پنسلوانیا کا تاریخی شہر سکرینٹن


مارچ کا مہینہ بہار کا ہر کارہ ہے۔ نئی کونپلیں پُھوٹتی ہیں۔ کچھ تیز اور کچھ نرم دُھوپ جب گھاس پر پڑتی ہے تو فضا میں گھاس اور نرم نوخیز کونپلوں کی خوشبو رچ بَس جاتی ہے۔ پچھلے سال اسی مہینے کے اوائل میں ہم نے امریکہ کا رَختِ سفر باندھا کہ بیٹی ہمیں بُلا رہی تھی کہ ماں آئے اور وہ سر زمین دیکھے جہاں قسمت اسے شادی کے بعد لے گئی تھی۔ خیر ہم اکیلے بھلا کیونکر جاتے لہذا بیٹے کو بھی تیار کیا اور چل پڑے سات سمندر پار۔

دوبئی کے رستے ہوتے ہوئے جان۔ ایف۔ کینیڈی ائر پورٹ نیو یارک پہنچے۔ ائر پورٹ سے باہر آنے کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل سے فارغ ہو کر باہر آئے تو بیٹی اور داماد دونوں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ اب یہاں سے ہمیں پنسلوینیا کی ریاست کی طرف باقی ماندہ سفر بذریعہ موٹر کار کرنا تھا پہلے وہ ہمیں نیو یارک کی گلیوں میں گھمانے پھرانے لے گئے۔ نیویارک عمارتیں اور مکانات کافی حد تک لندن کے مکانوں کی طرح تھے۔ پُرانی فیلنگز آ رہی تھیں۔

خیر گھنٹہ بھر گھومنے کے بعد ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے اب ہمیں Scranton نامی اس شہر کی طرف پہنچنا تھا جہاں امریکہ کا سابق وزیر اعظم Joe Biden پیدا ہوا اور لڑکپن گزارا۔ گھر پہنچنے تک رات ہو چکی تھی۔ ڈاؤن ٹاؤن میں بیٹی کا گھر تھا۔ بہت پُر رونق جگہ تھی۔ اگلے دن ہم اپنے مِشن پر چل پڑے۔ ہر چیز کو بغور دیکھا اور سوالات پوچھنا تو ہماری گھٹی میں تھا۔ Lackwana وادی کے سبزے میں چھپا ہوا پنسلوانیا کا شہر Scranton ایک ایسا خوبصورت چھوٹا سا شہر ہے جو محبت، صبر اور نئی زندگی کی کہانیاں سناتا ہے۔

امریکہ کا سب سے پہلا ”الیکٹرک سٹی“ ہونے کی وجہ سے ایک منفرد کشش حاصل ہے۔ اس شہر کی تاریخ کوئلے اور سٹیل کی رگوں میں لکھی گئی ہے۔ اس کی گلیوں میں خواب دیکھنے والوں کی گواہیاں ملتی ہیں۔ میری بیٹی اور داماد دونوں ڈاکٹر ہونے کے باوجود اس شہر کے بارے میں کچھ خاص تاریخی معلومات نہیں رکھتے تھے کیونکہ وہ جانتے کہ یہاں اپنا وقت پورا کر کے انہیں اگلی سٹیٹ میں چلے جانا ہے۔ خیر ہم نے بلڈنگ میں رہنے والے پرانے لوگوں سے دل چسپ معلومات اکٹھی کیں۔

این۔ مَیری لگ بھگ 70 برس خوش مزاج اور خوب صورت عورت کی ساتھ والے فلیٹ میں رہتی تھیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ Scranton شہر کو جاننا ایک ایسے مقام سے محبت کرنے کے مترادف ہے جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے ابدی رقص میں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا ذرا تصور کریں 18 ویں صدی میں Lackwana لیناپی قبائل اس زمین کے ساتھ ہم آہنگی میں رہتے تھے۔ اس وادی کو فطرت کے نرم ہاتھوں سے یوں بنایا گیا کہ ایک کینوس کی طرح لگتی تھی۔

