گاؤں تا شہر اقتدار بھوک کا راج


گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں شہر اقتدار کی شاہ فیصل مسجد میں ایک مخیر انسان نے مسجد آئے سیاحوں کے لئے افطار کا اہتمام کیا تھا مگر جس طرح عوام اس پر ٹوٹ پڑی تھی تو ایسے لگ رہا تھا جیسے دشمن ملک کی فوج پر ٹوٹ پڑی ہو ویسے تو یہ پہلا واقعہ نہیں کہ کسی مخیر انسان نے مفت دسترخوان لگا کر عوام کے لئے افطاری کا اہتمام کیا ہو اور عوام نے رزق کی بڑی شان سے توہین کی ہو بلکہ ہم آئے روز دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی جلسہ گاہ میں جلسہ ختم ہونے کے بعد یا کسی تقریب کے اختتام پر عوام کے لئے کھانے کا انتظام بد انتظامی کا شکار ہو جاتا ہے اور دھکم پیل میں جا بجا کھانے کی اشیاء بکھری پڑی نظر آتی ہیں اور جب ایسی کوئی ویڈیو وائرل ہوجاتی ہے تو یہ بنا سوچے سمجھے شیئر کی جاتی ہے کہ باہر ممالک کے لوگ دیکھیں گے تو ان کے ذہن میں ایک ایٹمی ملک کا کیا تاثر بنے گا۔

اگر دیکھا جائے تو قصور ان لوگوں کا نہیں جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں بلکہ قصور اس نظام کا ہے جسے عرف عام میں کیپٹلزم کہا جاتا ہے جس معاشرہ دو طبقات میں تقسیم ہوتا ہے جسے بوژروا اور پرولتاریہ کا نام دیا گیا ہے اور اگر ان دو طبقات کو سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ایک طبقہ غریب جبکہ دوسرا امیر کہلائے گا اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں غریب کو غریب تر بنانے کی پالیسی پر کام کیا جاتا ہے جس کا انجام آخر کار یہی ہوتا ہے کہ عوام کو بھکاری بنا دیا جاتا ہے جیسا کہ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ہمیں ہر شہر اور ہر جگہ کہیں نا کہیں لوگوں کی طویل قطار نظر آتی ہے جیسا کہ کہیں بینظیر سپورٹ پروگرام کے دفتر کے باہر ایک جم غفیر دیکھنے کو ملتا ہے تو کہیں کسی سیٹھ کے آنے کے انتظار میں لوگوں کی لمبی قطار دیکھنے کو ملتی ہے کہ صاحب آئیں گے اور ہر ایک کو ایک پیکٹ میں راشن دے کر دعائیں سمیٹیں گے چاہے اس نے جتنا بھی کرپشن کیا ہو، سود پر یا پھر سمگلنگ کر کے یہ پیسہ کمایا ہو مگر غرباء کی دعاؤں سے جنت کا ٹکٹ لینے کا حقدار بنے۔

ہم پانی کو ہی مثال کے طور پر لے لیتے ہیں کہ جہاں پانی نہ ہو تو وہاں لوگ ایک نل کے پاس برتن لے کر قطار میں کھڑے نظر آئیں گے بلکہ اکثر تو نمبر پر جھگڑا بھی ہو جاتا ہے اور تو اور کراچی کے واٹر بورڈ سے تو باقاعدہ پانی چوری ہو کر شہر کو سپلائی ہوتا ہے اور مہنگے داموں بکتا ہے مگر جہاں دریا بہہ رہا ہو، پانی زیادہ ہو تو وہاں نہ تو قطار نظر آئی گی، نہ ہی لڑائی جھگڑا اور نہ ہی پانی چوری ہو گا تو یہی مثال ہم ملک کی غربت ختم کرنے کے منصوبوں کے لئے لے لیں کہ اگر ریاست سے غربت ختم کرنی ہے اور عوام کو بھکاری سے عزت دار بنانا ہے تو ان کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی دونوں قسم کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو جائے۔

مگر زیادہ کام قلیل المدتی پر کرنا ہو گا کیونکہ قلیل مدتی منصوبے عوام کو فوری سہولیات مہیا کرنے کے لیے شروع کیے جاتے ہیں۔ جن کے ثمرات فوری عوام تک پہنچ پاتے ہیں کیونکہ غربت کی ستائی ہوئی عوام کو دو وقت کی روٹی چاہیے، پہننے کو کپڑا چاہیے، اچھا تعلیمی اور صحت کا نظام چاہیے، سر چھپانے کو چھت چاہیے۔ اور طویل مدتی منصوبے ملک کے لئے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاص طبقے کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

دنیا میں جب بھی کوئی سیاسی جماعت برسرِ اقتدار آتی ہے تو وہ بھی دو طرح کی حکمت عملی پر کام کرتی ہے۔ ایک طویل مدتی حکمت عملی اور دوسری قلیل مدتی حکمت عملی مگر عوام کو جلد فائدہ پہنچانے کے لئے قلیل مدت میں بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچاتی ہے تاکہ اپنے ووٹرز کو جلد فائدہ پہنچا کر اپنا ووٹ بنک مزید مضبوط کرسکیں مگر یہاں کا تو آوا ہی آوا بگڑا ہوا ہے کیونکہ پاکستان میں موروثی سیاست کی وجہ سے ہر پارٹی کارکن کی بجائے لیڈر کو خوش کرنے پر لگی ہوئی ہے اور ان کو ہی فائدہ پہنچاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی خراب پالیسیوں کی بدولت عوام ہمیشہ خسارے میں رہی ہے اور خواص ہمیشہ فائدے میں رہی ہے جس کی وجہ سے عوام کسی ایسے نظام حکومت سے خوش نہیں ہوتی جو اس کے لیے کچھ نہیں کرتا بلکہ یہی وجہ ہے کہ کسی دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں اور شہر اقتدار میں عوام کا معیار زندگی ایک جیسا ہے اور جب بھی جہاں مفت دسترخوان، مفت افطاری، مفت راشن ملے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

حکومتی کارگردگی جانچنے کا بہترین پیمانہ عوام کی حالت زار ہے اگر عوام کی حالت زار مایوس کن ہے تو حکومت کی طرف سے کیا گیا ہر کام فضول تصور کیا جائے گا اور جس دن حکومت نے غریب اور لاچار عوام کے لیے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا۔ اور عوام کے حالات بدلنا شروع ہو گئے تو عوام اس حکومت اور سیاسی جماعت سے عہد وفا نبھا کر دکھائے گی۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کوئی غیر ملکی کراچی تا خیبر پاکستان کی سیر کو نکلے تو اس کو عوام کا معیار زندگی ایک جیسا مگر اچھا ملے تاکہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ ایک ایٹمی ملک کی عوام واقعی آسودہ حال ہیں مگر اس کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے قلیل مدتی منصوبے بنانے ہوں گے جس سے عام آدمی کی زندگی کا معیار اچھا ہو سکے، مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا کرنا ہو گا جس سے زندگی کی کوئی بھی ضرورت عوام کی قوت خرید سے باہر نہ ہو اور اس کو وہ سب کچھ حاصل ہو جو اس کے پڑوسی سرمایہ دار کو حاصل ہے کیونکہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ اگر وہ اپنے شہریوں سے ہر چیز پر ٹیکس لیتی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے شہریوں کی معیار زندگی کو بہتر کرے

Facebook Comments HS