صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 36 : بوئنگ707


” لیکن جو خداوند پر امید رکھتے ہیں وہ نئی طاقت پائیں گے ؛ وہ عقاب کی مانند پرواز کریں گے ؛ وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں۔ “ یسعیاہ 40 : 31

اُس زمانے میں کراچی ائرپورٹ کے ڈیپارچر ہال کی چاروں دیواروں کے ساتھ دنیا بھر کی ائر لائنز کے چیک اِن کاؤنٹرز تھے۔ کے ایل ایم، لُفتھانزا، ائر فرانس، بی او اے سی، پین ایم، ایلیٹالیا، کوانٹس، ایم ای اے، غرض دنیا کی کوئی ایسی بڑی ائر لائن نہیں تھی جو کراچی نہ آتی ہو۔ روزانہ پچاس سے زیادہ پروازیں کراچی سے ٹیک آف کرتی تھیں۔ ہال مسافروں اور انہیں رخصت کرنے کے لیے آنے والوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا۔ بیشتر کاؤنٹروں کے سامنے چیک اِن کرنے والے مسافروں کی لمبی لمبی قطاریں ہوتی تھیں جو اپنا سامان تُلوانے اور بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ ایک جانب پی آئی اے کے کئی کاؤنٹر تھے جن کے پیچھے لگے ہوئے بورڈ منزل کی نشان دہی کرتے تھے۔ لاہور، چٹاگانگ، لندن، فرینکفرٹ وغیرہ۔ مریم چٹاگانگ کی پرواز کے لیے قطار میں لگی ہوئی تھی۔ انکل شاہد اسے چھوڑنے کے لیے آٗئے تھے اور اس کے برابر ہی کھڑے تھے۔ وہ ماحول اس کے لیے اجنبی تھا کیوں کہ زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے ائر پورٹ کا ماحول دیکھا تھا اور پہلی مرتبہ ہی ہوائی جہاز میں بیٹھنے والی تھی۔

دو ہفتے قبل یوحنا عارف کے والد، عادل پیٹر کا انکل شاہد کے نام ایک چار صفحات کا خط آیا تھا جس میں انہوں نے مریم اور اپنے بیٹے کے رشتے کی مبارک باد دی تھی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ جب یوحنا نے انہیں مریم کے متعلق بتایا تو ان کا بس نہیں چلا کہ وہ اور ان کی بیوی حیدرآباد آ کر اپنی ہونے والی بہو کا دیدار کرتے، مگر کام کی زیادتی کی بنا پر ان کے لیے فی الحال آنا مشکل ہے، لہٰذا اگر مریم چٹاگانگ آ کر کچھ وقت ان کے ساتھ گزار سکے تو بہت اچھا ہو۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ انہوں نے مریم کے ٹکٹ کے لیے شکیل ایکسپریس کو فون کر دیا ہے اور ادائیگی بھی کردی ہے اور یہ کہ جب انتظامات مکمل ہو جائیں تو وہ انہیں ٹیلی گرام کر دیں کہ مریم کس تاریخ کو چٹاگانگ پہنچے گی تاکہ وہ اسے ائرپورٹ سے لے لیں۔

مریم وہاں کے ماحول کو بڑی دل چسپی سے دیکھ رہی تھی۔ قطاروں میں بھانت بھانت کے لوگ کھڑے تھے، کالے، گورے، دیسی، بدیسی۔ معلوم ہوتا تھا جیسے دنیا بھر کے لوگ وہاں جمع تھے۔ اس کی نظر ائر فرانس کے کاؤنٹر کے سامنے ایک بوڑھے جوڑے پر جم گئی، جن کے چہروں پر عمر کے نشانات واضح تھے۔ وہ آہستہ آہستہ قطار میں آگے بڑھ رہے تھے۔ شوہر نے ایک ٹرالی پر دو سوٹ کیس رکھے ہوئے تھے اور اس کے کندھے سے ائر فرانس کا بیگ لٹک رہا تھا۔ برابر میں اس کی بیوی اس کے ساتھ محو گفتگو تھی۔ معلوم ہوتا تھا جیسے کسی دل چسپ موضوع پر گفتگو ہو رہی ہو کیوں کہ دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔ مریم نے سوچا کہ غالباً ان کی عمر کا بیشتر حصہ ایک ساتھ گزرا ہے، پھر بھی ان کے پاس گفتگو کے لیے اتنا مواد ہے۔ اس کی قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔

