عمران خان اقتدار میں آ بھی گیا تو؟


بہاول پور شہر میں 15 مارچ 2025 کو ریڑھیوں ٹھیلوں پہ آلو تیس روپے، خشک پیاز چالیس روپے اور تازہ خشک لہسن دو سو روپے کلو بک رہا تھا لیکن شہر کی مشہور بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پہ ”خود ساختہ اہلِ ایمان“ آلو والا سموسہ روزہ دار عوام کو فی عدد چالیس روپے کا بیچ رہے تھے جبکہ ریجن کا کسان رو رہا تھا کہ گندم کا مناسب ریٹ نہ ملنے سے اس نے تو بحران کا سامنا کیا اور آٹا اور میدہ بھی سستا پھر بھی فوڈ آؤٹ لیٹس پہ فوڈ آئٹمز پہلے سے بھی زیادہ مہنگے، کیوں؟

سال 2021 میں راقم نے افسانہ ”بگلہ کورٹس“ لکھا جو فیس بک پہ اردو افسانوں کے عالمی مقابلہ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ بلاگ ویب سائٹ ”ہم سب“ پہ بھی شائع ہوا۔ اس کا اقتباس یہاں نقل کرتا ہوں۔

”رنگ برنگے پھولوں والے پودوں کے پاس واقع پتھر اور مٹی کے ملاپ سے بننے والے ٹیلے میں مکوڑوں (بڑے چیونٹوں ) نے اپنا بل (گھر) بنایا ہوا تھا۔ آج مکوڑوں کی برادری سارے جنگل سے آ کر وہاں سر جوڑ کر بیٹھی اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنے میں لگی تھی کہ جنگل کے تاجر جانور عبادت بھی بہت کرتے ہیں لیکن ان کی اکثریت جانوروں کی خوراک کی تجارت میں کھلم کھلا بے ایمان کیوں بنی ہوئی ہے۔

ایک چھوٹے مکوڑے نے سوال اُٹھایا، ”تاجر جانوروں کے رویوں کو تو دیکھ کر لگتا ہے، مذہب صرف لباس اور ظاہری طور طریقوں تک اپنا اثر دِکھاتا ہے، مَن کے اندر پائی جانے والی ہوس پر مذہب کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بوڑھے مکوڑے نے مسکراتے ہوئے کہا“ جو جانور مذہبی نہیں ہوتے تو کیا وہ فرشتے ہوتے ہیں۔ وہ بھی کئی طرح کی خرابیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ رویوں کو تبدیل کرنے کے لیے جنگل کے باسیوں کی سوچ کو بدلنا ہو گا ”۔

احباب! مجھے نایاب چولستانی سبزی پھگوسی اور مقامی سبزیاں سہانجنا، ساگ اور کچنال گوشت کھانا بہت پسند ہے۔ پھگوسی تو سبزیوں کی دکانوں پہ بالکل نہیں ملتی۔ کبھی کبھار روہیلے چرواہے صحرائے چولستان سے ہمارے گاؤں چندی پور آتے ہیں تو میرے بہنوئی کو اس نایاب سبزی کا تحفہ دے جاتے ہیں۔ میری بڑی بہن پکاتی ہیں تو میرا حصّہ بھی رکھ دیتی ہیں انھیں پتہ ہے کہ اکبر کو اس کا ذائقہ بہت اچھا لگتا ہے۔

مجھے اپنی بڑی بہن کے ہاتھ کی بھنڈی فرائی کھانا بھی بہت پسند ہے۔ بھنڈی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے پہلے اسے کچھ دیر دھوپ میں رکھا جاتا ہے جب اس کی رطوبت خشک ہو جاتی ہے تو پھر فرائی پان میں تھوڑا سا کوکنگ آئل گرم کیا جاتا ہے اس میں ہری مرچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ٹماٹر کے ساتھ بھنڈی کے ان خشک ٹکڑوں کو فرائی کیا جاتا ہے، کمال درجہ کا ذائقہ بنتا ہے۔

