیے محض نمائشی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں

اختیارات کی حقیقی منتقلی جو کہ لازمی ہے بلوچستان کو انتظامی اور مالیاتی خودمختاری دی جائے تاکہ مقامی حکومتیں خود اپنے مسائل کے حل کے لیے موثر فیصلے کر سکیں اس کے علاوہ وسائل پر مقامی اختیار بلوچستان کے قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کا حق تسلیم کیا جائے اور انہیں ترقی میں براہ راست شامل کیا جائے۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع بلوچ نوجوانوں کے لیے جدید اور معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بہتر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ اعتماد کی بحالی بلوچ عوام کی حب الوطنی پر شک کرنے کے بجائے ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں اور ان کے ساتھ مساوی شہریوں جیسا سلوک کیا جائے۔

بلوچستان کی صورتحال محض زبانی دعوؤں اور سوشل میڈیا کے بیانات سے نہیں بدلے گی۔ اس کے لیے عملی اقدامات، پالیسی میں سنجیدہ تبدیلی، اور اختیارات کی حقیقی منتقلی ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو ناراض بلوچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا، احساسِ محرومی مزید بڑھے گا، اور ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ مزید وسیع ہوتا جائے گا۔ وقت آ چکا ہے کہ بلوچستان کو ایک برابر کا شہری تسلیم کیا جائے نہ کہ ایک ایسا خطہ جس کے وسائل سے فائدہ تو اٹھایا جائے مگر وہاں کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے۔ بلوچستان کو حقیقی معنوں میں پاکستان کا حصہ سمجھنے کے لیے نیت، پالیسی، اور عملی اقدامات میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS