اسلامی طاقت کے مراکز کا زوال
دنیا میں بہت سی نسلیں بہت دور کی سوچتی ہیں مگر اہل یورپ اور بالخصوص آل یہود اس خوبی میں سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے آمد اسلام کے ساتھ ہی یہ تہیہ کر لیا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ اپنی حکومت قائم کرنا ہے اور مسلمانوں کو ہر جگہ اور ہر زمانے میں زیر نگیں رکھنا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جو جنگیں ہوئیں ان میں بھی ان اہل یورپ کے آباء نے ہر منفی جنگی چال چلی تاکہ مسلمانوں کو شکست سے دوچار کیا جا سکے مگر انہوں نے ان کی ہر چال کو ناکام بنایا کہ مسلمانوں کا ایک مرکز تھا۔ جہاں پر ان کے مالی معاشرتی اور معاشی مسائل کا حل نکلتا تھا۔ جب غیر مسلموں کو اس بات کی سمجھ آئی کہ مسلمان اپنے مضبوط مرکز کی وجہ سے نا قابل شکست ہیں تو انہوں نے مسلمانوں کے طاقت کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
مسلمانوں کے یہ مراکز اموی سلطنت، عباسی سلطنت، اناطولیہ کے ارد گرد قائم عثمانی سلطنت، فارس کی صفوی سلطنت، اور ہندوستان میں مغل سلطنت پر مشتمل تھے۔ 1258 میں ہلاکو خان کی زیر قیادت منگول افواج نے خلافت عباسیہ کے دار الحکومت بغداد کا محاصرہ کر کے شہر فتح کر لیا اور عباسی حکمران مستعصم باللہ کو قتل کر دیا۔ شہر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور کتب خانوں کو نذر آتش اور دریا برد کر دیا گیا۔ اس طرح بغداد کی مسلم تہذیب کو تہہ و بالا کر دیا گیا۔
سپین جہاں طارق بن زیاد نے 711 ء مسلم اقتدار کا آغاز کیا تھا۔ اور یہی مسلم تہذیب و تمدن اور علم کا گہوارہ تھا۔ 1492 ء میں یہاں سے اہل یورپ نے مسلم اقتدار کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا بلکہ ایک بھی مسلمان وہاں نہ رہنے دیا۔ یہیں سے اہل یورپ نے مسلمان اساتذہ کے تلمذ میں رہ کر دانش کے ایسے موتی چنے تھے کہ جن سے بعد میں یورپ میں علم منتقل ہو گیا۔ ان اہل یورپ نے پھر دھوکے کے ایسے ایسے پھندے مسلمانوں کے گلے میں ڈالے کہ ان کے اندر سے علم و فلسفہ نکال دیا گیا اور تعصب اور انتہا پسندی کی تقسیم در تقسیم میں ڈال دیا گیا۔
پھر عثمانی ریاست جو تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھی، جو اس وقت بلغاریہ، مصر، یونان، ہنگری، اردن، لبنان، اسرائیل، فلسطینی علاقے، مقدونیہ، رومانیہ، شام، سعودی عرب کے کچھ حصے اور شمالی افریقہ کے ساحلی حصوں پر حکومت کر رہی تھی۔ بہت سے دوسرے ممالک جیسے البانیہ، قبرص، عراق، سربیا، قطر اور یمن بھی جزوی یا مکمل طور پر عثمانی سلطنت کا حصہ تھے۔ اس سلطنت کو آخری دھچکا نومبر 1922 کو لگایا گیا جب ’گرینڈ نیشنل اسمبلی‘ نے سلطان کے دفتر کو ختم کر دیا، جس سے سلطنت کے حکمران عثمانی خاندان کی 600 سالہ تاریخ اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس سلطنت کی بنیاد سنہ 1299 کو رکھی گئی تھی۔ سلطنت عثمانیہ کو سازشوں اور غداریوں کے ذریعے زیر و زبر کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ہندوستان جو کہ مسلمانوں کا تہذیبی اور حکومتی مرکز بن سکتا تھا اسے بھی ختم کر دیا۔ اس پر 1857 میں یورپ والوں نے اپنا تسلط قائم کر لیا۔ یوں مسلمان در بدر ہو گیا۔ اس کے پاس اپنی سوچ اپنی معاش اور اپنی فوجی طاقت کے مراکز نہ رہے۔ طاقت کا منبع اقوام متحدہ کو بنا دیا گیا جو کہ فاتح اقوام کا اتحاد تھا جس میں کوئی بھی مسلم ریاست کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔
تب سے لے کر آج تک مسلمان زیر عتاب ہے۔ آپس میں دست و گریباں ہے۔ وجہ ایک طاقت کا مرکز نہ ہونا ہے۔ کہنے کو تو عرب لیگ بھی ہے او آئی سی بھی ہے مگر نہ ان کی کوئی انفراسٹرکچر نہ اختیار یہ مسلم تنظیمیں تو مسلمانوں پر ہوتے مظالم پر احتجاج بھی امریکہ اور یورپ کی اقوام سے پوچھ کر کرتی ہیں۔ مسلمان کو الگ الگ ممالک میں تقسیم کر کے ایسے دائروں میں بند کر دیا گیا جہاں سے اگر وہ نکلنے کی کوشش تو کیا سوچے بھی تو اسے اپنا اقتدار اور حکومت جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مسلم ممالک کی حکومتیں خودمختارانہ سوچ سے عاری ہو چکی ہیں اور صرف اور صرف اپنا ملک اور اپنا اقتدار ہی نظر میں ہے۔ اسلام کا بنیادی نظریہ کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یا ایک دیوار کی مانند ہیں ایک عالمگیر قوم ہیں ناپید کر دیا گیا ہے۔
مسلمان یہ کھویا ہوا مقام صرف اور صرف اسی صورت میں حاصل کر سکتا ہے جب اس کا کوئی بھی ایک تہذیبی، تمدنی، معاشرتی اور معاشی مرکز ہو گا۔ جو کہ ابھی تک کہیں بھی نظر نہیں آتا اور مسلمان کی حالت مرگ مفاجات ہی نظر آتی ہے۔ تبھی تو اسرائیل غزہ پر چاہے جتنے ظلم کرے عرب امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ کیا ہم اس پر احتجاجی بیان دیں اور کون سا دیں آپ ہی لکھ کر دے دیں تاکہ آپ کے اور ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں کہ ہماری ساری معیشت آپ کی امداد پر ہی چلتی ہے۔ وہ خواہ افغانستان ہو، مصر ہو، ایران ہو عراق ہو شام و اردن ہو یا کوئی بھی دوسرا اسلامی ملک ہو۔ سب کی تان اپنے ذاتی مفاد سے شروع ہو کر امریکہ پر ٹوٹتی ہے۔ امریکہ اہل یورپ کی پالیسی پر اور آل یہود کی پالیسی پر ہی گامزن رہتا ہے۔ تبھی تو صدر ٹرمپ غزہ والوں کو کہہ رہا ہے کہ غزہ خالی کر دو اور ساتھ کے ممالک میں جا بسو تاکہ غزہ کو یہودیوں کو دے دیا جائے۔ اور مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ غزہ اب فلسطینیوں کو واپس نہیں ملے گا۔


