طاقت اور طاقتور: ایک ابدی کھیل
”طاقت بدعنوان کرتی ہے اور مطلق طاقت مکمل طور پر بدعنوان کر دیتی ہے۔“ (لارڈ ایکٹن) ۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ کسی نہ کسی کے ہاتھ میں رہی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنایا گیا۔ کبھی بادشاہوں نے طاقت کے نام پر رعایا کو غلام بنایا، کبھی مذہبی طبقے نے فتووں کے ذریعے ذہنوں کو قید کیا، تو کبھی سرمایہ داروں نے معیشت پر قابض ہو کر عام آدمی کو بے بس کر دیا۔ سقراط نے اسی طاقت پر سوال اٹھایا تو زہر کا پیالہ پینا پڑا۔
افلاطون نے طاقت کو فلسفی بادشاہوں کے ہاتھ میں دینے کی بات کی، جبکہ ارسطو نے بتایا کہ طاقت ہمیشہ جبر اور استحصال سے جڑی رہی ہے۔ میکاولی نے کھل کر کہا کہ حکمران کو طاقت قائم رکھنے کے لیے خوف پیدا کرنا چاہیے، کیونکہ محبت وقتی ہوتی ہے مگر خوف ہمیشہ کام آتا ہے۔ اس کے برعکس روسو نے کہا کہ اگر طاقت عوام کی مرضی سے نہ ہو تو یہ ظلم بن جاتی ہے۔ کانٹ نے اخلاقی اصولوں پر زور دیا کہ طاقت کسی کو صرف ذریعہ بنانے کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ نیطشے نے اخلاقیات کو ہی طاقتوروں کا فریب قرار دیا اور کہا کہ کمزور ہمیشہ طاقتور کو اخلاقیات کے جال میں جکڑنا چاہتے ہیں۔ مارکس نے طاقت کا تعلق دولت اور طبقاتی استحصال سے جوڑا اور بتایا کہ سرمایہ دار طبقہ ہمیشہ مزدوروں کا استحصال کرتا آیا ہے۔ فوکو نے طاقت کو مزید گہرا کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ محض حکومت یا فوج کے ہاتھ میں نہیں بلکہ علم، زبان، میڈیا، اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ذہنوں میں سرایت کر چکی ہے۔
یہ طاقت صرف سیاست یا معیشت تک محدود نہیں، ادب میں بھی اسے بار بار موضوع بنایا گیا۔ غالب نے کہا:
”بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے ”
یہاں وہ طاقت کے کھیل کو ایک فریب قرار دیتے ہیں، جہاں کمزور ہمیشہ تماشا بنتے ہیں۔ خوشحال خان خٹک نے پشتو میں کہا:
”چی زانګی پہ زانګو کښی زوی د زمری
ھغہ زوی بہ څنګہ ویریږی لہ ښامارہ ”
(جو بچپن سے شیر کی گود میں جھولے، وہ سانپ سے ڈرنے والا نہیں ہوتا! )
یہی سوچ ہمیں انقلاب فرانس میں نظر آتی ہے، جہاں عوام نے بادشاہوں کے خلاف بغاوت کی، مگر جلد ہی خود نئے حکمران ظلم کرنے لگے۔ مارکس کے مطابق طاقت ہمیشہ امیروں کے پاس رہتی ہے، اور جدید دور میں بینک، کمپنیاں، اور میڈیا اس طاقت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ فوکو نے ہمیں بتایا کہ طاقت کا اصل کھیل سوچ پر قابو پانے کا ہے، جہاں تعلیم، میڈیا، اور بیانیے ذہنوں کو غلام بنا دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا طاقت ہمیشہ ظلم کے لیے استعمال ہوگی؟ یا ہم سقراط کی طرح سوال اٹھا کر، روسو کی طرح عوامی حق پر زور دے کر، اور فوکو کی طرح اس کے نئے چہروں کو پہچان کر کوئی بہتر راستہ نکال سکتے ہیں؟ یا پھر غالب کی طرح بس اتنا کہہ کر خاموش ہو جائیں کہ:
”ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ”


