پہلے ہندوستان سے نکالے گئے اب پاکستان سے نکالے جا رہے ہیں


پنجاب کھا گیا، پنجابی لوٹ کر لے گئے، پنجاب اسٹیبلشمنٹ کا اردلی ہے، پنجاب! سندھ، خیبر پختونخوا ، گلگت، کشمیر اور بلوچستان کے وسائل ہڑپ کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ بہت مقبول نظریات ہیں۔ قیام پاکستان کے آغاز سے لے کر اب تک یہی نعرے ہمیں ہر روز سننے کو ملتے ہیں۔ کوئی سیاست دان ہو، صحافی ہو، آزادی پسند ہو یہی اس کا تکیہ کلام ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کے افکار رکھنے والے اور بہت سارے معاملات میں اختلاف کرتے ہیں مگر اس نعرے پہ سب اتفاق رکھتے ہیں۔ یہ بھی مانتے ہیں کہ پنجاب کا عام شہری پسماندہ ہے مگر اس کی غلطی یہ ہے کہ کبھی دوسرے صوبوں کے شہریوں کے لیے آواز بلند نہیں کرتا بلکہ مقتدرہ کی آواز میں آواز ملاتا ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے مگر اس درست بات کو اگر کھول کر دیکھیں تو حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کی نام نہاد آزادی کے وقت ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی ہجرت ساری کی ساری پنجاب سے ہوئی، یعنی پاکستان کا ہندوستان کے ساتھ سارا کا سارا بارڈر پنجاب کے ساتھ ہی ہے اور تقسیم کے وقت دراصل پنجاب کو ہی دو لخت ہونا پڑا۔ راولپنڈی، گجرات، جہلم جیسے شہر جہاں اکثریت آبادی ہندوؤں اور سکھوں کی تھی، فیروز پور، جونا گڑھ، پٹھان کوٹ، اور اسی پٹی میں دوسری کئی آبادیاں جہاں اکثریت آبادی مسلمانوں کی تھی، تقسیم کے نام پہ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوئیں اور اس طرح ہوئیں کہ پانچ دریاؤں کی سر سبز و شاداب زمین خون میں نہلا دی گئی۔ کہتے ہیں راوی، ستلج، اور چناب انسانی خون کی ملاوٹ کی وجہ سے مہینوں تک لال رہے۔ یہ پنجاب جو انگریز کے آنے سے پہلے بھی خوشحال، سرسبز اور شاداب تھا، انگریز کے تسلط میں بھی شاداب رہا اور آج تو خیر کچھ اور ہی تصویر دکھائی دیتی ہے، اس کو کبھی بھی کسی آزادی کی ضرورت نہیں تھی مگر پھر بھی کہتے ہیں کہ

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

تاریخ بتاتی ہے کہ انگریز سے پہلے پنجاب ایک خود مختار ریاست تھی جسے، افغان، پشتون اور مرہٹے وقتاً فوقتاً لوٹنے آتے اور اپنی ہوس کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ آج پنجاب خصوصاً پاکستانی پنجاب پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ راوی کی ویرانیاں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اور پنجابی جسے نہ پنجابی بولنی آتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسری زبان ڈھنگ سے بول سکتا ہے، جانے کیسے کیسے غلاف چڑھائے کبھی ولائتی بابو بننے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی دہلی اور لکھنؤ کے پہناوے پہن کر خود کو شناخت دینے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس پنجابی کی ثقافت چھین لی گئی، اس کی زمین سے اسے دھکے مار کر نکال دیا گیا، اس کے آبا و اجداد کو لوٹا گیا، کاٹا گیا اور جو بچ گئے انھیں تقسیم میں رسوا کیا گیا۔ اس کے پانیوں کا بٹوارا کیا گیا اور آج حالات یہ ہیں کہ پنجابی زراعت چھوڑ دنیا کا ہر کام کرتے پھرتے ہیں مگر روٹی پوری ہونے سے زیادہ کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ یہ وہی پنجابی ہے جس نے کبھی اپنے گھر سے باہر نکل کر نہیں دیکھا تھا کیونکہ اس کی ہر ضرورت اس کے گھر میں پوری ہوتی تھی۔ گندم، چاول، سبزیاں، پھل یہاں تک کہ دھاگا بھی یہ گھر میں بناتا اور اپنی مٹی پہ ماتھا رگڑ کر فخر کرتا۔ اس پنجابی سے اس کی تہذیب چھین لی گئی، اسے دیس نکالا دیا گیا اور پھر اس کے وسائل محدود کر کے روٹی پانی کا محتاج کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ مقتدرہ، جاگیرداروں، نوابوں اور سرمایہ داروں نے مل کر کیا۔ دوسرے صوبوں کے لوگ جو آج پنجاب کو کٹہرے میں کھڑا کیے ہوئے ہیں انھیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ سارے مسائل جو انھیں درپیش ہیں دراصل ان کے خود پیدا کردہ ہیں۔ خیبر پختونخوا کے پشتونوں سے کس نے کہا تھا کہ ہتھیار اٹھا کر مقتدرہ کے ڈالروں کی تجارت کا ہراول دستہ بن جائیں۔ بلوچستان جہاں آج پنجابی کا شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی جاتی ہے، یہ گولی تب کہاں تھی جب ان کے سردار مقتدرہ کی گود میں بیٹھ کر لوریاں سن رہے تھے۔ ارے بھئی پنجاب نے تو اس نام نہاد آزادی میں صرف کھویا ہی کھویا ہے پایا کچھ بھی نہیں۔ عام پنجابی جس کے اجداد مربعوں کے مالک تھے آج دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے۔ پنجاب کے سارے بڑے بڑے شہر پشتونوں، سندھیوں، بلوچ، اور دیگر عصبیتوں کے لیے روزی روٹی کا مرکز بن چکے ہیں۔ لاہور، راولپنڈی، ملتان، اور فیصل آباد کے تجارتی مراکز دوسرے صوبوں سے آنے والوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کیا کسی پنجابی نے کبھی کسی کا شناختی کارڈ دیکھ کر گولی ماری؟ گولی تو دور کی بات ہے مہاجر ہونے کی گالی بھی دی ہو؟ کوئی کہتا ہے کہ پنجاب نے ہمارا پانی لے لیا، کوئی کہتا ہے، پنجاب ہماری معدنیات کھا گیا، کوئی کہتا ہے پنجاب ہم پہ حکومت کر رہا ہے جبکہ یہ سارے کے سارے اپنے ہاتھوں بوئی ہوئی رسوائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ پنجاب کے اپنے زرعی وسائل ان پہ نچھاور کیے جاتے رہے جس سے پنجاب میں گندم بحران اور اس جیسے کئی دوسرے بحران پیدا ہوئے۔

کسی بھی زبان یا صوبے سے کوئی نفرت نہیں ہے مگر یہ سوال ضرور ہے کہ بتاؤ! کیا پنجاب سے زیادہ تم نے قربانی دی ہے؟ یعنی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت، تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام، پانی کی تقسیم اور پھر ثقافت، ماں بولی کا ریاستی تسلط کے زیر اثر قتل؟ کیا یہ سب کچھ آپ کے ساتھ ہوا ہے؟ اور جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے کیا پنجابی اس میں براہ راست ملوث ہے یا آپ کے اپنے ہاتھ سے بوئی ہوئی ذلالت ہے جو آج سود سمیت آپ کو کاٹنی پڑ رہی ہے؟

آپ کا یہ الزام کہ پنجاب مقتدرہ کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، ارے بھئی پنجاب ہی وہ صوبہ ہے جسے مقتدرہ نے سب سے زیادہ لوٹا ہے، جاننا ہے تو جا کر اوکاڑہ کی لاکھوں ایکڑ اراضی پہ قابض فوج کے خلاف مزارعین کی مزاحمت کی داستان پڑھو، اور دیکھو کہ وہ کون سا ایسا صوبہ ہی جس کی سب سے زیادہ قیمتی زمین مقتدرہ کے قبضے میں ہے۔ جعفر ایکسپریس جسے بولان پاس سے مغوی بنایا گیا تھا، بلوچ لبریشن آرمی کے ہاتھوں سے بازیاب ہونے والوں میں ایک ماں کی دھاڑیں مارتی ہوئی آواز، کہ پہلے ہم اپنی سرزمین یعنی ہندوستانی پنجاب سے نکالے گئے اور اب پاکستان میں چن چن کر مارے جا رہے ہیں، نے دکھتی رگ کو چھیڑ دیا۔ پنجابی سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں جو سارے وسائل ہونے کے باوجود مقتدرہ کا غلام ہے اور رسوائی اس کا مقدر بنا دی گئی ہے۔ نہ یہ مقتدرہ کے خلاف جاتا ہے کہ بچا کچھا آسرا بھی جائے گا اور نہ ہی بچ پا رہا ہے کہ ہر کسی کی نفرت کا محور پنجابی ہے۔ خیر یہ بھی اپنی ضعیفی کا بویا کاٹ رہا ہے۔ آج پنجابی سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ اس طرح سے ہے کہ اپنی ماں بولی میں بات کرنے سے گھبراتا ہے، زراعت مر رہی ہے، دریا ویران اور شہر سانس لینے کے لیے مہلک ہو چکے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے نابلد ہے اور تو اور مقتدرہ کی چاکری اس کی ثقافت بن چکی ہے۔ پنجاب نے جرم ضعیفی کی سزا میں تین نسلیں برباد کر دی ہیں اور اب چوتھی نسل بھی اسی انجام کی منتظر دکھائی دیتی ہے۔

Facebook Comments HS