پاکستانی سیاست کا المیہ: حکومت اور اپوزیشن کی نورا کشتی


میں آج تک سیاست پر رقم طراز نہیں ہوا۔ ہمیشہ مسائل پر بات کی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست کا ایک پہلو نہایت اہم ہے جس پر بات کرنا بے حد ضروری ہے جس کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے شروع ہوا۔ ہمارے ہاں سیاسی شخصیات کا سفر جمہوری اقدار کی بنا پر طے پاتا ہے، ان کی جدوجہد جمہوری ہوتی ہے۔ لیکن یہ شاذ و نادر ہی دیکھا گیا کہ ہمارے ہاں کوئی عوام کے ووٹوں سے وزیر اعظم منتخب ہو۔ اور اگر کوئی عوام کے فیصلے سے اقتدار حاصل کرے تو اس فیصلے میں عوام کے سیاسی شعور کی جگہ ان کی جذباتیت عیاں ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاسی لیڈر عوام سے مخاطب ہونے کے لئے حقائق اور دلائل کی بجائے شعلہ بیانی کا استعمال کرتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ عناصر کافی ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ہاں جو پارلیمان تشکیل پاتی ہے اس میں حکومت کے راستے میں رکاوٹ کے طور پر اپوزیشن حائل ہوتی ہے جس کا کردار حکومت پر تعمیری اور مثبت تنقید کی بجائے حکومت گرانے کا ہے اور جب تک حکومت شکستہ حال ہو کر گھر نہیں چلی جاتی اور اپوزیشن جماعت حکومت قائم نہیں کر لیتی تب تک رسہ کشی کا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔

ہمارے ہاں اپوزیشن میں کوئی بھی جماعت ہو اس کا رویہ دیکھ کر یہ ہرگز نہیں معلوم ہو گا کہ یہ لوگ عوامی نمائندے ہیں اور ان کی خدمت پر مامور ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری کے خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے جس طرح کی نعرے بازی کی گئی اور جو القابات استعمال کیے گئے، اس سب کو مد نظر رکھتے ہوئے کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مہذب معاشرے کی پارلیمان ہے۔ آپ کا سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ریاست کو عزت دی جانی چاہیے۔ صدر کی تقریر سنی جانی چاہیے تھی جس میں ملک کے حوالے سے اہم گفتگو کی گئی، وہ کسی جلسہ گاہ کی سیاسی تقریر نہیں تھی۔ بالکل یہی رویہ ہماری سابقہ اپوزیشن کا تھا جو وزیر اعظم کو خطاب نہیں کرنے دیتی تھی اور اپنے محبوب لیڈر کی تصویر پارلیمان میں لے آئی تھی۔ کیا کوئی شخصیت پارلیمان اور ریاست سے زیادہ اہم ہے؟ یہ تفرقے بازی صرف ہمارے ہاں ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیوں کا کردار صرف اتنا ہے جتنا میں نے بیان کیا۔ جب حکومت میں ہیں تو اپنے نظریات پر سمجھوتہ کریں گے اور اگر اپوزیشن کا حصہ ہیں تو نظریاتی بن جائیں گے اور حکومت کو بے مقصد تنقید کا نشانہ بنائیں گے، ان کی راہ میں رکاوٹیں حائل کریں گے، ان کو کام نہیں کرنے دیں گے جب تک کہ خود حکومت میں قدم نہ جما لیں۔ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کو عوام اور ان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں نہ ہی وہ اس مقصد سے حکومت یا اپوزیشن کا حصہ بنتے ہیں۔ ان کی سیاست کا مقصد شاید صرف اقتدار حاصل کرنا ہے۔ ان کو اگر غلطی سے اپوزیشن کا کردار مل جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے بے چاروں پر کوئی ظلم کر دیا گیا ہو۔ اگر سیاسی جماعتوں کا مقصد اقتدار سے لطف اندوز ہونا نہیں تو ان کو اپوزیشن میں ہونے سے کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اپوزیشن کا کردار حکومت جتنا ہی اہم ہے۔ اپوزیشن کے بغیر حکومت کو کسی قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اپوزیشن حکومتی فیصلوں پر کڑی نظر رکھے تاکہ حکومت کوئی بھی فیصلہ یا قانون سازی استحصال کے لئے نہ کرے۔ اور یہ کہ مثبت تنقید کے ذریعے عوام کے لئے بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔

اگر جمہوریت کے اصولوں کا مطالعہ کریں تو اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت بے شک اپنے لوگوں کی نمائندہ ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے منتخب کرنے والوں کی ہر خواہش کی ترجمانی کرے گی، کیونکہ اس طرح بھی ریاست کا توازن بگڑتا ہے اور ریاست تمام عوام کی ترجمان ہے، ان لوگوں کی بھی جنھوں نے اپوزیشن جماعت کو ووٹ دیا۔ اور یہی بات اپوزیشن کے لئے بھی ہے کہ ان کی ذمہ داری ہر گز صرف اپنے نمائندہ افراد کی مکمل نمائندگی کی نہیں۔ ان کی ذمہ داری میں پاکستان کی تمام عوام کی نمائندگی شامل ہے اور اپنے حلقے کی نمائندگی اس عہد کی محض ایک جھلک ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کا مقصد مشترکہ طور پر ملک کی بھلائی ہے نہ کہ یہ کہ مختلف فرقوں کی صورت میں صرف اپنے مفاد کو بالائے خاطر لائیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے نمائندگان جن حلقوں کے نمائندے ہوتے ہیں، اس کا مقصد پارلیمان کے فیصلوں اور قانون سازی میں پاکستانی عوام کی ترجمانی کرنا ہے تاکہ ہمارے تمام لوگ قومی دھارے میں شامل ہوں اور پیچھے نہ رہ جائیں لیکن اگر دونوں نمائندگان صرف اپنے علاقوں کی جہاں سے وہ منتخب ہوئے بات کریں گے تو یہ اصولی طور پر اپنے عہد سے روگردانی ہے کیونکہ ان کے اس اقدام کے نتیجے میں دیگر پاکستانی نظر انداز ہوں گے۔ اور اس طرح یہ نمائندگی برائے نمائندگی بن کر رہ جائے گی اور اس کا اصل مقصد ختم ہو جائے گا۔ یہ بات میں نے جمہوری اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے کی ہے کیونکہ ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں خواہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، ان کی توجہ صرف اپنے مفاد پر ہوتی ہے۔ ہمارے عوام تو اسی بات کے لئے ترستے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کے لئے ہی خود غرض ہو جائیں۔ کم از کم اپنے حلقوں کی نمائندگی ہی احسن انداز سے کر لیں، تمام پاکستانیوں کی نمائندگی تو دور کی بات ہے۔

پاکستانی جمہوریت ایک مضحکہ خیز جدلیات کا شکار ہے۔ میرے خیال میں پولیٹیکل سائنس کو ہماری جمہوریت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نئی تھیوری ایجاد کرنی چاہیے جس میں یہ سمجھایا جائے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر پاکستانی جمہوریت ایک چکر کی طرح گھومتی ہے اور ایک ترتیب کے ساتھ مخصوص سیاسی واقعات فراوانی کے ساتھ خود کو دہراتے رہتے ہیں۔ جس میں ایک لیڈر یا پارٹی سیاسی و جمہوری ہوتی ہے، جو کہ غیبی مدد کے تحت حکومت قائم کرتی ہے، جس دوران اس کے نظریات تحلیل ہو جاتے ہیں اس کے بعد اس کی حکومت چھن جاتی ہے جس کے بعد اس کے نظریات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ ہر گز نہ سمجھیئے کہ ہماری پیچیدہ سیاست کو سمجھ لینے کے بعد مسائل کا حل دریافت ہو جائے گا اور ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ اس کے ذریعے ہم صرف سیاسی معاملات کا فہم حاصل کر سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ایسی کوئی تھیوری دریافت ہو گئی تو اس سے یہ معلوم ہو گا کہ ہمارے حالات تبدیل کیوں نہیں ہو سکتے اور یہ عقیدہ مزید پختہ تر ہو جائے گا کہ پاکستان میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔

Facebook Comments HS