اس جگہ پر یورپی آباد کار پہنچے۔ Scranton کی قسمت اس کے گہرے زیر زمین اینتھرا سائٹ کوئلے کے چمکتے ہوئے ذخائر سے جڑی تھی۔ اسی کوئلے نے اس چھوٹے شہر کو خوشحالی بخشی اور ترقی کی گونج یہاں سنائی دینے لگی۔ 19 ویں صدی کے وسط میں لیکا وانا آئرن اینڈ کول کمپنی نے اس چھوٹے شہر کو ایک صنعتی مرکز میں تبدیل کیا۔ 1886 میں کامیاب بجلی سے چلنے والی سٹریٹ کار کے چلنے کی وجہ سے اسے ”الیکٹرک سٹی“ کا لقب ملا۔ بَیلا جی انڈین ریاست گجرات کی رہنے والی ہیں اور گھر میں بیوٹی سیلون کا کام چلاتی ہیں۔

ساٹھ کے پیٹے میں اپنی امی اور بہن کے ساتھ کئی دہائیوں سے Scranton میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شہر کی اصل خوب صورتی اس کی ثقافتی رنگا رنگی میں ہے جو ہر قومیت اور کمیونٹی کو گلے لگاتی ہے۔ مختلف قوموں کے لوگوں نے اپنے کام، اپنی روایات، کھانوں اور عقیدوں کے ذریعے اس شہر کی روح کو مزید حسین بنایا۔ شہر کی گلیوں اور عمارتوں سے پرے Scranton کو انتہائی خوب صورت فطرت نے گھیر رکھا ہے۔ اردگرد کی سر سبز و شاداب پہاڑیاں اور گھنے جنگل پُرسکون فرار کا منظر پیش کرتے ہیں۔

Scranton کا ڈاؤن ٹاؤن صرف شہر کا مرکز ہی نہیں بلکہ کمیونٹی کا دل ہے جو اپنے ماضی کو قابلِ قدر نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ تاریخ اور آرٹ کی شوقین ہونے کی حیثیت سے یہاں کے ڈاؤن ٹاؤن نے بلا شبہ مجھے ایک یادگار اور خوش گوار تجربہ فراہم کیا ہے۔ پُر کشش اور تاریخی عمارات اور گرجے اس شہر کی شاندار کہانی کو مسلسل ایک نئی شکل دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف سکرینٹن شہر کی شناخت کا وہ اہم حصہ ہے جہاں نوجوان نسل بہترین علم حاصل کرتی ہے۔

وافر گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ، پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ میرے جیسے سیاحوں اور یقیناً مقامی افراد کے لیے آرٹ گیلری ایک ایسی جگہ ہے جہاں فنکار اپنی پیاس بُجھاتے ہیں ہم نے بھی اپنی چار عدد پینٹنگز نمائش میں لگائیں جس میں سے تین بِک گئیں۔ ہمارے لیے خوشی کا باعث یہ تھا کہ پاکستانی لینڈ سکیپ وہاں کے لوگوں نے خرید لیے۔ آرٹ گیلری کا ماحول سیاحوں کو رُکنے غور کرنے اور مصوری کے ذریعے بیان کیے گئے پیغامات کو سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ مقامی چھوٹی سی آرٹ گیلری تخلیقیت کے ذریعے ایک ایسا سفر پیش کرتی ہے جس نے کم از کم مجھے تو مالا مال کر دیا۔ کورٹ ہاؤس عین اس بلڈنگ کے سامنے تھا جس میں ہماری بیٹی کا اپارٹمنٹ تھا۔ یوں بھی یہ تاریخی سکوائر شاندار فنِ تعمیر سے گھرا ہوا ہے۔ لیکاوانا کاؤنٹی کورٹ ہاؤس بہترین فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے جہاں موسمی تقریبات جیسے آئس فیسٹیول اور سینٹ پیٹرک ڈے پریڈ منعقد ہوتی ہے جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کے لیے بہترین تقریب ہوتی ہے۔

یہاں جدید خریداری کے لیے پبلک مارکیٹ اور کمپلیکس کے مقامات بھی قابلِ دید ہیں۔ پبلک مارکیٹ سے ہم نے بہت سے سوینیئر خریدے۔ آرٹ گیلری میں نمائش اور فنکاروں سے گفتگو بھی دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ سکرینٹن میں جابجا پھیلی فطرتی خوبصورتی انسان کو مسحور کر کے ایک نئی اور آہستہ زندگی میں لے جاتی ہے۔ اگلے کالم میں Scranton کے میوزیم اور ثقافتی تقریبات کا ذکر ہو گا۔

Facebook Comments HS