ماہِ رمضان سے پہلے دل کیا کہ باجی سے بھنڈی کی ڈش بنوا کر کھائی جائے۔ سبزی کی دکان پہ گیا اس نے کہا چار سو روپے کلو۔ تھوڑی سی بھنڈی خریدی۔ ساتھ کچنال آئی پڑی تھی۔ پوچھا کیا قیمت ہے؟ جواب آیا ”ایک ہزار روپے کلو“ ۔ خاموشی سے واپس آ گیا۔ رواں ماہِ رمضان میں ہی سہ پہر کو میں نے ہوا خوری کے لیے بائیک کا رخ شہر سے باہر اسلامیہ یونیورسٹی بغداد کیمپس روڈ کی طرف کر دیا۔ شہر ختم ہو گیا اور تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ جھریوں بھرے چہرے والا ایک عمر رسیدہ بوڑھا سڑک کنارے کپڑے پہ کچنال کی سرخ پھولوں والی تازہ سبزی رکھ کر بیٹھا تھا جو وہ جھانگی والا روڈ سے کھیتوں سے لایا تھا۔ مجھے اس نے ساڑھے تین سو روپے میں ایک کلو دی۔

تازہ کچنال بیچنے والے اس بوڑھے کو دیکھ کر مجھے بھارتی فلم ویر زارا میں شاہ رخ خان اور پریتی زنٹا پہ فلمائے جانے والا گانا ”تیرے لیے ہم ہیں جِیے، چاہا تھا کیا، پایا ہے کیا، ہم نے، دیکھیے“ یاد آ گیا۔ گانے کے سِین میں شاہ رخ خان کو پاکستانی عدالت میں کھڑے دکھایا جاتا ہے جبکہ پریتی زنٹا عدالت میں داخل ہو رہی ہوتی ہے۔ اس گانے میں لتا منگیشکر کا اپنی آواز میں مخصوص لَے کو گہرے غم کے لہجہ میں اُٹھانا اور پھر غمگین ٹون والا بیک گراؤنڈ میوزک، ساتھ شاہ رخ خان اور پریتی زنٹا کا سین جس میں وہ جوانی سے ایک دم بڑھاپے میں جاتے دکھائے جاتے ہیں، یہ سب کچھ دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا تھا کہ انسان دولت کمانے کے لیے کیا کچھ کرتا ہے۔ انسانوں کی ایک تعداد کاروبار میں بد دیانتی اور بے ایمانی کرتی ہے۔ دوسروں کا حق کھاتے ہیں۔ اپنا ایمان اپنا ضمیر فروخت کرتے ہیں اور جب کافی ساری دولت جمع ہو جاتی ہے تو بڑھاپے کی صورت میں دنیا سے روانگی کا وقت آ جاتا ہے۔ ”دو پل رُکا خوابوں کا کارواں، اور پھر چل دیے تم کہاں، ہم کہاں“ ۔

بہاول پور شہر میں ایک سیٹھ ہوتا تھا۔ لمبے چوڑے زرعی رقبوں اور کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی مالیت رکھنے والی شہری جائیدادوں کا اونر۔ لوگ کہتے کہ عباسی شہزادوں سے بھی زیادہ دولت اس سیٹھ کے پاس ہے۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا دل بہاول پور شہر کے لاری اڈّہ کے قریب واقع کھوکھا بازار والی جگہ پہ پکھی واس خانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں میں رہنے والی ایک دوشیزہ پہ آ گیا۔ سامنے دکان میں اپنے کسی ملازم کو ٹی اسٹال بنوا دیا۔ میں نے خود اسے دیکھا کہ وہ سارا دن اس لڑکی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ٹی اسٹال کے لکڑی کے سستے سے بنچ پہ بیٹھا رہتا۔ سیٹھ ساری زندگی اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے دولت جمع کرتے اور جائیدادیں بناتے بناتے مر گیا اور بیٹے کو عشق کا روگ کھا گیا۔ دولت دوسروں کے پاس چلی گئی۔ ”ماں موئی دِھی پِچھوں تے دِھی موئی یار پِچھوں“ (ماں مر گئی بیٹی کے پیچھے اور بیٹی مر گئی اپنے دوست کے پیچھے ) ۔