مریم کو احساس ہوا کہ مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے لہجے آپس میں گھل مل کر ایک دھن سی پیدا کر رہے تھے۔ اس نے گہری سانس لی اور محسوس کیا کہ کراچی ائرپورٹ کا وہ ڈیپارچر ہال صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک کہانی ہے جو ہر چہرے پر لکھی ہوئی ہے۔ اُس نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور اپنے اندر ایک عجیب سی سرشاری کو اترتے ہوئے محسوس کیا۔ اس کے خیالات کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب اس کے کان میں آواز آئی، ”محترمہ، اپنا سوٹ کیس اِس پلیٹ فارم پر رکھ دیں۔“ مریم نے مڑ کر سامنے دیکھا تو وہ قطار میں سب سے آگے تھی اور چیکِ اِن کلرک اس سے مخاطب تھا۔ وہ اس کی مسکراہٹ سے بہت متاثر ہوئی۔ وہ دبلا پتلا نوجوان تھا جو سفید، بے داغ، کَلَف لگے ہوئے قمیص اور پتلون میں ملبوس تھا۔ جیب پر چپکے ہوئے چوکور بِلّے پر اس کا نام، جاوید، لکھا ہوا تھا اور قمیص کے دونوں کندھوں پر سبز رنگ کی شانہ زیب پٹیوں پر پی آئی اے کے سنہری بِلّے آویزاں تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ مسکراہٹ اس کے چہرے کی مستقل کیفیت تھی۔

مریم نے اپنا ٹکٹ چیک اِن کلرک کو دے دیا۔ انکل شاہد سوٹ کیس اٹھانے کے لیے آگے بڑھے مگر اُس نے خود ہی اٹھا کر وزن کرنے والے پلیٹ فارم پرکھ دیا۔ وہ دو سوٹ کیس لے جا سکتی تھی جن میں سے ہر ایک کا وزن 32 پاؤنڈ سے زیادہ نہ ہو۔ اس کے پاس ایک ہی سوٹ کیس تھا جس کا وزن 28 پاؤنڈ نکلا۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کا سبز بیگ تھا جو اسے شکیل ایکسپریس سے ملا تھا۔ چیک اِن کلرک نے اس کے ٹکٹ سے ایک ورق پھاڑ کر اسے بورڈنگ پاس دیتے ہوئے کہا، ”آپ کی فلائٹ میں صرف آدھا گھنٹہ باقی ہے، آپ سیکیورٹی سے گزر کر گیٹ نمبر تین پر پہنچ جائیں۔“

اُس زمانے میں سیکیورٹی کا کوئی خاص اہتمام نہیں تھا۔ گزرتے وقت ایک اہل کار بورڈنگ پاس چیک کرتا تھا جو اُس زمانے میں بورڈنگ کارڈ کہلاتا تھا۔ اگر مسافر بین الاقوامی فلائٹ لے رہا ہو تو سیکیورٹی کا عملہ اسے امیگریشن کاؤنٹر پر بھیج دیتا جو پاسپورٹ چیک کر کے اطمینان کر لیتا کہ بورڈنگ پاس اور پاسپورٹ پر ایک ہی نام ہے اور پھر وہ پاسپورٹ پر رخصت کی مہر لگا دیتا۔ انکل شاہد آگے نہیں جا سکتے تھے چناں چہ انہوں نے مریم کو گلے لگایا اور تاکید کی کہ وہ عادل پیٹر سے کہہ دے کہ وہ فوراً اس کے خیریت سے پہنچنے کا ٹیلی گرام کر دے۔

مریم سیکیورٹی سے گزر کر برآمدے میں داخل ہوئی تو اس کے سامنے چار گیٹ تھے جن میں سے ہر ایک پر اس کا نمبر لکھا ہوا تھا۔ وہ گیٹ نمبر 3 کی طرف بڑھی جہاں پی آئی اے کا ملازم کھڑا ہوا تھا۔ اس نے دور سے ہی ہاتھ اٹھا کر پوچھا، ”چٹاگانگ؟“

”جی،“ مریم نے جواب دیا۔
”آ جائیں جلدی سے۔ بورڈنگ شروع ہو گئی ہے، بس آپ ہی کا انتظار تھا۔“

وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی گیٹ پر پہنچی۔ سامنے بس کھڑی ہوئی تھی جو مسافروں سے کھچاکھچ بھری تھی۔ وہ جوں ہی بس میں چڑھی، دروازہ بند ہوا اور بس چل پڑی۔ گزرتے ہوئے وہ حیرت سے مختلف ائر لائنز کے اُن جہازوں کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوئے تھے۔ بس انہیں پی آئی اے کے اس طیارے تک لے کر آئی جو چٹاگانگ جا رہا تھا۔ اس کے سامنے دیو ہیکل بوئنگ 707 طیارہ کھڑا ہوا تھا۔ یہ ایک انقلابی جیٹ طیارہ تھا جس نے 1960 کی دہائی میں جیٹ کے دور کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پی آئی اے کراچی چٹاگانگ کے رُوٹ پر فوکر فرینڈشپ اور DC۔ 3 طیارے چلاتا رہا تھا مگر بڑھتے ہوئے ٹریفک کی وجہ سے کچھ ماہ پہلے ہی بوئنگ 707 کی سروس شروع کی تھی۔

مریم سیڑھی سے چڑھ کر جیسے ہی طیارے میں داخل ہوئی، اس نے محسوس کیا کہ وہ نئی دنیا میں داخل ہو رہی تھی۔ اس کے پیچھے چند ہی مسافر تھے ورنہ تقریباً تمام سیٹیں بھر چکی تھیں۔ سبز یونیفارم میں ملبوس اور سبز ٹوپی پہنے ہوئے ایک ائر ہوسٹس آگے بڑھی اور مریم کے ہاتھ سے بورڈنگ پاس لے کر بولی، ”آئیے، میں آپ کو آپ کی سیٹ دکھاتی ہوں۔“ مریم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے پیچھے چل دی۔

”اٹھارہ اے، یہ آپ کی سیٹ ہے،“ ائر ہوسٹس نے مسکرا کر کہا اور اس کا بورڈنگ پاس واپس کر دیا۔

یہ کونے کی سیٹ تھی اور برابر کی دو سیٹیں خالی تھیں۔ مریم نے دوسرے مسافروں کو اپنے بیگ سیٹ کے اوپری شیلف میں رکھتے ہوئے دیکھا تھا چناں چہ اس نے بھی اپنا بیگ رکھ دیا۔ وہ مبہوت ہو کر ماحول کا جائزہ لے رہی تھی۔ ہر چیز دھلی دھلائی لگ رہی تھی جیسے پورا جہاز دھوبی کے یہاں سے دھل کر اور استری ہو کر آیا ہو۔ اس کی سیٹ کے اوپر ایک سوراخ سے ٹھنڈی ٹھنڈی تازہ ہوا آ رہی تھی جس کے ساتھ ایک ایسی اجنبی سی خوشبو اس کے نتھنوں میں داخل ہو رہی تھی جو اس نے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی۔

اچانک طیارے کے انجن جاگے اور مائکروفون پر ائر ہوسٹس کی آواز ابھری، ”خواتین و حضرات، السلام علیکم! ہم آپ کو کراچی سے چٹاگانگ کے سفر میں پی آئی اے کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ براہ کرم اپنی نشستوں پر آرام سے بیٹھ جائیں اور سیٹ بیلٹ باندھ لیں کیونکہ آپ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہنگامی صورت حال کے پیش نظر، جہاز کے دونوں اطراف اور سامنے موجود دروازوں کو فوری خروج کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔ براہ کرم ان ہدایات پر خصوصی توجہ دیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کا یہ سفر آرام دہ اور خوش گوار گزرے گا، شکریہ۔“ اس کے بعد اعلان کو بنگلا اور انگریزی میں دہرایا گیا۔

کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد جہاز رن وے پر آ کر رک گیا اور ٹاور کی ہدایات کا انتظار کرنے لگا۔ چند منٹ کے بعد انجن دوبارہ جاگے اور جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کر دیا۔ فاصلے کے ساتھ اس کی رفتار بڑھتی گئی۔ مریم مستقل کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی اور اسے قطعاً احساس نہیں ہوا کہ کب جہاز نے زمین چھوڑ دی۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ ٹیک آف کے وقت آنکھیں بند کر لے گی کیوں کہ اسے اونچائی سے ڈر لگتا تھا۔ ایک باہر لاہور میں شاہی مسجد کے مینار پر چڑھ کر جب اس نے نیچے جھانکا تو اسے چکر آ گیا تھا اور وہ تیزی پیچھے ہٹ گئی تھی۔ اسے حیرت ہوئی کہ وہ بادلوں کے نزدیک پہنچ گئی تھی اور نیچے کراچی کے گھر اسے ماچس کی ڈبیوں کے برابر لگ رہے تھے مگر نہ اسے چکر آیا اور نہ جی مالش کیا۔ اس سفر کے متعلق سوچنے اور پلان کرنے میں اس نے پچھلی رات جاگ کر گزاری تھی اور اب اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں۔ اس نے اپنی سیٹ پیچھے کی اور اونگھنے لگی۔

Facebook Comments HS