جیل بیتی۔4


میرے کچھ صاحبِ ذوق دوستوں نے ان مضامین کے سلسلے کی پہلی قسط میں راجہ انور کی کتابوں پر کچھ ایسے تبصرے کیے کہ مجھے ایک بار پھر پیچھے لوٹ کر انہی دو کتابوں کا مزید ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔

”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں راجہ انور نے کتاب کے آخری حصے میں ان بنیادی اراکین پی پی پی کا ذکر کیا ہے جن میں سے کچھ کو بدلتی رتوں نے پارٹی سے جدا کر دیا اور کچھ کے ساتھ ”بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے“ والا معاملہ ہوا۔ اگرچہ وہ خود بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو پارٹی سے وفاداری کو نوے کی دہائی میں استوار نہ رکھ سکے لیکن اس کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔

چند شخصیات جن کا ذکر کیا گیا اسے مختصراً پیش کیا جاتا ہے۔

معراج محمد خان۔ 1971 تک پی پی پی کی عمر پانچ سال تھی، وہ دو سال قید میں گزار چکے تھے۔ پارٹی کے اقتدار میں آنے پر آپ و زیرِ مملکت بنائے گئے۔ جلد ہی وہ حکومت اور پھر پارٹی سے علیحدہ ہو گئے۔ 1974 میں قومی محاذِ آزادی کے نام سے ایک پارٹی بنائی اور مظاہروں میں پولیس تشدد کی وجہ سے ایک آنکھ کی بینائی کھو بیٹھے۔ اسی سال انہیں حیدرآباد سازش کیس میں بہت سے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ 1998 میں آپ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔ 2016 میں وفات پائی۔ آپ کے بڑے بھائی مشہور صحافی منہاج برنا اور چھوٹے بھائی مقبول گیت نگار دکھی پریم نگری تھے۔ آبائی تعلق قائم گنج بھارت سے تھا۔

مختار رانا۔ آپ پی پی پی لائلپور کے صدر تھے۔ دورانِ اسیری ستر کے چناؤ میں ایم این اے منتخب ہوئے۔ طبیعت ہر لحظہ گھیراؤ جلاؤ پہ آمادہ رہتی تھی۔ ایسے بہت سے واقعات میں سے بھارت طیارے ”گنگا“ کو نذرِ آتش کرانے میں ان کا کردار تھا جو پاکستان کو بہت مہنگا پڑا۔ اس کام میں ان کے بہت سے معاونین میں بعد میں مشہور اینکر بننے والے افتخار احمد بھی شامل تھے اور تب فتنہ کے لقب سے مشہور تھے۔ گمان ہے یہ لقب انہیں کسی غالب شناس نے دیا تھا۔

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

صنعتی گھیراؤ جلاؤ کی ایک مہم کے دوران ایک صنعت کار ان سے قتل ہو گیا۔ بھٹو نے انہیں سال ڈیڑھ کی قید کے بعد رہا کرا کے لندن بھیج دیا جہاں وہ کئی برس تک برٹش ریلوے کے چیکر رہے۔ 2016 میں وفات پائی۔

مولانا کوثر نیازی۔ پہلے پہل جماعت اسلامی سے تعلق قائم کیا۔ 1964 کا انتخاب اسی پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا جو ہار گئے۔ پھر جماعت چھوڑ دی اور ایوب خان کے حامی بن گئے۔ اس کے بعد پی پی پی میں آ گئے۔ پارٹی کو اقتدار ملنے پر وزیرِ مذہبی امور بنے اور کچھ عرصہ بعد وزارتِ اطلاعات کے بھی وزیر بنا دیے گئے۔ اس دور میں جب کسی ترقی پسند کو پی پی پی سے نکالنا ہوتا تو بھٹو صاحب انہیں اس کے پیچھے لگا دیتے۔ پھر اس کے بعد اس شخص کے خلاف مولانا میڈیا میں وہ طوفان اٹھاتے کہ بندے کا پارٹی میں رہنا ناممکن ہو جاتا۔ ان کا تختہ مشق بننے والوں میں معراج محمد خان اور خورشید حسن میر کے نام نمایاں رہے۔

1980 میں پارٹی چھوڑ دی لیکن 1993 میں دوبارہ اس میں شامل ہو گئے۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ محض واجبی تعلیم کے باوجود آپ کی تحریر اور تقریر قابلِ رشک ہوا کرتی تھی۔ آپ 1994 میں فوت ہوئے۔

پرویز رشید۔ طالبِ علمی کے دور سے پی پی پی سے وابستگی رہی جو تمام تر مشکلات کے باوجود لمبے عرصے تک قائم رہی۔ بعد میں نون لیگ میں آ گئے۔ اور اب اس کی مرکزی قیادت میں شمار ہوتے ہیں۔

ملک غلام نبی۔ تعلق امرتسر سے تھا۔ قیامِ پاکستان سے قبل حساب میں ماسڑز کیا۔ آپ عام گفتگو میں بھی بھاری بھر کم پنجابی گالیوں کا استعمال بلا دریغ کرتے تھے۔ پارٹی اقتدار میں آئی تو آپ پنجاب کے وزیر تعلیم بنے۔ خواتین اساتذہ کے ایک کنونشن میں بحیثیت صدر مدعو ہوئے جہاں تقاریر میں تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔ جب خطاب کرنے سٹیج پر آئے تو زبان سے بے اختیار ایک بھاری قسم کی پنجابی گالی برآمد ہو گئی۔ جس کے بعد ہڑبونگ مچ گئی۔

جب یہ رپورٹ بھٹو صاحب کو ملی تو وہ بہت سیخ پا ہوئے۔ اس واقعے کے دو دن بعد وہ لاہور آئے تو غلام نبی استقبالیہ رو میں کھڑے تھے۔ بھٹو نے انہیں دیکھتے ہی کہا، غلام نبی اگر تم نے گندی زبان کا استعمال بند نہ کیا تو میں تمہیں وزارت سے فارغ کر دوں گا۔ ملک صاحب نے وضاحت دینا چاہی اور تیسرے فقرے میں انتہائی سادگی کے ساتھ ان کی زبان سے ایک عدد گالی پھسل کر باہر آ گئی۔ اس غیر متوقع جواب پر بھٹو اپنی ہنسی اور غصے دونوں پر ضبط کر کے یوں گزر گئے جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

آپ انتہائی ایماندار شخص کی شہرت رکھتے تھے۔ ”قصہ ایک صدی کا“ کے عنوان سے آپ نے اپنی یادداشتیں قلمبند کیں۔ وفات 2009 میں ہوئی۔

اوڑھ کر مٹی کی چادر بے نشاں ہو جائیں گے
ایک دن آئے گا ہم بھی داستاں ہو جائیں گے

Facebook Comments HS