اکبر شیخ اکبر کا مشاہدہ ہے کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام و خواص کی ایک بڑی تعداد کی نفسیات اور مزاج کا لازمی حصّہ ہوس کی حد تک زیادہ سے زیادہ دولت کمانے، جمع کرنے اور پھر کنکریٹ کے پہاڑ جیسے مکانوں، غیر ضروری مہنگی گاڑیوں اور شادی بیاہ پہ انتہائی فضول اور غیر ضروری اخراجات کی صورت میں جمع کی گئی دولت کی نمائش کرنا ہے۔ اور یہی مزاج ان ممالک میں لوگوں میں مالی کرپشن کا رجحان پیدا کرتا ہے۔ راقم نے پہلے بھی اپنے بلاگز میں لکھا تھا کہ کسی علاقہ میں رہائشی مکانوں کے مختلف ڈیزائن اور آرکیٹیکچر وہاں عوام کے اندر مالی کرپشن کا رجحان پیدا کرتا ہے۔ دنیا میں جس علاقہ میں لوگ سادگی پسند ہوتے ہیں وہاں نمائش پسندی نہیں ہوتی اور جہاں نمائش کا رجحان نہیں ہوتا وہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں یا تو مالی کرپشن نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی مقامی سیاسی لیڈرشپ چاہے وہ وردی والا سیاسی رہنما ہو یا بغیر وردی والا سیاستدان، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کا مائنڈ سیٹ کرپشن کے خلاف کر دیں تو عرض ہے۔

سیاست ہے میرے دیس کی یا انداز دِلرُبا حسینہ کا
مسکرائی، پھر نہ آئی، حیران کھڑے وعدوں کے بازار میں
اکبر میاں اب تک تو دیکھے لٹیرے رہنما کے بھیس میں
لُٹتے چلے آ رہے ہیں کسی اَن دیکھی سرکار میں

میرے شہر کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خرابیاں اس وقت تک دور نہیں ہوں گی جب تک عمران خان کو رہا کر کے اقتدار ان کے حوالے نہیں کر دیا جاتا۔ میڈیا کے تجزیہ نگار تو کہہ رہے ہیں کہ آئندہ حکومت پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں پہ مشتمل مخلوط حکومت ہو گی جس کی سربراہی عمران خان یا بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہوں گے۔ وہ تو یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ تازہ ملکی صورتحال میں ”گولفرز“ ملک کے عظیم تر مفاد میں قومی اتحاد و یگانگت کی خاطر خان صاحب کی رہائی کا سگنل دے سکتے ہیں۔ چلیں مان لیا کہ ”گولفرز“ نے خان کو وزیرِ اعظم بنانے کی بھی اجازت دے دی تو کیا اس سے عوام و خواص کے ایک حصّہ میں پائی جانے والی دولت کی ہوس اور دولت کی خاطر مالی کرپشن کے مرتکب ہونے کا رجحان ختم ہو جائے گا۔ کیا خان صاحب ہر شعبے کی جڑوں کے اندر سرایت کر جانے والی کرپشن کو ختم کر پائیں گے؟

راقم کی اس بات کو یاد رکھیں کہ آپ حکومتوں اور حکومتی سربراہوں کی تبدیلی سے عوام و خواص کے اندر پائے جانے والے کرپشن کے رجحان کو ختم نہیں کر سکتے جب تک آپ ان کے مائنڈ سیٹ کے اندر سادگی پسندی اور ایمانداری کو اپنانے اور کرپشن سے نفرت کرنے والا مزاج پیدا نہیں کر دیتے اور یہ کام بادشاہ کا سر بدلنے سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ دی جانے والی موٹیویشن سے ہو گا۔

Facebook Comments HS