دہشت گردی کا چیلنج


5 مارچ کو ہونے والے بنوں خودکش حملے، جس میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت 12 شہری اور سیکیورٹی فورسز کے پانچ جوان شہید اور 30 افراد شدید زخمی ہو گئے تھے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں تمام 16 حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے تھے کے بعد بلوچستان میں کوئٹہ سے پشاور آنے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر بی ایل اے کے دہشت گردوں کے حملے میں کئی مسافروں جن میں عام شہریوں کے علاوہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوان بھی شامل تھے کی شہادت اور بھرپور آپریشن کے نتیجے میں تمام 33 دہشت گردوں کی ہلاکت کے باوجود یہ دونوں حملے پورے ملک میں بالعموم اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بالخصوص نہ صرف امن وامان کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ صورتحال سیکیورٹی بشمول انٹیلی جنس اداروں کے لیے بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔

واضح رہے کہ بنوں واقعے کے حوالے سے تحقیقاتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، رپورٹس کے مطابق اس حملہ میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے 2 دہشتگرد افغان شہری تھے جن کی شناخت عبدالہادی عرف حماس مہاجر اور شمس اللہ حیدری کے ناموں سے ہوئی ہے۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق دونوں ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے تھا۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد شمس اللہ حیدری حاجی مرام کا بیٹا تھا، حملہ آور افغانستان کے صوبہ پکتیا دروزی کلی کا رہائشی تھا جبکہ حملہ کالعدم تنظیم گل بہادر گروپ نے کیا تھا جبکہ دیگر حملہ آوروں کی شناخت اور خاندانی تفصیلات کے بارے میں جانکاری کا عمل جاری ہے۔

بنوں حملے کے حوالے سے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شواہد ہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی اور قیادت افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی، توقع ہے افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گی، پاکستان سرحد پار سے آنے والے خطرات پر ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اسی اثناء میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار خطے میں امن کی صورتحال کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات چاہتا ہے لیکن افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور پاکستان بارہا اس حوالے سے افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا خصوصاً بنوں میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن کے صوبے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بنوں کے حالیہ مہلک ترین حملے کے علاوہ گزشتہ سال 20 نومبر 2024 کو بنوں کے علاقے ملی خیل میں ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں 12 سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی دیوار سے ٹکرا دی تھی جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح 14 اکتوبر 2024 کو خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں عسکریت پسندوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں 8 اہلکار ہلاک ہوئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب فوجی دستہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کے بعد واپس آ رہا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

اس طرح بلوچستان میں بھی گزشتہ سال اگست میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جن میں 14 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 50 افراد ہلاک ہوئے۔ جوابی کارروائی میں سیکورٹی فورسز نے 21 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ ان واقعات کے علاوہ سال 2024 کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے 9 مختلف واقعات میں 120 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی طرح اس سے قبل 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 32 افراد ہلاک اور 62 زخمی ہوئے تھے۔ مزید برآں مارچ 2024 کو گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ ہوا تھا جس میں 8 حملہ آور اور 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز پر بڑھتے ہوئے حملوں سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے جس سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ مزید برآں سیکیورٹی خدشات کے باعث سرمایہ کاری میں کمی، تعلیمی اور کاروباری اداروں کی بندش اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں عام آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب یہ درست ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر مزید موثر حکمت عملی، علاقائی تعاون اور عوامی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ مجموعی طور پر افغانستان کی مشترکہ سرحد پر واقع خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دونوں صوبوں میں گزشتہ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس سے ان دونوں صوبوں کی سیکیورٹی، معیشت، اور عوامی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جہاں جامع حکمت عملی اور تمام متعلقہ فریقوں کا تعاون ناگزیر ہے وہاں اس صورتحال سے نمٹنے میں افغانستان کی صورتحال اور وہاں برسراقتدار طالبان حکومت کا اعتماد میں لیا جانا بھی ضروری ہے جس میں تادم تحریر وفاقی حکومت بوجوہ ناکام نظر آتی ہے بلکہ وہ اس سلسلے میں طالبان حکومت پر دباؤ کے لیے امریکہ کو وہاں موجود امریکی اسلحہ کی واپسی کے لیے جو ہلہ شیری دے رہی ہے نیز پاک افغان سرحد کی دو ہفتوں سے مسلسل بندش اور اب 31 مارچ تک بغیر کسی تیاری اور پیشگی الٹی میٹم کے افغان مہاجرین کے انخلاء کا اعلان عجلت میں اٹھائے گئے وہ اقدامات ہیں جن کے نتیجے میں سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے سلسلے میں کوئی توقع رکھنا تو بے وقوفی ہوگی البتہ ان اقدامات کے نتیجے میں حالات کی مزید خرابی کے امکان کو رد نہیں جا سکتا ہے۔

لہٰذا اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کو زیادہ جارحانہ انداز میں زمینی حقائق اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں صوبوں میں قیام امن کو ہرحال میں یقینی بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں جہاں پاکستان کی مذہبی قیادت کا اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے وہاں اس سلسلے میں بلوچ اور پختون قوم پرست جماعتوں اور راہنماؤں کے ساتھ بھی روابط اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS